Thu, Apr 12, 2012, 11:28 AM
توانائی کانفرنس اور صوبائی خود مختاری
میرے دل میرے مسافر۔۔۔ کالم۔۔۔ سہیل سانگی
اگر توانائی کانفرنس کے فیصلے اور اس موقعے پروزیر اعظم گیلانی کی باتیں صرف پنجاب کو خوش کرنے کے لیے ہوتی تو کیا بات تھی۔ اسے بدقسمتی کہیئے کہ یہ صوبائی خود مختاری کے صریحا خلاف بھی تھیں۔سندھ ان فیصلوں سے ناخوش ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے ان فیصلوں کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ معاملہ مشترکہ مفادات کی کونسل میں اٹھایا جائے گا۔ کانفرنس میں بجلی کی پیداوار نہیں بلکہ تقسیم کو موضوع بحث بنایا گیا اوراس سے متعلق ہی فیصلے کئے گئے۔
اٹھارویں ترمیم میں صوبوں کو مزید اختیارات دیئے گئے ہیں اور بجلی کی پیداوار اور تقسیم کا معاملہ بھی صوبائی قرار دیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اب تمام صوبوں میں محکمہ بجلی الگ محکمے کے طور پر کام کر رہاہے۔ اس تناظر میں کانفرنس کے فیصلے اٹھارویں ترمیم کے خلاف ہیں۔ یوں پیپلز پارٹی کی حکومت کی اپنی ہی قانون سازی کے خلاف کانفرنس میں فیصلے کرلیے ہیں۔ تمام صوبوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ یکساں کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ پنجاب کا بوجہ سندھ شیئر کرے۔ ایک بار پھر اس ناکارہ فارمولا کو اپنایا گیا ہے کہ ہفتے میں دو روز چھٹی ہوگی اور مارکیٹیں رات آٹھ بجے بند کردی جائیں گی۔
بجلی کا بحران کی بنیادستعمال بڑھنے، پیداوار میں اضافہ نہ ہونے اور اداروں میں غلط انتظام کاری ہے۔ اعدادوشمارسے پتہ چلتا ہے کہ بجلی کے استعمال میں گذشتہ بارہ سال میں اضافہ ہوا ہے۔مشرف کے نو سالہ دور میں ایک بھی بجلی کا پروجیکٹ نہیں شروع کیا گیا۔پاکستاں میں بجلی کی طلب پندرہ ہزار میگاواٹ ہے اور موجودہ پیداواری صلاحیت بیس ہزارمیگاواٹ کے لگ بھگ ہے۔یعنی ملک میں پیداواری صلاحیت ضرورت سے پانچ ہزار میگاواٹ زیادہ ہے۔ اگر حکومت خود فرنس آئل مہیا نہ کر پائے یا مختلف نجی صنعتی ادارے اپنی بجلی پیدا نہ کریں گے تو بجلی کا بحران تو پیدا ہونا ہی تھا۔ ملک میں بجلی کی اتنی بڑی تقریبا چھ ہزار میگاواٹ سے زیادہ کمی ہے۔ان اسباب میں مجموعی منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ کرپشن سے لے کر حکومت اور نجی کپمنیوں کی نااہلی شامل ہے۔اس بات کا کانفرنس میں تذکرہ تک نہیں ہوا کہ ملک کے بعض بجلی گھر بوڑھے ہو چکے ہیں۔ وہ اپنی مقررہ مدت پوری کر چکے ہیں یا پھر مدت پوری کرنے کے قریب ہیں۔ ان کی مناسب مرمت اور دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف ان کی پیداواری صلاحیت کم ہو گئی ہے بلکہ ان کی کارکردگی بھی بہت کم ہوگئی ہے۔ یہ تھرمل بجلی گھر ایندھن زیادہ کھاتے ہیں اوریا پیداوار کم دیتے ہیں۔ لہٰذا پیداواری لاگت بھی بڑھ گئی ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ یہ بوڑھے پاور ہاؤس بجلی کو مہنگا کرنے کی بھی وجہ بنے ہوئے ہیں۔یہ بجلی گھر وفاق کے ایک ادارے پیپکو کے ماتحت ادارہ جنکو چلاتا ہے۔ ان بجلی گھروں کی اس وجہ سے بھی مرمت نہیں کی جارہی کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد آنے والے وقتوں میں بجلی کی پیداوار اور تقسیم وغیرہ صوبائی حکومتوں کی نگرانی میں چلی جائے گی۔
تعجب کی بات ہے ک بجلی کے اتنے سنگین بحران کے باوجود تھر کول پراجیکٹ جو بڑی حد تک مسئلہ حل کر سکتا ہے اسکا کانفرنس میں کوئی ذکر فکر بھی نہیں ہوا۔ ا س پراجیکٹ کے لیے حکومت رقم فراہم کرنے کے لیے تیا رنہیں۔بلکہ ہوتا یہ رہا ہے کہ کسی نہ کسی طرح سے اس پراجیکٹ کو التوا میں ڈالنے یا رکاوٹیں کھڑی کی جاتی رہی ہیں۔
سندھ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور بجلی، گیس کوئلہ یہاں موجود ہیں۔ وہ اپنی ضروریات سے بھی زیادہ بجلی پید کر سکتا ہے۔ اضافی گیس اور تیل کی پیداوار کے باوجود سندھ کے لوگوں کو دس سے اٹھارہ گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ بھگتنی پڑے گی۔
جب بحران شدت اختیار کر جاتے ہیں تو ہم عطائی ڈاکٹروں کی طرح اسکا علاج کرنے لگتے ہیں۔
کانفرنس نے ہفتہ میں دو چھٹیوں کا ماضی کا گھسا پٹا فارمولا ایک بار پھر زندہ کیا ہے۔ہفتہ وار دو چھٹیوں کا دراصل مطلب عوامی مسائل کو ملتوی کرنا ہے۔ حکومتی ادارے عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے ہیں۔ اگر یہ ادارے دو دن چھٹی کریں گے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ عوام کے مسائل نمٹانے کا کام دو روز کے لیے ملتوی ہو جائیگا۔ کیاپہلے عوامی مسائل ملتوی کرنے کے بہانے کم تھے کہ ایک اور بہانہ بنا کر دیا جا رہا ہے۔
پاکستان کے لوگوں کو یاد ہے کہ تین سال قبل جب سندھ میں گندم کا بحران پیدا ہوا تھا۔ اور پنجاب میں بمپر فصلیں ہوئی تھی، تب شہباز شریف ہی وزیراعلیٰ تھے۔ مگر پنجاب حکومت نے سندھ کو گندم دینے سے انکار کردیا تھا۔ اور اضافی گندم برآمد کرنے کی کوشش کی تھی۔ بعد میں جب یہ گندم دینے کی لیے راضی بھی ہوا تو اس کی قیمت اپنی قیمت خرید اور مارکیٹ سے بھی زیادہ لگائی تھی۔یعنی پنجاب گندم کی قلت سندھ سے شیئر نہیں کرنا چاہ رہا تھا مگر آج اپنی بجلی کی قلت کے لیے سندھ پر بوجہ ڈال رہا ہے۔
صدر ّآصف علی زرداری نے گذشتہ ہفتے پنجاب کی ٹیکسٹائل ملز کے مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے صنعتی فیڈرز کوبجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔
گورنر پنجاب کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت بجلی پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے اور وفاقی حکومت کو مورد الزام ٹہرا رہی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پناجب حکومت اپنے بل ادا نہیں کر رہی لہذا نجی پاور کمپنیوں کو ادائگی نہیں کی جا سکی ہے۔پنجاب حکومت کی تردید کے باوجود پیپکو کا دعوا ہے کہ پنجاب حکومت پر 13 ارب روپے واجب الادا ہیں۔
بجلی کا بحران تو ابھی پیدا ہوا ہے، اس سے پہلے گیس کے بحران پر پنجاب حکومت احتجاج کرتی رہی۔
حقائق بتاتے ہیں کہ ملک میں جو توانائی کے وسائل فراہم کئے جاتے ہیں ان میں سندھ اور بلوچستان کے مقابلے میں 136فصد زیادہ وسائل پنجاب استعمال کرتا ہے۔ اس کے باوجود بقول وزیر اعظم کے پنجاب سمیت تمام صوبوں میں یکساں لوڈ شیڈنگ کی جائے گی۔ یکساں لوڈ شیڈنگ کا فیصلہ زیادہ بجلی اور گیس پیدا کرنے والے صوبے سے زیادتی ہوگی۔ اگر پنجاب کوئی چیز دوسرے صوبوں سے زیادہ پیدا کرتا ہے، تو پہلا حق اس کے عوام کا ہوگا۔ اور اس کے بعد دوسرے صوبوں کا۔ کانفرنس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ گیس اور بجلی میں پنجاب کے ساتھ زیادتی ہے۔ کانفرنس میں موجود کسی بھی نمائندے نے مسلم لیگ (ن) کو یہ یادنہیں دالایا کہ 1997ع میں چھوٹے صوبوں کے فنڈز روک کر موٹروے تعمیر کیا گیا جوکہ صرف پنجاب میں ہے۔ کیا اس سے کسی دوسرے صوبے کی حق تلفی نہیں ہوئی؟
اگر حکومت رات کو آٹھ بجے مارکیٹس بند کرتی ہے تو بقول حکومت کے بمشکل پانچ سو میگاواٹ بجلی بچائی جا سکے گی جبکہ شارٹ فال نو ہزار میگاواٹ کا ہے۔ اس مطلب یہ ہوا کہ اس اقدام سے کمی کو پورا نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اس کمی کو بیرونی ذرائع سے پورا کیا جائے تو ایران سے ایک ہزار میگاواٹ بجلی خرید
کرنے کا آپشن بھی موجود ہے۔
پوری قوم صرف ان دو لفظوں پر انتظار کرتی رہی کہ دو سال قبل منعقدہ کانفرنس کے فیصلوں پر عمل کیا جائے۔ قوم انتظار کرتی رہی کہ کوئی بہت بڑا فیصلہ ہوگا۔ اگرچہ کانفرنس نے فیصلہ کیا کہ سرکاری دفاتر میں گیارہ بجے کے بعد ایئر کنڈیشنر چلائے جائیں گے۔ مگر کانفرنس کے ہال میں صبح سے لیکر کانفرنس کے اختتام تک ایئر کنڈیشنر چلتے رہے۔عالمی طور پر یہ اصول مسلمہ ہے صوبے کے اندر پیدا ہونے والی گیس اور بجلی پر پہلا حق صوبے کا ہے اور کہ وہ پہلے اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد دوسرے صوبوں کو ددے گا۔
توانائی کانفرنس کے اس فیصلے کی سندھ میں مزاحمت ہوگی۔سندھ میں پہلے ہی بہت سارے اشوز پر سخت بے چینی پائی جاتی ہے۔ توانائی کانفرنس کے فیصلے اس احساس میں مزید اضافے کا باعث بنیں گے۔
No comments:
Post a Comment