Showing posts with label Protest. Show all posts
Showing posts with label Protest. Show all posts

Monday, 9 March 2020

دہرا بلدیاتی نظام اور احتجاج Oct 8, 2012

Mon, Oct 8, 2012, 138 PM
دہرا  بلدیاتی نظام اور احتجاج
میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی
سندھ سراپا احتجاج ہے کہ پانچ منٹ کے اندر قوائد و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر متنازع نیا بلدیاتی نظام نافذ کردیا گیا ہے۔ اس قانون کی ن  قوم پرستوں کے ساتھ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو چھوڑ کر تمام وفاقی جماعتیں بھی مخالفت کر رہی ہیں۔ مخلوط حکومت  میں پی پی کے ساتھ چار سال تک تحادی  رہنے  والے بھی اتحاد چھوڑعلحدہ ہو کر احتجاج میں شامل ہوگئے ہیں۔مگر یہ معاملہ صرف قوم پرستوں کا نہیں۔صوبے کا عام آدمی بھی اس قانون کے خلاف ہے۔ اب تو سندھ کے دانشور، ادیب اور شعراء بھی اس دوہرے نظام کے خلاف سڑکوں پر آ گئے ہیں۔
سندھ کے لوگ رنجیدہ ہیں کہ وہ اس قانون کو گزشتہ سال مسترد کر چکے تھے۔ اب دوبارہ  پیپلز پارٹی اس کو قبر سے کھود کر کیوں لے آئی؟
گزشتہ سال بھی ایسا ہی قانون لانے کی کوشش کی گئی تھی۔ جس کی سندھ کے عوام نے بھرپور مخالفت کی تھی۔ اس مرتبہ پہلے یہ قانون ایک آرڈیننس کے ذریعے  نافذ کیا گیا۔ جس پر سندھ کے سیاسی حلقوں نے تحفظات کا اظہار کیا اور احتجاج کیا۔پیپلز پارٹی نے یہ تاثر دیا کہ اسمبلی میں پیش کرتے وقت ان نکات کا خیال رکھا جائے گا۔ مگر جب اسمبلی میں پیش کیا گیا تو اپوزیشن  چیختی رہ گئی، اس کی ایک بھی نہ سنی گئی۔اور بل پاس کردیا گیا۔ متنازع بل جس طرح سے پاس کیا گیا  وہ سیاسی خواہ  قانونی طور پر غلط ہے  بلکہ یہ ایک نامکمل قانون کے  کیونکہ اس کے کم از کم چار شیڈیول جن کا اس بل میں ذکر ہے وہ قانون میں شامل ہی نہیں ہیں۔
 سوال یہ کہ پیپلزپارٹی نیا آرڈیننس لانے میں اتنی جلد بازی کیوں کی؟  پھر اتنی ہی جلدی  میں یہ بل کیوں لے آئے؟ خیال ہے کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی دونوں اپنے ووٹرز کو کچھ نہ دے سکی ہیں اور نہ ہی امن امان بحال کراسکی ہیں۔اب جب انتخابات کی بساط بچھائی جا رہی ہے ایسے میں وہ  اپنے ووٹرز کو کیا پیش کریں؟ اس کے لیے یہ لوکل گورنمنٹ قانون لایا گیا ہے۔ ان کو مطمئن کرنے  کے لیے یہ بل ایک سیاسی  نعرہ ہے اور آسرا بھی۔
 سندھ کے مختلف شہروں میں تمام مکاتب فکر کے لوگ احتجاج کر رہے ہیں یہاں تک کہ صدر زردار کا آبائی شہر نواب شاہ  ایک ہفتے تک بند رہا۔ اسی شہر میں  پولیس فائرنگ سے جیئے سندھ کا ایک کارکن  ہلاک ہوگیا۔ احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے۔مگر جب پرامن احتجاج کو پرتشدد بنایا جائے تو اس کی معنی و مفہوم ہی بدل جاتے ہیں۔اب تک اس احتجاج میں تین انسانی جانیں ضایع ہو چکی ہیں۔درجنوں افراد کو گرفتارکئے جاچکے ہیں۔ 
لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت کے روایتی ہتھکنڈے استعمال کرنا چاہتی ہے اور بزور شمشیر ان احتجاجوں کو روکنا چاہتی ہے۔ دباؤ اتنا ہے اگر لوگوں کے احتجاج کو روکا گیا تویہ احتجاج  پیچیدہ ہو جائے گا اورکچھ مشکل شکلیں اختیار کر لے گا۔ جس میں ہڑتالیں، قومی شاہراہ بند کرنا، سول نافرمانی، ریاستی اداروں سے ٹکراؤ شامل ہے۔
دنیا بھر میں سوشل میڈیا عوام میں پائی جانے والی بے چینی کو  عملی شکل دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ مگر اس متنازع قانون  کے حوالے سے سوشل میڈیا لوگوں کے  جذبات کو ٹھنڈا کرنے کا کام سر انجام دے رہی ہے۔ لوگ اپنا غصہ سوشل میڈیا پر تبصرے یا رائے دے کر یا کارٹون اور تصویریں  رکھ کے  نکال رہے ہیں۔ س سے پہلے یہ ہوتا رہا ہے کہ اتنے غصے اور احتجاجی صورتحال میں یہ لوگ ا عملی طور پر سڑکوں پر آتے۔نفرت کا عنصر اتنا ہے کہ نوجوانوں کی انگلیاں موبائل فون پر چل رہی ہیں۔ جس سے نوشتہ دیوار بن رہی ہے۔آپ کو فیس بک پر بھی اس نفرت اور ناراضگی کا اظہار ملے گا۔
پیپلز پارٹی سیاسی خودکشی کی طرف بڑھ رہی ہے۔کیونکہ اب لوگ اسے ووٹ دینے سے پہلے تین بار سوچیں گے۔ایسا لگتا ہے کہ اب سندھ میں متبادل قیادت ابھرے۔بلکل اسی طرح سے جیسے ون یونٹ کے خلاف تحریک میں نئی قیادت ابھر کر سامنے آئی تھی۔  بہرحال موجودہ صورتحال کا براہ راست فائدہ مسلم لیگ فنکشنل کو پہنچے گا۔ کیونکہ فنکشنل لیگ سندھی پارٹی سمجھی جاتی ہے۔ جو  ہر دور میں اقتدار کے ایوانوں میں رہتی آئی ہے۔آج اس بل کی شدومد سے مخالفت بھی کر ہری ہے۔
حکومت مان نہیں رہی ہے،لہٰذا لڑائی لمبی ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔یہ لڑائی نہ صرف تیز ہو رہی ہے بلکہ اس میں تشدد کا عنصر بھی شامل ہوگیا ہے۔ دانش سے عاری انتظامیہ اور جاگیرداروں کی انااحتجاجوں کو پرتشدد بنا رہی ہے۔اس تحریک میں تشدد کا جو عنصر شامل ہو رہا ہے جو بہت خطرناک ہے۔
موجودہ تحریک کو بعض چیلینج بھی در پیش ہیں:
1)سندھ نے قیام پاکستان سے لے کر جمہوری جدوجہد میں رہنمایانہ کردار ادا کیا ہے۔ کیا  اب سندھ جمہوری حکومت کے خلاف تحریک چلائے گا؟بنگال کی علحدگی کے بعد تو سندھ کا کردار جمہوری جدوجہد میں ہر اول دستے کا رہا۔سندھ کے نوجوانوں، طلباء، دانشوروں نے ون یونٹ اور ایوب خان کے خلاف تحریک میں سرگرم کردار ادا کیا۔ اس وقت رائے عامہ اتنی منقسم نہیں تھی۔لہذا عوام میں اس تحریک کو باآسانی پذیرائی مل گئی۔ابھی پیپلز پارٹی  بہرحال سندھ کے لوگوں کی انتخابات میں نمائندہ پارٹی ہے۔
 2)ایم آرڈی تحریک میں بھی سندھ نے بڑا کردار ادا کیا۔ لیکن اس تحریک میں بھی لوگ ضیاء الحق کے چھ سال کے بعد سڑکوں پر تب نکل آئے جب جاگیردار بھی باہر نکلے۔ یوں کسانوں کو  پشت ملی۔ آج کسی بھی سیاسی جماعت کی کسانوں میں جڑیں نہیں ہیں۔اور سندھ کا وڈیرہ  پیپلز پارٹی کے ساتھ ہے۔ایک حصہ فنکشنل لیگ کی شکل میں فی الحال اس تحریک کا حصہ بنا ہوا ہے۔ طلباء بھی بٹے ہوئے ہیں اور پہلے سے ہی چھوٹے چھوٹے مسائل کے لیے یونیورسٹی بند کراتے رہے ہیں۔
3) پیپلز پارٹی نے بھی ردعمل ظاہر کیا ہے۔  جو بتدریج مزاحمت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ نئے قانون کی مخالفت کرنے والوں  پر تنقید کی جارہی ہے اورپارٹی کے پانچ اراکین اسمبلی نے ایک مشترکہ بیان میں کے ذریعے اراکین کے گھروں پر احتجاج کرنے اور کالے توے ٹانگنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متنبیہ کیا گیا ہے کہ اس کے نتائج برے نکل سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی نے اس گرم ماحول کے باوجود 15 اکتوبر کو حیدرآباد میں جلسہ عام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے اس طرح کا ردعمل دیا ہے۔ ورنہ گزشتہ سال جب اسی طرح کا آرڈیننس جاری کیا گیا تھا تو  احتجاجوں کی وجہ سے اراکین اسمبلی چھپ گئے تھے۔ اور 24 گھنٹے تک کوئی لیڈر میڈیا پر نہیں آیا تھا۔
 4) پیپلز پارٹی کے لیڈروں کو اس بار شبہہ ہے کہ اس تحریک کے پیچھے نواز شریف ہے۔ کیونکہ احتجاج کرنے والی جماعتیں کسی نہ کسی شکل میں نواز شریف سے اتحاد میں ہیں۔ بہرحال ایک ہفتے تک  پی پی اس بات کو اٹھاتی رہی اور اس نے کسی حد تک اپنی دفاعی پوزیشن بنا لی ہے۔
5)موجودہ تحریک کے لیے سب سے بڑا  چیلینج احتجاج کی قیادت کرنے والے قوم پرست کے آپس میں اختلافات ہیں۔ سندھ بچاؤ کمیٹی  جو یہ تحریک چلانا چاہ رہی تھی وہ بقول ڈاکٹر قادر مگسی کے عملی طور پر ٹھنڈی ہو گئی ہے۔ عوامی تحریک کے ایاز لطیف پلیجو نے بھی شبہ ظاہر کیا ہے کہ سندھ بچاؤ کمیٹی کے کچھ لوگ اسمبلی کی ایک دو نشستوں کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔ اس کمیٹی میں شامل جماعتیں عوامی تحریک، سندھ ترقی پسند پارٹی الگ الگ سرگرمیاں کر رہی ہیں اور احتجاج کے لیے مختلف تاریخوں پر احتجاج کرنے کی اپیل کر رہی ہیں۔
  پیپلز پارٹی نے دیر سے ہی سہی، ناراض  اتحادیوں اور قوم پرستوں سے  مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سندھ میں شدیدبے چینی  کے پیش نظر اس بات کے کم امکانات ہیں کہ قوم پرست  متنازع قانون واپس لیے بغیر بات چیت کے لیے تیارہوں۔

Thursday, 5 March 2020

سندھ میں بے چینی کی لہریں - 2012-3-1

Thu, Mar 1, 2012, 1:14 PM
سندھ میں احتجاج کی لہریں 
میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی 
سندھ میں احتجاجوں کی لہر اٹھی ہوئی ہے۔یہ اسی فیصد احتجاج  مختلف محکموں کے سرکاری ملازمین کے ہیں۔ جو ملازمت کی بہتر شرائط باضابطہ سروس اسٹرکچر،  یا مستقل کرنے کے لئے ہیں۔ بڑے احتجاجوں کا آغاز چند ماہ قبل لیڈی ہیلتھ ورکرز نے گھوٹکی میں کیا تھا۔اس احتجاج کا جواب حکومت نے لاٹھی چارج، آنسو گیس اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں سے دیا۔ خواتین مظاہرین کو گھسیٹا بھی گیا۔ان لیڈی ہیلتھ ورکرز کی چھ ماہ سے تنخواہیں رکی ہوئی تھی۔ یہ خواتین ایک خصوصی ہیلتھ پروجیکٹ میں کام کر تی ہیں جو دیہی علاقوں میں خواتین کو طبی سہولت اور مشورہ مہیا کرنے کے لیے بے نظیر بھٹو نے ڈونرز کی مالی اعانت سے شروع کیا تھا۔ اس پروجیکٹ میں  لاکھوں خواتین تین چار ہزار روپے ماہوار پر برسہا برس سے کام کر رہی ہیں۔ان خواتین ملازمین سے پولیو، امیونائزیشن اور صحت کے دوسری پروگراموں میں بھی مدد لی جاتی رہی ہے۔ان کا نہ سروس اسٹرکچر ہے اور نہ ملازمت کی ضمانت۔ تنخواہیں بھی تین چار ماہ دیر سے ملتی ہیں۔اس مرتبہ یہ معاملہ اس وجہ سے بھی اٹھا کہ ان کی تنخواہیں روک دی گئی اور انہیں چھ ماہ تک تنخواہیں نہیں ملی۔ ان لاکھوں خواتین ملازمین کی تنخواہوں کا معاملہ ای پیچیدہ گورکھ دھندے سے گذرتا ہے۔ 
صوبائی محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ ڈونرز وفاقی حکومت کو فنڈز مہیا کرتے ہیں۔ جہاں سے یہ فنڈز صوبائی حکومت کو منتقل کئے جاتے ہیں۔ صوبائی حکومتیں یہ فنڈ محکمہ صحت کو رلیز کرتی ہیں جہاں سے یہ رقومات اضلاع میں بھیجی جاتی ہیں اور پھر لیڈی ہیلتھ ورکرز تک تنخواہیں پہنچتی ہیں۔ برسہا برس سے کام کرنے والی ان خواتین ملازمین کو نہ سالانہ اضافہ ملتا ہے اور نہ ہر سال مہنگائی کے پیش نظر حکومت کی جانب سے تنخواہوں میں بڑھائی گئی رقم ملتی ہے۔لہذا کم از کم تنخواہ سات ہزار روپے کے حکومتی فیصلے پر حکومت خود ہی عمل نہیں کرتی اور لاکھوں خواتین سے معمولی پیسوں پر فیلڈ ورک کرا رہی ہے۔حکومت نے نہ کبھی ان کو باقاعدہ سروس اسٹرکچر دینے کا سوچا اور نہ تنخواہوں کی رلیز کے اس پیچیدہ عمل کو آسان بنانے کی کوشش کی۔
ؒسندھ بھر سے لیڈی ہیلتھ ورکرز نے اچانک گھوٹکی میں پہنچ کر احتجاج نہیں کیا تھا۔ اس سے پہلے وہ مختلف اضلاع میں کئی ماہ تک احتجاج کرتی رہی، مگر ان کی ایک بھی نہیں سنی گئی۔حد ہے کہ کسی قومی یا صوبائی اسمبلی ممبر نے بھی زحمت نہیں کی کہ مظاہرے اور بھوک ہڑتالی خواتین سے ملاقات کر کے کوئی یقین دہانی بھی نہیں کرائی۔اس صورتحال نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کو مجبور کردیا کہ وہ صوبے بھر سے چل کر گھوٹکی میں آکر جمع ہوں اور ہائی وے بلاک کریں۔
 حکومت نے ان کے کچھ مطالبات تسلیم کئے، مگر بعد از خرابی بسیار۔ ہزاروں خواتین کو احتجاج پر مجبور کیا، لاٹھیاں برسائیں، گرفتار کیا،  ہیلتھ کے حوالے سے جو وہ کام کر رہی تھیں وہ متاثر کیا۔ پھر کہیں جا کر کچھ مطالبات مانے۔
کچھ ایسا ہی رویہ اساتذہ کے ساتھ رکھا گیا۔ان اساتذہ کو ایشین بنک کی فنڈنگ سے سینکڑوں اساتذہ کو باضابطہ ٹسٹ کلیئر کرنے کے بعد بھرتی کیا گیا۔ لیکن  تین سال سے زائد عرصہ گذرنے کے باوجود انہیں مستقل نہیں کیا گیا۔ جبکہ  ان کے بعد بھرتی کئے گئے  اساتذہ کو مستقل کردیا گیا۔ یہ لوگ بھی مختلف شہروں میں مظاہرے کرتے رہے۔ بالآخر انہوں نے کراچی میں  پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا۔ وہ لوگ  وزیر اعلی سندھ، اور گورنر کو یاداشت نامہ پیش کرنا چاہتے تھے۔مگر ان پر بے دردی کے ساتھ لاٹھی چارج کیا گیا۔ جس میں درجنوں اساتذہ زخمی ہوئے۔ اور گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئیں۔رات کو دیر سے  انکو مستقل کرنے کا نوٹفکیشن جاری کیا گیا۔یہ نوٹفکیشن پہلے بھی جاری ہو سکتا تھا جب ان کے وفود وزیر تعلیم سے ملاقاتیں کر رہے تھے۔ یا ضلع ہیڈ کوارٹرز میں احتجاج کر رہے تھے۔ یا کراچی پریس کلب کے سامنے کھڑے تھے۔ اس وقت اگر وزیر اعلی یا وزیر تعلیم  وغیرہ آکر انکو یقین دہانی کراتا اور نوٹیفکیشن جاری کرتا تو کتنا اچھا ہوتا۔ حکومت کی بھی عزت رہ جاتی۔ اور اساتذہ پر لاٹھیاں بھی نہیں پڑتی۔
 اس کے علاوہ عدالتوں کا ماتحت عملہ بھی کئی ہفتے احتجاج کرتا رہا۔ انکا کہنا تھا کہ ملک کے با قی تینوں صوبوں میں عدالتی عملے کی تنخواہیں اور سروس اسٹرکچر کچھ اور ہے جو کہ سندھ میں انکو نہیں دیا جا رہا ہے۔سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والی نرسیں  اور پیرامیڈیکل عملہ بھی سروس اسٹرکچر کے لئے ہڑتالیں اور مظاہرے کرتا رہے۔مختلف سرکاری محکموں کے کلرکوں کی بھی قلم چھوڑ ہڑتال، اور مظاہرے جاری ہیں۔ اساتذہ کے احتجاج کے باعث سندھ یونیورسٹی پچاس روز تک اور سندھ کی باقی یونیورسٹیاں پندرہ روز تک بند رہیں۔ یہ احتجاج  اب نصف دن کے بائکاٹ میں تبدیل ہوگیا ہے مگر جاری ہے۔
نادرا کے ملازمیں نے تین روز تک ہڑتال کی اور مظاہرے کئے۔ ان پر بھی کراچی  پریس کلب  کے سامنے دو مرتبہ لاٹھی چارج کرنے، آنسو گیس پھینکنے اور گرفتاریوں کے بعد حکومت نے اصولی طور پر ان کے مطالبات تسلیم کر لئے ہیں۔ 14ہزرار سے زائد ملازمین کئی سال سے کانٹریکٹ پر کام کر رہے ہیں نہ انکا کوئی سروس اسٹرکچر ہے نہ سالانہ اضافہ، اور نہ ہی کوئی سوشل سیکیورٹی اور اولڈ ایج بنیفٹ۔اس ادارے کو  قومی شناختی کارڈ اور بچوں کی پیدائش کی رجسٹریشن سے لیکر افغانیوں کی داخلہ، سیلاب متاثرین کی رجسٹریشن اور انکو مالی امدا کے لئے پاکستان کارڈ اور وطن کارڈ جاری کرنے سے لیکر ووٹرز کی داخلا اور لسٹوں کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کا کام کرنا پڑا۔مطلب ریگیولر کام کے ساتھ ساتھ ایمرجنسی کام بھی کرایا گیا۔ یہ ایک مستقل کام ہے مگر ملازمین کو مستقل نہیں کیا جاتا۔وفاقی وزارت داخلہ کے تحت چلنے والے اس ادارے میں اعلی عہدوں پر ریٹائرڈ فوجی افسران تعینات ہیں۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ ادارے میں  سروس اسٹرکچر نہ ہونے کی بڑی وجہ یہی اعلی افسران ہیں۔ جنہیں خود تو تمام سہولیات، پینشن وغیرہ حاصل ہے مگر باقی ملازمین محروم ہیں۔ سروس اسٹرکچر  نافذ ہونے سے ان لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ نقصان ہو سکتا ہے لہذا یہ لوگ سروس اسٹرکچر کے خلاف ہیں۔ حکومت نے سمری بنا تو لی ہے مگر  اس کو تبدیل کرنے اور کچھ مرعات کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
کیا وجہ ہے  یہ سب  ملازمین اس دور حکومت میں ہی احتجاج کر رہے ہیں؟  ایسا لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی سے لوگوں کی توقعات زیادہ ہیں۔ احتجاج کرنے والے  لوگ بتاتے ہیں کہ یہ جمہوری دور ہے۔ اس دور میں بھی پچھلی نااصافیوں کا ازالہ نہیں کیا گیا تو کب ہوگا کون آکر ے گا۔
یہ جمہوری دور ہے۔احتجاج کرنا  ہر متاثرہ شخص کاجمہوری حق ہے۔اور اس حق کے اظہار کو باعزت  رکھنا حکومت کی بھی ذمہ داری ہے۔ اس وقت عام آدمی کی وزراء یا دیگر ذمہ دار افراد سے  ملاقات کم از کم کراچی اور سندھ کی حد تک خاصا مشکل ہوگیا ہے۔ لوگ اپنی آواز معاشرے  اور متعلقہ افراد تک پہنچانے کے لیے پریس کلب کا رخ کرتے ہیں۔سندھ کے بڑے شہروں کے کلب ایسے احتجاجوں کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ کراچی پریس کلب اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ وہ صوبائی دارالحکومت میں واقع ہے اورقومی خواہ عالمی میڈیا کا مرکز بھی ہے۔ مگر اب کراچی پریس کلب حکومت کی نئی سیکیورٹی پالیسی کیبعد ریڈ زون ایریا میں آ گیا ہے۔ جس کے بعد لوگوں سے احتجاج کا حق چھن گیا ہے۔ اور جو وہاں احتجاج کرتا ہے اس پر لاٹھیاں برستی ہیں۔ اگر لوگ احٹجاج کرتے ہیں وزیر اعلی یا گورنر کو یاداشت نامہ پیش کرتے ہیں تو اس کو بندوبست کرنا کوئی مشکل کام نہیں اور نہ ہی اس پر بڑی رقم خرچ ہوگی۔  حکمرانوں کو  تو چاہئے کہ  وہ لوگوں کے پاس چل کر جائیں مگر یہاں معاملہ الٹ ہے۔ لوگ جاتے ہیں تو ان پر تشدد کیا جتا ہے۔
 لوگ جمہوری حکومت پر اپنا حق جتاتے ہیں۔حکومت ان کی حجت کسی حد تک امن بھی رہی ہے مگر تشدد کرنے کے بعد۔یہی سکھا رہی ہے کہ احتجاج کرینگے تو مطالبات مانے جائینگے۔ ورنہ نہیں۔یوں حکومت خود لوگوں کو احتجاج پر اکسا رہی ہے۔