Monday, 9 March 2020

بارہ جولائی کے بعد کچھ ہوگا۔ 2012-7-2

Mon, Jul 2, 2012 at 12:28 PM
 12  جولائی کے بعد کچھ ہوگا۔  
زرداری  اور چیف الیکشن کمشنر پر پھنسی ہوئی گوٹ  
کالم ۔۔ سہیل سانگی
یہ بات سب کے لیے پریشان کن ہے کہ آخر ملکی بحران حل ہو کے کیوں نہیں دیتا؟ عام تاثر یہ ہے کہ پیپلز پارٹی انتخابات کا اعلان کردے بلکہ کرادے، کوئی مسئلہ ہی نہیں، ابھی اس کی مقبولیت کا گراف اس کے روایتی اتنخابی حلقوں میں اچھا ہے۔ تو اس کو فکر نہیں ہونی چاہئے وغیرہ وغیرہ۔ اایسے کئی مشورے اور تجاویز عام بحث و مباحثوں میں بڑی سنجیدگی سے آرہی ہیں۔ بظاہر لگتا بھی یہی ہے۔ مگر یہ پورے معاملے کی سرسری توضیح ہیں۔ کیونکہ معاملہ اتنا سادہ نہیں۔اصل میں گوٹ آئندہ انتخابات کے لیے چیف الیکشن کمشنر اور نگراں سیٹ اپ کے معاملے پر پھنسی ہوئی ہے۔آج ملک میں سیاسی، انتظامی غیریقینی خواہ معاشی بدحالی اور موجودہ حالات کے پیچھے یہی دو فیکٹر اہم ہیں۔چیف الیکشن کمشنر کا تقرر اور وفاق اور صوبوں میں نگراں حکومتوں کی مقرر۔نگراں سیٹ اپ جیسے عام تاثر ہے کبھی بھی اتنا غیرجانبدار نہیں ہوتا جتنا کہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ بغیر کسی لالچ، یا دلچسپی کے آئے گا اور عوام کے وسیع تر مفاد میں آزادانہ اور غیرجانبدارانہ انتخابات کراکے چلا جائے گا۔اصل میں نگراں سیٹ اپ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ جس وجہ سے انٹخابات کرائے جا رہے ہیں اسکے مطوبہ نتائج نکلیں۔ پاکستان میں انتخابات ہمیشہ اقتداری  حصہ داروں کی آپس میں شیئرنگ  فارمولا تبدیل کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اقتداری کھلاڑیوں کو ہمیشہ انتخابات سے ڈر سا لگتا ہے۔
 چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ چونکہ اور وفاق اور صوبوں میں نگراں حکومتیں مقرر کرے گا لہٰذا یہ عہدہ بھی اہمیت کا حامل ہوگیا ہے۔ نئے  چیف الیکشن کمشنر اور نگران سیٹ کا تعین آئینی طور پر حکومت مارچ 2013میں کر سکتی ہے۔ مگر حکومت پر دباؤ ہے وہ اپنا تاش کا یہ پتہ ابھی شو کرے یا پھر گھر جانے کے لیے تیار ہو جائے۔اگران دومعاملات  یعنی نئے  چیف الیکشن کمشنر اور نگران سیٹ پر راضی نہیں تو ایسی نگراں حکومت قائم کردی جائے گی جو ”صفائی“کے اہم معاملات انجام دیگی۔نتیجے میں موجودہ سیاسی نظام جس میں دو سیاسی پارٹیاں ہی اہم ہیں ختم ہو سکتا ہے۔بظاہر ایسی نگراں حکومت کی آئینی مدت تین ماہ ہے مگر اسکو تین سال تک کھینچا جا سکتا ہے۔۔ ہمارے ہاں صرف  اقتدار کے کھلاڑی صرف ملکی قوتیں نہیں ہیں، کچھ غیر ملکی بھی  طاقتیں ہیں جو اس قصے میں برابر کی بکلہ بعض صورتوں میں  زیادہ  شراکت دور رہی ہیں لہٰذا وہ طاقتیں  یہ سب اتنا آسانی سے ہونے نہیں دیں گی۔ اس الجھن اور بحران میں حکومت کے پاس دو راستے ہیں کہ موجودہ حکومت چیف الیکشن کمشنر کا تقرر کرے اور نگراں حکومت کے معاملے پر سمجھوتہ کر لے۔مختلف تجزیہ نگار حکومت کو یہی مشورہ دے رہے ہیں۔
 ّ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق ئین کی اٹھارویں اور بیسویں ترامیم کی وجہ سے سیاسی بحراں حل نہیں ہو پا رہا ہے۔ پورے نظام میں اتنے چیک انیڈ بیلنس بھر دیئے گئے ہیں کہ کسی کے پاس کوئی اختیار نہیں کہ کچھ کر پائے۔ سب ایک دوسرے کے محتاج بنے بیٹھے ہیں۔ لیایسے میں اختیار صرف مستقل اور طاقتور اداروں کے پاس چلا جاتا ہے۔اٹھارویں ترمیم کے بعد پارلیمنٹ کی بارہ رکنی کمیٹی نگران حکومت کا فیصلہ کرے گی۔اس کمیٹی کو ویزراعظم اور اپوزیشن لیڈر متفقہ طور پر تین نام دیں گے۔جس میں سے کسی ایک نام کا فیصلہ کرے گی۔ اتفاق نہ ہونے کی صورت میں وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر الگ الگ تین تین نام تجویز کر کے پارلیمانی کمیٹی کو بھیجیں گے جن  میں سے کوئی ایک  نامزد کرے گی۔ سید خورشید شاہ کی قیادت میں یہ بارہ رکنی پارلیمانی کمیٹی بن بھی چکی ہے۔مگر وہ اپنا کام نہیں کرپارہی ہے۔ اس کمیٹی  کی ترتیب بھی دلچسپ ہے۔ کمیٹی میں پی پی کے چھ، نواز لیگ کے پانچ ممبر ہیں اور ایک ممبر جے یو آئی (ف) کا ہے۔ لہٰذا یہاں جے یو آئی (ف) کا کردار نہایت اہم ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نواز لیگتمام تر ناراضگیوں کے باوجود مولانا فضلالرحمان کے لیے”نرم دل“ نظرآتی ہے۔مگر شومے قسمت،  پارلیمانی کمیٹی چیف الیکشن کمشنر کے تقرر پر ڈیڈلاک کا شکار ہے۔اس ڈیڈ لاک کے بعد نگراں وزیر اعظم اور وزراء اعلیٰ کے نام بھی چیف الیکشن کمشنر کے پاس جائیں گے۔ا س آئینی پوزیشن کے بعد الیکشن کمشنر کا عہدہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے زندگی اور موت کا سوال ہے۔دلچسپ بات یہ ہے اس اہم عہدے پر بھی عدلیہ کا بندہ بیٹھاہوا ہے۔ اگر حکومت نگراں وزیراعظم اپنی پسند کا مقرر کرانے میں کامیاب ہوئی تووہ سوئس حکام کو خط نہیں لکھے گا۔اس کے برعکس اگر نگراں وزیر اعظم پیپلز پارٹی کی مرضی کا نہیں آیا تو وہ سوئس حکام کو خط لکھ دے گا۔اب موجودہ بحران کے پیچھے اب چیف الیکشن کمشنر کا تقرر  پورے بحران کا بنیادی نقطہ بن گیا ہے۔
بیسویں آئینی ترمیم نے ڈیڈ لاک کو بڑھا دیا ہے۔اس ترمیم کے بعد وزیراعظم کا تقرر حکومت اور اپوزیشن کی باہمی رضا مندی سے ہونا ہے۔  یہ دونوں نہ آپس میں بنتی ہیں اور نہ ہی چیف الیکشن کمشنرکا تقرر ہوپا رہا ہے اور نہ ہی نگراں وزیراعظم کے نام پراتفاق۔نواز لیگ کوپی پی کے مقرر کردہ نگراں ویرز اعظم اور  چیف الیکشن کمشنر کے تحت انتخابات پسند نہیں۔جبکہ پیپلز پارٹی ”غیر جانبدار“ چیف الیکشن کمشنر یا نگراں سیٹ اپ کے تحت انتخابات کو اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔فی الحال چیف الیکشن کمشنر کا ا اہم آئینی عہدہ بھی عدلیہ کے پاس ہے  جہاں سپریم کورٹ کا دوسرے نمبر پر سینئر جج فائز ہے۔ وہ اگرچہ مستقل نہیں، قائم مقام ہیں۔
 سمجھنے والے سمجھ بھی رہے ہیں اور صورتحال کو بڑی  پریشانی بھی اوردلچسپی سے دیکھ رہے ہیں۔ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں چیف الیکشن کمشنر کا تقرر کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ادھرسپریم کورٹ روز شفاف انتخابات کرانے کے لیے احکامات جاری کر رہی ہے(انتخابی فہرستوں کا معاملہ، انتخابی اخراجات کے احکامات وغیرہ) جس نے حکمراں اور پاوزیشن کی زندگی تیل کی ہوئی ہے۔ حکمران خواہ اپوزیشن میں بیٹھا ہوا الیٹ کلاس جس نے الیکشن کو  پیسے اور طاقت کا کھیل بنا لیا تھا۔پولنگ والے دن پیسہ چلتا تھا یاڈنڈا۔ان دونوں پارٹیوں خواہ دیگر اقتدار پسند پارٹیوں نے اپنا پورا سیٹ اپ اور حکمت عملی وغیرہ بھی کچھ اسی طرح بنا رکھی تھی کہ انتخابی عمل میں بڑے پیمانے پر پیسہ، طاقت کا استعمال  اور ذاتی اثر رسوخ حاوی رہے۔ جو  ہتھکنڈے انہوں نے انتخابات جیتنے کے لیے اختیار کیے وہی ہتھکنڈے بعدمیں  حکمرانی میں بھی چلاتے رہے۔ عام آدمی صرف ٹھپہ لگانے کی حد تک ہو اور وہ اوتھ کمشنر کی طرح  بغیر دیکھے جہاں اس کو بولا جائے وہاں ٹھپہ مار دے۔نتیجے میں پارٹی ٹکٹیں ایسے کوگوں کو ملتی ہیں۔ ملک کی ایک اہم پارٹی کے سربراہ کا یہ جملہ ابھی تک یادجو انہوں نے  ایک عام کارکن کو ٹکٹ پر ضد کرنے کے جواب میں کہا تھا کہ اس کارکن کے پاس انتخابی فہرستوں کے پیسے کہا ں سے آئیں گے۔
 سپریم کورٹ کی مداخلت اور دباؤ  پیپلز پارٹی اور نواز لیگ دونوں کو مجبور کر سکتا ہے کہ وہ  چیف الیکشن کمشنر اور نگراں وزیراعظم کے تقرر پرآپس میں کوئی سمجھوتہ کر لیں۔ نواز لیگ کا المیہ یہ ہے کہ وہ صدر زرداری کی موجودگی میں انتخابات کے انعقاد سے ڈری ہوئی ہے۔کہ ایک زرداری سب پہ بھاری ہو رہا ہے۔ وہ صدر زرداری کے کچھ پر کاٹنا چاہ رہی ہے کہ یا تو صدر نہ رہے، اگر رہے تو  کچھ کرنے کے قابل نہ رہے۔ اس کام کے لیے وہ عدلیہ کا سہارا لینا چاہ رہی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کہ صدر زراداری 12 جولائی تک بتائیں کہ وہ ملک ے صدر کا عہدہ رکھنا چاہ رہے ہیں یا پارٹی کا عہدہ، یا یاوان صدر میں ”سیاسی سرگرمیوں“ کو روکنے کے حوالے سے پٹیشن چندمثالیں ہیں۔
 یہ بندوبست اسٹبلشمنٹ اور نواز لیگ دوں کے دل کی بات ہے۔پیپلز پارٹی یہ بھی سمجھتی ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کا تقرر میں جلدی کی گئی تو نگراں سیٹ اپ کا فیصلہ کرنے کے لیے دباؤ بڑھ جائے گا۔اس لیے حکومت چاہتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح سے اپنی آئینی مدت پوری کرے۔
 ملک کی معاشی خواہ امن وامان کی صورتحال بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔جس پر عسکری حلقوں کو تشویش ہو سکتی ہے۔اور لوگوں میں یہ سوچ مقبول ہو رہی ہے کہ اس صورتحال کو ڈنڈے سے ٹھیک کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔
موجدہ صورتحال سے نکلنے کا ایک ہی راستہ  واپس آئین اور قانون کے دائروں میں ہے، سیاسی قوتیں واقعی افہام و تفہیم کو دل سے اپنائیں تاکہ نہ ملکی اور نہ ہی  غیرملکی قوتوں کو مداخلت کا موقعہ نہ ملے۔ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ سب کچھ آئین اور قانون کے مطابق نہیں ہوتا۔سیاست پراثرانداز ہونے والی ملکی یا غیر ملکی”فریقیں“ بھی ہیں۔خیال یہ ہے کہ فی الحال سیاسی جماعتوں کے پاس بھی کچھ وقت ہے۔وہ کچھ کرلیں۔ ورنہ جو کچھ ہوگا وہ 12 جولائی کے بعد ہوگا۔

No comments:

Post a Comment