Thu, Jun 28, 2012, 10:30 AM
سب حکومت میں، اپوزیشن نایاب۔۔۔
میرے دل میرے مسافر۔۔۔ کالم۔۔ سہیل سانگی
ایوان کے اندر اپوزیشن، سڑکوں پر اپوزیشن۔بظاہر تو ایسا ہی لگتا ہے۔ پریہ سب کہنے کی باتیں ہیں در اصل کوئی بھی اپوزیشن میں نہیں ہے۔ سب کے سب حکومت میں ہیں۔بس ایک رویہ ایک انداز یہاپنایا ہوا ہے کہ اپوزیشن ہے بھی اور نہیں بھی۔ کہاوت مشہور ہے کہ شتر مرغ سے کہا گیا کہ اڑ کے دکھاؤ۔ تو وہ بولا کہ جانور کبھی اڑتے ہیں۔ جب کہا گیا کہ دوڑ لگاؤ تو جواب دیا کہ پرندے کبھی دوڑتے ہیں۔ ہمارے پاس بھی سیاسی جماعتوں کا شتر مرغ والا معاملہ ہے۔ وہ نہ اپوزیشن میں ہیں نہ حکومت میں۔
آپ ہی بتائے۔ کونسی پارٹی ہے جو حکومت سے باہر ہے؟پیپلز پارٹی تو حکومت میں ہے ہی۔ کیا ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کے دعویدار کیا واقعی اپوزیشن میں ہے؟ کیسے؟ نوازلیگ کی ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں حکومت ہے جو کل آبادی کا 57 فیصد ہے۔ کیا 57 فیصد آبادی پر راج کرنے والا بھی اپوزیشن میں کہلائے گا؟ کس کس جماعت کی بات کی جائے؟ فنکشنل لیگ، قائد لیگ، متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی، جمیعت علمائے اسلام دیگر مذہبی جماعتیں یہاں تک کہ فاٹا سے اسمبلی ممبران بھی حکومت میں ہیں۔ اگر کوئی اپوزیشن میں ہے تو اسے بھی کسی نہ کسی طرح سیفائدہ مل رہا ہے۔ ہر ایک کو حصہ بقدر جسہ دیا ہوا ہے۔سب سیاسی جماعتیں اقتدار میں ہیں۔ مگرعوام ہیں کہ جن کے مسائل جوں کے توں ہیں حل ہو کے نہیں دے رہے۔ بلکہ ان میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ذمہ داری سے بھاگنے کے لیے جواز اور دلائل کا انبار ہے۔ویسے بھی دنیا میں اتنے فلسفے اور تصورات موجود ہیں کہ بری سے بری بات کے لیے بھی دلیل مل جاتی ہے۔ نواز لیگ کی یہ دلیل ہے کہ مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، لہٰذا تمام مسائل حل کرنا اسی کی ذمہ داری ہے۔ اس کے جواب میں پی پی پی کا یہ استدلال ہے کہ پنجاب میں نواز لیگ کی حکومت ہے ملک کے بڑے صوبے کے مسائل صوبائی حکومت حل کرے۔ خاص طور پر اٹھارویں ترمیم کے بعد سب اختیارات صوبائی حکومتوں کے پاس ہیں۔ جو پارٹی ایک صوبے کے مسائل حل نہیں کرسکتی وہ پورے ملک کے مسائل کیسے حل کرے گی؟سندھ کا معاملہ اور بھی مختلف ہے۔ یہاں تو برائے نام بھی اپوزیشن نہیں۔ کراچی میں بدامنی پر اہم اتحادی جماعت ایم کیو ایم کہتی ہے کہ ان کے پاس وزارت داخلہ تو ہے نہیں کہ وہ امن وامان کی صورتحال ٹھیک کرے۔ جن کے پاس یہ وزارت ہے یہ اسی کا کام اور ذمہ داری ہے۔ یہی ڈائلاگ ہر جماعت کے پاس ہے۔ عجب صورتحال ہے کہ ہر جماعت ذمہ دار ہے مگر کوئی بھی ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہیں۔اس پر سندھی کی کہاوت صحیح لاگو ہوتی ہے۔ ایک بندے سے نام پوچھا گیا تو بتایا کہ نام بینگن ہے۔ جواب ملا واہ واہ نام کا نام ہے اور سبزی کی سبزی۔
عوام کی کیا حالت ہے؟ الگ الگ شہروں میں رونما ہونے کے باوجود بعض واقعات کی نوعیت، اسباب ایک جیسے ہیں، اذیتیں اور ذلتیں بھی ایک جیسی ہیں۔بالکل لوگوں کی حالت دوستووسکی کے ناول ”ذلتوں کے مارے لوگ“ جیسی ہے۔ لوگ بیروزگاری، بھوک اور افلاس کے ہاتھوں زندگی سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔اس غربت کا کئی مقامات پر مقامی آئی ایم ایف یعنی سود پر پیسہ چلانے والے افراد فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ بڑے کاروباری شہر کراچی اور ملکی پیداوار میں سب سے بڑا حصہ ڈالنے والے شعبے زراعت اور دیہات سے وابستہ لوگ بھی ان سود خوروں کے ہاتھوں لوٹے جارہے ہیں۔ قرضہ واپس نہ کرنے کی صورت میں خودسوزی یا خود کشی کر لیتے ہیں۔ یہاں پر تو کسی کے آنکھوں میں دید نہیں۔ ملک اور عوام کے نام لیوا ان حضرات کو نظر نہیں آتا۔نہ لوگ نہ لوگوں کی اذیتیں۔لوگ زندگی پر موت کو ترجیح دے رہے ہیں۔لوگ اپنے جسم کو آگ لگانے کے لیے تیار ہیں اور خودسوزی کر لیتے ہیں۔اس تمام صورتحال کے پیچھے ظالم حالات ہیں۔
تاریخ پر ایک نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے لیے ایسا آئیڈیل دور پہلے کبھی بھی نہیں آیا تھا۔ اس سے قبل کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ سب کی سب جماعتیں حکومت میں ہوں۔یہ سب مفاہمت کا کمال ہے۔پیپلز پارٹی اور س مسلم لیگ (ق) ایک دوسرے کی مخالف تھیں مگر آج قریبی اتحادی ہیں کہ مسلم لیگ (ق) کو ڈپٹی وزیراعظم کا عہدہ اور 15وزارتیں دی ہوئی ہیں۔ دلیل یہ دی جارہی ہے کہ چونکہ ملک ایک مشکل اور بدترین دور سے گزر رہا ہے، لہٰذا مفاہمت ضروری ہے۔تمام جماعتیں اختلافات بھول کر اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ اس مفاہمت کو اب پانچ سال ہونے کو ہیں مگر سنگین دور کا خاتمہ ہوکے نہیں دے رہا۔
ہر حکومت یہ رونا روتی ہے کہ اسے مسائل ورثے میں ملے ہیں۔ابھی بھی ایسا ہی ہورہا ہے۔ چار سال کے بعد اس وراثت میں کچھ کمی ہونی چاہئے۔ مگر ایسا کچھ نظر نہیں آتا۔شاید حکومت نے اس کو واقعی ماضی کا ورثہ سمجھ کر جوں کا توں سنبھال کے رکھا ہوا ہے۔ اور دوسری جماعتیں اس ورثے اور اثاثے میں اضافہ ہی کر رہی ہیں۔مانا کہ بجلی کی کمی مشرف دور سے ہے اور لوڈ شیڈنگ کا آغاز بھی انہیں کے دور سے ہوا۔اس حقیقت کو کیوں نہیں مانا جاتا کہ گزشتہ بیس سال کے دوران ایک بھی نیا بجلی گھر قائم نہیں کیا گیا۔ ہمارے موجودہ بجلی گھر تقریبا اپنی میعاد پوری کر چکے ہیں، جس کے باعث نہ صرف یہ بجلی گھر پیداوار کم دے رہے ہیں بلکہ پرانے بجلی گھروں مین بجلی تیار کرنے سے بجلی کی لاگت بڑھ گئی ہے۔ یہ بھی کہ اسی عرصے میں خود بجلی کی کے استعمال میں تیس فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔اگر اس میں کمی نہیں کی جا سکتی تو کم از کم اس میں اضافہ بھی تو نہیں ہونا چاہئے۔ تیل کی قیمتیں ہوں یا بجلی کا ریٹ، عام ضروری اشیاء کی قیمتیں مہنگائی کا گراف روزبروز اوپر جارہا ہے۔
آمر وں سے کیاشکوہ۔ وہ نہ عوام کی مرضی سے آتے ہیں اور نہ عوام کی مرضی رکھتے۔ انہیں عوام کے پاس جانا بھی نہیں ہوتا۔جمہوری حکومتیں عوام کی متخب ہوتی ہیں انہیں دوبارہ عوام سے ہی رجوع کرنا ہوتا ہے کسی آمر کی طرح ملک چھوڑ کے نہیں جانا ہوتا۔لہٰذا سیاسی جماعتوں کو مفاہمت صرف اس لیے نہیں کرنی چاہئے کہ انہیں اقتدار میں رہنا ہے۔جب عوام کے مسائل اور مصائب کم نہیں ہوتے تو کیسے سمجھا جائے کہ سیاسی جماعتیں جوملک کو سنگین حالات سے نکالنے کے لیے جمع ہوئی ہیں اور صوبے یا مرکز میں حکومت کر رہی ہیں وہ واقعی ملک کو سنگین صورتحال سے نکال نکال بھی پائیں گی۔
ایک مفاہمت اس پر بھی ہونی چاہئے کہ عوام کے مسائل حل کرنے ہیں۔ اس لیے کہ ملک سنگین حالات جس کا جواز ہر حاکم وقت دیتا ہے مگربھگتنا سب سے زیادہ عوام کو ہی پڑتا ہے۔
نقصان صرف عوام کا نہیں ہوتا، دراصل سیاسی جماعتیں اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہی ہیں۔اب جب انتخابات ہونگے وہی جماعتیں ووٹ لینے کے لیے عوام کے پاس پہنچ جائیں گی۔ ایک بار پھر ووٹ یہ جماعتیں انتخابات جیت کر دوبارہ ایوانوں میں پہنچ جائیں۔ سیاسی جماعتوں کی خراب کارکردگی اور ناہلی ایک دوسرا دروازہ کھولتی ہے ایک تو ووٹوں کا ٹرن آؤٹ کم ہوگا۔دوسرا یہ کہ سیاسی جماعتوں کے بارے میں غیرجمہوری قوتوں کے اس خیال کو تقویت ملے گی کہ سیاسی قوتوں کے پاس عوام کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت نہیں۔لہٰذا ان کوحکومتی سیاسی نظام سے ہٹایاجائے اور انکے بغیر کام چلایا جائے۔پھر ایک ایسا نظام وجود میں آتا ہے جس میں سیاسی جماعتیں فاضل پرزہ بن کے رہ جاتی ہیں۔کیا سیاسی جماعتیں ایسا فاضل پرزہ بننے کے لیے تیار ہیں؟
No comments:
Post a Comment