Showing posts with label Zardari. Show all posts
Showing posts with label Zardari. Show all posts

Monday, 9 March 2020

صدر زرداری کا دورہ سندھ 2012-7-31

Tue, Jul 31, 2012, 2:26 PM
صدر زرداری کا دورہ سندھ  
میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی
 اسے کیا کہا جائے؟  انتخابی مہم کا آغاز یا اکچھ اور۔ صدر آصف علی زرداری نے قوم سے وعدہ  کیا ہے کہ کہ آئندہ انتخابات وقت پر ہونگے، صاف شفاف ہونگے، کسی کو نہ دھاندلی کرنے دیں گے نہ کریں گے۔ اور یہ کہ آئندہ چاروں صوبوں میں وزراء اعلیٰ ان کی پارٹی کے ہونگے۔انہوں نے ٹی وی اسکرین کی سیاست کی بھی بات کی۔اور کہا کہ خواہ ٹی وی کے سیاستداں پیدا ہوں۔آبائی صوبے سندھ میں ضلع خیرپور کے گاؤں نواب وسان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے آئندہ عام انتخابات کے بارے میں بعض اہم باتیں کی ہیں۔وہ لاڑکانہ اور نوابشاہ میں آکرلوگوں سے خطاب کرتے رہے ہیں۔لیکن ان دو مقامات کو چھوڑ کر ہونے والا یہ پہلا جلسہ ہے جس کو سیاسی حلقے اتنخابی مہم کا آغاز قرار دے رہے ہیں۔ 
 صدار زرداری اگرچہ خیرپور میں  وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور پیپلز پارٹی کے ایک رہنما منظور وسان کومنانے گئے تھے۔ منظور وسان  جو اپنے تئیں وزیراعلیٰ کے بھی امیدوار تھے۔ان کے پاس ڈاکٹرذولفقار مرزا کے استعیفے کے بعد وزارت داخلہ کا قلمدان تھا۔ مگر بعد میں  وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی مداخلت اور ایم کیو ایم کی مخالفت کی وجہ سے کوئی چار ماہ قبل انہیں کابینہ سے الگ کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد ان کے پاس کوئیسرکاری ذمہ داری نہیں تھا اور وہ زیادہ تر وقت اپنے گاؤں میں گزار رہے تھے۔ منظور وسان کا تعلق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے آبائی ضلع ٰپرور سے ہی ہے۔ وہ جب سند کابینہ میں شامل  تھے تب بھی ان کی وزیراعلیٰ سندھ سے نہیں بنتی تھی۔ اور وزیراعلیٰ کی طرف سے بھی انہیں بڑا کولڈ ریسپانس ملتا تھا۔ یہاں تک کہ خیرپور میں ہونے والے پروگراموں میں نہ وسان خود شریک ہوتے تھے اور نہ ہیان کے لوگ شریک ہوتے تھے۔ بلکل اسی طرح وزیراعلٰ کے حامی وسان کے پروگراموں میں شریک نہیں ہوتے تھے۔ دونوں کی کوشش ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی ہوتی تھی۔سیاسی ماحول میں حالیہ تبدیلیوں اور فنکشنل لیگ کے سرگرم  ہونے کے بعد یہ ضروری ہو گیا تھا کہ منظور وسان کی ناراضگی ختم کی جائے۔اس میں یہ پیغام بھی چھپا ہوا ہے کہ صدر زرداری انتخابی مہم کس طرح سے چلائیں گے۔
ایسے میں رسم بھی تھی اورموقعہ بھی۔ صدر زرادری  صرف انتخابات کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ ان کے نتائج کے بارے میں بھی کچھ کہہ دیا۔ ٓن کے بعض نقادوں کا کہنا ہے کہ صدرچونکہ ایک پارٹی کا نہیں ہوتابلکہ ملک کا سربراہ ہوتا ہے، انکے منہ سینتائج کے بارے میں پیشگی باتیں اچھی نہیں لگتیں۔انہیں پہلے سے نتائج کے بارے میں بات کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے تھاانتخابی مہم اور انتخابی سیاست میں ایسے بیانات فائدہ مند ہوتے ہیں اور مخالفین پر بھی رعب ڈالتے ہیں۔ لہٰذا سیاسی پارٹیاں ایسے مواقع کو استعمال کرتی ہیں۔ پیپلز پارٹی ملک کی بڑی پارٹی ہے۔ اسے 70ع کے بعد مسلسل انتخابات کا تجربہ ہے۔ لہٰذا اس کو پتہ ہے کہ انتخابات کے موسم میں کیسے کھیلا جاتا ہت۔ صدر نے محض اس کلچر کے تحت دعوا کی ہے۔انتخابات کے بعد کیا ہوگا اور کونسی پارٹی کس پوزیشن میں ہوگی؟ یہ پیش گوئی آج نہیں کی جاسکتی۔
 انتخابات کے بارے میں صدر کے اس وعدے کے بعد ملک میں جاری  ان افواہوں  نے دم توڑ دیا کہ صدر موجودہ اسمبلی کے ذریعے خود کو دوبارہ منتخب کرانا چاہتے ہیں اور ایم کیو ایم  کی تجویز کردہ گول میز کانفرنس  اس سلسلے کی کڑی سمجھی جارہی تھی۔اس افواہ پر نوزا لیگ نے اتنباہ بھی جاری کردیا تھا کہ انتخابات کو ٹالنے یا موجودہ سیٹ  اپ کو دوام دینے کیشدید مخالفت کی جائے گی۔
 حالیہ سیاسی بحران  کے دوران جب نتخابات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے صدر کی جانبب سے یہ بیان خاصی اہمیت کا حامل ہے۔اور ان کا یہ بیان اور دورہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ سیاسی جماعتیں انتخابات کی تیاری شروع کردیں۔صدر نے یہ بات ایک ایسے ماحول میں کہی ہے جب وقت سے پہلے انتخابات کرانے اور نگران حکومت کیسی ہو کے معاملات سیاسی ماحول میں زیادہ پاپولر ہیں۔ صدر کی اس بات نے  واضح اشارہ دیا ہے کہ وقت سے پہلے انتخابات کی بات نہیں ہورہی۔اور نگراں سیٹ اپ والا معاملا بھی اتنا کوئی پیچیدہ نہیں۔انہوں نے یہ کہہ کر واضح کردیا ہے کہ پیپلز پارٹی انتخابات کے لیے تیار ہے۔
پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے عدلیہ کے پارلیمنٹ سے متعلق ریمارکس نے ایک بار پھر پارلیمنٹ کوrelevant بنا دیا ہے۔ اور اسکے ساتھ یہ بھی کہ سیاسی قوتیں  اگر کسی نقطے پر متفق ہو جاتی ہیں تو اس کے نتائج بہرحال سیاست پر مثبت ہی پڑتے ہیں۔ اس پس منظر میں سپریم کورٹ کیپیر کے روز کے ریمارکس خاصی اہمیت کے حامل ہیں جس مین عدلیہ کا رویہپارلیمنٹ اور اراکین کی جانب مثبت اور نرم تھا۔
ایسا لگتا ہے کہ  پورے ملک میں ایک سیاسی ماحول بننے جا رہا ہے جس میں ماضی کی تمام حکمت عملیاں غیر ضروری ہو جائیں گی۔سیاسی پارٹیوں کو نئے سرے سے منصوبہ بندی کرنی پڑے گی۔
 اس اعلان کے بعدایم کیو ایم کی گول میزسے متعلق تجویز میں بھی لمبا چوڑادم باقی نہیں رہتا۔ کیونکہاب الیکشن کا ماحول ہوگا۔ اور یہ اس بات کا اشارہ ہوگا کہ ملک کو درپیش مسائل انتخابات کے ذریعے حل کئے جاسکتے ہیں۔
صدر کے اس بیان  کے دوسرے دن الیکشن کمیشن نے بھی سرگرمی دکھائی۔ اور اعلان کیا کہ ابتدائی انتخابی فہرستیں جاری کی جا رہی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اعلان کیا کہ یہ انتخابات پرانی حلقہ بندیوں پر ہونگے۔کیونکہ نئی مردم شماری نہیں ہو سکی ہے۔اس وقت ملک میں 1998 کی ہی مردم شماری پر حلقہ بندیاں  بنی ہوئی ہیں۔ اگرچہ اس پر کئی سیاسی پارٹیوں کو اعتراضات بھی ہیں۔ سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ  ملک میں آبادی کی  ایک علاقے سے دوسرے میں منتقلی ہوئی ہے اس کو تسلیم نہیں کیا جارہا ہے۔ اس کو لحاظ میں لائے بغیر حلقہ بندیاں اور انتخابات  ماضی کے انتخابات سے مخلتف نتائج نہیں دیں گے۔ تاہم یہ الگ بحث ہے۔ الیکشن کمیشن کے ان دو اعلانات نے صدر کی بات کو مستند بنا دیا ہے۔
اگرچہ ابھی تک نگراں سیٹ اپ اور دیکگر کچھ امور سے متعلق کچھ چیزیں ضرور ہیں جو آڑے آسکتی ہیں۔
 خیال یہ کیا جا رہا ہے کہ  اب ملک میں انتخابی ماحول اور سیاست چلنے لگے گی۔اگر واقعی ایسا ہو جاتا ہے تو تمام پارٹیاں اپنی تمامتر توانائیاں حکومت کو کسی اور طریقے سے ہٹانے یا تحریک چلانے پر صرف کرنے کے بجائیانتخابات پر ہی صرف کرنے لگیں گی۔ جو کہ کسی بھی حکومت کو ہتابنے کا آئینی اور قانونی طریقہ ہے۔اس پر اگر حکومت نے مزید کچھ پیشرفت کی توموجودہ بحران سے نکنے میں یہ بات اسے خاصی مدد
 دے گی۔

بارہ جولائی کے بعد کچھ ہوگا۔ 2012-7-2

Mon, Jul 2, 2012 at 12:28 PM
 12  جولائی کے بعد کچھ ہوگا۔  
زرداری  اور چیف الیکشن کمشنر پر پھنسی ہوئی گوٹ  
کالم ۔۔ سہیل سانگی
یہ بات سب کے لیے پریشان کن ہے کہ آخر ملکی بحران حل ہو کے کیوں نہیں دیتا؟ عام تاثر یہ ہے کہ پیپلز پارٹی انتخابات کا اعلان کردے بلکہ کرادے، کوئی مسئلہ ہی نہیں، ابھی اس کی مقبولیت کا گراف اس کے روایتی اتنخابی حلقوں میں اچھا ہے۔ تو اس کو فکر نہیں ہونی چاہئے وغیرہ وغیرہ۔ اایسے کئی مشورے اور تجاویز عام بحث و مباحثوں میں بڑی سنجیدگی سے آرہی ہیں۔ بظاہر لگتا بھی یہی ہے۔ مگر یہ پورے معاملے کی سرسری توضیح ہیں۔ کیونکہ معاملہ اتنا سادہ نہیں۔اصل میں گوٹ آئندہ انتخابات کے لیے چیف الیکشن کمشنر اور نگراں سیٹ اپ کے معاملے پر پھنسی ہوئی ہے۔آج ملک میں سیاسی، انتظامی غیریقینی خواہ معاشی بدحالی اور موجودہ حالات کے پیچھے یہی دو فیکٹر اہم ہیں۔چیف الیکشن کمشنر کا تقرر اور وفاق اور صوبوں میں نگراں حکومتوں کی مقرر۔نگراں سیٹ اپ جیسے عام تاثر ہے کبھی بھی اتنا غیرجانبدار نہیں ہوتا جتنا کہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ بغیر کسی لالچ، یا دلچسپی کے آئے گا اور عوام کے وسیع تر مفاد میں آزادانہ اور غیرجانبدارانہ انتخابات کراکے چلا جائے گا۔اصل میں نگراں سیٹ اپ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ جس وجہ سے انٹخابات کرائے جا رہے ہیں اسکے مطوبہ نتائج نکلیں۔ پاکستان میں انتخابات ہمیشہ اقتداری  حصہ داروں کی آپس میں شیئرنگ  فارمولا تبدیل کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اقتداری کھلاڑیوں کو ہمیشہ انتخابات سے ڈر سا لگتا ہے۔
 چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ چونکہ اور وفاق اور صوبوں میں نگراں حکومتیں مقرر کرے گا لہٰذا یہ عہدہ بھی اہمیت کا حامل ہوگیا ہے۔ نئے  چیف الیکشن کمشنر اور نگران سیٹ کا تعین آئینی طور پر حکومت مارچ 2013میں کر سکتی ہے۔ مگر حکومت پر دباؤ ہے وہ اپنا تاش کا یہ پتہ ابھی شو کرے یا پھر گھر جانے کے لیے تیار ہو جائے۔اگران دومعاملات  یعنی نئے  چیف الیکشن کمشنر اور نگران سیٹ پر راضی نہیں تو ایسی نگراں حکومت قائم کردی جائے گی جو ”صفائی“کے اہم معاملات انجام دیگی۔نتیجے میں موجودہ سیاسی نظام جس میں دو سیاسی پارٹیاں ہی اہم ہیں ختم ہو سکتا ہے۔بظاہر ایسی نگراں حکومت کی آئینی مدت تین ماہ ہے مگر اسکو تین سال تک کھینچا جا سکتا ہے۔۔ ہمارے ہاں صرف  اقتدار کے کھلاڑی صرف ملکی قوتیں نہیں ہیں، کچھ غیر ملکی بھی  طاقتیں ہیں جو اس قصے میں برابر کی بکلہ بعض صورتوں میں  زیادہ  شراکت دور رہی ہیں لہٰذا وہ طاقتیں  یہ سب اتنا آسانی سے ہونے نہیں دیں گی۔ اس الجھن اور بحران میں حکومت کے پاس دو راستے ہیں کہ موجودہ حکومت چیف الیکشن کمشنر کا تقرر کرے اور نگراں حکومت کے معاملے پر سمجھوتہ کر لے۔مختلف تجزیہ نگار حکومت کو یہی مشورہ دے رہے ہیں۔
 ّ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق ئین کی اٹھارویں اور بیسویں ترامیم کی وجہ سے سیاسی بحراں حل نہیں ہو پا رہا ہے۔ پورے نظام میں اتنے چیک انیڈ بیلنس بھر دیئے گئے ہیں کہ کسی کے پاس کوئی اختیار نہیں کہ کچھ کر پائے۔ سب ایک دوسرے کے محتاج بنے بیٹھے ہیں۔ لیایسے میں اختیار صرف مستقل اور طاقتور اداروں کے پاس چلا جاتا ہے۔اٹھارویں ترمیم کے بعد پارلیمنٹ کی بارہ رکنی کمیٹی نگران حکومت کا فیصلہ کرے گی۔اس کمیٹی کو ویزراعظم اور اپوزیشن لیڈر متفقہ طور پر تین نام دیں گے۔جس میں سے کسی ایک نام کا فیصلہ کرے گی۔ اتفاق نہ ہونے کی صورت میں وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر الگ الگ تین تین نام تجویز کر کے پارلیمانی کمیٹی کو بھیجیں گے جن  میں سے کوئی ایک  نامزد کرے گی۔ سید خورشید شاہ کی قیادت میں یہ بارہ رکنی پارلیمانی کمیٹی بن بھی چکی ہے۔مگر وہ اپنا کام نہیں کرپارہی ہے۔ اس کمیٹی  کی ترتیب بھی دلچسپ ہے۔ کمیٹی میں پی پی کے چھ، نواز لیگ کے پانچ ممبر ہیں اور ایک ممبر جے یو آئی (ف) کا ہے۔ لہٰذا یہاں جے یو آئی (ف) کا کردار نہایت اہم ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نواز لیگتمام تر ناراضگیوں کے باوجود مولانا فضلالرحمان کے لیے”نرم دل“ نظرآتی ہے۔مگر شومے قسمت،  پارلیمانی کمیٹی چیف الیکشن کمشنر کے تقرر پر ڈیڈلاک کا شکار ہے۔اس ڈیڈ لاک کے بعد نگراں وزیر اعظم اور وزراء اعلیٰ کے نام بھی چیف الیکشن کمشنر کے پاس جائیں گے۔ا س آئینی پوزیشن کے بعد الیکشن کمشنر کا عہدہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے زندگی اور موت کا سوال ہے۔دلچسپ بات یہ ہے اس اہم عہدے پر بھی عدلیہ کا بندہ بیٹھاہوا ہے۔ اگر حکومت نگراں وزیراعظم اپنی پسند کا مقرر کرانے میں کامیاب ہوئی تووہ سوئس حکام کو خط نہیں لکھے گا۔اس کے برعکس اگر نگراں وزیر اعظم پیپلز پارٹی کی مرضی کا نہیں آیا تو وہ سوئس حکام کو خط لکھ دے گا۔اب موجودہ بحران کے پیچھے اب چیف الیکشن کمشنر کا تقرر  پورے بحران کا بنیادی نقطہ بن گیا ہے۔
بیسویں آئینی ترمیم نے ڈیڈ لاک کو بڑھا دیا ہے۔اس ترمیم کے بعد وزیراعظم کا تقرر حکومت اور اپوزیشن کی باہمی رضا مندی سے ہونا ہے۔  یہ دونوں نہ آپس میں بنتی ہیں اور نہ ہی چیف الیکشن کمشنرکا تقرر ہوپا رہا ہے اور نہ ہی نگراں وزیراعظم کے نام پراتفاق۔نواز لیگ کوپی پی کے مقرر کردہ نگراں ویرز اعظم اور  چیف الیکشن کمشنر کے تحت انتخابات پسند نہیں۔جبکہ پیپلز پارٹی ”غیر جانبدار“ چیف الیکشن کمشنر یا نگراں سیٹ اپ کے تحت انتخابات کو اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔فی الحال چیف الیکشن کمشنر کا ا اہم آئینی عہدہ بھی عدلیہ کے پاس ہے  جہاں سپریم کورٹ کا دوسرے نمبر پر سینئر جج فائز ہے۔ وہ اگرچہ مستقل نہیں، قائم مقام ہیں۔
 سمجھنے والے سمجھ بھی رہے ہیں اور صورتحال کو بڑی  پریشانی بھی اوردلچسپی سے دیکھ رہے ہیں۔ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں چیف الیکشن کمشنر کا تقرر کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ادھرسپریم کورٹ روز شفاف انتخابات کرانے کے لیے احکامات جاری کر رہی ہے(انتخابی فہرستوں کا معاملہ، انتخابی اخراجات کے احکامات وغیرہ) جس نے حکمراں اور پاوزیشن کی زندگی تیل کی ہوئی ہے۔ حکمران خواہ اپوزیشن میں بیٹھا ہوا الیٹ کلاس جس نے الیکشن کو  پیسے اور طاقت کا کھیل بنا لیا تھا۔پولنگ والے دن پیسہ چلتا تھا یاڈنڈا۔ان دونوں پارٹیوں خواہ دیگر اقتدار پسند پارٹیوں نے اپنا پورا سیٹ اپ اور حکمت عملی وغیرہ بھی کچھ اسی طرح بنا رکھی تھی کہ انتخابی عمل میں بڑے پیمانے پر پیسہ، طاقت کا استعمال  اور ذاتی اثر رسوخ حاوی رہے۔ جو  ہتھکنڈے انہوں نے انتخابات جیتنے کے لیے اختیار کیے وہی ہتھکنڈے بعدمیں  حکمرانی میں بھی چلاتے رہے۔ عام آدمی صرف ٹھپہ لگانے کی حد تک ہو اور وہ اوتھ کمشنر کی طرح  بغیر دیکھے جہاں اس کو بولا جائے وہاں ٹھپہ مار دے۔نتیجے میں پارٹی ٹکٹیں ایسے کوگوں کو ملتی ہیں۔ ملک کی ایک اہم پارٹی کے سربراہ کا یہ جملہ ابھی تک یادجو انہوں نے  ایک عام کارکن کو ٹکٹ پر ضد کرنے کے جواب میں کہا تھا کہ اس کارکن کے پاس انتخابی فہرستوں کے پیسے کہا ں سے آئیں گے۔
 سپریم کورٹ کی مداخلت اور دباؤ  پیپلز پارٹی اور نواز لیگ دونوں کو مجبور کر سکتا ہے کہ وہ  چیف الیکشن کمشنر اور نگراں وزیراعظم کے تقرر پرآپس میں کوئی سمجھوتہ کر لیں۔ نواز لیگ کا المیہ یہ ہے کہ وہ صدر زرداری کی موجودگی میں انتخابات کے انعقاد سے ڈری ہوئی ہے۔کہ ایک زرداری سب پہ بھاری ہو رہا ہے۔ وہ صدر زرداری کے کچھ پر کاٹنا چاہ رہی ہے کہ یا تو صدر نہ رہے، اگر رہے تو  کچھ کرنے کے قابل نہ رہے۔ اس کام کے لیے وہ عدلیہ کا سہارا لینا چاہ رہی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کہ صدر زراداری 12 جولائی تک بتائیں کہ وہ ملک ے صدر کا عہدہ رکھنا چاہ رہے ہیں یا پارٹی کا عہدہ، یا یاوان صدر میں ”سیاسی سرگرمیوں“ کو روکنے کے حوالے سے پٹیشن چندمثالیں ہیں۔
 یہ بندوبست اسٹبلشمنٹ اور نواز لیگ دوں کے دل کی بات ہے۔پیپلز پارٹی یہ بھی سمجھتی ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کا تقرر میں جلدی کی گئی تو نگراں سیٹ اپ کا فیصلہ کرنے کے لیے دباؤ بڑھ جائے گا۔اس لیے حکومت چاہتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح سے اپنی آئینی مدت پوری کرے۔
 ملک کی معاشی خواہ امن وامان کی صورتحال بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔جس پر عسکری حلقوں کو تشویش ہو سکتی ہے۔اور لوگوں میں یہ سوچ مقبول ہو رہی ہے کہ اس صورتحال کو ڈنڈے سے ٹھیک کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔
موجدہ صورتحال سے نکلنے کا ایک ہی راستہ  واپس آئین اور قانون کے دائروں میں ہے، سیاسی قوتیں واقعی افہام و تفہیم کو دل سے اپنائیں تاکہ نہ ملکی اور نہ ہی  غیرملکی قوتوں کو مداخلت کا موقعہ نہ ملے۔ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ سب کچھ آئین اور قانون کے مطابق نہیں ہوتا۔سیاست پراثرانداز ہونے والی ملکی یا غیر ملکی”فریقیں“ بھی ہیں۔خیال یہ ہے کہ فی الحال سیاسی جماعتوں کے پاس بھی کچھ وقت ہے۔وہ کچھ کرلیں۔ ورنہ جو کچھ ہوگا وہ 12 جولائی کے بعد ہوگا۔

Wednesday, 4 March 2020

کوئی تو ثالث تھا۔۔۔ 2011-12-19

 Mon, Dec 19, 2011 at 12:52 AM
میرے دل میرے مسافر۔ سہیل سانگی
کوئی تو ثالث تھا۔۔۔
لگتا ہے کہ خطرہ ٹل گیا۔ صدر آصف علی زرداری  واپس وطن پہنچ گئے ہیں۔ یہ سب کچھ کیسے ہوا؟ ویسے تو بہت سارے سوالات ہیں جن میں سے بیشتر کا جواب شاید کبھی نہ مل سکے، تاہم کچھ ساوالات کے جوابات آنے والے وقتوں میں ملتے رہینگے۔
اب یہ طے ہو چکا ہے کہ میمو گیٹ دفنانے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے مک از کم وقتی طور پر میمو گیٹ سے پیدا ہونے والے اختلافات بھول جانے کا فیصلہ کیا ہے۔دو اہم اداروں کا حکومت سے ٹکراؤ اچانک چند گھنٹوں میں حل ہو گیا۔ بڑی بات ہے۔کہنے کو تو چند گھنٹے ہیں اور بظاہر ایک دو ملاقاتیں ہیں مگر معاملات کو قریب سے جاننے والوں کا کہنا ہے کہاس پورے معاملے کو  طے  حل کرنے میں کئی گھنٹے اور اور کئی  ملاقاتیں صرف ہوئی ہیں۔
 بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ ہفتے ایک اعلی سطحی اجلاس میں اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا گیاکہ میمو کیس میں سپریم کورٹ میں عسکری قیادت اور حکومت ایک جیسا موقف پیش کریں۔ اور آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف جنرل شجاع پاشا کے جوابات سپریم کورٹ میں داخل کرنے سے پہلے وزیر اعظم کو بھیجے جائیں گے۔ لیکن یہ بیل جلدی مونڈے نہیں چڑھی۔ عسکری قیادت اور حکومت نے  الگ الگ بلکہ ایک دوسرے سے متصادم جوابات داخل کئے۔آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کا موقف تھا کہ میمو ایک حقیقت ہے جبکہ حکومت کا موقف تھا کہ اس کا کوئی وجود نہیں۔
 عسکری قیادت کی شاید اس لئے بھی اس کیس میں دلچسپی کم ہو گئی کہ تمام ریکارڈ منصور اعجاز رلیز کر چکے تھے۔ اور جنرل شجاع پاشا امریکہ میں ملاقات کر کے تمام شواہد کٹھے کر چکے ہیں۔جو ریکارڈ میڈیا کو ریلیز کیا گیا ہے اس میں  یہ بات بھی کہی گئی ہے کہمسٹر پی نے مبینہ طور زرداری حکومت کو گرانے کے لئے بعض عرب ممالک سے منظوری لے لی تھی۔ اگرمیڈیا میں شور ہوتا رہا اور سپریم کورٹ میں اس معاملے پر کھل کر بحث کی تو مسٹر پی کی پوری کہانی کھل جائیگی۔ اور میمو گیٹ کا رخ کسی اور طرف ہو جائیگا۔
عسکری قیادت کو اس بات کا بھی احساس ہے کہ میمو گیٹ کے تکرار میں صدر زرداری یا  وزیراعظم گیلانی میں سے کسی ایک کو بھی ہٹایا گیا تو  متبادل قیادت موجود نہیں ہے۔ فوجی قیادت نواز شریف سے پہلے سے بیزار ہے۔لہذا اس کے ساتھ چلنا خاصا مشکل ہوگا۔ عمران خان کو پاؤں جمانے میں ابھی وقت لگے گا۔ لہذایہی بہتر ہے کہ صدر آصف زرداری اور گیلانی پر ہی گذارا کیا جائے۔ 
 اس اثناء میں پیپلز پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کا بھی اجلاس ہوا جس میں پورے معاملے کو عوام میں لے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔  
مقتدرہ حلقوں  کے پاس ایک اور تجویز زیر غور رہی جسکا عندیہ وزیر اعظم گیلانی نے بھی دیا تھا۔ وہ تھا قومی حکومت۔ قومی حکومت میں فیصلہ سازی مشکل ہوتی اور یہ بات امریکہ اور عسکری قیادت دونوں کو پسند نہیں کہ ایک فیصلے کے لئے اتنے سارے لوگوں  کے محتاج ہوں۔ اس بات نے نواز شریف کو بھی ڈرا دیا۔ اس سے قبل قومی اسیمبلی میں وزیر اعظم نے متنبیہ کیا کیا کہ مسلم لیگ (ن)  والے خوش نہ ہوں، اگر موجودہ حکومت جاتی ہے تو انکی حکومت بھی نہیں آئے گی۔ بلکہ موجودہ نظام ہی ختم کردیا جائیگا۔اور خاصے عرصے تک انتخابات نہیں ہونگے۔ وزیر اعظم کے اس بیان  کے بعد چوہدری نثار علی نے قومی اسیمبلی کے اجلاس میں نرم رویہ رکھا۔ ان کو یقین تھا کہ اگر انکی پارٹی کو حکومت میں آنے کا موقعہ نہیں مل رہا تو ابھی زرداری  اور پیپلز پارٹی کی حکومت کو گرانا گناہ بے لذت ہو جائیگا۔چوہدری نثار علی قومی اسیمبلی میں یہ تک کہا کہ انکی پارٹی جمہوریت کے خلاف کسی سازش کا ھصہ نہیں بنے گی اور حکومت سے تعاون کرنے کے لئے تیار ہے۔ 
 آرمی چیف سپریم کورٹ میں  جواب داخل کر کے یہ تاثر دیا ہے کہ سپریم کورٹ نہایت ہی قابل احترام ادارہ ہے۔ اس ایکشن سے یہ بھی مطلب نکلتا ہے کہ کل اگر سپریم کورٹ نے اگر کسی فیصلے پر عمل درآمد کرانے کی ہدایت کی  تو اس پر عمل کیا جائیگا۔اس طرح سے سپریم کورٹ کی طاقت میں اور بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ سپریم کورٹ میں  جوابات داخل کرنے کے بعد  عدالت اور آرمی چیف دونوں نہیں چاہتے تھے کہ  اب میڈیا اس معاملے پرزیادہ شورمچائے۔ 
اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے آرمی نے وزیر اعظم سے ملاقات کی۔ اور ا س تین گھنٹے کی میٹنگ کے دوران فون پر صدر نے وزیر اعظم اور آرمی چیف جنرل کیانی سے بھی بات کی۔ اس ملاقات کے بعد ہورا ماحول ہی بدل گیا۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ فوج اور عدلیہ دونوں جمہوریت کے ساتھ ہیں اور یہ دونوں ادارے جمہوریت کو ڈی ریل نہیں کرینگے۔
امریکی قومی سلامتی کے سابق مشیر جیمز جونز کے حلفیہ بیان نے حکومت کی پوزیشن دو حوالوں سے مضبوط کردی۔ ایک تو یہ کہ اس میمو سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ ابھی تک امریکہ اس حکومت کا ساتھ دے رہا ہے۔
 تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو ہفتوں سے امریکہ پاکستان میں ہونے والی سرگرمیوں کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا اور بظاہر اس پر اظہار خیال نہیں کر رہا تھا۔ تاہم وہ مختلف آپشنز پر بھی غور کر رہا تھا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ ہمیشہ اس فریق کی حمایت کرتا ہے جس کے ساتھ عوام کھڑے ہوں یا جس کے پیچھے عوام کو کھڑا کیا جا سکے۔ دو ہفتوں کی سرگرمیوں کے مطالعے اور ہر فریق کی طاقت کا  اندازہ لگانے کے بعد  بالآخر اس نے  اپنی حمایت کا  وزن حکومت کے دامن میں ڈالا۔مبصرین کے مطابق ملک کے تین سرکردہ اداروں کے درمیان اتنا بڑا ٹکراؤ تھا کہ کسی کی ثالثی کے بغیر اسکا حل ہونا ممکن نہیں تھا۔کوئی تو ثالث تھا جس نے یہ معرکہ سرانجام دیا۔ سوال یہ ہے کہ ایسا ثالث کون تھا جس نے متصادم سب  اداروں کو منوا بھی لیا اور ہر فریق کو ضمانت بھی دے دی؟ ایسے معاملات حل کرنے کے لئے ملک کے اندر نہ مکینزم ہے اور نہ ہی کوئی ایسی شخصیت۔ ایک بار پھر کسی باہر کی شخصیت یا ملک کا کمال  دکھائی دیتا ہے۔جس پر تمام فریقین کو بھروسہ بھی ہے۔
 بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ جب آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کے بیانات پر بحث کریگی تو اور صورتحال واضح ہو جائے گی۔ کیونکہ عدالت عظمی کے ریمارکس صورتحال کو واضح کرے گی۔ یہ صرف کہنے کی بات ہے۔ البتہ اس بات کا ضرور امکان ہے کہ ایک دو سماعتوں  کے بعد کسی اچھے وقت کے انتظار میں یہ درخواست پینڈنگ میں چلی جائے۔ بالکل اسی طرح جیسے اصغر خان کی درخواست التوا میں پڑی ہوئی ہے۔کیونکہ ایسی درخواستیں جس میں خفیہ اداروں کے معاملات زیر بحث آئیں اس کو منظر عام پر نہیں لایا جا سکتا اور نہ ہی  عدالت سے کوئی فیصلہ لیا جا سکتا۔لہذا میمو گیٹ کو دفنانے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اور آئندہ چند روز میں ٹی وی چینلز کا رویہ بھی تبدیل ہو جائیگا  میڈیا بھی کچھ اور کرنے لگے گی۔