Jul 5, 2012
مشرف کے بادشاہی خیال
کالم۔۔ میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
چاہے بادشاہت ختم ہو جائے، بادشاہی خیالات ذہن سے نہیں جاتے۔ کہا جاتا ہے کہ جب مغل شہنشاہ شاہجہاں کو اس کے بیٹے اورنگزیب نے قید کرکے شہنشاہیت پر قبضہ کر لیا تھا تو قید ی شنہنشاہ نے فرمائش کی کہ انہیں ثابت چنے اور کچھ بچے بھیج دیں،انکے پاس بہت سارا وقت ہے وہ قیدخانے میں ان بچوں کو وہ کلام پاک کا درس دیتے رہیں گے۔جواب میں اورنگزیب نے کہا کہ بڑے میاں بادشاہی چلی گئی بادشاہی خیالات نہیں گئے۔ آپ چنوں سے دنیا بھر کی ڈشیں بنوائیں گے اور بچوں پر حکم چلا کر بادشاہی ٹھرک پوری کریں گے۔ جنرل مشرف جنہوں نے تقریبا دس سال تک عوام کے مینڈیٹ کے بغیرغیرآ ّئینی اور غیر قانونی طور پربادشاہت کی۔اب پھرملک کو خطرات کا تذکرہ کر رہے ہیں اور اپنی خدمات پیش کررہے ہیں۔جنرل مشرف نے ایسپین آئیڈیا فیسٹیول میں کچھ تازہ فرمودات کہے ہیں کہ ”ملک کو تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔اورملک کو بچانے کے لیے لوگ ایک بار پھر فوج کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ کیا ہم ملک بچانے کے لیے کچھ غیر آئینی چیزیں کریں یا آئین کی پاسداری کریں اور ملک کو تباہ ہونے دیں۔“خدا کا شکر کریں کہ یہ الفاط کسی ان سروس جنرل نے نہیں بلکہ ایک ریٹائرڈ جنرل نے کہے ہیں۔ان کی یہ بات جہاں ان کے 12اکتوبر1999کے جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے اقدام کو جائز قرار دینے کی کوشش ہے بلکہ موجودہ حالات میں بھی فوج کوایسا کرنے کا مشورہ ہے۔یہ الگ بات ہے کہ انکے اس مشورے پر موجودہ حالات میں عمل کرنا ممکن نظر نہیں آتا۔فوجی ٹیک اوور کی وکالت سیاستداں کے طور پر اس کے قد میں کوئی اضافہ نہیں کرے گی اور نہ ہی پاکستان میں انکے سیاسی مستقبل بہتر بنائے گی جہاں انہیں پاپولر لیڈر بے نظیر بھٹو کے قتل کی سازش کرنے کے مقدمے میں مفرور ملزم قرار دیا جا چکا ہے اور انٹرپول سے درخواست کی گئی ہے کہ انہیں گرفتار کر لے۔ ان احکامات کے باوجود ایسے کوئی شواہد نہیں ملتے کہ انٹرپول نے اس بات کو سنجیدگی سے لیا ہو۔ جنرل مشرف کی سیاست میں آمد بلکہ مداخلت میں رکاوٹ یہ الزامات نہیں بلکہ آل پاکستان مسلم لیگ کے دھڑے کی بیوفائی ہے، جو انہوں چند سال پہلے بنایا۔ مشرف کا اصل حلقہ تو فوج ہے جو یقیننا پاکستان کی سیاست میں بڑی ہی اہمیت کی حامل ہے اوراسی کے بل بوتے پر انہوں نے حکمرانی کی۔مسلم لیگ کا دھڑا جس کو انہوں نے برے وقتوں میں خام آنے کے لیے پروان چڑھایا تھا، عرصہ ہوا ان سے لاتعلقی کا اظہار کر چکا ہے، اور اب پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومت میں حصہ دار ہے مگر بھر بھی ریٹائرڈ جنرل بار بار پاکستان لوٹنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ مشرف کے دوبارہ سیاسی زندگی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ فوج آخر ایک ریٹائرڈ جنرل کو سر پرکیوں بٹھائے گی؟ مشرف کا دعوا ہے کہ وہ ملک کو بچانے کے لیے اپنی گرفتاری کی پرواہ کئے بغیر وطن جانے کا ارادہ رکھتے ہیں مگر وہ انٹرپول کے ذریعے نہیں بلکہ کہ اپنی مرضی سے اور اپنے طور پر جائیں گے۔
ملک میں مارشل نافذ کرنے والے سب ایک سا جواز پیش کرتے ہیں۔ الفاظ میں بھلے انیس بیس فرق ہوں مگر مفہوم اور معنی ایک سی ہوتی ہیں۔اسکندر مرزا کے الفاظ بھی یہی تھے انہوں نے اکتوبر1958میں کہا تھا:”آئین مقدس ہے مگر آئین سے زیادہ مقدس ملک ہے۔“ پہلی تقریرکوئی پچاس سال پہلے کی ہے مگر دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ ان پانچ عشروں میں بہت کچھ تبدیل ہوا ہے۔ اگر تبدیل نہیں ہوا تو سیاسی بحث ہے یا ہمارے حکمراں طبقے کی سوچ۔ وہی سوچ اور وہی پیغام ہے۔ ایک زبان، لب و لہجہ کیوں منتخب کیا جاتا ہے؟ اپنے عمل کوجائز قرار دینے کے لیے ایسی طریقے کیوں تلاش کیے جاتے ہیں۔آئیے ملک میں مارشل لگانے والوں کی پہلی تقاریر کا جائزہ لیں۔
اسکندر مرزا نے کہا تھا”ملک تباہی کے دہانے پر ہے“۔ایوب خان کے یہ الفاظ تھے”ایک اچھا بھلا ملک مذاق بن کر رہ گیا ہے“۔ یحی خان کا کہنا تھا کہ خوف وہراس نے قوم کو معذور بنا دیا ہے۔مشرف نے کہا تھا کہ ہم اقوام کی برادری میں اپنی عزت، احترام کھوبیٹھے ہیں۔
ہوتا یہ ہے ملک کی ایک تاریک شکل پیش کرنے کے بعد یہ مارشل لگانے والے حکومت کی کارکردگی کو نشانہ بناتے ہیں۔سیاستدانوں اور ٹوٹنے والی حکومتوں کو ایک نقصاندہ جیت سمجھتے ہیں اور جتنے منفی خصوصیات اور زبان ہوسکتی ہے اتنی استعمال کرتے ہیں۔سیاسی پارٹیوں کی ذہنیت بہت گر چکی ہے۔ سیاستدانوں کو سیاسی مہم جو، غدار، غیرمحب وطن، اقتدار کے بھوکے وغیرہ وغیرہ کہا جاتا ہے۔ عوام کو سبز باغ دکھائے جاتے ہیں اور دعوے کئے جاتے ہیں کہ مارشل ملک کو بچانے کے لیے لگایا جا رہا ہے، ملک اور قوم کے عظیم مفاد میں۔ اس واعدے کے ساتھ کے جلد انتخابات کرائے جائیں گے۔۔
اسے حسن اتفاق کہئے کہ مشرف کے یہ”خوبصورت“ خیالات کہ ملک کو بچانے کے لیے غیر آئینی اقدامات کئے جا سکتے ہیں، ملک کے ان بدترین اور تاریک ترین لمحوں کی سالگرہ کے موقعے پر سامنے آئے ہیں جب جنرل ضیا نے آئین کو توڑ کر اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔انہوں نے بھی ملک کو بچانے کا دعوا کیاتھا۔ یہ اور بات ہے کہ انہوں نے ملک کو تباہ ہی کیا۔ جس کا خمیازہ نسلیں بھگت رہی ہیں۔تمام تر نفاستوں لبرل ہونے کے دعوؤں کے باوجود جنرل مشرف پر یہ تاثر نہیں بنا پایا کہوردی والے پاکستان کے نجات دہندہ نہیں ہوسکتے۔
ضیا اور مشرف کے مقابلے میں ایوب خان اس حد تک تو بہتر تھا کہ نہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ چونکہ سیاستدان انتشار پھیلا رہے تھے لہٰذا وہ انتخابات کو روکنے کے لیے آئے ہیں۔مگر ان کی بھی اقتدار میں آنیکی انوکھی دلیل دی کہ پاکستان کے لیے جمہوریت صحیح نہیں۔ ضیا کا فوجی قبضہ چند ماہ کے ہنگاموں اور اس کے جواب میں ریاستی کارروائیوں کے بعدآیا۔واضح ہرے کہ ضیا نے مارشل تب لگایا جب احتجاج ختم ہو چکا تھا اور حکومت اور اپوزیشن کے درمیان معاملات طے ہو چکے تھے اور معاہدے پر دستخط ہونے والے تھے۔جنرل ضیانے آغاز میں یہ تسلیم کیا تھا کہ دھاندلی نہ ہوتی تو بھی پیپلز پارٹی جیت جاتی۔ اور 90روز کے اندر انتخابات کرانے کا وعدہ کیا۔بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے دو سال بعد پاکستان کے پہلے جمہوری طور پر منتخب وزیراعظم کو پھانسی دی گئی۔ جس سے اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔اوربھٹو فیکٹرپاکستان کی سیاست میں حاوی فیکٹر بن گیا۔ آج تک اسٹیبلشمنٹ اس مقبولیت سے جان نہیں چھڑا پا رہی ہے۔
مشرف نے 1999میں منتخب حکومت کا تختہ الٹا تھا، اور ملک کا چیف اگزیکیوٹو بنا اور2001میں خود کو صدر مقرر کیا2008میں اس وقت استعیفیٰ دیا جب انہیں مواخزۃ کا خطرہ تھا۔ اس کے بعدانہوں نے خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرلی۔
و ہ لوگ جنہوں نے جنرل مشرف کے ٹیک اوور کو سراہا تھا بتا سکتے ہیں کہ فوجی حکومت ملک کے مسائل کا حل نہیں ہوتی۔
مشرف کی باتوں اورجوازکو اگرآج کی صورتحال میں پرکھتے وقت ان سب چیزوں کو جائے۔ حکومت کی نااہلی، خراب حکمرانی اپنی جگہ پر، مگر چھ آٹھ ماہ میں تو انتخابات ہونے والے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان انتخابات کے نتیجے میں ایک اور نااہل قسم کی حکومت اقتدار میں آجائے سوال یہ ہے کہ اس سے ہٹ کے جو کچھ آفر کیا جا رہا ہے وہ متبادل ہے؟ پاکستان کے 65 برس 33 سال براہ راست فوجی حکمرانی رہی ہے۔ان فوجی حکومتوں نے کیا دیا؟ کیا یہ قابل عمل ترقی کا راستہ ہے؟اگر ایسا ہوتا تو بہت پہلے ثابت ہوچکا ہوتا۔ تمام خامیوں کے باوجود سیاسی اور منتخب نظام میں بامقصد تبدیلی کے امکانات ہیں۔ہمارے حکمراں سیاسی جماعتوں اور لیڈروں کو دیکھ کر بظاہریہ دعوا ایک بڑا اور کھوکھلا اور خواب سا لگتا ہے۔ اس عرصے کے دوران اور قوتیں بھی ابھریں گی، آگے بڑھیں گی، اور اس صورتحال کو بدل کر رکھ دیں گی۔مگبالکل ایسے ہی جیسے چرچل نے کہا تھا کہ جمہوریت میں خرابی آجائے تو اسکا علاج مزید جمہوریت ہے یہاں بھی ایسا ہی کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ نہ کوئی حل ہے نہ آپشن۔
No comments:
Post a Comment