Tue, Nov 22, 2011 at 8:32 PM
سندھ میں اطلاعات کے وزیر کی تبدیلی
سیاست ہو یا حکومتی معاملاتِ میڈیا میڈیا کا کردار آج کی دور میں بڑھ گیا ہے۔ ہر بار پیپلز پارٹی نے میڈیا کے ہاتھوں مار کھائی ہی لیکن اس کے باوجود اس سے میڈیا کے معاملات نہ تو سنبھلتے ہیں اور نہ ہی اس کو سنبھلنے کے لئے کوئی سنجیدہ اقدامات کئے گئے ہیں۔ ساڑھے تین سال کے مدت میں سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت نے وھ بار مئکمہ اطلات کا قلمدان تبدیل کیا ہے۔ سنہ ۸۰۰۲ع میں عھم ھنتخابات کے بعد جب پارٹی نے حکومت سنبالی تو مخصوص نشستوں پر کامیاب ہونے والی خاتون رکن شازیہ مری کو اطلاعات کا قلمدان سونپا گیا۔ جہنوں نے تقریبا دو سال تک کام کیا۔ بعد میں انہیں ہٹا کر پارٹی کی کارکن اور ایوان صدر میں کام کرنے والے جمیل سومرو کو اس محکمے کا مشیر مقرر کیا گیا۔ ھبھی انہوں نے معمالت کو سنبھالا ہی تھا کہ انہیں ہٹاکر شرمیلا فاروقی کو مشیر مقرر کیا گیا۔ بعد میں کچھ عرصے تک یہ محکمہ پارٹی کے صوبائے جنرل سیکریٹری تاج حیدر کے پاس بھی رہا۔
اپریل ۱۱۰۲ع میں تھرپارکر سے منتخب ہونے والے شرجیل میمن کو صبائی وزیر اطلاعات مقرر کیا گیا۔ ان کے وزارت کے دوران سیاسی اور ذاتی بنیادوں پر اشتہارات جاری کرنے اور پیسوں کے عوض اشتہارات بیچنے کی عام شکایات رہیں۔ ان شکایات کے باوجود ان یں نہ ہٹایا گیا۔ اچانک سابق وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے ساتھ لندن جانے پر اتحادی جمعت ایم کیو ایم کی ناراضگی پر ان کے صدر آصف زرداری کے پاس حاضری کے بعد ان سے استعیفا لے لیا گیا۔
تعجب ہے کہ سندھ میں جن جن رہنماؤں کے پاس اطلاعات کا قلمدان رہا، ماسوائے تاج حیدر کے باقی تمام پر کرپشن کے الزامات لگے اور انکو ہٹانے کی بھی بڑی وجہ یہ الزامات بنے۔ شازیہ مری کی وزارت کے پہلے دور میں ایک مقامی اخبار کے اشتہارات بند کرنے اور اس کے ادائگی روکنے بہت گرماگرم اشوز رہے۔ اس اخبار کی انتظامیہ کے مطابق ان کی تین کروڑ سے زائد رقم کی ادئگی روک دی گئی ہے۔ اور اس کے عوض بھاری رشوت طلب کی جارہی ہے۔ جبکہ مئکمہ اطلاعات کا کہنا تھا کہ کہ محکمے نے یہ اشتہارات جاری ہی نیں کئے ہیں جن کے بلوں کی ادئگی کا دعا کیا جا رہا ہے۔ اس اخبار اور محکمہ کے درمیاں تنازعہ اس ئد تک جا پہنچا کہ اخبار کے عملے نے بطور احتجاج پریس کلب کراچی کی سامنے بطور احتجاج نیوز ڈیسک لگائی۔ ان کے دور میں ڈمی اخبارات کو پیسوں کے عوض اشتہارات جاری کرنے کے الزامات لگے۔ بعد میں اس وقت کے سیکریٹری اطلاعات نے چیف سیکریٹریِ، وزیر اعلی سندھ اور صدر آصف زرداری کو آگاہ کیا جس کے نتیجے میں مس شازیہ مری سے یہ قلمدان لے لیا گیا۔
شرمیلا فاروقی کو بظاہر سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں ہٹا دیا گیا تھا جس میں حکومت کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ پانچ سے زیادہ مشیر نہیں رکھ سکتی۔
شازیہ مری نے پانے پہلے دور میں پانچ سیکریٹری تبدیل کئے۔ ان سے پارٹی اور وزیر اعلی سندھ بھی خوش نہیں تھے۔ اس وقت ٗحکومت میڈیا میں سخت تنقید کا نشانہ بنی ہوئی تھی۔ جس کی لئے ئکومت کو بعد میں اطلاعات کا قلمدان سنبھالنے والے شرجیل میمن کی سربراہی میں الگ سے میڈیا سیل قائم کرنا پڑا۔ شازیہ مری پر یہ الزام تھا کہ وہ حکومت سندھ کے نجائے اپنی پروجیکشن کر رہی ہیں۔
سندھ بغیر اپوزیشن کے چل رہی ہے۔سندھ اسیمبلی میں کوئی لیڈر آف اپوزیشن ہے بھی یا نہیں۔ کیونکہ سندھ میں جو جو پارٹیاں اورگروپ انتخابات میں جیتے ہیں وہ حکومت میں شامل ہیں۔اس سے قبل مسلم لیگ فنکشنل کے جام مدد علی ایوان میں اپوزیشن لیڈر تھے۔ بعد میں ایم
کیو ایم کی ساتھ معاملات خراب ہونے پر پیپلز پارٹی نے فنکشنل لیگ کو اپنا اتحادی بنا لیا اور اسکو بھی حکومت شامل کردیا۔ اور لیڈر آف اپوزیش جام مدد علی وزیر بن گئے۔ تب سے سندھ میں نہ اپوزیشن ہے نہ اپوزیشن لیڈر۔ گذشتہ ماہ سابق ویراعلی سندھ ارباب غلام رحیم نے اسپیکر کو لیڈر آف اپوزیش کے لئے درخواست دی۔ ان کی یہ درخواست یہ کہ کر مسترد کردی کہ مسلم لیگ ہم خیال کے نام سے کوئی جماعت الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس رجسٹرڈ نہیں ہے۔ اور یہ کہ ارباب غلام رحیم نے مسلم لیگ ق کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لیا ہے۔ اور یہ جماعت حکمرں اتحاد کا حصہ ہے۔
بدین سے سندھ اسیمبلی کے رکن میر حسن خان عرف میر بابو خان کی ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے خلاف تحریک استحقاق ایوان میں بحث کے لئے پیش نہ ہو سکی۔ اسیمبلی کا اجاس چار روز تک جاری رہا اور یہ تحریک ایجنڈا میں شامل ہونے باوجود پیش نہ ہو سکی۔ بتایا جاتا ہے کہ تحریک پیش کرنے والے رکن میر بابو تالپور نے کوئی تحرک نہیں لیا جس کے بعد یہ تحریک بغیر بحث کے خارج کردی گئی۔
اگرچہ شرمیلا فاروقی اس قلمدان کے لئے سرگرم تھی مگر انکو یہ محکمہ نہیں دیا گیا۔ جس کے دو وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے اپنے دوست شرجیل میمن کو ہٹانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ شرمیلا فاروقی کو مشیر بنانے کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔ اب یہ محکمہ واپس ڈاکٹر مرزا کے گروپ کے پاس ہی گیا ہے کیونکہ شازیہ مری کا تعلق سید مراد علی شاہ والے اراکین کے گروپ سے ہے جن کو مرزا کے قریب سمجھا جاتا ہے۔
No comments:
Post a Comment