Showing posts with label 2011. Show all posts
Showing posts with label 2011. Show all posts

Wednesday, 4 March 2020

مسائل حل نہ ہونے کا شکوہ سندھ نامہ

Dec 29, 2011
سندھ نامہ۔۔ سہیل سانگی

 مسائل حل نہ ہونے کا شکوہ  
سندھی پریس نے حکومت کی تمام تر توجہ موجودہ بحران پرہونے کی وجہ سے عوام کے مسائل مزید پیچیدہ ہونے کا شکوہ کیا ہے۔سندھ کے اخبارات کا کہنا ہے کہ صوبے میں امن امان کی صورتحال خاصی وگرگوں ہے اور عام آدمی کو انصاف نہیں ملتا۔
”روزنامہ کاوش“ اپنے اداریے میں لکھتا ہے: اقتدار اور اختیار کے سفینے میں سوار اور اچھی حکمرانی کے سرور میں مسرور افراد کو چھوڑ کر سندھ بھر میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہوگا  جو سندھ میں قانون کی گمشدگی اور ریاست عدم موجود کی رائے نہ رکھتا ہو۔قانون کی گمشدگی کی خبر روزانہ   کرائیم ڈائریوں اور میڈیا کی شہ سرخیوں سے مل جاتی ہے۔مگر ہمارے ”بادشاہ“ ہر صورت میں سندھ م میں قانون کی حکمرانی  کے مفروضے پر یقین کرنے پر بضد ہیں۔سندھ میں اگر قانون کی حکمرانی ہوتی تو گھوٹکی میں دو بچوں سمیت چھ افراد ابھی تک ڈاکٗووں کے پاس قید نہ ہوتے۔میرپورخاص کے وکیل موہن لال ہوں یا مغوی ڈاکٹر،  ان کو ڈاکؤوں کے پنجے سے رہائی دلانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تھا تو اپنی پہلی ترجیح امن امان  بتائی تھی۔ جب اولین ترجیح کی یہ حالت ہو تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عوام کو کس طرح کی حکمرانی نصیب ہے۔شاید ہی کوئی ایسا دن ہو جب سندھ میں اغوا یا آبروریزی کے واقعات نہ ہوتے ہوں۔ امن آمریت کے دور میں بھی نہیں تھا اور آج بھی امن اور چین عوام کے لئے ایک خواب سا ہے۔لوگ جمہوری اور غیر جمہوری دور میں تمیز کیسے کریں؟ جب وہ طرز حکمرانی میں فرق تلاش کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ یہ جمہوریت کے خلاف سازش ہے۔عوام کو تحفظ فراہم کرنا حکمرانوں کی منصبی ذمہ داری ہے۔ایسا لگتا ہے کہ سندھ میں ڈاکؤوں کو فری ہینڈدیا گیا ہے۔سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر ڈاکو کس کے سہارے اتنی بڑی اور اتنی ساری کارروائیاں کر رہے ہیں۔اتنی بڑی نفری اور ٹرینڈ پولیس افسران سے ڈاکو زیادہ طاقتور ہیں؟ حکومت سندھ سے درخواست ہے کہ صوبے میں سرگرم اغوا انڈسٹری کے خاتمے کے لئے اقدامات کرے۔
روزنامہ کاوش نے ایک اور اداریے میں لکھا ہے کہ جوں جوں سردی بڑھتی جا رہی ہے سڑکوں اور کھلے آسمان تلے کیمپوں میں بسنے والے سیلاب متاثرین کی تکالیف میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔عمرکوت، بدین، میرپورخاص اور  دیگر اضلاع میں ابھی تک بارش کا پانی نہیں نکالا جا سکا ہے۔سردی ب میں اضافے کے ساتھ لوگوں کے دکھوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور احتجاجوں کا سلسلہ بھی بڑھ رہا ہے۔حکمرا ں مفاہمت کی سرگرمیوں اور آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کی منصوبہ بندی میں اتنے مصروف ہیں کہ انہیں یاد ہی نہیں کہ و ووٹ لینے کے لئے عوام کے پاس بھی جانا ہے۔حکومت سے یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ اتنا بڑا کونسا ٹاسک تھا کہ پانچ ماہ گذرنے کے باوجودسیلاب اور بارش کے پانی کی نکاسی نہیں ہو سکی؟
سندھ یونیورسٹی کے معاملات پرزرار پیرزادو ”روزنامہ عوامی آواز“میں اپنے کالم میں رقم طراز ہیں:سندھ یونیورسٹی کی مجموعی طور خراب صورتحال کی ذمہ دار یوینورسٹی انتظامیہ ہے یا طلباء؟ بلاشبہہ پہلی ذمہ داری اس پر آتی ہے جو صاحب اختیا ر ہوتے ہیں۔اس وجہ سے سندھ یونیورسٹی انتظامیہ کی اولیں ذمہ داری ہے کہ وہ  یونیورسٹی کا تدریسی و انتظامی ماحول درست رکھے۔ جبکہ طلباء تنظیموں کو سوچنا چاہئے کہ کہ اگر سب کچھ صحیح ہوتا  یونیورسٹی انتظامیہ فرشتہ ہوتی تو  پھر طلباء تنظیموں کا جواز کیا تھا؟ طلباء تنظیموں کے وجود کی جواز یہ ہے کہ وہ  طلباء کے بنیادی حقوق کی محافظ بنیں اورطلباء کے مفادات کے خلاف  انتظامی فیصلوں کو روکے اور اس کے خلاف جدوجہد کرے۔طلبا تنظیموں کی جدوجہد یا احتجاج کا  مقصد تعلیم میں خلل ڈالنا نہیں بلکہ اس خلل کو ختم کرنا ہونا چاہئے۔مگر ہماری تنظیمیں ایسا احتجاج کرتی ہیں جس سے انتظامی کام تو چلتا رہتا ہے۔اور رکتا ہے تو وہ تعلیمی عمل۔طلبا تنظیموں کے احتجاج کی وجہ سے کلاسز معطل ہو جاتے ہیں۔امتحانات ملتوی  ہو جاتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ طلبا تنظیموں کو اپنی جدوجہد اور طریقہ کار کا از سرنو جائزہ لینا چاہئے۔
  ”روزنامہ عوامی آواز“ کے ایک اور کالم نگار  راز ناتھن شاہی اپنے کالم آئینہ میں لکھتے ہیں:گذشتہ ہفتے دادو ضلع کے شہر خیرپورناتھن شاہ میں ایک عوامی عدالت لگائی گئی جس میں شہر میں ہونے والی بدعنوانیوں، ناانصافیوں، بیروزگاری، مہنگائی، گذشتہ سال کے سیلاب سے پیدا ہونے والی پر انتظامیہ کی لاتعلقی،  اراکین اسیمبلی کی لاپرواہی اور بے حسی پر غور کیا گیا اور انصاف کا مطالبہ کیا گیا۔سندھ میں پہلی مرتبہ یک عوامی عدالت لگا کر شہری مسائل پر بات چیت کی گئی۔خیرپورناتھن شاہ شاعروں اور ایم آرڈی کے شہیدوں کا شہر ہے جو کئی مسائل سے دوچار ہے۔ وزیراعلی سندھ نے دو سال قبل یہاں کیڈٹ کالج قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ مگر یہ اعلان اھبی تک فائلوں سے نکل نہیں سکا ہے۔عدالت میں شہر کے مختلف مسائل پر تفصیل سے بحث کی گئی اور انکے حل نہ ہونے کی وجوہات کی بھی نشاندہی کی گئی۔سندھ کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں ایسی عوامی عدالت لگانے کی ضرورت ہے کیونکہ اراکین اسیمبلی عوام سے وعدے کر کے آسرے دیکر  ووٹ لے لیتے ہیں اور منتخب ہو جاتے ہیں۔ بعد میں پلٹ کر عام ووٹر کی طرف دیکھتے بھی نہیں۔ وہ حقائق کو جھوٹ سمجھتنے لگتے ہیں اور کرپشن کو حق سمجھتے ہیں۔غریبوں کے احتجاج کو بلاوجہ چیخ و پکار کہتے ہیں۔وہ اقتدار کی کرسی ملنے کے بعد عوام اور اس کے ساتھ کئے گئے وعدے بھول جاتے ہیں اور عوام کے بجائے خواص کے کام کرنے لگتے ہیں۔ 
  ”روزنامہ عبرت“کے کالم نگار مرتضی سیال لکھتے ہیں:  زندگی اور سماج سے متعلق تمام معاملات میں قانون بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔حال ہی میں سندھ اسیمبلی نے قرارداد منظور کرکے کار کاری کو ناقابل معافی جرم قرار دیا ہے۔اس بل پر ممبران نے اپنی تقاریر میں کہا کہ جائداد ہضم کرنے  اور دیگر اسے بہانوں پر عورتوں کو قتل کیا جاتا ہے۔وزیر داخلہ نے  ایوان کو بتایا کہ پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کرے۔کارو کاری کو ناقابل معافی جرم قرار دینا خوش آئند بات ہے۔مگر جب اس پر عمل نہ ہو سکے تو ایسا قانون اور ایسی قرارداد کس کام کی؟ حکمرانوں کے بیانات پڑھ کر کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ وہ ہم لوگوں کو بیوقوف بنا ہرے ہیں۔اگر وہ قانون پر عمل کراتے تو کارو کاری، قبائلی جھگڑے،  ڈکیتیاں، قتل اور اسٹریٹ کرائیم عروج پر نہ ہوتے۔یہ قانون پر عمل درآمد کرانے والوں کی نااہلی ہے کہ جرائم کی شرح اتنی بڑھ کئی ہے۔کاروکاری پہلی بھی ناقابل معافی جرم تھا، اس کو ایوان  میں قرارداد کے ذریعے دوبارہ  جرم قرار دینا سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے۔ قانون سازی کرنے یا پولیس کو ہدایات دینے کا کیا فائدہ؟ یہ واقعات جوں کے توں جاری رینگے جیسے  سالہا سال سے جاری ہیں۔ان واقعات کی روک تھام کے لئے قانون کی حکمرانی قائم کرنی پڑے گی۔ نیک نیتی سے قانون  کے مطابق کام کرنا پڑے گا۔جس کے لئے حکومت تیار نظر نہیں آتی۔مظلوم اور نارسا لوگ قانون اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مایوس ہو چکے ہیں۔لوگوں کو حکومت کی عملداری اورپولیس پر بھروسہ نہیں۔ جب بے اعتمادی اس حد تک بڑھ جائے تو اولین ضرورت اعتماد بحال کرنے کی ہوتی ہے۔یہ عمل اور نتائج کا دور ہے۔ خالی باتیں اور جھوٹے وعدے اعتماد بحال نہیں کر سکتے۔صرف طاقتور لوگوں کو ہی نہیں بلکہ
 اللہ کے لوگوں کو بھی انصاف دینا پڑے گا۔


نادرا اور انتخابی فہرستیں 2011-12-29

Thu, Dec 29, 2011 at 1231 PM
نادرا  اور انتخابی فہرستیں 
میرے دل  میرے  مسافر ۔ سہیل سانگی 
  نادرا والے ابھی سیلاب زدگان کو پاکستان کارڈ اور وطن کارڈ دینے  میں ہی لگے ہوئے تھے کہ انہیں الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر نئی انتخابی فہرستیں بنانے کا کام بھی پکڑا دیا۔ سپریم کورٹ کی ہدیت ہے کہ ووٹروں کے اندراج کا کام 23  فبروری تک مکمل کیا جائے۔ پارلیمنٹ نے قانون منظور کیا ہے جس کے تحت ووٹ کی داخلا اور ووٹ کاسٹ کرنے کے لئے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ لازمی قرار دیا گیا ہے۔انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لئے انتخابی فہرستوں کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔الیکشن کمیشن نے انتخابی فہرستیں  جن کے تحت 2007کے انتخابات ہوئے تھے نادرا کے حوالے کیں۔  
ملک ایک سیاسی بحران سے گذر رہا ہے۔ اپوزیشن  جلد انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے۔جبکہ حکومت آئین کے مطابق پانچ سال کی مدت پوری کرنے پر زور دے رہی ہے۔یہ پانچ سال کی مدت مئی 1213 میں مکمل ہوگی۔ انتخابات مقررہ وقت پر ہوں یا قبل از وقت۔  وہ شفاف ہونے چاہئیں۔  شفافیت کا ایک جز انتخابی فہرستیں ہیں۔جن کی ذمہ داری نادرا کو سونپی گئی ہے۔یوں اس ادارے کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
  شروع شروع میں نادرا کے ذمے صرف کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ بنانا تھا۔ اس کے بعد ان کو  انکو غیر ملکی تاکیں وطن کا کام سونپا گیا۔سال رواں میں  نادرا کے ذمہ اسلحے کا لائسنس کی تجدید کا کام بھی دیا گیا۔
گذشتہ سال سیلاب کے متاثرین کی رجسٹریشن اور انکی مالی اعانت کے لئے  نادرا کے ذریعے ہی وطن کارڈ جاری کئے گئے۔ جون تک 1.68   ملین وطن کارڈ جاری کئے۔ جن کو بیس ہزار روپے فی خاندان کے حساب سے نقد امداد فراہم کی گئی۔رکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ سندھ میں 651,990  وطن کارڈ،  بلوچستان میں 120,918، خیبر پختونخواہ میں 243,208، پنجاب میں 608,825،  گلگت بلتستان میں 9,378  اور آزاد کشمیر میں 10,943 وطن کارڈ جاری کئے گئے۔
رواں سال  چھ لاکھ بارش کے متاثرین کو بھی پاکستان کارڈ جاری کئے گئے۔749,779  پاکستان کاڑد کے ذریعے  چھ ارب روپے سے زیادہ رقم بارش ائر سیلاب کے متاثرین میں تقسیم کی گئی۔ستمبر کے دوسرے ہفتے میں کام شروع کیا۔
آرمس لائسنس کی رجسٹریشن اگست کے آخر میں شروع کی۔ اسلحے  لائسنس کی تجدید کا کام اگست کے دوسرے ہفتے میں شروع کیا۔سندھ میں سیلاب اوربارش کے متاثرین کی رجسٹریشن  کا کام جاری رکھتے ہوئے نادرا عملے نے اسلحہ لائسنس کی تجدید اور انتخابی فہرستوں کو اپ ڈیٹ کرنے کے فرائض بھی نبھائے۔ گست میں نادرا نے  الیکشن کمیشن کی نگرانی میں 80 ملین ووٹرز انتخابی فہرستوں کا مسودہ شایع کردیا۔ نادرا کا کہنا ہے کہ اس نے 93 فی صد لوگوں کی رجسٹریشن مکمل کر لی ہے اور86   ملین افراد کو کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ جاری کریئے ہیں۔
عام طور پر الیکشن کمیشن ووٹرز کے داخلا کے لئے  200,000 اساتذہ کی خدمات حاصل کرتی ہے۔ اس مرتبہ الیکشن کمیشن نے نادرا کی  شایع شدہ انتخابی فہرستوں کی صرف تصدیق اور امکانی غلطیوں کو درست کرنے کا کام کیا۔ اور تصدیق کا یہ کام   اگست میں شروع ہوا۔مسودہ شایع ہونے کے بعد کئی دلچسپ باتیں سامنے آئیں۔شناختی کارڈز کے رکارڈ اور الیکشن کمیشن کی انتخابی فہرستوں کو جب تجزیہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ تقریبا(37 ملین)تین کروڑ سے زیادہ غیر مصدقہ ووٹر درج تھے۔جو کہ کل ووٹرز کی تعداد کا 44 فیصد بنتے ہیں۔ جبکہ تصدیق شدہ ووٹروں کی تعداد44   ملین ہے۔ یوں 2007  کی حتمی فہرستوں کے مطابق کل 81 ملین افراد کو شناختی کارڈ جاری کئے گئے تھے جن میں سے صرف 44 ملین نے بطور ووٹر درج ہیں۔اس وقت انتخابی فہرستوں کا مسودہ   80.6 ملین (80,547,743)  ووٹروں پر مشتمل ہے۔ کیونکہ2008 کے انتخابات کے بعد نادرا نے36 ملین نئے شناختی کارڈ جاری کئے۔ جن کا بطور ووٹر اندراج کیا گیاہے۔
 الیکشن کمیشن نے جولائی میں بتایا کہ انتخابی فہرستوں سے سینتیس ملین بوگس ووٹ خارج کردیئے گئے ہیں۔ان بوگس ووٹرز کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے۔15.02 ملین ووٹروں کی داخلا بغیر کسی شناختی کارڈ کے کی گئی تھی۔ 2.1  ملین کا اندراج غلط شناختی کارڈوں  پرتھا۔ 4.49 ملین ڈپلیکٹ داخلائیں تھیں۔ 6.46 ملین ایسے اندراج ہیں جو ہاتھ سے بنائے ہوئے شناختی کارڈوں کی بنیاد پر تھ جبکہ11.05   ملین ہاتھ سے بنائے ہوئے شناختی کارڈوں کا کوئی رکارڈ موجود نہیں۔
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے انتخابی فہرستوں کی درستی کا کام  نادرا کو دے کر رحمان ملک کا کام بڑھا دیا ہے۔ کیونکہ نادرا کا وزارت داخلہ کے ماتحت ہے۔  رحمان ملک کا کام بڑھا ہو یا نہ بڑھا ہوں نادرا کے ملازمین کا کام ضرور بڑھا ہے۔ کیونکہ  قومی شناختی کارڈ کا اندراج ہو یا پیدائش یا فوتگی کا رکارڈ رکھنے کا،  یہ سب نادرا کے ہی ملازمین کو ہی کرناہے۔اجبکہ غیرملکی تارکین وطن کی رجسٹریشن بھی  نادرا کے ذمے ہے۔اس کے علاوہ سیلاب یا دیگر ایسی قدرتی آفات کے متاثرین کی رجسٹریش بھی گذشہ ڈیڑھ برس سے نادرا کو دی گئی ہے۔ اب الیکشن کمیشن نے ووٹر فہرستوں کا کام بھی نادرا سے ہی کرا رہی ہے۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ نادرا  کے ذمے بہت سارے کام ہیں جو بڑی حد تک یہ ادارہ احسن طریقے سے کر رہا ہے۔ شہروں کی رجسٹریشن، ووٹرکا اندراج نہایت ہی اہم کام ہیں۔ جنکی شفاف طریقے سے رکھ اور بھی اہم ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ اتنا اہم کام کرنے والے ادارے کے ملازمین برسہا برس سے مستقل ملازمت سے محروم ہیں،  نہ انکا کوئی سروس اسٹرکچر ہے۔ نا ترقی کا طریقہ کار۔ پورے ادارے کو ایڈہاک بنیادوں پر چلایا جا رہا ہے۔ مستقل ملازمت نہ ہونے کی وجہ سے ملازمین  ملازمت کی سینیارٹی، پینشن، گریجوئٹی، سالانہ چھٹیوں اور دیگر ضروری مراعات سے محروم ہیں۔ ایک ایسا ادارہ جس کے ذمے اتنے سارے کام  اور وہ بھی نہایت اہمیت کے حامل انکے ملازمین کو ملازمت کا تحفظ اور دیگر سہولیات رکھنے  ان اہم کاموں  کو روکنے کے برابر۔ 
ملازمین کا کہنا ہے کہ  بارہا  وزارت داخلہ کو  اس ادارے کو مستقل شکل دینے اور ملازمین کو مستقل کرنے کے لئے یاددہانی کرائی گئی مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ اس وقت اس ادارے کے  11,000ملازمین مستقل ملازمت کے آسرے میں بیٹھے ہوئے ہیں۔انکا کہنا ہے کہ عام حالات ہوں یا ایمرجنسی، حکومت کو انکی ضرورت پڑتی ہے مگر  انہیں مستقل نہیں کیا جاتا۔
اب چونکہ انتخابی فہرستوں کی وجہ سے سپریم کورٹ بھی بیچ میں آ گئی ہے، تو ایک آسرا ہو چلا ہے کہ کسی بھی وقت سپریم کورٹ ان کے ادارے اور ملازمین کے مسائل کا نوٹس لے گی۔دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن یا اعلی عدلیہجو اس وقت بہت بڑا کام ان ملازمین سے کرا رہے ہیں، یہ کام ختم ہونے کے بعد انکو یاد رکھتے ہیں یا حکومت اور اس کے دیگر اداروں کی طرح بھول جاتے ہیں۔

محترمہ کی کچھ یادیں کچھ باتیں 2011-12-27

 Mon, Dec 26, 2011 at 1212 AM
میرے دل میرے مسافر۔۔ کالم۔۔ سہیل سانگی 
 محترمہ کی کچھ یادیں کچھ باتیں 
  بینظیر بھٹو کی تصویر کے بڑے بڑے بل بورڈز اور پینافلیکس آویزاں ہیں۔ جن پر لکھا ہے ’’مت سمجھو ہم نے بھلا دیا ہے“۔ یہ  بینظیر بھٹو کی چوتھی برسی پر انکو خراج عقیدت پیش لئے کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کو بینظیر بھٹو آج بھی یاد ہے۔ کارکناں بینظیر بھٹو سے وابستہ یادیں دہرا رہے ہیں۔  اس کے ساتھ ساتھ موجودہ صورتحال پر تبصرے بھی کر رہے ہیں۔ اورآج کی ر گرما گرم سیاسی صورتحال میں  مخالفین کے اٹھائے گئے سوالات کے جواب بھی دے رہے ہیں۔ پارٹی کی قیادت اور پالیسوں کو کس طرح سے دیکھتے ہیں۔ ایک کارکن نے بتایا کہ  ہم مزراروں کے ساتھ نہیں بلکہ ورثے کے ساتھ ہیں۔ وہ جو زندہ ہیں۔
بے نظیر بھٹو کی برسی پر پیپلز پارٹی بھی لاڑکانہ میں ایک بہت بڑا شو کرنے والی ہے۔یہ شو دو چیلینجوں کو ایک ساتھ جواب دے گا۔اس یہ کہ نواز شریف نے  دس دسمبر کو بھٹوز کے شہر لاڑکانہ میں آکر جلسہ کیا اور گو  زرداری گو کے نعرے لگائے۔ اسی طرح عمران خان نے کراچی میں اور شاہ محمود قریشی نے گھوٹکی میں بڑے جلسے کر کے پیپلز پارٹی کی حکومت کو للکارا تھا۔ دوسرا  چیلینج  میمو گیٹ کے بعد پیدا ہونے والی  صورتحال بنی،  صدر  زرداری  پارٹی  کی سیاسی حکمت عملی کا  اعلان کرینگے۔اور حکومت اور خود انے کے حوالے سے جوصورتحال پیدا ہوئی اسکا بھی جواب بھی  دیں گے۔ لمبے عرصے کی خاموشی کے بعد صدر کی یہ تقریر ہوگی جو وہ پاکستان نے ایک کرشماتی لیڈر کی  چوتھی برسی پر کرینگے۔ 
بے نظیر بھٹو اگرچہ ایک ملک گیر پارٹی کی سربراہ تھی مگر سندھ کے لوگوں کا ان سے خصوصی رشتہ ناطہ اور  لگاؤ تھا۔ سندھ کے لوگوں کی اکثریت ان سے پیار کرتی تھی  بغیر اس کا خیال کئے کہ  ان کو وہ کوئی فائدہ بھی دیگی  یا  نہیں؟لوگ  ان سے کوئی حساب کتاب بھی نہیں کرتے۔وہ ان کو حقوق کی دفاع کرنی والی اور امیدوں اور خوابوں کی رانی سمجھتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ سندھ کے لوگ سمجھتے ہیں کہ  محترمہ  قتل ان کے خوابوں  اور امیدوں کا قتل ہے۔ وہ خود کو زخمی سمجھتے ہیں۔سندھ کی ایک قوم ہرست پارٹی کے سربراہ کہ کہنا ہے کہ بعض دوستوں  نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا کہ سندھ کے تمام لوگوں کو پیپلز پارٹی میں شمولیت کرنی چاہئے اوربی بی کے قتل کا حساب لینا چاہئے۔ ایک خیال یہ بھی تھا کہ سندھیوں سے اس سے  بڑھ کر کیا دشمنی  کی جا سکتی ہے کہ انکو پیپلز پارٹی سے دور کیا جائے۔اور وہ مختلف گروپوں اور دھڑوں میں بٹ جائیں۔ یہ خیالات ایک قوم پرست رہنما کے تھے۔ جو انہوں نے  بینظیر بھٹو کی دوسری سالگرہ پر کہے تھے۔ مگر عام لوگوں میں یہ سوچ میں یہ بات ابھی بھی جھلکتی ہے۔ 
 والد کی لاش، ماں کا اداس چہرہ، بے وطن بھائی کا خون،  فوجی آمریت، جیل کی کال کوٹھڑی، فوجیوں کے پہرے، بے بس عوام، کئی خدشے،  جیل میں  قید پیٹھ پر کوڑے کھانے والے ہزاروں کارکنوں کی اذیتیں۔اور عمر چھبیس سال۔یہ سب  انکو وراثت میں ملیں۔ انہوں نے سندھ کے ہر شہر کا دورہ کیا۔اور جو جو جدوجہد میں مصروف تھا اس کے ملاقات کی۔ میری بھی کئی یادیں محترمہ سے وابستہ ہیں۔
محترمہ بے نظیر بھٹو سے میری پہلی ملاقات تب ہوئی تھی جب  انکے والد ذوالفقار علی بھٹو کوجنرل ضیا نے میاں احمد قصوری قتل کیس میں گرفتار کر لیا تھا اور وہ اپنی والدہ نصرت بھٹو کے ساتھ ملکر ملک بھر میں خاص کر سندھ میں ضیا کے خلاف مہم چلا رہی تھی۔وہ چاہتی تو اپنی بہن صنم بھٹو کی طرح  پرامن زندگی بھی گذار سکتی تھی، مگر اس کو سیاست کا طوفان اٹھا کر لے گئے۔
 تب میں حیدرآباد  میں صھافت کرتا تھا۔ محترمہ میٹ دی پریس پروگرام میں آئیں۔ وہ  یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹلگ رہی تھیں تھیں۔آکسفرڈ اور ہاورڈ کی مغربی تعلیم کے باوجود انہوں نے ٹھیٹ مشرقی لباس زیب تن کیا ہوا تھا۔ انہوں نے تفصیل کے ساتھ مگر بہت ہی جذباتی انداز میں بات چیت کی۔دو گھنٹے سے زیادہ بات کرتی رہیں۔ سر پربڑی تمیز سے دوپٹہ جیسے کوئی مشرقی خاتون پہنتی ہے۔ بات چیت میں عزم بھی تھا  اورغصہ بھی۔ تب کچھ طے نہیں تا کہ یہ ایک پان  دھان لڑکی آئندہ برسوں میں ایک اتنا بڑا  خطرہ بن جائیگی  وہ سالہا سال تک  انتخابات ہی نہیں کرائیگا۔اور یہ بھی کہ بڑے نازوں میں پلی بھٹو خاندان کی یہ لڑکی مارشل لاء کی صعوبتیں اور جیلیں بھی برداشت کر لے گی۔ ہاں یہ ضرور لگا کہ اگر یہ لڑکی واقعی ملکی سیاست میں آجاتی ہے تو پاکستان کی حالت بدل جائیگی۔
بیظیر سے دوسری ملاقات 1982 میں ہوئی جب وہ مشہور سیاسی مقدمہ جام ساقی کیس میں دفاع کے گواہ کے طور پر پیش ہوئیں۔ یہ مقدمہ کرنل محمد عتیق کی سربراہی میں قائم خصوصی فوجی عدالت میں چلایا گیا جس میں بے نظیر بھٹو کے علاوہ خان عبدالولی خانِ،  میر غوث بخش بزنجو،  معراج محمد خان، فتحیاب علی خان سمیت ملک کی سرکردہ شخصیات بطور دفاع کے گواہ کے پیش ہوئی تھی۔
 وہ تین مرتبہ فوجی عدالت میں آئیں۔ پہلے روز ان کا بیان قلمبند نہیں کیا جا سکا۔ جب کہ باقی دو دن تک انکا بیان جاری رہا۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ وہ فوجی عدالت کو عدالت ہی نہیں مانتیں۔ اس لئے  ایک خیال یہ آیا کہ میں  پیش نہ ہوں، مگر پھر آپ لوگوں سے رابطہ کرنے پہ کامریڈ جام ساقی کی یہ بات اچھی لگی کہ فوجی عدالت اور مارشل لا ء  کو مانتے تو وہ بھی نہیں ہیں لیکن ایک فورم ہے جسکو استعمال کرنا چاہئے۔ اور یہ بھی کہ ہم اپنی آواز ہر فورم پر اٹھائیں گے اور ہر فورم اپنے مشن کے لئے استعمال کرینگے۔ تو میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے جانا چاہئے۔ اور یہ کہ فوجی عدالت اور مارشل لاء کے قیدی کو ویسے بھی دفاع اور مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔  راقم الحروف بھی اس مقدمہ کا ایک ملزم تھا۔ 
پہلے دن جب عدالتی کارروائی نہیں ہوئی تو محترمہ ہم”ملزماں“ اور انکے اہل خانہ کے ساتھ  دو تین گھنٹے تک بیٹھی رہیں اور باتیں کرتی رہیں۔ انہوں نے مقدمے کی تفصیلات ”بڑے ملزم“جام ساقی سے پوچھیں اور دیگر ملزمان پروفیسر جمال نقوی، بدر ابڑو، کمال  وارثی، شبیر شر سے سیاست اور اہل خانہ وغیرہ کے بارے میں پوچھا۔ انہیں اس سے بھی خاصی دلچسپی تھی کہ جیل کے کیا حالات ہیں، ہم  لوگوں کو کن حالات میں رکھا گیا ہے۔ وہ ہمارے ہم  ”ملزمان“ کے  اہل خانہ سے گلے ملیں ان کو بتایا کہ ہم لوگ ملک میں مارشل لاء کے خلاف  اور جمہوریت اور عوام کے حقوق کی تارریخی جنگ لڑ رہے ہیں۔
وہ صرف دفاع کے گواہ کے طور پر نہیں آئیں تھیں، بلکہ قیدیوں سے ایک ملاقاتی طور پر آئی تھیں۔ سگریٹ،خاصی کھانے پینے کی چیزیں، تحائف کچھ کتابیں بھی لائی تھیں۔ بعد میں جب مقدمہ ختم  ہوا اسکے بعد بھی وہ خاصے دنوں تک جیل پر ہم لوگوں کو سگریٹ وغیرہ بھیجتی رہیں۔ایساشاید ان کو پتہ تھا کہ ایک قیدی کی جیل میں کیا ضروریات ہوتی ہیں۔
سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے تھے۔  ہماری خواہش تھی کہ ہمارے اہل خانہ بھی محترمہ سے ملیں۔ ہم نے بھی عدالت سے درخواست کی کہ اہل خانہ کو بلایا جائے۔ ہمارے اس مطالبے کی محترمہ نے بھی تائید کی۔
فوجی عدالت جو  دو فوجی افسرانکرنل محمد عتیق اور کیپٹن افتخار جلیس اور ایک سویلین میجسٹریٹ ھبیب اللہ بھٹو پر مشتمل تھی اس کی حالت بھی دیکھنے کے قابل تھی۔ہم ملزمان تو محترمہ کی موجودگی کو اعزاز سمجھ ہی رہے تھے مگر خود فوجی افسران بھی اپنی خوش قسمتی سمجھ رہے تھے کہ محترمہ ان کی عدالت میں موجود تھی۔ پہلی بار ایک فوٹو گرافر عدالت میں فوٹو بنانے کی اجازت دی گئی۔ بی بی سی کے نمائندے آئن ہور بھی شلوار قمیض پہن کر ایک پاکستانی کے روپ میں کمرہ عدالت تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئئے تھے۔ جیسے ہی بی بی نے اپنا بیان شروع کیا تو آئن ہور نے اپنا ٹیپ ریکارڈر آن کیا۔ چند ہی لمحوں میں کرنل عتیق نے شور مچانا شروع کردیا کہ بی بی سی کے رپورٹر کو باہر نکالا جائے۔ محترمہ اور ہم ملزمان کا موقف تھا کہا اس میں کوئی ہرج نہیں ہے۔ لوگوں کو پتہ چلے کہ محترمہ نے کیا بیان رکارڈ کرایا ہے۔ عدالت کی کارروائی کچھ دیر کے لئے روک دی گئی۔ کچھ مذاکرات کچھ بات چیت ہوئی۔ کرنل عتیق نے کہا کہ”آ ج رات  جب سیربین میں یہ نشر ہوگا کہ محترمہ نے اپنے بیان میں کہا۔۔۔۔ اس کے چند لمحوں بعد میں آپ لوگوں کے ساتھ لانڈھی جیل میں ہونگا۔“
 یوں اس صحافی کو نکالنے کے بعد عدالت نے محترمہ کا بیان ریکارڈ کیا۔ محترمہ کے بیان  سے لگ رہا تھا کہ انی تمام سیاست کا محور 1973کا آئین تھا۔اور وہ  جمہوریت  اور اس آئین کے لئے  تمام سرحدیں عبور کر سکتی ہے۔ اور بعد کے واقعات نے یہ ثابت بھی کیا۔
یہ وہ دور تھا جب ایک طرف جنرل ضیا اور اسکے ساتھی تھے جو بینظیر کو اذیتیں دے رہے تھے تو دوسری طرف  انکے انکلز تھے جو انہیں بے سمجھ اور نا تجربیکار لڑکی کہہ کر جلاوطن کرنا چاہتے تھے اور پارٹی پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔
محترمہ سے میری دوسری ملاقات تب ہوئی جب  میں سندھی روزنامہ عوامی آواز کا ایڈیٹر تھا اور محترمہ نے سندھی ایڈیٹرز کو غیر رسمی بات چیت کی لئے بلایا تھا۔ملاقات کرنے والے علی قاضی، فقیر محمد لاشاری اور راقم الحروف تھے  اس ملاقات کا بندوبست  میرے پرانے دوست اور پیپلز پارٹی کی رہنما  ڈاکٹر اسماعیل اوڈیجو نے کیا تھا۔ محترمہ کے ساتھ ہم سندھی ایڈیٹر کی یہ طویل ملاقات تھی جو صبح گیارہ بجے شروع ہوئی اور شام پانچ بجے تک جاری رہی۔ اس وقت وہ اپوزیشن میں تھی۔ انہوں نے علاقائی  وملکی صورتحال، سندھ کے رول پر تفصیل سے بات چیت کی۔محترمہ کا کہنا تھا کہ سندھ کو اپنی میڈیا، سرمایہ (بینک) تعلیمی ادارے وغیرہ ہونے چاہئے۔
اس کے بعد وہ وزیر اعظم تھیں یا اپوزیشن لیڈر ان سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ وہ جمہوریت  اور سماجی تبدیلی کی ایک بھرپور اور مضبوط آواز تھی۔
چار برسوں میں بہت کچھ بدل چکا ہے۔ مگر جلاوطنی کاٹ کے آنے والی بینظیر بھٹو  جو بے موت قتل کی گئی،  انکا درد لوگوں کے دلوں سے ابھی جلاوطن نہیں ہوا ہے۔بعض فراق  دلوں کے مستقل مکین ہو جاتے ہیں۔ بھٹوز کا درد بھی ایسا ہی ہے۔ جب تک محترمہ زندہ تھی تو لگتا تھا لہ وہ ایک روایتی سیاستدان ہے، مگر اب محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک لیجینڈ تھی۔اور آنے والی نسلوں کے لئے کسی دیومالائی کردار سے کم نہیں تھی۔لگتا ہے سندھ میں یہ کہانی نسل در نسل منتقل ہوتی رہے گی۔

سندھ اور دوسرے صوبوں کے قوم پرست 2011-12-22

Thu, Dec 22, 2011 at 236 AM
سندھ اور دوسرے صوبوں کے قوم پرست 
یہ درست ہے کہ ایک صوبے میں کسی پارٹی کی مقبولیت دوسرے صوبے میں اس پارٹی کی مقبولیت پر مثبت یا منفی طور پر اثرانداز ہوتی ہے۔ سندھ میں ابھی تک یہ تاثر نہیں بن پایا ہے کہ عمران خان  باقی کسی صوبے میں یا ملکی سطح پر مقبول  لیڈر کے طور پر ابھرا ہے۔ عام خیال یہی ہے کہ وہ پنجاب میں اور خاص طور پر شہری پنجاب میں کچھ مقبولیت حصل کر سکے ہیں۔ جسکا مطلب یہ ہے کہ  وہ براہ راست نواز شریف کے حریف ہیں۔ پنجاب  کے شہروں میں خواہ عمران خان کے چاہنے والے موجود ہوں مگر یہ ووٹ پورے پنجاب کو صاف کرنے میں مدد نیں کر سکتا۔  پنجاب کے بڑے شہر اور مرکزی پنجاب مین شاید کچھ جگہ بنا پائے مگر سرائیکی بیلٹ اور دیہی علاقوں میں جگہ بنانا اتنا آسان نہیں جہاں پرپہلے ہی پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کا ایک دوسرے سے سخت مقابلہ ہے۔ اور پیپلز پارٹی سرائیکی صوبے کا کارڈ اپنے ہاتھ میں رکھے ہوئے ہے۔ایسی صورتحال میں جب پنجاب کی حکومت جو مسلم لیگ (ن) کے پاس ہے وہ سینٹرل پنجاب کواپنے ہاتھوں سے جانے نہیں دیگی  اور وزیر اعظم سرائیکی بیلٹ سے ہیں تو پیپلز پارٹی یہ بیلٹ اپنے ہاتھوں سے نکلنے نہیں دیگی۔ 
پختونخواہ میں  اے این پی کا مضبوط ووٹ بنک ہے۔ اے این پی   خان عبدلولی خان کی سیاست کی وارث اورعملی طور پر خان قیوم خان کی سیا ست کر رہی ہے۔ قیوم خان نے پختوں کے بالائے طبقے کے مفادات کی سیاست کی تھی۔لہذااب اے این پی کے پاس دونوں فلیور موجود ہیں۔ سیاسی کارکنوں اور قوم پرستی کا بھی اور بڑے طبقے کے مفادات کا بھی۔ اس کے علاوہ اے این پی اور پیپلز پارٹی نے مل کر  پختونوں کا صدیوں پراناشناخت کا مسئلہیعنی صوبے کا نام پختونخواہ رکھ کر حل کر دیا ہے۔ جو کہ عوام کی ہمدردیاں برقرار رکھنے میں بڑی مدد دیگا۔ صوبے میں دوسری بڑی قوت جمیعت علمائے اسلامکی ہے جس کا مضبوط مذہبی ووٹ بنک بھی ہے۔  یہ ووٹر کسی طور پربھی عمران خان جیسے کلین شیو کو برداشت نہیں کرے گا۔
بلوچستان کی صورتحال  ایسی ہے کہ سردار عطائاللہ بھی کہتے ہیں کہ اگر بات کرنی ہے تو  پہاڑوں ہر موجود نوجوانوں سے کرو۔انہوں نے ایک طرح سے نواز شریف کو بھی جواب دے دیا کہ  وہ کوئی بات یا ڈیل کرنے کے مجاز نہیں رہے۔ 
سندھ کی صورتحال دوسرے صوبوں سے مختلف ہے۔ یہاں قوم پرستی کا زور سمجھا جاتاہے۔ کسی حد تک  یہ بات صحیح بھی ہے۔سندھ کے عوام قوم پرست ہیں پروہ  الیکشن کے حوالے سے کبھی بھی قوم پرستوں کے خوبصورت نعروں کے سحرمیں نہیں آئے ہیں تووہ عمران خان کی کہاں سے سنیں گے۔ سندھ میں لسانی بنیادوں پردیہی اور شہری تقسیم ایک اور بڑا مسئلہ ہے۔ جسکو پنجاب کے سیاستداں پورے طور پر سمجھ ہی نہیں پائے ہیں۔ پنجاب  سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں سے سندھ کے لوگ یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ سندھ کے بنیادی اشوز جس پر سندھ کا ہنجاب یا  وفاق سے تکرار ہے کیا موقف رکھتے ہیں۔ اور یہ کہ صوبے کے اندرونی تضاد یعنی  دیہی اور شہری تضاد پر ان رہنماؤں کی کیا سوچ ہے۔سندھ میں بھی قلاباز سیاستدانوں کا ایک گروپ موجود ہے لیکن یہ گروپ انتخابات بھی اسٹیبلشمنٹ کے سہارے جیت سکتا ہے۔
سندھ کے عوام کی عمران خان کی پارٹی اور اسکی مقبولیت کے بارے میں کچھ اس طرح کی سوچ ہے۔جب انکی جماعت کی صوبے بھر میں کوئی تنظیم نہ ہواور کوئی سرکردہ کارکن بھی موجود نہ ہوایسے میں کس  طرح سے تنظیم سازی کر لیں  گے اور سیاسی حمایت کا نیٹ ورک بنا لیں گے؟ اسکا جوا ب  خانصاحب کو عملی طور پر ہی دینا ہوگا۔

 کچھ مقتدرہ حلقوں کی مہربانی کچھ میڈیا کا کمال۔ عمران خان کا چرچہ ملک بھر میں ہوہی گیا۔ بحثیں ہو رہی ہیں کہ عمران۔
 اقتدار میں آئے گا یا نہیں آئیگا؟  اب ھی دو  مراحل باقی ہیں یعنی  حمایت حاصل کرنا اور اس حمایت کو ووٹ میں تبدیل کرنا۔
مختلف صوبوں میں عمران کی  پوزیشن کیا ہ ہے؟ ا اسکو سندھ کے عوام اپنے طور پر کوکچھ یوں دیکھتے ہیں۔
سندھ کے لوگ سمجھتے ہیں کہ  ملک میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ بظاہر عمران خان کی سوچ اور عمل ایک خوشحال پاکستان کا خواب دکھاتا ہے۔ جن لوگوں کا خیال ہے کہ عمرا ن خان تبھی اقتدار میں آئیگا  جب اس کے پاس  ایسے لوگ ہونگے ج امیدوار بن سکے اور انکے پاس چند ہزار اپنے ووٹ بھی ہوں۔ مزید یہ کہ الیکشن کے روز ووٹروں کو پولنگ اسٹیشن تک پہنچانا اور پولنگ اسٹیشن کی چھوٹی موٹی ہیرا پھیری کو چیک کرنے کی بھی صلاحیت ہو۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ عمران خان کی پارٹی میں پنجاب، سندھ بلوچستان اور پختونخواہ کے جاگیرداروں، سرداروں اور گادی نشینوں کو تحریک انصاف میں شمولیت کرائی جائیگی تاکہ اس پارٹی کا ملک گیر پارٹی کے طور پر وجود نظر آئے۔ ا یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ بڑی سیاسی پارٹیوں  کے اثر کا مقابلہ کرنے کے لئے ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں کاروباری خواہ مزدور رہنماؤں اور چھوٹے سیاسی گروپوں کو ملایکجا کیا جائیگا۔ اس کے علاوہ ملک کے مشور سماجی کارکنوں اور کھلاڑیوں کو بھی نئی سیاسی بس میں بٹھا دیا جائیگا۔ویسے تو عمران خان کو مذہبی عناصر کی  الگ سے حمایت کی ضرورت تو نہیں ہے تاہم کچھ  مذہبی لوگوں کو بھی  شامل کر کے ایک عوامی سیاسی پارٹی کا دکھاوا دیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ پرانی پارٹیوں کے خلاف فرسودہ اور ناکام ہونے کی مہم چلاکرسیاسی طور پر مقام حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ان پارٹیوں کے بعض کارکنوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کی جائیگی۔
سندھ  کے سیاسی  اور سیاست پر اثرانداز ہونے والے حلقے  عمران خان کی سیاست کو اشرافیہ کی سیاست سمجھتے ہیں۔تحریک انصاف کے  سرکردہ یا بنیادی رہنماؤں  میں کوئی ایک بھی ا شخصیت نہیں ہے جس کی جمہوریت کے لئے قربانیاں ہو یا کبھی عوامی ھقوق کے لئے جیل کاٹی ہو۔یا جس کا عوام کی خدمت کا کوئی ریکارڈ ہو۔
کیاعمران خان باتیں چاہے  انقلاب یا  صاف ستھری سیاست اور خوشحال پاکستان کی کرتے ہوں۔ مگر اپنے ساتھ جب پرانے جگادری لے رہے ہیں  تو انکے دعوے کتنے سچے اور قابل عمل ہونگے؟ کیا  وہ ان پرانے سیاسی پنڈتوں اور جاگیرداروں کے اثرات سے   بچ سکیں گے، جو اپنی وفاداریاں مفادات کے مطابق تبدیل کرتے رہتے ہیں۔
 عمران خان کے بڑے جلسے، پرجوش تقاریر اور تحریک انصاف میں اونچے طبقے کی شمولیت  ایک طرف ہے تو زمینی حقائق دوسری طرف ہیں۔جو بتاتی ہیں کہ  چیزیں اس طرھ نہیں ہیں جیسے دکھائی دیتی ہیں۔  یا جس طرح سے پیش کی جا رہی ہیں۔ 
 بڑا جلسہ کرنا  الگ بات ہے  اور الیکشن میں میدان مارنا  الگ بات بھی ہے اور مشکل بھی۔ آج کی صورتحال میں  جلسے کو دوسری جماعتیں بھی کامیاب کرا سکتی ہیں۔ یہ سیاسی حمایت ہے، الیکشن میں کسی کو حکومت سے ہٹانا نہیں بلکہ کسی کو حکومت میں لے آنا ہوتا ہے۔ کسی کی حکومت کو ہٹانے پر  بہت ساری سیاسی قوتیں متفق ہو سکتی ہیں پر کسی کو حکومت میں لانے پر بہت کم  لوگ متفق ہونگے۔اس لئے سیاسی جلسہ اور الیکشن دو الگ الگ کھیل ہیں

کوئی تو ثالث تھا۔۔۔ 2011-12-19

 Mon, Dec 19, 2011 at 12:52 AM
میرے دل میرے مسافر۔ سہیل سانگی
کوئی تو ثالث تھا۔۔۔
لگتا ہے کہ خطرہ ٹل گیا۔ صدر آصف علی زرداری  واپس وطن پہنچ گئے ہیں۔ یہ سب کچھ کیسے ہوا؟ ویسے تو بہت سارے سوالات ہیں جن میں سے بیشتر کا جواب شاید کبھی نہ مل سکے، تاہم کچھ ساوالات کے جوابات آنے والے وقتوں میں ملتے رہینگے۔
اب یہ طے ہو چکا ہے کہ میمو گیٹ دفنانے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے مک از کم وقتی طور پر میمو گیٹ سے پیدا ہونے والے اختلافات بھول جانے کا فیصلہ کیا ہے۔دو اہم اداروں کا حکومت سے ٹکراؤ اچانک چند گھنٹوں میں حل ہو گیا۔ بڑی بات ہے۔کہنے کو تو چند گھنٹے ہیں اور بظاہر ایک دو ملاقاتیں ہیں مگر معاملات کو قریب سے جاننے والوں کا کہنا ہے کہاس پورے معاملے کو  طے  حل کرنے میں کئی گھنٹے اور اور کئی  ملاقاتیں صرف ہوئی ہیں۔
 بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ ہفتے ایک اعلی سطحی اجلاس میں اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا گیاکہ میمو کیس میں سپریم کورٹ میں عسکری قیادت اور حکومت ایک جیسا موقف پیش کریں۔ اور آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف جنرل شجاع پاشا کے جوابات سپریم کورٹ میں داخل کرنے سے پہلے وزیر اعظم کو بھیجے جائیں گے۔ لیکن یہ بیل جلدی مونڈے نہیں چڑھی۔ عسکری قیادت اور حکومت نے  الگ الگ بلکہ ایک دوسرے سے متصادم جوابات داخل کئے۔آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کا موقف تھا کہ میمو ایک حقیقت ہے جبکہ حکومت کا موقف تھا کہ اس کا کوئی وجود نہیں۔
 عسکری قیادت کی شاید اس لئے بھی اس کیس میں دلچسپی کم ہو گئی کہ تمام ریکارڈ منصور اعجاز رلیز کر چکے تھے۔ اور جنرل شجاع پاشا امریکہ میں ملاقات کر کے تمام شواہد کٹھے کر چکے ہیں۔جو ریکارڈ میڈیا کو ریلیز کیا گیا ہے اس میں  یہ بات بھی کہی گئی ہے کہمسٹر پی نے مبینہ طور زرداری حکومت کو گرانے کے لئے بعض عرب ممالک سے منظوری لے لی تھی۔ اگرمیڈیا میں شور ہوتا رہا اور سپریم کورٹ میں اس معاملے پر کھل کر بحث کی تو مسٹر پی کی پوری کہانی کھل جائیگی۔ اور میمو گیٹ کا رخ کسی اور طرف ہو جائیگا۔
عسکری قیادت کو اس بات کا بھی احساس ہے کہ میمو گیٹ کے تکرار میں صدر زرداری یا  وزیراعظم گیلانی میں سے کسی ایک کو بھی ہٹایا گیا تو  متبادل قیادت موجود نہیں ہے۔ فوجی قیادت نواز شریف سے پہلے سے بیزار ہے۔لہذا اس کے ساتھ چلنا خاصا مشکل ہوگا۔ عمران خان کو پاؤں جمانے میں ابھی وقت لگے گا۔ لہذایہی بہتر ہے کہ صدر آصف زرداری اور گیلانی پر ہی گذارا کیا جائے۔ 
 اس اثناء میں پیپلز پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کا بھی اجلاس ہوا جس میں پورے معاملے کو عوام میں لے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔  
مقتدرہ حلقوں  کے پاس ایک اور تجویز زیر غور رہی جسکا عندیہ وزیر اعظم گیلانی نے بھی دیا تھا۔ وہ تھا قومی حکومت۔ قومی حکومت میں فیصلہ سازی مشکل ہوتی اور یہ بات امریکہ اور عسکری قیادت دونوں کو پسند نہیں کہ ایک فیصلے کے لئے اتنے سارے لوگوں  کے محتاج ہوں۔ اس بات نے نواز شریف کو بھی ڈرا دیا۔ اس سے قبل قومی اسیمبلی میں وزیر اعظم نے متنبیہ کیا کیا کہ مسلم لیگ (ن)  والے خوش نہ ہوں، اگر موجودہ حکومت جاتی ہے تو انکی حکومت بھی نہیں آئے گی۔ بلکہ موجودہ نظام ہی ختم کردیا جائیگا۔اور خاصے عرصے تک انتخابات نہیں ہونگے۔ وزیر اعظم کے اس بیان  کے بعد چوہدری نثار علی نے قومی اسیمبلی کے اجلاس میں نرم رویہ رکھا۔ ان کو یقین تھا کہ اگر انکی پارٹی کو حکومت میں آنے کا موقعہ نہیں مل رہا تو ابھی زرداری  اور پیپلز پارٹی کی حکومت کو گرانا گناہ بے لذت ہو جائیگا۔چوہدری نثار علی قومی اسیمبلی میں یہ تک کہا کہ انکی پارٹی جمہوریت کے خلاف کسی سازش کا ھصہ نہیں بنے گی اور حکومت سے تعاون کرنے کے لئے تیار ہے۔ 
 آرمی چیف سپریم کورٹ میں  جواب داخل کر کے یہ تاثر دیا ہے کہ سپریم کورٹ نہایت ہی قابل احترام ادارہ ہے۔ اس ایکشن سے یہ بھی مطلب نکلتا ہے کہ کل اگر سپریم کورٹ نے اگر کسی فیصلے پر عمل درآمد کرانے کی ہدایت کی  تو اس پر عمل کیا جائیگا۔اس طرح سے سپریم کورٹ کی طاقت میں اور بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ سپریم کورٹ میں  جوابات داخل کرنے کے بعد  عدالت اور آرمی چیف دونوں نہیں چاہتے تھے کہ  اب میڈیا اس معاملے پرزیادہ شورمچائے۔ 
اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے آرمی نے وزیر اعظم سے ملاقات کی۔ اور ا س تین گھنٹے کی میٹنگ کے دوران فون پر صدر نے وزیر اعظم اور آرمی چیف جنرل کیانی سے بھی بات کی۔ اس ملاقات کے بعد ہورا ماحول ہی بدل گیا۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ فوج اور عدلیہ دونوں جمہوریت کے ساتھ ہیں اور یہ دونوں ادارے جمہوریت کو ڈی ریل نہیں کرینگے۔
امریکی قومی سلامتی کے سابق مشیر جیمز جونز کے حلفیہ بیان نے حکومت کی پوزیشن دو حوالوں سے مضبوط کردی۔ ایک تو یہ کہ اس میمو سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ ابھی تک امریکہ اس حکومت کا ساتھ دے رہا ہے۔
 تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو ہفتوں سے امریکہ پاکستان میں ہونے والی سرگرمیوں کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا اور بظاہر اس پر اظہار خیال نہیں کر رہا تھا۔ تاہم وہ مختلف آپشنز پر بھی غور کر رہا تھا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ ہمیشہ اس فریق کی حمایت کرتا ہے جس کے ساتھ عوام کھڑے ہوں یا جس کے پیچھے عوام کو کھڑا کیا جا سکے۔ دو ہفتوں کی سرگرمیوں کے مطالعے اور ہر فریق کی طاقت کا  اندازہ لگانے کے بعد  بالآخر اس نے  اپنی حمایت کا  وزن حکومت کے دامن میں ڈالا۔مبصرین کے مطابق ملک کے تین سرکردہ اداروں کے درمیان اتنا بڑا ٹکراؤ تھا کہ کسی کی ثالثی کے بغیر اسکا حل ہونا ممکن نہیں تھا۔کوئی تو ثالث تھا جس نے یہ معرکہ سرانجام دیا۔ سوال یہ ہے کہ ایسا ثالث کون تھا جس نے متصادم سب  اداروں کو منوا بھی لیا اور ہر فریق کو ضمانت بھی دے دی؟ ایسے معاملات حل کرنے کے لئے ملک کے اندر نہ مکینزم ہے اور نہ ہی کوئی ایسی شخصیت۔ ایک بار پھر کسی باہر کی شخصیت یا ملک کا کمال  دکھائی دیتا ہے۔جس پر تمام فریقین کو بھروسہ بھی ہے۔
 بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ جب آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کے بیانات پر بحث کریگی تو اور صورتحال واضح ہو جائے گی۔ کیونکہ عدالت عظمی کے ریمارکس صورتحال کو واضح کرے گی۔ یہ صرف کہنے کی بات ہے۔ البتہ اس بات کا ضرور امکان ہے کہ ایک دو سماعتوں  کے بعد کسی اچھے وقت کے انتظار میں یہ درخواست پینڈنگ میں چلی جائے۔ بالکل اسی طرح جیسے اصغر خان کی درخواست التوا میں پڑی ہوئی ہے۔کیونکہ ایسی درخواستیں جس میں خفیہ اداروں کے معاملات زیر بحث آئیں اس کو منظر عام پر نہیں لایا جا سکتا اور نہ ہی  عدالت سے کوئی فیصلہ لیا جا سکتا۔لہذا میمو گیٹ کو دفنانے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اور آئندہ چند روز میں ٹی وی چینلز کا رویہ بھی تبدیل ہو جائیگا  میڈیا بھی کچھ اور کرنے لگے گی۔

عدالتی فیصلے کے منتظر قلاباز 2011-12-08

 Thu, Dec 8, 2011 at 1:07 AM
عدالتی فیصلے کے منتظر قلاباز 
میرے دل میرے مسافر۔ سہیل سانگی
صرف پنجاب میں ہی نہیں، سندھ میں بھی سیاسی قلاباز سپریم کورٹ کے فیصلے کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ان میں سے اکثریت اسیمبلیوں سے اور باقی اقتدار سے باہر ہے۔ انکا خیال ہے کہ اسلام آباد میں دیگ پک رہی ہے، جس میں سے انہیں بھی کچھ ملے گا۔بڑے کھلاڑی تو لاہور اور اسلام آباد میں ہیں، پر دوسرے بھی نہیں تیسرے جوڑ کے کھلاڑی یہاں بھی ہیں، جو کمر بستہ ہو رہے ہیں۔
سندھ پیپلز پارٹی کا ہوم گرؤنڈ ہے۔اس لئے ان تیسری جوڑ کے کھلاڑیوں کی کچھ اہمیت ہے۔ یہ اہمیت اس وجہ سے بھی ہے کہ پیپلز پارٹی کو چھوڑ کے صوبے میں کوئی پارٹی نہیں ہے جو اکیلے سر حکومت بنا سکے۔ مسلم لیگ نوں ہو یا عمران خان کی تحریک انصاف، یا کوئی اور،  سب کو سندھ کے ان قلاباز بااثر وڈیروں کا سہارا لینا پڑے گا۔ 
ایسے سیاسی سیٹ اپ میں ہی ان کی اہمیت بنتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ سندھ میں اس وقت تین چار وزیر اعلی گھوم رہے ہیں۔ ارباب غلام رحیم، علی محمد مہر اور لیاقت جتوئی  اور سردار غوث بخش مہر کا نام خاص طور پر لیا جا سکتا ہے۔ غوث بخش مہر جو اس وقت مسلم لیگ ق میں ہیں، ان کو چھوڑکر باقی تینوں حضرات مختلف ادوار میں وزیر اعلی رہ چکے ہیں۔ ایک بار پھر وہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ بلی کے بھا گوں چھیکا  ٹوٹے تو ان کے نصیب میں ایک بار پھر وزیر اعلی کا عہدہ آجائے۔ اگرچہ یہ بات خاصی مشکل ہے۔ کیونکہ کے پیپلز پارٹی کے علاوہ جس کسی نے بھی حکومت بنائی،  وہ ایک مرتبہ ہی وزیر اعلی رہا۔ یہ خوش نصیبی پلٹ کے کبھی نہ غوث علی شاہ کی قسمت میں آئی نہ ہی مظفر حسین شاہ کی قسمت میں۔پھر بھی اقتدار عجب چیز ہے۔ سینئر سیاستدان مرحوم غلام مصطفی جتوئی نے ایک مربہ سندھی ایڈیٹرز سے گپ شپ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اقتدار ایسا پیالہ ہے جو ایک مرتبہ ہونٹوں کو چھو لے تو پوری عمر آس رہتی ہے۔سو اس بار بھی الیکشن کے بعد اگر کوئی ایسا فارمولہ بنتا ہے تو کوئی نیا چہرہ ہی سامنے آئے گا۔ کیا پتہ یہ چہرہ  مرحوم غلام مصطفی جتوئی خاندان سے ہو یا پیر پگارا خاندان سے یا پھر ٹھٹہ کے شیرازی برادران میں سے ہو، جو گذشتہ ایک دہائی سے بڑا جوا کھیلنے کی تیاری کر رہے ہیں۔سندھ میں الیکشن جیتیں یا نہ جیتیں مگر پیپلز پارٹی کو سیاسی طور پر کمزور دکھانے کے لئے مختلف گروپ اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے۔ اور اس نیک کام میں اسلام آباد اور لاہور کے مقتدرہ حلقے بھی ان کی تن، من اور دھن سے مدد کرسکتے ہیں۔  
ماضی میں پیپلز پارٹی پر خراب رویے کا الزام عائد کرکے پارٹی چھوڑنے  والوں کا ایک جگہ جمع ہونے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ مگر یہ اتنا بھی تیز یا موثر نہیں۔
 پیپلیز پارٹی مخالف گروپوں کی ابتدائی سرگرمیوں کے بعد نئے سیاسی اتحاد کی تیاریاں ہو چکی ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے آنے کی دیر ہے۔ ممکن ہے کہ اس سے قبل آئندہ ایک دو ہفتوں میں ایسے اتحاد کا اعلان بھی ہو جائے۔
ممتاز علی بھٹو، لیاقت جتوئی، ارباب غلام رحیم، سید جلال محمود شاہ ڈاکٹر قادر مگسی وغیرہ ایک پلیٹ فارم پر آنے کے لئے مذاکرات میں مصروف ہیں۔
وزیر اعلی کے عہدے کے امیدوار مہر گروپ نے لاڑکانہ کے الطاف انڑ، مشرف دورکے صوبائی وزیر ڈاکٹر سہراب سرکی،  ٹھٹہ کے شیرازی برادران، سکھر کے سابق ضلع ناظم سید ناصر شاہ، مسلم لیگ ق سے تعلق رکھنے والے غوث بخش مہر سے رابطہ قائم کر چکے ہیں اور اپنا گروپ  بنانے کا تاثر دے چکے ہیں۔
مہر گروپ نے ماضی میں پیپلز پارٹی لی ٹکٹ ٹھکرادی تھی اور آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن میں حصہ لیا تھا۔دو ہفتے قبل گھوٹکی میں شاہ محمود قریشی کے جلسے اور مہر برادران کے حالیہ سیاسی رابطوں نے ان کی اہمیت بڑھا دی ہے۔ پیپپلز پارٹی کو بھی مجبور ہو کر ان سے آکر بات کرنی پڑی۔ 
 سندھ کے قوم پرست بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے اتحاد سپنا کو ازسرنو سرگرم کریا ہے۔ اور فیصلہ کیا ہے کہ قوم پرست ایک ہی پلیٹ فارم سے انتخابات لڑیں گے۔ لیکن اوپر کی سطح پر رابطوں نے معاملے کو گڑبڑ کردیا۔ سپنا کے موجودہ کنوینرسید جلال محمود شاہ نے اتحادیوں کو اعتماد میں لئے بغیر لیاقت جتوئی اور ارباب غلام رحیم سے رابطے کیا۔ویسے بھی ممتاز بھٹو، جلال محمود شاہ کو اتحاد کا کنوینر مقرر کرنے پر خوش نہیں تھے۔ اور جلال شاہ کے اس اقدام نے ان کی مزید پوزیشن خراب کردی اور اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔سندھ کے قوم پرستوں کواس بات پر ناراضگی ہے کہ لیاقت جتوئی نے دو مرتبہ ان کو استعمال کیا اور اقتدار حاصل کیا۔اس مرتبہ بھی وہ ایسا ہی کھیل کھیلیں گے۔
ایم کیو ایم سندھ کی شہری سیاست کی اہم کھلاڑی ہے۔ کراچی کی سورتحال پر سپریم کورت کے فیصلے اور سابق وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کی مہم نے اس کو دفاعی پوزیشن میں ڈال دیا تھا۔لیکن لگتا ہے کہ ایم کیو ایم اب اس پریشانی سے باہر آگئی ہے۔اور آخر تک پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑا رہنے کا تہیہ کئے ہوئے ہے۔بلکل ویسے جیسے آخر تک پرویز مشرف کے ساتھ کھڑی تھی۔ اطلاعات ہیں کہ ڈاکٹرذوالفقار مرزا اپنے قریبی ساتھیوں سے رابطے میں ہیں اور رواں ماہ کے دروان وطن واپسی پر اپنی سیاسی ٹیم تشکیل دینگے۔ڈاکٹر مرزا کو ملک میں اور سندھ میں کیا ریسپانس ملتا ہے؟ یہ ابھی بتانا قبل از وقت ہوگا۔
سندھ میں سیاسی کھلاڑیوں کا ایک اور بھی گروپ ہے۔ جس میں مشرف دور کے صوبائی وزیر اور جرگے منعقد کرنے میں شہرت رکھنے والے  میر منظور پنہور، مقبول شیخ اور پرویز شاہ شامل ہیں۔ یہ گروپ بھی اپنا الگ تشخص شو کرنے کے جتن کر رہا ہے۔
اسلام آباد میں جو بھی سیاسی شطرنج کھیلی جا رہی ہو، سندھ بہرحال اہم ہے۔ اسکی بڑی وجہ یہ ہے کہ سندھ پیپلز پارٹی کا ہوم گراؤنڈ ہے۔ جب تک اسکو یہاں پر ناک آؤٹ یا اکیلا نہیں کیا جاتا تب تک تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔اس مقصد کے لئے مختلف کوششیں کی جا رہی ہیں۔شاہ محمود قریشی نے رانگ نمبر ڈائل کرلیااور تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی۔اس کے بعد نواز شریف نے کاصا جارحانہ کھیل کھیلا جوپنجاب میں عمران خان کی بڑہتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے انکے لئے ضروری بھی ہو گیا تھا۔ ان سیاسی  چالوں کے بعد اب نواز شریف سندھ میں اپنی پوزیشن کے تعین کیلئے لاڑکانہ میں جلسہ کرنے آرہے ہیں۔
یہ سرگرمیاں اپنی جگہ پر، سندھ میں صورتحال پیپلز پارٹی کے حق میں ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ کسی نہ کسی بہانے پیپلز پارٹی کوقبل از وقت  ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وہ این آر او پر سپریم کورٹ کے فیصلے، میمو گیٹ اسکینڈل، نیٹو فورسز کے حملوں پرملک کے اندر بعض حلقوں 
 کے رد عمل اور اب نواز شریف کے سپریم کورٹ جانے کو ایک ہی سلسلے کی کڑیاں قرار دے رہے ہیں۔سیاسی  پنڈتوں کا خیال ہے کہ
سندھ کے عوام دل کا غبارچاہے کسی طرح ہی نکالیں لیکن بالآخر ووٹ پیپلز پارٹی کو ہی دیتے ہیں۔

وزیر اعلی سندھ اور وزیر داخلہ کے نام 2011-12-05


Mon, Dec 5, 2011 at 10:48 AM
 کالم۔ برائے پانچ دسمبر
وزیر اعلی سندھ  اور وزیر داخلہ کے نام
سہیل سانگی
یہ ایک کہانی نہیں۔ سچا واقعہ ہے ہے، مگر ہماری مین اسٹریم میڈیا کے پاس اسکے لئے نہ ٹائیم ہے نہ ہی اس کی ترجیحات۔ وزیر اعلی سندھ کے ضلع اور وزیر داخلہ کے حلقہ انتخاب میں دس  پولیس  موبائل اور درجنوں مسلح افراد نے ایک گاؤں پر حملہ کر کے26 جریب زرعی زمین پر قبضہ کر لیا اور چھ افراد کو گرفتار کر لیا۔  
سوہو کناسرو گاؤں خیرپور ضلع میں تاریخی مقام کوٹ ڈیجی کے پاس واقعہ ہے اور صوبائی وزیر داخلہ منظور وسان کا حلقہ اتخاب ہے۔ گذشتہ ہفتے منظور وسان کے داماد منور وسان جو کہ تحصیل کے ناظم بھی رہے ہیں دس سے زائد پولیس موبائل اور  درجنون مسلح افراد کے ہمراہ گوٹھ سوہو کناسرو پہنچے اور اسلح کے زور پر اجن برادری کی زمین پر قبضہ کر لیا۔ پولیس نے چھ افراد کو گرفتار کر لیا۔ جبکہ گاؤں کی خواتین نے بچوں سمیت گنے کے کھیت میں پناہ لی۔ لیکن پولیس اور مسلح افراد گھسیٹتے ہوئے انہیں کھیتوں سے لے آئے اور  بری طرح سے مارا پیٹا۔ ان خواتین نے کلام پاک کا واسطہ بھی دیا۔ لیکن حملہ آوروں اور پولیس نے ان کی ایک بھی نہیں سنی۔ 
اس واقعے کی کوریج کے لئے جب صحافی وہاں پہنچے تو پولیس اور مسلح افراد نے ان پر بندوقیں تان لیں اور انہیں برا بھلا کہنے کے ساتھ ان سے کیمرے بھی چھیننے کی کوشش کی۔ 
اجن برادری کے معززین کا کہنا ہے کہ مسلح افراد اجن برادری کی فصلیں زبردستی کاٹ کے ٹریکٹر ٹرالیوں میں بھر بھر کے لے گئے۔ مسلح افراد اور پولیس نے اجن برادری کے گھروں میں کیمپیں قائم کرلی ہیں۔ خواتین سمیت اجن برادری  کے لوگوں نے خیرپور پہنچ کر پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا۔غلام محمد اجن،  قمرالدین اجن نے صحافیوں کو بتایا کہ وزیر داخلہ کے داماد نے انکا جینا محال کردیاہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی خواتین  بچے گود میں اٹھائے چھپتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔اور لاک اپ میں ان پر کتے چھوڑے گئے۔انکا کہنا تھاکہ انکا کوئی قصور نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر انہیں انصاف نہ ملاتو وہ سپریم کورٹ کے سامنے خودسوزی کرینگے۔
میڈیا کو کوریج سے روکنے اور اور کیمرے چھیننے کے کوشش کرنے کے خلاف صحافیوں نے خیرپور پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا۔ایک درجن سے زائد صھافیوں کا کہنا ہے کہکوریج کرنے والے صحافیوں پر اسلح تان کر انکو کوریج سے روکا گیا اور کیمرے چھیننے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے  مطالبہ کیا کہ بااثر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
اجن برادری کے لوگوں کا کہنا ہے کہ جس زمین پر واسان نے قبضہ کیا ہے، وہ انکے پاس  1965سے ان کے پاس ہے اور جان برادری کے لوگ برسہا برس  سے یہ زمین کاشت کرتے آئے ہیں۔
یہ سب کچھ گذشتہ چار روز سے مقامی اخبارات میں رپورٹ ہوتا رہا ہے۔گاؤں والے خیرپور شہر میں مظاہرے کرتے رہے۔ صحافی بھی وزیراعلی کے شہر میں ریلیاں نکالتے رہے۔ پر کسی کے کان پر جوں بھی نہیں ہلی۔  نہ حکومت سندھ نے اس پر کوئی کارروائی کی ہے اور نہ ہی حکومت یا ضلع انتظامیہ کی جانب سے ان الزامات کی تردید یا وضاحت کی گئی ہے۔یہ امر بھی حیران کن ہے کہ اتنے سنگین الزامات کی  وزیر داخلہ یا اسکی فیمیلی نے بھی کوئی تردید نہیں کی۔جس سے لوگوں کا گماں یقین میں تبدیل ہوگیا ہے کہ گاؤں والوں کا موقف صحیح ہے۔
 وسان خانداں علاقے کا بااثر خاندان ہے۔ ماضی قریب میں  چاہے بلدیاتی انتخابات ہوں یا عام اتخابات، چاہے کوئی بھی دور ہو اس خاندان نے اتخابات نہیں ہارے۔ منظور وسان صوبائی وزیر ہیں جبکہ ان  کے بھتیجے نواب وسان قومی اسیمبلی کے رکن ہیں۔ منور وسان جن پر حملہ کرنے اور زمین پر قبضہ کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے وہ بھی کوٹ ڈیجی تحصیل کے ناظم رہے ہیں۔ یہ حقائق بتاتے ہیں کہ چاہے کوئی بھی دور ہو، وسان خاندان س بااثر رہا ہے۔ ان کے مقابلے میں جن برادری جن کی زمینوں پر قبضہ کیا گیا ہے کبھی بھی براہ راست یا بلواسطہ طور پر حکومت میں نہیں رہی ہے۔ ایسے میں یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اجن برادری نے وسانوں کی زمینوں پر قبضہ کر لیا ہو۔ ہاں اس کے مقابلے میں یہ بات زیادہ قابل فہم ہے کہ وسانوں نے اجن برادری کی زمین پر قبضہ کیا ہو۔
باشعور حلقوں کا کہنا ہے کہ کوٹ ڈیجی کے علاقے میں سود کا کاروبار عام ہے۔ چھوٹے اور درمیانہ طبقے کے لوگوں کو قرضے میں پھنسا کر ان کی جائدادیں زبردستی خرید لی جاتی ہیں۔ اس کاروبار میں کئی بااثر افراد ملوث ہیں۔
 جب وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ کی ناک کے نیچے یعنی انکے اپنے آبائی ضلع میں یہ سب کچھ ہو رہا ہوتو باقی سندھ میں کیا ہو رہا ہوگا،  باقی لوگ انصاف کی کیاتوقع رکھ سکتے ہیں۔خیرپور سے تعلق رکھنے والے ایک پرانے سیاسی کارکن نے  وزیراعلی سے بڑی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چاچا قائم علی شاہ کی کوئی نہیں سنتا۔ خود ان کی کابینہ کی اراکین بھی نہیں سنتے۔انہوں نے ایک قصہ سنایا  اور کہا کہ یہ سو فیصد وزیراعلی پر لاگو ہوتا ہے۔ قصہ کچھ اس طرح سے ہے۔ ایک پیر صاحب غریبوں کی بستی میں منزل انداز ہوئے۔ اور وہ بھی قحط سالی میں۔ مرید تمام تر کوششوں کے باوجود کوئی انتظام نہ کر سکے۔ ڈرتے ڈرتے ایک مرید پیر صاحب کے پاس آیا۔ اور ان سے بڑے مودبانہ انداز میں پوچھا، قبلہ آپ کے لئے تو دال پکائی ہے، اب خلیفوں کے لئے کیا حکم ہے۔ پیر صاحب صورتحال کو بھانپ گئے اور غصے سے بولے خلیفوں کا کالا منہ کرکے روانہ کرو۔ سو سندھ میں وزیراعلی کے آبائی ضلع کے لوگوں کے ساتھ یہ ہو رہا ہے تو باقی لوگ کہاں جائیں کس کا دروازہ کھٹکھٹائیں۔  یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ واقعہ نہیں معلوم کئی ایسے باثر لوگوں کو  شہہ دیگا کا وہ بھی اسلحے کے زور پر اور پولیس کی مدد سے اپنی من پسند زمینوں پر قبضہ کرلیں۔
 صوبائی حکومت کی یاتو کوئی سنتا نہیں یا پھر وہ اپنے اتحادیوں کو منانے اور مفاہمت کی پالیسی کو کامیاب کرنے میں اتنی مصروف ہے کہ  اس کے پاس عام آدمی یا اسکے مسائل  نہ ترجیح ہیں اور نہ ہی اسکے پاس اتنا وقت ہے۔
سندھ میں اپوزیشن   برائے نام بھی نہیں۔   all king's men یعنی سب لوگ بادشاہ کے لوگ ہیں اور حکومت میں شامل ہیں۔اسلام ٓباد میں موجود اپوزیشن حکومت کو گرانے کی آخری کوششوں میں مصروف ہے۔سپریم کورٹ ملک کے سیاسی مسائل حل کرنے میں لگی ہوئی ہے، ایسے میں سوہو کناسرو کے دیہاتی یا اسے کئی علاقوں کے لوگ کہاں جائیں۔ان کی کہیں شنوائی نہیں ہوتی۔ ملک میں موجود بحران ایک عام آدمی پر کس طرح  اثرانداز ہوتا ہے، اور بااثر لوگ اس موقعے کا کس طرح فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کوٹ ڈیجی کا واقعہ اس کی ایک چھوٹی پر مضبوط مثال ہے۔

پسند کی شادی Unpublished

Sat, Nov 26, 2011 at 8:28 PM
Unpublished
پسند کی شادی
شازیہ خاصخیلی اور محمد حسن سولنگی کو ایس پی آفیس سے دو سوگز کے فاصلے پر  اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ ایس پی کے بلانے پر  ذاتی سماعت کے لئے آئے تھے۔ فاطمہ خان کو  پولیس تحویل سے مسلح افرد چھین کر اغوا کر کے لے گئے جب  عدالت  سے واپسی پر عدالت سے چند گز دور وہ پولیس کے ساتھ جا رہی تھی۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت کی تھی کہ اسکو تحفظ فراہم کیا جائے۔ اس کے بعد اس کے ساتھ کیا  ہوا کچھ پتہ نیں۔ یہ واقعات باتاتے ہیں کہ پولیس اور عدالت سے بھی خواتین کو تحفظ فراہم نہیں کر پا رہے ہیں۔
باوجود اسکے کہ  درجنوں خواتین کو کارو کاری کے الزام میں قتل کیا جاتا ہے یا اس الزام میں کہ انہوں نے نجی دائرے سے باہر نکل کر عام دائرے میں پہنچنے کی کوشش کی ہے۔ اور انپی آزادانہ خواہش کا اظہار کرکے پسند کی شادی کی ہے۔ یہ مطالعہ  بہت دلچسپ ہے کہ کئی خواتین اپنے مرضی پر شادی کر رہی ہیں۔ اور ایسا سر عام الان بھی کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ معاشرے اور قانون سے تحفظ بھی طلب کرتی ہیں۔
جب کوئی جوڑا  پسند کی شادی کرنے کا راستہ اختیار کرتا ہے تو  گھر چھوڑنے کے بعد  وہ کسی وکیل  سے رابطہ کرتے ہیں جو ان کے لئیایک حلفیہ بیان تیار کرتا ہے۔  جس پر دستخط کرکے کسے جڈیشل میججسٹریٹ یا روٹری پبلک سے تصدیق کراتے ہیں۔  اس کے بعد نکاح نامہپڑھا کے ایسا اعلان مقامی اخبار میں کرتے ہیں۔ اخباری اس اشاعت کو  دھیان طلب یا  توجہ طلب کہا جاتا ہے۔ بعض  جوڑے عدالت سے بھی رجوع کرتے ہیں۔ جس میں وہ  اپنی  خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ انہیں کارو کاری قرار دے کر  قتل کر دیا جائے گا لہذا انہیں قانون تحفظ فراہم کرے۔سہمے ہوئے جوڑے  لڑکی کے والدین اور رشتیدراوں سے ڈرے ہوئے ہوتے ہیں۔ 
یہ اعلان ان کے شادی کو مشتہر کردیتا ہے۔ اسکے  علاوہ پولیس کو بھی ان کے خلاف  کوئی اقدام کرنے سے روک دیتا ہے۔ وسیع اشاعت  رکھنے والے سندھی روزنامہ کاوش کا ایک ماہ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہروزانہ تین سے چار ایسے اعلان نامے بطور اشتہار شایع ہوتے ہیں۔  مقامی اخبارات کے شعبہ اشتہارات سے تعلق رکھنے والے عملے کا کہنا ہے کہ روزانہ آتھ سے دس ایاسے شتہارات مختلف اخبارات میں شایع ہوتے ہیں۔ یہ تعداد فصلیں اترنے کے موسم میں دوگنی ہو جاتی ہے۔ 
گھروں سے نکلنے والے جوڑوں کا تعلق صوبے کے مختلف اضلاع سے ہے۔ اور اس میں کوئی ذات پات کا بھی معاملہ نہیں کیونکہ تقریبا تمام بردریوں کے لوگ اس طرح کے واقعات میں شامل ہیں۔ تاہم اکثر جوڑوں کا تعل نچلے یا درمیانہ طبقے سے ہے۔
بعض اوقات لڑکی کے والدین پتہ چلنے پر عدالت پہنچ جاتے ہیں اور لڑکی  کو سمجھانے بجھانے کے کوشش کرتے ہیں یا دباؤ ڈالتے ہیں۔ کئی جوڑے گھر سے فرار کے بعد بہت ہی کسمپرسی کی زندگی گذارتے ہیں۔ ان شتہارات کا متن وہی ہے جو آج سے تیس سال پہلے تھا۔ اکثر لڑکیاں یہ الزام عائد کرتی ہیں کہ ان کے والدین اس کی مرضی کے خلاف پیسوں کے عوض کسے بڑی عمر کے شخص سے شادی کرانا چاہتے ہیں۔  
گھر سے نکلنے والی لڑکی کے والدین لڑکے اور اسکے بائیوں و دیگر رشتیداروں کے خلاف اغوا، چوری ڈکیتی وغیرہ کا مقدمہ درج کراتے ہیں۔ اسکے علاوہ برادری کی پنچایت یا قبیلے کے جرگے کا سہارا لیتے ہیں۔
انسانی حقوق و خواتین کے حقوق  کے لئے کام کرنے والی تنظیمیں چند ایک جوڑوں کی مدد کر پاتی ہیں۔ جو کسی نہ کسے وجہ سے ہائی پروفایل بن جاتے ہیں۔
خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والے حسن پٹھان کا کہنا ہے کہ تحفظ کی اپیل اور عدالت سے رجوع کرنے کے با وجود  پولیس  بہت کم اقات  ان جوڑوں کی مدد کو آتی ہے۔ اور اخبار میں شایع ہونے والی اشتہار یا اپیل کا  شاید ہی نوتیس لیتی ہو۔یہاں تک  کہ ان کا یہ اعلان نامہ ریکارڈ پر بھی نہیں رکھا جاتا۔ متثرہ جوڑے خود اخبارات کی کلپنگ تھانیدار، ایس  پی اور دیگر انتظامی اہلکاروں کو بھیجتے ہیں۔ یہ اعلے اہلکار ایسی اپیل کو ماتحت عملے کو مارک کر کے بھیج دیتے ہیں اور اس سے زیادہ کارروائی نہیں ہوتی۔ اخبارات میں ایسی اعلان اور حلف نامے کے باوجود پولیس لڑکی اور لڑکے کے خلاف مقدمہ درج کرتی ہے۔ کئی ایسے بھی واقعات ہوئے ہیں کہ ججوں نے لڑکے کو پولیس کے حوالے کیا اور لڑکی کو والدین کے حوالے یا پھر  دارالامان بھیج دیا۔ اگر لڑکے کو پولیس تحویل میں دیا جاتا ہے تو پولیس اس پہ تشدد کرتی ہے۔ اور دباؤ ڈالتی ہے کہ وہ اپنے موقف سے ہٹ جائے۔ والدین لڑکی پر دباؤ ڈالتے ہیں اور ذاتی ضمانت پر یا پولیس کی مٹھی گرم کرکے اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔  عام خیال یہ کہ پولیس افسران اور ججوں کی اکثریت فری ول میریج کے خلاف ہے۔وہ اس بات پر لڑکی کو برا بھلا کہتے ہیں اس نے والدین کی عزت مٹی میں ملا دی۔
میڈیا، سول سوسائٹی کے مدد اور اب عدلیہ میں بدلتے ہوئے رجحانات کے وجہ سے ایسے واقعات بڑھے ہیں۔پہلے معاملات کو دبا دیا جاتا تھا۔ اب میڈیا اور عدالت میں لائے جاتے ہیں۔ عام طور پر ایسے معاملات نوخیز لڑکیوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ جو یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ وہ زندگی بھر کے  بارے میں ایک فیصلہ کیاسے کر رہی ہیں۔ اصل میں گھروں میں ہم ان لڑکیوں کو اسپیس نہیں دیتی کہ وہ اظہار کر سکیں۔ بات کر سکیں۔اگر گھر میں لڑکی  کو اسپیس دی جائے تو ممکن ہے کہ وہ مضبوط دلائل کی وجہ سے قائل ہو جائے۔ اگر قائل نہیں بھی ہوتی ہیوہ بعض پہلؤوں پر سوچتی ضرور ہے اور بعض  منفی پہلؤوں  یا پھر خدشوں  سے بچنے کے لئے یقین دہانیاں یا پیشگی اقدامات کر لیتی ہے۔ جب اسکو گھر میں اسپیس نہیں ملتا تو وہ براہ ر است بغاوت کی طرف چلی جاتی ہے۔
ذوالفقار شاہ کا خیال ہے کہ اخبار میں ایسی اشاعت والدین اور رشتیداروں کو مزید غصہ دلاتی ہے۔کیونکہ اسکے وجہ سے وہ برادری میں اور جان پہچان والوں میں خود کو بے عزت سمجھتے ہیں 

سندھ میں کارڈ کارڈ کھیل 2011-12-01

  sangi-Column Mery dil mery musafer Nov 31
Thu, Dec 1, 2011 at 11:27 AM
میرے دل میرے مسافر
سندھ میں کارڈ کارڈ کھیل
سہیل سانگی 
سندھ میں کارڈ کارڈ کھیلا جا رہا ہے۔ کارڈ کے اس کھیل نے  لوگوں کو پریشان کر دیا ہے۔ پہلے تو صرف راشن کارڈ ہوا کرتا تھا۔ اسکے بعد شناختی کارڈ ایجاد ہوا۔ابھی اس کارڈ کا چکر پورا ہی نہیں ہوا تا کہ سیلاب کی وجہ سے وطن کارڈ متعارف ہوا۔رواں سال کی بارشوں نے پاکستان کارڈ کو جنم دیا۔ اب لوگ ان کرڈوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔سب سے بڑھ کر اور خطرناک سندھ میں کارڈ  ہے۔ جوملکی سیاست میں خاصا مقبول رہا ہے۔ کارڈوں کی بعض اور بھی اقسام ہیں۔ جیسے عید کارڈ  اور پوسٹ کارڈ۔ان د و کارڈوں کو انٹرنیٹ اور موبائل فون نیختم کردیا۔ شادی کارڈ ابھی  تک مروج ہیں۔دعوتوں کی بہتات کی وجہ سے لوگ اس سے بھی خاصے نالاں ہیں۔شناختی کارڈ ہو یا  وطن کارڈ یا آخری کارڈ یعنی سندھ کارڈ  ان کارڈوں سے کسی عام آدمی کا آج تک بھلا نہیں ہوا ہے۔  بلکہ عام آدمی ان کارڈوں کے چکر میں پھنسا ہوا ہے۔ بھلا ہو رہا ہے تو مختلف محکموں کے اہلکاروں کا یا ایجنٹوں کا یا پھر حکومت میں شامل بعض لوگوں کا جو یہ سارا کارڈ کا کھیل کھیل رہے ہیں۔
ابھی گذشتہ سال کے سیلاب متاثرین کی بحالی نہ ہو پائی تھی کہ امسال کی بارش نے  اس سے بھی بڑی آبادی کو بے گھر کردیا۔مون سون کی بارشوں  نے صوبے میں  دریائے سندھ کے بائیں علاقے میں سیلاب کی صورتحال پیدا کردی۔پاکستان ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق کل اکیانوے لاکھ اٹھہتر ہزار آٹھ سو گیار افراد متاثر ہوئے۔اور ابھی تک تیس فیصد سے زائد افراد ابھی تک کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔حکومت سندھ نے اعلان کیا کہ سیلاب زدہ ہر کنبے کو پاکستان کارڈ جاری کیا جائے گا۔ جس کے ذریعے وہ  پہلی قسط کے طور پہ دس ہزار روپے مقرر بنکوں کی برانچوں سی حاصؒ کر سکیں گے۔یہ پاکستان کارڈ اے ٹی ایم کارڈ کے طور پر کام کریگا۔  قومی شناختی کارڈ بنانے والے ادارے نادرا کو یہ ذمہ داری دی کئی کہ وہ  متاثرہ علاقوں میں جا کر سیلاب زدگان کو پاکستان کارڈ جاری کرے۔ کچھ نادرا کے انتظامات کی کمی تھی تو کچھ عملے کی کمی۔ لاکھوں لوگوں کو  ابھی تک یہ امدای کارڈ جاری نہ ہو سکے۔
مختلف شہروں سے پہنچنے والی شکایات سے پتہ چلتا ہے کہ ابھی اس کام کو مکمل ہونے میں اور مدت درکار ہوگی۔صھیح انتظامات نہ ہونے اور سیاسی بنیادوں پر  یا پیسوں کے عوض کارڈ کے اجراء نے صورتحال کو  مزیدپیچیدہ بنا دیا ہے۔ تنگ آمد بجنگ آمد۔ کئی مقامات پر سیلاب زدگان  نے نادرا سینٹروں پر ہلہ بول دیا اور توڑ پھوڑ بھی کی۔ پولیس نے مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا جس سے درجنوں متاثرین زخمی ہو گئے۔عمرکوٹ، سانگھڑ، میرپورخاص اور بدین مے مختلف مقامات پر پولیس اور پاکستان کارڈ حاصل کرنے والے  متاثرین کی جھڑپیں روز کا معمول ہیں۔ایک اندازے کے مطابق ابھی تک چالیس فیصد سے زائد لوگوں کو کارڈ جاری کرنا باقی ہے۔نادرااہلکاروں کا کہنا ہے کہ کئی لوگوں کے پاس شناختی کارڈ بھی نہیں ہیں اس لئے پہلے انکو شناختی کارڈ بنا کر دیئے جا رہے ہیں اور اس کے بعد پاکستان کارڈ۔
 پاکستان کارڈ حاصل کرنے کے لئے لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے عمر رسیدہ اور بے سہارا لوگ رش میں پاؤں تلے روندے جا رہے ہیں۔اگرچہ نادرا نے مختلف یونین کونسلز کے لئے شیڈول بنایا ہے تاہم اس شیڈول پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا ہے مگر ایجنٹوں کے ذریعے پسند کے لوگوں کو کارڈ جاری کئے جا رہے ہیں۔ 
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حکومت  کے پاس پیسے ہی نہیں ہیں کہ ایک ساتھ تمام متاثرین کو ادائگی کر سکے۔ اس لئے ناردرا کو ہدایت کی گئی ہے کہ کاردڈ کے اجراء کی رفتار حکومت کے پا س موجود پیسوں کے حساب سے ہی رکھے۔ اطلاعات ہیں کہ کارڈ جاری ہونے کے بعد بنکوں پر بھی  متاثرین کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہوتی ہیں۔یہاں پر بھی پولیس یا پھر بنک عملہ ناجائز طور پر پیسوں کی وصولی کے بعد پاکستان کارڈ کے ذریعے پیسے نکالنے کی اجازت دیتا ہے۔ ڈیوٹی پر موجود پولیس رشوت لے کر پسندیدہ لوگوں کو پہلے پیسے دلانے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔
اگرچہ شہری علاقوں سے بارش کا پانی نکال دیا گیا ہے تاہم دیہی علاقوں میں کئی ایک مقامات پر تین سے چار فٹ تک پانی کھڑا ہے جس کی نکاسی کی کوئی  سبیل نظر نہیں آتی۔حکومت کی مدد سے ابااثر افراد کی زرعی زمینوں سے پانی نکال دیا گیا ہے۔ تاہم باقی زمینوں پر ابھی تک پانی کھڑا ہے جہاں ربیع کی فصل نہیں ہو سکے گی۔ 
حکومت نے آبادگاروں کو بلامعاوضہ گندم کا بیج اور کھاد فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پر وقت پر ان کی فراہمی شروع نہیں کی جا سکی۔اس تقسیم
 میں بھی سیاسی بنیادوں پر تقسیم اور ناجائز پیسوں کی ادائگی کے بعد فراہمی کی شکایات عام رہی۔ 
سیلاب زدگان کی پہلی بے عزتی کارڈ حاصلؒ کرتے وقت  اور دوسری بے عزتی بنک سے پیسے نکالتے وقت ہوتی ہے۔  
سیلاب پر سیاست اور پیسے بنانے کا دھندہ صرف  منتظمین، حکمرانوں یا ایجنٹوں نے ہی نہیں کیا بلکہ ملکی و غیر ملکی  غیر سرکاری تنظیموں نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ بعض غیرملکی ڈونر اداریسیلاب زدگان کی امداد کے لئے مقامی این جی اوز کو صرف اس وقت امدادی پروجیکٹ دے رہے تھے جب وہ ان ڈونر اداروں کے اہلکاروں کو پیشگی تیس فیصد کمیشن کی ادائگی نہیں کر رہی تھیں۔  سیلاب  نے صرف عام آدمی کی مصیبتوں میں اضافہ نہیں کیا بلکہ کرپشن کلچر کی نئی شکلیں ایجاد ہوئیں۔ جب ملکی این جی اوذ کمیشن ادا کرکے پرجیکٹ حاصل کرینگی تو لگ بھگ اتنا ہی اپنا حصہ نکالیں گی۔ اس طرح سے مستحق لوگوں تک بمشکل تیس فیصد ہی رقومات اور امداد پہنچ رہی تھی۔
گذشتہ سال کے سیلاب نے کئی  شہروں کو برباد کیا اور کئے بستیاں وجود ہستی سے مٹ گئیں۔ لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ ستر لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوگئے۔سندھ کی کئی اضلاع میں ہفتوں تک سیلاب چلتا رہا۔  تب حکومت نے وطن کارڈ کے نام سے ایک رنگین خواب دکھایا۔قطاروں میں کھڑے لوگوں پر لاٹھیاں برسیں احتجاج ہوئے اور خاصی تذلیل کے بعد انہیں کچھ خیرات ملی۔ یوں  وطن کارڈ کی درد کتھا توختم ہوئی۔ مگر آج بھی سیلاب زدگان کراچی، حیدرآباد اور دیگر شہروں  میں بے کسی کی زندگی گذار رہے ہیں۔ ابھی حال ہی میں کراچی کے علاقے ملیر میں انکو بے دخل کرنے کے لئے لاٹھیاں برسائی گئیں۔
امسال جب بارشوں میں سندھ کا دوسرا حصہ متاثر ہوا  نوے لاکھ افراد متاثر ہوئے۔ تو دوسرے کارڈ یعنی پاکستان کی کہانی شروع ہوئی۔ اس کارڈ کا شروع میں نام پیپلز کارڈ تجویز کیا گیا۔  پر بعد میں بعض اتحادیوں کے اعتراضات پر یہ نام تبدیل کر کے پاکستان کارڈ رکھا گیا۔  اس بارکارڈ کی قیمت کچھ کم تھی۔ پہلے مرحلے میں دس ہزار روپے رکھے گئے۔لاکھوں لوگ اس کارڈ کے حصول کے لئے روزانہ مختلف شروں 
 میں قطاریں لگائے کھڑے ہیں۔ جبکہ جن کو ملے ہیں وہ  لوگ ابھی تک کارڈ سنبھال کے بیٹھے ہیں۔ 
 سندھ کارڈ پاکستان کی سیاست میں کچھ عرصے سے عام ہے۔  سندھ کے لوگوں کے احساس محرومی اور اقتدار سے دوری کی شکایت کو سندھ کارڈ کا نام دیا گیا۔ کہ ذاوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد اس کارڈ کی رفتار تیز ہو گئی۔ بعد میں  بعض سیاستدانوں نے اقتدار حاصؒ کرنے کے لئے اور لاہور اور اسلام آباد نے سندھ کے مطالبات  سے گریز کرنے کے لئے اس کارڈ کا استعمال کیا۔اس کارڈ کو بعض قوم پرستوں نے بھی استعمال کیا۔  اس طرح سندھ کے لوگ کسی ایک یا دوسرے کارڈ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ جس سے نکلنے کی کوئی راہ نظر نہیں آتی۔قدرتی آفات آتی ہیں تو انہیں ایک کارڈ یا جاتا ہے۔ اپنے سیاسی یا معاشی حقوق کی بات کرتے ہیں تو سندھ کارڈ پکڑادیا جاتاہے۔ کارڈوں کییہ درد کہانی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔

  


شاہ محمود قریشی کا گھوٹکی میں جلسہ 2011-11-28

Mon, Nov 28, 2011 at 2:20 PM
شاہ محمود قریشی کا گھوٹکی میں جلسہ 
میرے دل میرے مسافر   سہیل سانگی
ایک اور بڑا جلسہ ہوا۔ اس مرتبہ یہ جلسہ سندھ میں تھا۔  حالیہ سیاسی موسم میں اس سے قبل جلسوں کی سیاست پنجاب میں ہو رہی تھی۔  پنجاب کے بارڈر کے قریب سندھ میں منعقد ہ  اس جلسے میں سندھ کے علاوہ پنجاب کے سرائیکی بیلٹ سے بھی لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ بے نظیر بھٹو کے بعد سندھ میں جلسوں کا رواج ختم ہو گیا تھا۔ لوگ بھول گئے تھے کہ اب کوئی بڑے جلسے بھی ہونگے۔ پر گھوٹکی میں شاہ محمود قریشی نے جلسہ کر کے بتایا کہ نہیں بڑے جلسے اب بھی ہو سکتے ہیں۔ 
یہ دوسرا موقعہ تھا کہ گھوٹکی ملکی و غیر ملکی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا۔ کوئی بارہ سال پہلے بینظیر بھٹو کے قیادت میں سندھ کی تمام قومپرست جماعتوں نے سندھ پنجاب بارڈر کے قریب کموں شہید کے مقام پر کالا باغ ڈیم کے خلاف ریلی نکالی اور دھرنا دیا تھا۔ تب نجی ٹی وی چینل نہ  تھے  اور صرف پرنٹ میڈیا نے اس تاریخی احتجاج کو کور کیا تھا۔ گھوٹکی ایک بار پھر ملکی و غیرملکی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا  جب سابق وزیر خارجہ اور پیپلز پارٹی چھوڑنے والے رہنما مخدوم شاہ محمود قرشی نے یہاں جلسہ منعقد کیا۔
 ملک میں اور مقامات پر بھی  جلسے  ہو رہے ہیں اور حکومت  ان جلسوں میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈال رہی۔کراچی میں عام شاہراہوں کو بند کر کے جلسے کئے جاتے ہیں۔ پنجاب میں وہاں کے وزیر اعلی نے عام شاہراہ پر جلسہ کیا۔ مگر گھوٹکی میں  ہونے والے شاہ محمود قریشی کے جلسے کے انعقاد میں رکاوٹیں ڈالنے کی شکایات سامنے آئیں۔
شاہ محمود قریشی کا یہ جلسہ تین وجوہات کی بنا پر اہمیت کا حامل رہا۔ اس جلسے کے وجہ سے  ماضی میں پارٹی کی ٹکٹ ٹھکرانے والے مہر برادران کے سامنے پیپلز پارٹی  جھک گئی۔ جلسے کے اعلان کے بعد صدر آصف زرداری کے دوست اور صوبائی وزیر سراج درانی  خانگڑہ پہنچ گئے اور انہوں نے مہر برادران کو صدر سے ملاقات کے لئے راضی کیا۔ اور بعد میں جلد ہی انہوں نے صدر سے ملاقات بھی کی۔ یہ سب کچھ کیوں  ہوا؟
 سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ جلسہ سندھ میں ہو رہا تھا۔ اور پیپلز پارٹی سندھ پر اس کے مالکانہ حقوق کی دعویدار ہے، جس پر اس کوکسی اور کا دعوا قبول نہیں۔ اور اگر کوئی اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے گا تو رد عمل تو ہونا ہی تھا۔ اس بات کا اظہار بعد میں مخدوم نے اپنی تقریر میں  یہ کہہ کر کیا کہ سندھ اسلام آباد والوں کا نہیں سندھ کے لوگوں کا ہے۔ ویسے تو سندھ میں مسلم لیگ، ایم کیو ایم اور قومپرست جماعتوں کے جلسے ہوتے رہتے ہیں۔ ان پر پیپلز پارٹی کی قیادت کو کبھی اعتراض نہیں ہوا۔مبصرین کے مطابق چونکہ شاہ محمود نے حال ہی میں قیادت سے اختلاف کر کے پارٹی چھوڑی ہے۔ ان کے بلاوے پر ہزاروں افراد جمع ہو جائیں گے  تو دنیا یہ سمجھے گی کہ جلسے میں شریک سب لوگوں کا تعلق سب سندھ  سے ہے۔ جنہوں نے بغاوت کرکے قریشی کا ساتھ دیا ہے۔ اس لئے پارٹی اپنی مورثی ملکیت کھونا نہیں چاہتی۔
 تیسرے یہ کہ مخدوم شاہ محمود ایسے موقعہ پر جلسہ کیا  جب ملک کی سب سے بڑی حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ ن  ملک میں گو  زرداری گو کی تحریک چلا  رہی ہے۔ اور مخدوم کا مطالبہ بھی وہی ہے جو نواز شریف کا ہے۔  یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جس طرح سے عمران خان کو مینار پاکستان کے جلسے کے بعد سیاسی طور پر پنجاب میں تقویت ملی ہے، اسی طرح مخدوم شاہ محمودنے سندھ میں ہزاروں افرد کٹھے کرکے سندھ میں  انٹری لی ہے جو پیپلز پارٹی کے لئے پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔ 
 جلسے میں مسلم لیگ ْ کی ناراض خاتون رہنما ماروی میمن بھی موجود تھیں پر نہ انہوں نے تقریر کی اور نہ ہی تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔  جلسے کے بعد شاہ محمود قیشی نے گھوٹکی کی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے والے مہر برادان سے بھی ملاقات کی اور انہیں تحریک انصاف میں شمولیت کی دعوت دی، جس پر مہر برادران نے  ان سے کچھ مہلت مانگی اور کہا کہ وہ دوستوں سے مشورہ کر کے بتائیں گے۔ اس سے قبل  مہر برادران  صدر آصف علی زرداری سے اور فنکشنل لیگ کے رہنما پیر صدرالدین شاہ سے بھی مل چلے ہیں۔ 
 شاہ محمود قریشی نے جلسے کے لئے گھوٹکی کا انتخاب اس  لئے کیا کہ گھوٹکی سمیت سندھ میں شاہ محمود قریشی  کے مریدوں کی خاصی تعداد ہے۔ اس لئے حکمت عملی یہ بنائی گئی کہ سندھ بھر سے قافلے اور پنجاب کے سرائیکی بیلٹ سے مرید بھی آسانی سے گھوٹکی پہنچ سکتے ہیں۔ اور یوں جلسے کے شرکاء کی تعداد ہزاروں میں چلی جائے گی۔ مخد وم  اگر پاور دئٹ بی کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ ان کے ساتھ لاکھوں لوگ ہیں۔ تو  ان کے لئے کئی آپشنز کھل جاتے ہیں۔  
جو بھی آپشنز ہوں مخدوم صاحب نے حسب توقع عمران خان کی تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔ اگرچہ شاہ محمود قریشی کبھی عمران خان کے قریب نہیں رہے ہیں۔نہ ہی کبھی بھی ان کی سیاست کی سچائی کے  معترف نہیں رہے۔ بہرحال انہیں معلوم تھا کہ میاں نواز شریف  اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیاں اس وجہ سے اختلاف ہیں کہ ماضی میں  ان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بھولنے کے لئے تیارنہیں۔
ان کے پاس دوسرا  آپشن مسلم لیگ ن میں شمولیت کا تھا۔
شاہ محمود قریشی نے چند روز قبل مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف سے بھی ملاقات کی تھی،  سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ مخدوم نے  انہیں پیشکش کی تھی کہ  اگر وہ اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں اگوشہ نرم رکھیں  تو وہ ان کی پارٹی کا حصہ بننے کے لئے تیار ہیں۔اگر واقعی مخدوم قریشی نے یہ الفاظ نواز شریف کو کہے ہیں  تو یہ  اقتدار کے ایوانوں میں در اصل اہمیت کے حامل  حلقوں کا پیغام تھا۔ مگر نواز شریف نے یہ آفر قبول نہیں کی اور مخدوم صاحب کو یقین ہو گیا کہ اباقتدار کی ریس میں  اسٹیبلشمنٹ کا جیتنے والا گھوڑاعمران خا ن ہی ہیں لہذا انہوں نے انکی پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔  
تیسرا آپشن  نئی پارٹی بنانے کا تھا۔ جس کے ذریعے وہ پیپلز پارٹی کے ناراض، پرانے اور باغی رہنماؤں کو کٹھا کرتے۔ یہ بڑا مشکل، صبر آزما اور جہاد ٹائپ کا کام تھا۔ جس کے لئے وقت بھی درکار تھا۔ اور اس جدوجہد میں جلدی اقتدار ملنے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں نظر آرہا تھا۔ اس لئے شارٹ کٹ تحریک انصاف ہی  بنی۔
جیسا کہ انہوں نے اپنے  نئے سیاسی تشخص کا آغاز سندھ سے کیا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ ان کے پاس سندھ کو دینے کے لئے کیا ہے۔اگر وہ الگ پارٹی بناتے تو کیا وہ کھل کر یہ اعلان کرسکتے تھے کہ سندھ کی معدنیات، تیل، گیس  پر اس صوبے کو حق دیا جائے۔ اور اگر وہ مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرتے تو کیا وہ سندھ کو حقوق دلا پاتے جسکی سندھ کی لوگ توقع رکھتے ہیں یا اور پیپلز پارٹی چھوڑنے کا سوچتے۔قریشی صاحب سندھ کی پارٹی پیپلز پارٹی میں رہتے ہوئے سندھ کو جو حقوق نہ دلا سکے وہ نواز شریف کی پارٹی میں رہ کر کیسے دلاتے؟
اب انہوں نے عمران خان کی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ہے، جسکا سندھ میں کوئی وجود ہی نہیں۔اس صورتحال میں سندھ کے لئے کیا
 دے سکیں؟۔ ہاں یہ  ضرور ہوا ہے کہ  اس جلسے اور قریشی صاحب کے تحریک انصاف میں شمولیت سے عمران کو  سندھ میں پاؤں رکھنے کی جگہ ملی ہے جس کے بنیاد پر وہ ایم کیو ایم سے قربت رکھتے ہوئیایک ملک گے متبادل سیٹ اپ دکھا سکتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کو بھی سوچنا چاہئے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکلتی محسوس ہوتی ہے۔ اصل وجہ انکے اپنے اعمال ہیں۔آج اگر سندھ کے لوگ مخدوم کے جلسے میں جاتے ہیں تو وہ مخدوم سے محبت کم اور پی پی کی پالیسوں اور رویوں سے اختلاف کا نتیجہ ہے۔ یہ تو پنجاب سے آیا ہوا مخدوم ہے جس کا تو آسانی سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے سوال یہ ہے کہ اگر کوئی سندھ سے مخدوم اٹھ کھڑا ہوا توحکومت کے پاس کیا راستہ ہوگا؟



Sat, Nov 26, 2011 at 9:12 PM
گھوٹکی نوٹس (غیر شایع شدہ)
بینظیر بھٹو  کے قیادت میں جب سندھ کی تمام قومپرست جماعتوں نے سندھ پنجاب بارڈر پر  کموں سہید کے مقام پر  کالا باغ ڈیم کے خلاف ریلی نکالی اور  دھرنا دیا تھا۔ تب نجی ٹی وی چینل نہ ونے کی وجہ سے صرف پرنٹ میڈیا نے ہے کور کیا تھا۔ اب دوسری مرتبہ گھوٹکی تب ملکی و غیرملکی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہے جب  سابق وزیر خارجہ اور پیپلز پارٹی چھوڑنے والے رہنما مخدوم شاہ محمود قرشی نے یہاں جلسہ منعقد کیا۔ اگرچہ ملک میں اور بھی جالسے ہط رہے ہیں اور حکومت ان جسلوں کے آگے کوئی رکاوٹ نہیں ڈال رہی۔کراچی میں عام شاہراہوں کو بند کر کے جلسے کئے جاتے ہیں۔ پنجاب میں وہاں کے وزیر اعلی نے عام شاہراہ پر جلسہ کیا۔ مر گھوٹکی میں  ہونے والے مخدوم شاہ محمود قریشی کے جلسے کے انعقاد میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔
گھوٹکی میں ہونے والا جلسہ تین وجوہات کی بنا پر  اہمیت کا حامل ہے۔ جس کی وجہ سے ماضی میں پیپلز پارٹی کی ٹکٹ تھکرانے والے مہر برادران کے سامنے جھک گئی۔ جلسے کے اعلان کے فورا بعد  صدر آصف زرداری کے دوست اور صوبائی وزیر سراج درانی  خانگڑہ پہنچ گئے اور ھنہوں نے مہر برادران کو صدر سے ملاقات کے لئے راضی کیا۔ اور بعد میں جلد ہی انہوں نے صدر سے ملاقات بھی کی۔ اب یہ باتیں بھی ہو رہی ہیں کہ کسی بھی وقت وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ اور صدر کی ہمشیرہ فریال تالپور بھی خانگڑہ کا دورہ کرنے والی ہیں۔ اور یہ مہر گروپ کو پیپلز پارٹے میں شمولیت کرائیں گے۔ یہ سب کچھ کیوں کیا جا رہا ہے؟  سیاسے مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ جلسہ سندہھ میں ہو رہا ہے۔ اور پیپلز پارٹے کا دعوا ہے کہ  سندھ اس کے ملکیت ہے۔ جس پر کسی اور کا دعوا قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اور جب کطٗی اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے گا تو رد عمل لازمی ہے۔ ویسے تو سندھ میں مسلم لیگ اور ایم کیو ایم کے جلسے ہوتے رہتے ہیں۔ ان پر پیپلز پارٹی کی قیادت کو کبھی اعتراض نہیں ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ شاہ محمود نے حال ہی میں  قیادت سے اختلاف کر کے پیپلز پارٹی چھوڑی ہے۔ ان کے بلاوے پر ہزاروں فراد جمع ہو جائیں  تو دنیا یہ سمجھے گی کی  یہ سب سندھ کے لوگ ہیں اور ان کا تعلق سندھ سے ہے۔ انہوں نے بغاوت کرکے  قریشی کا ساتھ دیا ہے۔ اس لئے پارٹی اپنی مورثی ملکیت کھونا نہیں چاہتی۔ تیسرے یہ کہ پیپلز پارٹی  کو یہ بھی فکر ہے  کہ  مخدوم شاہ محمود ایسے موقعہ پر جلسہ کیا  جب ملک کی سب سے بڑی حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ ن  ملک میں گو زرداری گو کی تحریک چلا کر جلسے کر رہی ہے۔ اور مخدوم براہ راست یا بلواسط طور اس مہم  کا حصہ بنا ہوا ہے۔ انکا مطالبہ بھی وہی ہے جو  نواز شریف کا ہے

سنیٹ انتخابات کی سرگرمیاں سندھ نامہ 2011-11-24


Thu, Nov 24, 2011 at 3:58 PM
سنیٹ کے انتخابات اور سرگرمیاں 
سندھ  نامہ  
سہیل سانگی  
 اس ہفتے سندھی اخبارات میں زیادہ تر قومی و ملکی مسائل چھائے رہے۔ اور اخبارات میں یہی مسائل زیر  بحث رہے۔ 
کاوش نے سینیٹ کے اتخابات سے پہلے میوزیکل چیئر کا کھیل کے عنوان سے لکھا ہے کہ جیسے سینیٹ کے انتخابات قریب آرہے ہیں ملک کے سیاسی ماحول میں حدت بڑہتی جا رہی ہے۔ حکومت پر کرپشن کے الزامات کی گونج میں احتجاجی استیعفائیں دینے کے آپشن کے بھی مشورے دیئے جا رہے ہیں۔اور وسط مدت کے انتخابات کی بھی باتیں ہو رہی ہیں۔ نواز لیگ کی قیادت کی جانب سے  اس خواہش کی نقاب کشائی کے بعد سیاست کی پچ پر مینار پاکستان سے  سیاست کا آغاز کرنے والے عمران خان نے نواز لیگ سے حکومت کی مخالفت کرنے کا مورچہ چھین لیا ہے۔ ملک میں نئی سیاسی صف بندی  کی بعد یہ سمجھنا مشکل نہیں رہا کہ اقتدار کی میوزیکل چیئر کا کھیل شروع ہو چکا ہے۔حکومت کی مخالفت  کے میدان میں 
 اترنے والی جماعتوں کو اتنے جلدی ہے کہ انکو کوئی نیا الزام گھڑنے کی فرصت ہی نہیں مل رہی ہے۔وہ ہر دور میں مقبول کرپشن کے الزامات کے بھالے اور برچھیاں لیکر میدان میں اترے ہیں۔دونوں فریقین جس طرح سے شعلہ بیانی کے جوہر دکھا رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ فن خطابت بس ان پر ختم ہے۔ پیپلز پارٹی سے حال ہی میں مستعفی ہونے والے رہنما شاہ محمود قریشی نے اجتماعی استعیفوں کی تجویز دی ہے جس کو وفاقی وزیر اطلاعات فردوس اعوان  پارلیمنٹ پر ڈرون حملہ قرار دے چکی ہیں۔ اگرچہ بعض ناعاقبت اندیش  حلقے اس صورتحال کو چمن کی رونق سمجھ رہی ہیں۔ مگر کئے ایک گفتوں پرہز ماسٹرز وائس کاشبہہ ہوتا ہے۔سیاسی اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہوتے ہیں۔مگر یہاں تو سیاسی  اور ذاتی مخالفت کے رویے سامنے آ رہے ہیں۔ جوکہ سسٹم کے لئے نقصا ن د ہ ہو سکتے ہیں۔لگتا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں نے  تاریخ سے سبق نہیں سیکھا۔عوام نے تو پانچ سال کی مدت کا مینڈیٹ دیا تھا۔تو پھر اس سے قبل انتخابات کا مطالبہ عوام کے مینڈیٹ کی توہیں نہیں تو کیا ہے۔ آئینی طریقہ یہ ہے کہ تبدیلی کے خواہشمندوں کو ایوان کے  اندر تبدیلی کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ اور جو ایوان میں نمائندگی نہیں رکھتے ان کو پانچ سال کی مدت پوری ہونے کا انتظار کرنا چاہئے۔انہیں باقی ڈیڑھ سال انتظار کرنا مشکل کیوں ہو رہا ہے۔ ملک میں الزام در الزام کا بازار گرم ہے۔دونوں جانب سے برداشت  کا فقدان نظر آرہا ہے۔شرافت کی سیاست کرنے والوں کے بول بھی عوام نے سنے اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے گفتے بھی سماعتوں تک پہنچے۔لوگوں کو شاہ محمود قریشی کے الزامات سے بھی آگاہی ملی۔پیپلز پارٹی شاہ محمود قریشی کو  ضیا کی باقیات کا طعنہ دے رہی ہے۔کیا پی پی کی قیادت سے یہ سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ  ضیا کی باقیات کے لئے اتنے عرصے تک پی پی میں گنجائش کیوں نکالی گئی؟  اس قسم کے سوالات شاہ محمود قریشی سے بھی کئے جا سکتے ہیں کہ کیا پیپلز پارٹی کی قیادت میں انہیں اب خرابیاں نظر آرہی ہیں۔ جب وہ خود پارٹی میں تھے تب ان کو یہ خرابیاں کیوں نظر نہیں آئیں؟ کیا وہ پسند کرینگے کہ ان کی اب خاموشی کا سبب کیا تھا۔ ہماری سیاست میں سیاسی برداشت اور اختلاف رائے کا احترام کرنے کی کتنی گنجائش ہے۔ پارٹی کی اپنی حکومت میں قومی اسیمبلی کی اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی کراچی والی رہائشگاہ  سے  سیکیورٹی ہٹا دی گئی جو بعد میں وزیر اعظم اور صدر کی مداخلت پر بحال کی گئی۔آج ملک میں سیاستداں جو جنگ کے طبل بجارہے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف جو زبان استعمال کر رہے ہیں اس پر ہم گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔کیونکہ یہ ملک کے جمہوری نظام کو نقصان پہنچا سکتاہے۔سیاسی  عدم برداشت کے رویوں کی حوصلہ شکنی  ہونی چاہئے۔اور اعلی سیاسی قدروں کی پاسداری کی جانی چاہئے۔
عوامی آواز نے عوامی حکومت میں عوام بھوک اور تذلیل کا شکار کیوں؟ کے عنوان سے لکھا ہے کہ سندھ کے شہر خیرپورپور ناتھن شاہ  میں ایک شخص نے  بیروزگاری اور غربت سے  تنگ آکر اپنی تین مصوم بچیوں کو فروخت کرنے کے لئے آوازیں لگاناشروع کیں۔بچیاں تو فروخت نہ ہو سکیں مگر حکمراں پارٹی کے کارکنوں نے ان پرسخت تشدد کیا۔ ادھر ٹنڈوآدم میں سیلاب سے متاثرہ  ایک عمر رسیدہ خاتون  علاقے کے ایم پی اے  کیدروازے پر  امدا دکے لئے پہنچی اسکو امداد تو نہ مل سکی  پروہ وہیں  پر انتقال کرگئیں۔ اطلاعات کے مطابق چند روز قبل متاثرین سے امدادی کیمپیں خالی کرالی گئی تھیں، جس کے بعدعمر رسیدہ، بیمار، لاوارث  اور کمزور  لوگوں کے لئے زندگی گذارنا محال ہو گیا تھا۔ جب لوگوں پرتمام دروازے بند ہو جاتے ہیں تو وہ منتخب نمائندوں سے رجوع کرتے ہیں۔ جنہوں نے انتخابات کے موقعے پران کی تقدیر بدلنے  کے بڑے بڑے وعدے کئے تھے۔ خوشحال مستقبل کے سہانے خواب دکھائے تھے۔ آج یہ منتخب نمائندے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ کیا انہوں نے عوام سے کئے گئے وعدے پورے کئے ہیں؟ خوشحالی اور ترقی کے دعوے کرنے والے آج کہاں کھڑے ہیں۔ جو ان کے در پر مدد کے لئے پہنچنے والی  بھوکے خاتون کی زندگی نہ بچا سکے۔ یہ منتخب نمائندے جن کے کہنے پر کارکنوں نے غربت سے تنگ آکر سڑک پر آکر بچیاں بیچنے کی آوازیں لگانے والے پر  تشدد کیا۔ کیا حکمرانوں کے یہی پالیسی ہے؟ ایک تو وہ غریب اور رسائی نہ رکھنے والوں کو ملازمتیں نہیں دے رہے ہیں دوسری جانب ان کی تذلیل کی جا رہی ہے۔ آخر عوام کی تذلیل کرنے  اور بھرے بازار میں تشدد کا نشانہ بانے کی کس نے اجازت دی ہے۔ یعنی عوام کو میرٹ کی بنیاد پر ملازمتیں بھی نہ دی جائیں، غریب لوگوں کو احتجاج اور مظاہرے کرنے سے بھی روکا جائے۔ کیا ایسے لوگوں کو عوامے نمائندہ کہلانے کا حق ہے؟ کیا ایسے کارکن سیاست کرنے کے اہل ہیں  جو عوام کو احتجاج کرنے سے روکتے ہیں۔ اور حق اور سچ کی آواز کو دبانا چاہتے ہیں۔ اگر لوگ بھوک اور پیاس سے تنگ آکر بچے نہ بیچیں تو کیا یہ پر امن شہری ڈاکے ڈالیں؟ افسوس ہے کہ وہ سیاستداں جو الیکشن کے دن لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں وہ پانچ دن سے بھوکی عمر رسیدہ عورت جو ان کے دروازے تک مدد کے لئے پہنچی تھی اسکودو روٹی اور پانی کا ایک گلاس نہیں دے سکے۔  کیا یہی انکی عوام کے ساتھ محبت ہے۔افسوس صد افسوس سیاستداں کبھی بھی عوام کے نہ ہو سکے۔ پاکستان میں  سیاست کا مقصد کبھی بھی عوام کی خدمت کرنا نہیں رہا ہے۔یہی وجہ کے کہ پاکستان فلاحی ریاست نہ بن سکا۔ اور لوگ ووٹ ڈالنے سے اکتا گئے ہیں۔پاکستان میں کبھی بھی ووٹوں کا ٹرن آؤٹ والیس فیصد سی زیادہ نہیں رہاہے۔یعنی ملک کے ساتھ فیصد عام ووٹ ڈالنا ہی نیں چاہتے ہیں۔ کبھی کسی نے ان ساتھ فیصد عوام سے پوچھا ہے کہ وہ پولنگ بتھ پر ووٹ ڈالنے کیوں نہیں جاتے؟ 
سندھ کے عوام اپنے منتخب نمائندوں سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ عوامی حکومت میں عوام کی دیکھ بھال کے بجائے فاقہ کرنے والوں پر آخر تشدد کیوں کیا گیا؟ یہ عوام آخر کس کے آسرے پر ہیں؟ 
عبرت  امن کے لئے مذاکرات ہی آخری حل ہیں کے موضوع پر لکھتا ہے کہ دہشت گردی نے ملک کو بڑے بڑے نقصانات پہنچائے ہیں جس کیوجہ سے نہ صرف ریاست بلک شہریوں کو بھی بھگتنا پڑا ہے۔ اب صورتحال یہ کہ کہ ملک میں کشمکش کے ماحول کی وجہ سے سیاسی اور معاشی حالات مزید ابتر ہو رہے ہیں۔  اطلاعات کے مطابق جنوبی وزیرستان  کے معاملے پر حکومت اور تحریک طالبان کے درمیاں بات چیت جاری ہے۔ حکومت کے اس اقدام کو سراہا جا سکتا ہے۔ ویسے بھی تضاد چاہے کسی بھی قسم کا ہو اسکا آخری حل مذاکرات ہی ہیں۔ عالمے تاریخ پر ایک نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ جو بھی جنگیں لڑی گئیں ان کے حل کے لئے مذاکرات کا ہی سہارا لینا پڑا۔ جاب تک فریقین اسلحے کو مذاکرات پر ترجیح  دینگے تب تک معاملات سلجھنے کے بجائے الجھتی ہی رہیں گے۔ جیسے ہی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ایک دوسرے کو اسپیس دیا گیا ایک دوسرے کو سنا گیا مسائل حل ہونے کی طرف بڑھنے لگتے ہیں۔ امریکہ اور سوویت یونین کے درمیاں سرد جنگ  چل رہی تھی جس سے پوری دینا کے امن کو خطرہ تھا۔ چھوٹے ممالک بڑے ملکوں کے جھگڑے میں پس رہے تھے۔ اس وقت اگر سوویت یونین پیچھے نہیں ہٹتا تو شاید آج دنیا اس طرح نہیں ہوتی، جیسی ہم دیکھ رہے ہیں۔تضاد اور اسکا حل آج ایک مکمل مضمون کی شکل اختیا کر گئے ہیں اب یہ امر مسلمہ ہیب کہ جب تک فریقین کچھ دو اور کچھ لو کے فارمولے پر نہیں آتیں  معاملات طے نہیں ہو پاتے۔ 
نائین الیون کے بعد پاکستان دہشتگردی کے خاف جنگ میں اتحادی بنا تو دہشتگردوں کا ہدف بھی بنا۔ ایسا بھی ہوا کہ دنیاکی نظروں میں ملک کی ساکھ کو نقصان بھی پہنچا۔اگرچہاس جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ نقصان اتھایا پھر بھی ھنگلیاں اسی پر اتھتی رہیں۔ اب  حکومت تحریک طالبان سے بات چیت کر رہی ہے جس سے حقیقی معنوں میں قیام امن میں مدد ملے گی۔ کیونکہ اس سے قبل ٹکراؤ اور اختلافات سے مسائل  مزید الجھتے رہے ہیں۔ لہذا وقت کی نزاکت یہ ہے کہ اہم معاملات کومذاکرات کے دائرے میں لاکر عدم استحکام کا خاتمہ کیا جائے۔

سندھ میں اطلاعات کے وزیر کی تبدیلی 2011-11-22


Tue, Nov 22, 2011 at 8:32 PM
سندھ میں اطلاعات کے وزیر کی تبدیلی
سیاست ہو یا حکومتی معاملاتِ میڈیا  میڈیا کا کردار آج کی دور میں بڑھ گیا ہے۔ ہر بار پیپلز پارٹی نے میڈیا کے ہاتھوں مار کھائی ہی لیکن اس کے باوجود اس  سے میڈیا کے معاملات نہ تو سنبھلتے ہیں اور نہ ہی اس کو سنبھلنے کے لئے کوئی سنجیدہ اقدامات کئے گئے ہیں۔ ساڑھے تین سال کے مدت میں سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت نے وھ بار مئکمہ اطلات کا  قلمدان تبدیل کیا ہے۔  سنہ ۸۰۰۲ع میں عھم ھنتخابات کے بعد جب پارٹی نے حکومت سنبالی تو مخصوص نشستوں پر کامیاب ہونے والی خاتون رکن شازیہ مری کو  اطلاعات کا قلمدان سونپا گیا۔ جہنوں نے تقریبا دو سال تک  کام کیا۔ بعد میں انہیں ہٹا کر پارٹی کی کارکن اور ایوان صدر میں کام کرنے والے جمیل سومرو کو اس محکمے کا مشیر مقرر کیا گیا۔ ھبھی انہوں نے معمالت کو سنبھالا ہی تھا کہ  انہیں ہٹاکر شرمیلا فاروقی کو مشیر مقرر کیا گیا۔ بعد میں کچھ عرصے تک یہ محکمہ پارٹی کے صوبائے جنرل سیکریٹری تاج حیدر کے پاس بھی رہا۔ 
اپریل ۱۱۰۲ع میں تھرپارکر سے منتخب ہونے والے شرجیل میمن کو صبائی وزیر اطلاعات مقرر کیا گیا۔ ان کے وزارت کے دوران سیاسی اور ذاتی بنیادوں پر اشتہارات جاری کرنے اور پیسوں کے عوض اشتہارات بیچنے کی عام شکایات رہیں۔ ان شکایات کے باوجود ان یں نہ ہٹایا گیا۔ اچانک  سابق وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے ساتھ لندن جانے پر  اتحادی جمعت ایم کیو ایم کی ناراضگی پر ان کے صدر  آصف زرداری کے پاس حاضری  کے بعد ان سے استعیفا لے لیا گیا۔  
تعجب ہے کہ سندھ میں جن جن رہنماؤں کے پاس اطلاعات کا قلمدان رہا، ماسوائے تاج حیدر کے باقی تمام پر کرپشن کے الزامات لگے اور انکو ہٹانے کی بھی بڑی وجہ یہ الزامات بنے۔ شازیہ مری کی وزارت کے پہلے دور میں  ایک مقامی اخبار  کے اشتہارات بند کرنے اور اس کے ادائگی روکنے  بہت گرماگرم اشوز رہے۔  اس اخبار کی انتظامیہ کے مطابق  ان کی تین کروڑ سے زائد رقم کی ادئگی روک دی گئی ہے۔ اور اس کے عوض  بھاری رشوت طلب کی جارہی ہے۔ جبکہ مئکمہ اطلاعات کا کہنا تھا کہ کہ  محکمے نے یہ اشتہارات جاری ہی نیں کئے ہیں جن کے بلوں کی ادئگی کا دعا کیا جا رہا ہے۔ اس اخبار اور  محکمہ کے درمیاں  تنازعہ اس ئد تک جا پہنچا کہ  اخبار کے عملے نے  بطور احتجاج پریس کلب کراچی کی سامنے  بطور احتجاج  نیوز ڈیسک لگائی۔ ان کے دور میں ڈمی اخبارات کو پیسوں کے عوض اشتہارات جاری کرنے کے الزامات لگے۔ بعد میں اس وقت کے سیکریٹری اطلاعات نے چیف سیکریٹریِ، وزیر اعلی سندھ اور  صدر آصف  زرداری کو  آگاہ کیا جس کے نتیجے میں مس شازیہ مری سے یہ قلمدان لے لیا گیا۔ 
شرمیلا فاروقی کو بظاہر سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں ہٹا دیا گیا تھا جس میں حکومت کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ پانچ سے زیادہ مشیر نہیں رکھ  سکتی۔
شازیہ مری نے پانے پہلے دور میں پانچ سیکریٹری تبدیل کئے۔ ان سے پارٹی  اور وزیر اعلی سندھ بھی خوش نہیں تھے۔ اس وقت ٗحکومت میڈیا میں سخت تنقید کا نشانہ بنی ہوئی تھی۔ جس کی لئے ئکومت کو بعد میں اطلاعات کا قلمدان سنبھالنے والے شرجیل میمن  کی سربراہی میں  الگ سے میڈیا سیل قائم کرنا پڑا۔ شازیہ مری پر یہ الزام تھا کہ وہ  حکومت سندھ کے نجائے اپنی پروجیکشن کر رہی ہیں۔
سندھ بغیر اپوزیشن کے چل رہی ہے۔سندھ اسیمبلی میں کوئی لیڈر آف  اپوزیشن ہے بھی یا نہیں۔ کیونکہ سندھ میں جو جو پارٹیاں اورگروپ انتخابات میں جیتے ہیں وہ حکومت میں شامل ہیں۔اس سے قبل مسلم لیگ فنکشنل کے جام مدد علی ایوان میں اپوزیشن لیڈر تھے۔  بعد میں ایم
 کیو ایم کی ساتھ معاملات خراب ہونے پر پیپلز پارٹی نے فنکشنل لیگ کو اپنا اتحادی بنا لیا اور اسکو بھی حکومت  شامل کردیا۔ اور لیڈر آف اپوزیش جام مدد علی وزیر بن گئے۔ تب سے  سندھ میں نہ اپوزیشن ہے نہ اپوزیشن لیڈر۔ گذشتہ ماہ سابق ویراعلی سندھ ارباب غلام رحیم نے  اسپیکر کو لیڈر آف اپوزیش کے لئے درخواست دی۔ ان کی یہ درخواست یہ کہ کر مسترد کردی کہ مسلم لیگ ہم خیال کے نام سے کوئی جماعت  الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس رجسٹرڈ نہیں ہے۔ اور یہ کہ ارباب غلام رحیم نے مسلم لیگ  ق کے پلیٹ فارم سے انتخابات  میں حصہ لیا ہے۔ اور یہ جماعت حکمرں اتحاد کا حصہ ہے۔ 
بدین  سے سندھ اسیمبلی کے رکن  میر حسن خان عرف میر بابو خان کی  ڈاکٹر  ذوالفقار مرزا کے خلاف تحریک استحقاق  ایوان میں بحث کے لئے پیش نہ ہو سکی۔ اسیمبلی کا اجاس چار روز تک جاری رہا اور یہ تحریک ایجنڈا میں شامل ہونے باوجود پیش نہ ہو سکی۔ بتایا جاتا ہے کہ تحریک پیش کرنے والے رکن میر بابو تالپور نے کوئی تحرک نہیں لیا جس کے بعد یہ تحریک بغیر بحث کے خارج کردی گئی۔
  اگرچہ شرمیلا فاروقی اس قلمدان کے لئے سرگرم تھی مگر  انکو یہ محکمہ نہیں دیا گیا۔ جس کے دو وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ  ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے  اپنے دوست  شرجیل میمن کو ہٹانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ شرمیلا فاروقی کو مشیر بنانے کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔  اب یہ محکمہ واپس ڈاکٹر مرزا کے گروپ کے پاس ہی گیا ہے کیونکہ شازیہ مری  کا تعلق  سید مراد علی شاہ  والے اراکین  کے گروپ سے ہے  جن کو مرزا کے قریب سمجھا جاتا ہے۔

سیاسی کشمکش کا مرکز اب سندھ 2011- 11-21

Mon, Nov 21, 2011 at 4:15 PM
سیاسی کشمکش کا مرکز اب سندھ
میرے دل میرے مسافر 
سہیل سانگی  
گذشتہ ماہ  سیاسی رسہ کشی کا مرکز پنجاب تھا۔ مگر ماہ رواں میں یہ مرکزواپس سندھ منتقل ہو گیا ہے جو حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کی سرزمین ہے۔سندھ میں روایتی طور پر ایم کیو ایم کے ساتھ  ان بن رہتی ہے۔ پر اس بار یہ ان بن اور رسہ کشی حکمراں اتحاد کی جماعت کے بجائے  خود پیپلز پارٹی کے اندرہے۔ اس بحرانی کیفیت کے دوران پتہ چلا کہ سندھ اسیمبلی میں بیس کے لگ بھگ اراکین مرزا کے حامی ہیں۔ تاہم کم از کم چار ایسے لوگ ہین جنہوں نے کسی پارٹی ایکشن کی پرواہ کئے بغیرکھلے عام ڈاکٹر مرزا کی حمایت  کا اظہار کیا ہے۔ اس صورتحال سے عیاں ہوا کہ  خود سندھ میں پارٹی کے اندر  توڑ پھوڑ اور بحران موجود ہے۔ 
 مسلم لیگ پاکستان کی مدر پارٹی ہے۔ یہ نیا ملک بنا بھی اور ٹوٹ بھی گیا۔ بالکل جس طرح سے ملک ٹوٹنے کے باوجود قائم ہے اسی  طرح مسلم لیگ کئی حصوں میں تقسیم ہونے کے باوجود  اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے۔  مسلم لیگ،  مسلم لیگ نواز، مسلم لیگ ق، مسلم لیگ قیوم  بقول زرداری کے مسلم لیگ قاتل کے ناموں سی کئی ایک گروپ موجود ہیں۔ 
کہتے ہیں کہ بڑی پارٹیاں میلے کی طرح ہوتی ہیں۔جس میں کچھ لوگ جاتے رہتے ہیں تو دوسرے آتے رہتے ہیں۔ سندھی کے مشہور کہاوت ہے کہ ایک دیہاتی میلہ دیکھنے گیا تو اسکی پگڑی کسی نی چرا لی۔ جب اس سے کسی دواست نے میلے کا حال احوال پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہ میلہ  لگا ہی اسکے پگڑی چرانے کے لئے تھا۔ پیپلز پارٹی بھی ایک ایسا ہی میلہ ہے۔چوالیس پینتالیس سال گذرنے کے بعد ابھی تک پتہ نہیں چل سکا کہ آخر یہ میلہ لگا کس کی پگڑی چورانے کے لئے تھا۔۔ان چار عشروں کے دوران کئی لوگوں کی پگڑیاں چوری ہو ئیں۔ کئی ایک نے اس پارٹی کے میلے میں آکر نئی پگڑیاں پہنی۔ 
سندھ سے ذوالفقار مرزا پہلے شخص ہیں جو اسیمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوئے۔ اور اب شاہ محمود قریشی نے بھی قومی اسیمبلیی کی رکنیت سے استعیفا دیا ہے۔ مستقبل میں وہ کون سی پگڑی پہنیں گے۔یہ وقت بتائے گا۔ نصف صدی تک بڑی بڑی آمریتیں جس پارٹی کو توڑ نہ سکیں۔لگتا ہے کہ اس کی پگڑی اس کے اپنے ہی لوگ اتار رہے ہیں۔گولاڑچی میں سابق وزیر داخلہ اور موجودہ  وزیر داخلہ کے ایک دوسرے کے گریبان میں ہاتھ یہی کہانی  سناتی ہے۔  
زرداری سیاستداں نہ ہونے کے باوجود گذشتہ دو ڈھائی عشروں سے ملک کی سیاست کے اہم اور متحرک کردار رہے ہیں۔ انہوں نے کئی تکلیفیں بھی دیکھی پر اس سے زیادہ مزے لئے۔ ان کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ پر اسے طرح سے ان کے مخالفین بھی لاتعداد ہیں۔انکو محبتیں بھی بہت ملی ہیں تو نفرتیں بھی ان گنت ہیں۔نوابشاہ سی نودیرو تک کا سفر کرنے والے زرداری کی قسمت میں وزیر اعظم ہاوس آیا، تو جیل بھی ان کے لئے ناگزیر بنا رہا۔ انکے لئے مشہور ہے کہ وہ یاروں کے یار ہیں۔ پر وہ دشمنوں کے کتنے دشمن ہیں، یہ بات ابھی مفاہمت کے پردے میں چھپی ہوئی ہے۔جب یہ پردہ اٹھے گا تب اصل حقیقت سامنے آئے گی۔ 
 قریشی صاحب کے پارٹی چھوڑنے پر پیپلز پارٹی کا ردعمل ایک تو وہی روایتی ہے کہ کسی کے جانے سی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جس جس نے پارٹی چھوڑی وہ خود ختم ہوگئے۔ذوالفقار مرزا نے جب پارٹی چھوڑی تو انکا ٹارگٹ  ایم کیو ایم اوردوسرے وزراء تھے پر قریشی صاحب نے پارٹی چھوڑی ہے تو انکا ٹارگٹ زرداری صاحب خود ہیں۔
ذوالفقار مرزا اور شاہ محمود قریشی میں ایک اور بھی فرق ہے۔  ڈاکٹر مرزا کی مخالفت کا بنیادی نکتہ ایم کیو ایم ہے۔ ایم کیو ایم کے مخالفت سندھ کے اندر ایک مقبول رجحان ہے۔ جس کی وجہ سی نہ صرف مرزا کوعام لوگوں میں پزیرائی ملی بلکہ خود پیپلز پارٹی کے صفوں میں  ان کے حامی موجود ہیں۔ صدر آصف زرداری سے اراکین اسیمبلی کی ملاقاتوں  اور بعض مرزا کے حامیوں کے خلاف کارروایوں کے باوجود پیپلز پارٹی کی دو اراکین اسیمبلی ڈاکٹر امداد پتافی اورشرجیل میمن جن کے پاس وزارت اطلاعات کا قلمدان تھا، دونوں لندن تک ڈاکٹر مرزا کے 
 ساتھ گئے یہ اور بات ہے کہ اس کے عوض انکو اسیمبلی کی نشست سے ہاتھ دھونا پڑا۔ صرف اتنا ہی نہیں ان تمام واقعات رونما ہونے کے باوجود اٹھارہ نومبر کے سندھ اسمبلی کے اجلاس  کے موقع پر خاتون رکن اسیمبلی عائشہ کھوسو نے بہ بانگ دہل ڈاکٹر مرزا  کی حمایت کی۔ اور کہا کہ وہ اور کئی اراکین اسیمبلی ڈاکٹر مرزا کے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ موقعہ ایم کیو ایم کے قرارداد نے فراہم کیا جس کے ذریعے وہ پارٹی کے سربراہ الطاف حسین کے خلاف بد زبان استعنال کرنے والوں کے مذمت کرنا چاہ رہے تھے۔
اصل میں ایم کیو ایم کو اس بات پر بہت غصہ تھا کہ ڈاکٹر مرزا، ملک کی اندر ایم کیو ایم اور اسکے سربراہ کے خالف سخت زبان استعمال کرنے کے بعد اب لندن میں بھی وہ یہی کام کر رہے ہیں۔ ایم کیو ایم نے موقعہ غنیمت جانا اور  ایوان میں  ڈاکٹر مرزا کا نام لے کر مذمتی  قرارداد پیش کردی۔ اس قرارداد نے پیپلز پارٹی کو اپنے اتحادیوں کے ہاتھوں تقریبا بے بس کر ڈالا۔  تاہم پیپلز پارٹی کے بعض سنجیدہ رہنماوں نے صورتحال کو بھانپ لیا اور ایم کیو ایم کے قرارداد  کو تبدیل کیا اور ڈاکٹر مرزا کا نام اس سے خارج کرایا۔ اس کے کئے اثرات مرتب ہوئے۔ ایک یہ کہ  ڈاکٹر مرزا کو پیپلز پارٹی کی حمایت مل گئی۔ دوسرے یہ کہ پیپلزپارٹی اگر یہ قرارداد منظر کر لیتی تو آئندہ بھی ایسی قراردادوں کا راستہ کھل کھل جاتا۔
فی الحال اس قرارداد نے سندھ میں پیپلز پارٹی کے اندر گروہ بندی کو ظاہر کردیا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ جنہوں نے پارٹی چھوڑی وہ خود ختم ہو گئے۔مگر اس پہلے پارٹی چھوڑنے والوں کے مقابلے میں بھٹوز تھے۔ اور اب زرداری ہیں۔کیا زرداری کی مخالفت کرنے والے اس طرح ختم ہو سکتے ہیں جیسے بھٹوز کی مخالفت کرنے والے۔لگتا تو مشکل ہے۔ دیکھیں مخالفت کا یہ جو میلہ لگا ہے اس میں کس کے پگڑی اترتی ہے۔