Wednesday, 4 March 2020

سیاسی کشمکش کا مرکز اب سندھ 2011- 11-21

Mon, Nov 21, 2011 at 4:15 PM
سیاسی کشمکش کا مرکز اب سندھ
میرے دل میرے مسافر 
سہیل سانگی  
گذشتہ ماہ  سیاسی رسہ کشی کا مرکز پنجاب تھا۔ مگر ماہ رواں میں یہ مرکزواپس سندھ منتقل ہو گیا ہے جو حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کی سرزمین ہے۔سندھ میں روایتی طور پر ایم کیو ایم کے ساتھ  ان بن رہتی ہے۔ پر اس بار یہ ان بن اور رسہ کشی حکمراں اتحاد کی جماعت کے بجائے  خود پیپلز پارٹی کے اندرہے۔ اس بحرانی کیفیت کے دوران پتہ چلا کہ سندھ اسیمبلی میں بیس کے لگ بھگ اراکین مرزا کے حامی ہیں۔ تاہم کم از کم چار ایسے لوگ ہین جنہوں نے کسی پارٹی ایکشن کی پرواہ کئے بغیرکھلے عام ڈاکٹر مرزا کی حمایت  کا اظہار کیا ہے۔ اس صورتحال سے عیاں ہوا کہ  خود سندھ میں پارٹی کے اندر  توڑ پھوڑ اور بحران موجود ہے۔ 
 مسلم لیگ پاکستان کی مدر پارٹی ہے۔ یہ نیا ملک بنا بھی اور ٹوٹ بھی گیا۔ بالکل جس طرح سے ملک ٹوٹنے کے باوجود قائم ہے اسی  طرح مسلم لیگ کئی حصوں میں تقسیم ہونے کے باوجود  اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے۔  مسلم لیگ،  مسلم لیگ نواز، مسلم لیگ ق، مسلم لیگ قیوم  بقول زرداری کے مسلم لیگ قاتل کے ناموں سی کئی ایک گروپ موجود ہیں۔ 
کہتے ہیں کہ بڑی پارٹیاں میلے کی طرح ہوتی ہیں۔جس میں کچھ لوگ جاتے رہتے ہیں تو دوسرے آتے رہتے ہیں۔ سندھی کے مشہور کہاوت ہے کہ ایک دیہاتی میلہ دیکھنے گیا تو اسکی پگڑی کسی نی چرا لی۔ جب اس سے کسی دواست نے میلے کا حال احوال پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہ میلہ  لگا ہی اسکے پگڑی چرانے کے لئے تھا۔ پیپلز پارٹی بھی ایک ایسا ہی میلہ ہے۔چوالیس پینتالیس سال گذرنے کے بعد ابھی تک پتہ نہیں چل سکا کہ آخر یہ میلہ لگا کس کی پگڑی چورانے کے لئے تھا۔۔ان چار عشروں کے دوران کئی لوگوں کی پگڑیاں چوری ہو ئیں۔ کئی ایک نے اس پارٹی کے میلے میں آکر نئی پگڑیاں پہنی۔ 
سندھ سے ذوالفقار مرزا پہلے شخص ہیں جو اسیمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوئے۔ اور اب شاہ محمود قریشی نے بھی قومی اسیمبلیی کی رکنیت سے استعیفا دیا ہے۔ مستقبل میں وہ کون سی پگڑی پہنیں گے۔یہ وقت بتائے گا۔ نصف صدی تک بڑی بڑی آمریتیں جس پارٹی کو توڑ نہ سکیں۔لگتا ہے کہ اس کی پگڑی اس کے اپنے ہی لوگ اتار رہے ہیں۔گولاڑچی میں سابق وزیر داخلہ اور موجودہ  وزیر داخلہ کے ایک دوسرے کے گریبان میں ہاتھ یہی کہانی  سناتی ہے۔  
زرداری سیاستداں نہ ہونے کے باوجود گذشتہ دو ڈھائی عشروں سے ملک کی سیاست کے اہم اور متحرک کردار رہے ہیں۔ انہوں نے کئی تکلیفیں بھی دیکھی پر اس سے زیادہ مزے لئے۔ ان کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ پر اسے طرح سے ان کے مخالفین بھی لاتعداد ہیں۔انکو محبتیں بھی بہت ملی ہیں تو نفرتیں بھی ان گنت ہیں۔نوابشاہ سی نودیرو تک کا سفر کرنے والے زرداری کی قسمت میں وزیر اعظم ہاوس آیا، تو جیل بھی ان کے لئے ناگزیر بنا رہا۔ انکے لئے مشہور ہے کہ وہ یاروں کے یار ہیں۔ پر وہ دشمنوں کے کتنے دشمن ہیں، یہ بات ابھی مفاہمت کے پردے میں چھپی ہوئی ہے۔جب یہ پردہ اٹھے گا تب اصل حقیقت سامنے آئے گی۔ 
 قریشی صاحب کے پارٹی چھوڑنے پر پیپلز پارٹی کا ردعمل ایک تو وہی روایتی ہے کہ کسی کے جانے سی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جس جس نے پارٹی چھوڑی وہ خود ختم ہوگئے۔ذوالفقار مرزا نے جب پارٹی چھوڑی تو انکا ٹارگٹ  ایم کیو ایم اوردوسرے وزراء تھے پر قریشی صاحب نے پارٹی چھوڑی ہے تو انکا ٹارگٹ زرداری صاحب خود ہیں۔
ذوالفقار مرزا اور شاہ محمود قریشی میں ایک اور بھی فرق ہے۔  ڈاکٹر مرزا کی مخالفت کا بنیادی نکتہ ایم کیو ایم ہے۔ ایم کیو ایم کے مخالفت سندھ کے اندر ایک مقبول رجحان ہے۔ جس کی وجہ سی نہ صرف مرزا کوعام لوگوں میں پزیرائی ملی بلکہ خود پیپلز پارٹی کے صفوں میں  ان کے حامی موجود ہیں۔ صدر آصف زرداری سے اراکین اسیمبلی کی ملاقاتوں  اور بعض مرزا کے حامیوں کے خلاف کارروایوں کے باوجود پیپلز پارٹی کی دو اراکین اسیمبلی ڈاکٹر امداد پتافی اورشرجیل میمن جن کے پاس وزارت اطلاعات کا قلمدان تھا، دونوں لندن تک ڈاکٹر مرزا کے 
 ساتھ گئے یہ اور بات ہے کہ اس کے عوض انکو اسیمبلی کی نشست سے ہاتھ دھونا پڑا۔ صرف اتنا ہی نہیں ان تمام واقعات رونما ہونے کے باوجود اٹھارہ نومبر کے سندھ اسمبلی کے اجلاس  کے موقع پر خاتون رکن اسیمبلی عائشہ کھوسو نے بہ بانگ دہل ڈاکٹر مرزا  کی حمایت کی۔ اور کہا کہ وہ اور کئی اراکین اسیمبلی ڈاکٹر مرزا کے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ موقعہ ایم کیو ایم کے قرارداد نے فراہم کیا جس کے ذریعے وہ پارٹی کے سربراہ الطاف حسین کے خلاف بد زبان استعنال کرنے والوں کے مذمت کرنا چاہ رہے تھے۔
اصل میں ایم کیو ایم کو اس بات پر بہت غصہ تھا کہ ڈاکٹر مرزا، ملک کی اندر ایم کیو ایم اور اسکے سربراہ کے خالف سخت زبان استعمال کرنے کے بعد اب لندن میں بھی وہ یہی کام کر رہے ہیں۔ ایم کیو ایم نے موقعہ غنیمت جانا اور  ایوان میں  ڈاکٹر مرزا کا نام لے کر مذمتی  قرارداد پیش کردی۔ اس قرارداد نے پیپلز پارٹی کو اپنے اتحادیوں کے ہاتھوں تقریبا بے بس کر ڈالا۔  تاہم پیپلز پارٹی کے بعض سنجیدہ رہنماوں نے صورتحال کو بھانپ لیا اور ایم کیو ایم کے قرارداد  کو تبدیل کیا اور ڈاکٹر مرزا کا نام اس سے خارج کرایا۔ اس کے کئے اثرات مرتب ہوئے۔ ایک یہ کہ  ڈاکٹر مرزا کو پیپلز پارٹی کی حمایت مل گئی۔ دوسرے یہ کہ پیپلزپارٹی اگر یہ قرارداد منظر کر لیتی تو آئندہ بھی ایسی قراردادوں کا راستہ کھل کھل جاتا۔
فی الحال اس قرارداد نے سندھ میں پیپلز پارٹی کے اندر گروہ بندی کو ظاہر کردیا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ جنہوں نے پارٹی چھوڑی وہ خود ختم ہو گئے۔مگر اس پہلے پارٹی چھوڑنے والوں کے مقابلے میں بھٹوز تھے۔ اور اب زرداری ہیں۔کیا زرداری کی مخالفت کرنے والے اس طرح ختم ہو سکتے ہیں جیسے بھٹوز کی مخالفت کرنے والے۔لگتا تو مشکل ہے۔ دیکھیں مخالفت کا یہ جو میلہ لگا ہے اس میں کس کے پگڑی اترتی ہے۔

No comments:

Post a Comment