Wednesday, 4 March 2020

سنیٹ انتخابات کی سرگرمیاں سندھ نامہ 2011-11-24


Thu, Nov 24, 2011 at 3:58 PM
سنیٹ کے انتخابات اور سرگرمیاں 
سندھ  نامہ  
سہیل سانگی  
 اس ہفتے سندھی اخبارات میں زیادہ تر قومی و ملکی مسائل چھائے رہے۔ اور اخبارات میں یہی مسائل زیر  بحث رہے۔ 
کاوش نے سینیٹ کے اتخابات سے پہلے میوزیکل چیئر کا کھیل کے عنوان سے لکھا ہے کہ جیسے سینیٹ کے انتخابات قریب آرہے ہیں ملک کے سیاسی ماحول میں حدت بڑہتی جا رہی ہے۔ حکومت پر کرپشن کے الزامات کی گونج میں احتجاجی استیعفائیں دینے کے آپشن کے بھی مشورے دیئے جا رہے ہیں۔اور وسط مدت کے انتخابات کی بھی باتیں ہو رہی ہیں۔ نواز لیگ کی قیادت کی جانب سے  اس خواہش کی نقاب کشائی کے بعد سیاست کی پچ پر مینار پاکستان سے  سیاست کا آغاز کرنے والے عمران خان نے نواز لیگ سے حکومت کی مخالفت کرنے کا مورچہ چھین لیا ہے۔ ملک میں نئی سیاسی صف بندی  کی بعد یہ سمجھنا مشکل نہیں رہا کہ اقتدار کی میوزیکل چیئر کا کھیل شروع ہو چکا ہے۔حکومت کی مخالفت  کے میدان میں 
 اترنے والی جماعتوں کو اتنے جلدی ہے کہ انکو کوئی نیا الزام گھڑنے کی فرصت ہی نہیں مل رہی ہے۔وہ ہر دور میں مقبول کرپشن کے الزامات کے بھالے اور برچھیاں لیکر میدان میں اترے ہیں۔دونوں فریقین جس طرح سے شعلہ بیانی کے جوہر دکھا رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ فن خطابت بس ان پر ختم ہے۔ پیپلز پارٹی سے حال ہی میں مستعفی ہونے والے رہنما شاہ محمود قریشی نے اجتماعی استعیفوں کی تجویز دی ہے جس کو وفاقی وزیر اطلاعات فردوس اعوان  پارلیمنٹ پر ڈرون حملہ قرار دے چکی ہیں۔ اگرچہ بعض ناعاقبت اندیش  حلقے اس صورتحال کو چمن کی رونق سمجھ رہی ہیں۔ مگر کئے ایک گفتوں پرہز ماسٹرز وائس کاشبہہ ہوتا ہے۔سیاسی اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہوتے ہیں۔مگر یہاں تو سیاسی  اور ذاتی مخالفت کے رویے سامنے آ رہے ہیں۔ جوکہ سسٹم کے لئے نقصا ن د ہ ہو سکتے ہیں۔لگتا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں نے  تاریخ سے سبق نہیں سیکھا۔عوام نے تو پانچ سال کی مدت کا مینڈیٹ دیا تھا۔تو پھر اس سے قبل انتخابات کا مطالبہ عوام کے مینڈیٹ کی توہیں نہیں تو کیا ہے۔ آئینی طریقہ یہ ہے کہ تبدیلی کے خواہشمندوں کو ایوان کے  اندر تبدیلی کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ اور جو ایوان میں نمائندگی نہیں رکھتے ان کو پانچ سال کی مدت پوری ہونے کا انتظار کرنا چاہئے۔انہیں باقی ڈیڑھ سال انتظار کرنا مشکل کیوں ہو رہا ہے۔ ملک میں الزام در الزام کا بازار گرم ہے۔دونوں جانب سے برداشت  کا فقدان نظر آرہا ہے۔شرافت کی سیاست کرنے والوں کے بول بھی عوام نے سنے اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے گفتے بھی سماعتوں تک پہنچے۔لوگوں کو شاہ محمود قریشی کے الزامات سے بھی آگاہی ملی۔پیپلز پارٹی شاہ محمود قریشی کو  ضیا کی باقیات کا طعنہ دے رہی ہے۔کیا پی پی کی قیادت سے یہ سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ  ضیا کی باقیات کے لئے اتنے عرصے تک پی پی میں گنجائش کیوں نکالی گئی؟  اس قسم کے سوالات شاہ محمود قریشی سے بھی کئے جا سکتے ہیں کہ کیا پیپلز پارٹی کی قیادت میں انہیں اب خرابیاں نظر آرہی ہیں۔ جب وہ خود پارٹی میں تھے تب ان کو یہ خرابیاں کیوں نظر نہیں آئیں؟ کیا وہ پسند کرینگے کہ ان کی اب خاموشی کا سبب کیا تھا۔ ہماری سیاست میں سیاسی برداشت اور اختلاف رائے کا احترام کرنے کی کتنی گنجائش ہے۔ پارٹی کی اپنی حکومت میں قومی اسیمبلی کی اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی کراچی والی رہائشگاہ  سے  سیکیورٹی ہٹا دی گئی جو بعد میں وزیر اعظم اور صدر کی مداخلت پر بحال کی گئی۔آج ملک میں سیاستداں جو جنگ کے طبل بجارہے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف جو زبان استعمال کر رہے ہیں اس پر ہم گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔کیونکہ یہ ملک کے جمہوری نظام کو نقصان پہنچا سکتاہے۔سیاسی  عدم برداشت کے رویوں کی حوصلہ شکنی  ہونی چاہئے۔اور اعلی سیاسی قدروں کی پاسداری کی جانی چاہئے۔
عوامی آواز نے عوامی حکومت میں عوام بھوک اور تذلیل کا شکار کیوں؟ کے عنوان سے لکھا ہے کہ سندھ کے شہر خیرپورپور ناتھن شاہ  میں ایک شخص نے  بیروزگاری اور غربت سے  تنگ آکر اپنی تین مصوم بچیوں کو فروخت کرنے کے لئے آوازیں لگاناشروع کیں۔بچیاں تو فروخت نہ ہو سکیں مگر حکمراں پارٹی کے کارکنوں نے ان پرسخت تشدد کیا۔ ادھر ٹنڈوآدم میں سیلاب سے متاثرہ  ایک عمر رسیدہ خاتون  علاقے کے ایم پی اے  کیدروازے پر  امدا دکے لئے پہنچی اسکو امداد تو نہ مل سکی  پروہ وہیں  پر انتقال کرگئیں۔ اطلاعات کے مطابق چند روز قبل متاثرین سے امدادی کیمپیں خالی کرالی گئی تھیں، جس کے بعدعمر رسیدہ، بیمار، لاوارث  اور کمزور  لوگوں کے لئے زندگی گذارنا محال ہو گیا تھا۔ جب لوگوں پرتمام دروازے بند ہو جاتے ہیں تو وہ منتخب نمائندوں سے رجوع کرتے ہیں۔ جنہوں نے انتخابات کے موقعے پران کی تقدیر بدلنے  کے بڑے بڑے وعدے کئے تھے۔ خوشحال مستقبل کے سہانے خواب دکھائے تھے۔ آج یہ منتخب نمائندے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ کیا انہوں نے عوام سے کئے گئے وعدے پورے کئے ہیں؟ خوشحالی اور ترقی کے دعوے کرنے والے آج کہاں کھڑے ہیں۔ جو ان کے در پر مدد کے لئے پہنچنے والی  بھوکے خاتون کی زندگی نہ بچا سکے۔ یہ منتخب نمائندے جن کے کہنے پر کارکنوں نے غربت سے تنگ آکر سڑک پر آکر بچیاں بیچنے کی آوازیں لگانے والے پر  تشدد کیا۔ کیا حکمرانوں کے یہی پالیسی ہے؟ ایک تو وہ غریب اور رسائی نہ رکھنے والوں کو ملازمتیں نہیں دے رہے ہیں دوسری جانب ان کی تذلیل کی جا رہی ہے۔ آخر عوام کی تذلیل کرنے  اور بھرے بازار میں تشدد کا نشانہ بانے کی کس نے اجازت دی ہے۔ یعنی عوام کو میرٹ کی بنیاد پر ملازمتیں بھی نہ دی جائیں، غریب لوگوں کو احتجاج اور مظاہرے کرنے سے بھی روکا جائے۔ کیا ایسے لوگوں کو عوامے نمائندہ کہلانے کا حق ہے؟ کیا ایسے کارکن سیاست کرنے کے اہل ہیں  جو عوام کو احتجاج کرنے سے روکتے ہیں۔ اور حق اور سچ کی آواز کو دبانا چاہتے ہیں۔ اگر لوگ بھوک اور پیاس سے تنگ آکر بچے نہ بیچیں تو کیا یہ پر امن شہری ڈاکے ڈالیں؟ افسوس ہے کہ وہ سیاستداں جو الیکشن کے دن لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں وہ پانچ دن سے بھوکی عمر رسیدہ عورت جو ان کے دروازے تک مدد کے لئے پہنچی تھی اسکودو روٹی اور پانی کا ایک گلاس نہیں دے سکے۔  کیا یہی انکی عوام کے ساتھ محبت ہے۔افسوس صد افسوس سیاستداں کبھی بھی عوام کے نہ ہو سکے۔ پاکستان میں  سیاست کا مقصد کبھی بھی عوام کی خدمت کرنا نہیں رہا ہے۔یہی وجہ کے کہ پاکستان فلاحی ریاست نہ بن سکا۔ اور لوگ ووٹ ڈالنے سے اکتا گئے ہیں۔پاکستان میں کبھی بھی ووٹوں کا ٹرن آؤٹ والیس فیصد سی زیادہ نہیں رہاہے۔یعنی ملک کے ساتھ فیصد عام ووٹ ڈالنا ہی نیں چاہتے ہیں۔ کبھی کسی نے ان ساتھ فیصد عوام سے پوچھا ہے کہ وہ پولنگ بتھ پر ووٹ ڈالنے کیوں نہیں جاتے؟ 
سندھ کے عوام اپنے منتخب نمائندوں سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ عوامی حکومت میں عوام کی دیکھ بھال کے بجائے فاقہ کرنے والوں پر آخر تشدد کیوں کیا گیا؟ یہ عوام آخر کس کے آسرے پر ہیں؟ 
عبرت  امن کے لئے مذاکرات ہی آخری حل ہیں کے موضوع پر لکھتا ہے کہ دہشت گردی نے ملک کو بڑے بڑے نقصانات پہنچائے ہیں جس کیوجہ سے نہ صرف ریاست بلک شہریوں کو بھی بھگتنا پڑا ہے۔ اب صورتحال یہ کہ کہ ملک میں کشمکش کے ماحول کی وجہ سے سیاسی اور معاشی حالات مزید ابتر ہو رہے ہیں۔  اطلاعات کے مطابق جنوبی وزیرستان  کے معاملے پر حکومت اور تحریک طالبان کے درمیاں بات چیت جاری ہے۔ حکومت کے اس اقدام کو سراہا جا سکتا ہے۔ ویسے بھی تضاد چاہے کسی بھی قسم کا ہو اسکا آخری حل مذاکرات ہی ہیں۔ عالمے تاریخ پر ایک نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ جو بھی جنگیں لڑی گئیں ان کے حل کے لئے مذاکرات کا ہی سہارا لینا پڑا۔ جاب تک فریقین اسلحے کو مذاکرات پر ترجیح  دینگے تب تک معاملات سلجھنے کے بجائے الجھتی ہی رہیں گے۔ جیسے ہی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ایک دوسرے کو اسپیس دیا گیا ایک دوسرے کو سنا گیا مسائل حل ہونے کی طرف بڑھنے لگتے ہیں۔ امریکہ اور سوویت یونین کے درمیاں سرد جنگ  چل رہی تھی جس سے پوری دینا کے امن کو خطرہ تھا۔ چھوٹے ممالک بڑے ملکوں کے جھگڑے میں پس رہے تھے۔ اس وقت اگر سوویت یونین پیچھے نہیں ہٹتا تو شاید آج دنیا اس طرح نہیں ہوتی، جیسی ہم دیکھ رہے ہیں۔تضاد اور اسکا حل آج ایک مکمل مضمون کی شکل اختیا کر گئے ہیں اب یہ امر مسلمہ ہیب کہ جب تک فریقین کچھ دو اور کچھ لو کے فارمولے پر نہیں آتیں  معاملات طے نہیں ہو پاتے۔ 
نائین الیون کے بعد پاکستان دہشتگردی کے خاف جنگ میں اتحادی بنا تو دہشتگردوں کا ہدف بھی بنا۔ ایسا بھی ہوا کہ دنیاکی نظروں میں ملک کی ساکھ کو نقصان بھی پہنچا۔اگرچہاس جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ نقصان اتھایا پھر بھی ھنگلیاں اسی پر اتھتی رہیں۔ اب  حکومت تحریک طالبان سے بات چیت کر رہی ہے جس سے حقیقی معنوں میں قیام امن میں مدد ملے گی۔ کیونکہ اس سے قبل ٹکراؤ اور اختلافات سے مسائل  مزید الجھتے رہے ہیں۔ لہذا وقت کی نزاکت یہ ہے کہ اہم معاملات کومذاکرات کے دائرے میں لاکر عدم استحکام کا خاتمہ کیا جائے۔

No comments:

Post a Comment