Wednesday, 4 March 2020

شاہ محمود قریشی کا گھوٹکی میں جلسہ 2011-11-28

Mon, Nov 28, 2011 at 2:20 PM
شاہ محمود قریشی کا گھوٹکی میں جلسہ 
میرے دل میرے مسافر   سہیل سانگی
ایک اور بڑا جلسہ ہوا۔ اس مرتبہ یہ جلسہ سندھ میں تھا۔  حالیہ سیاسی موسم میں اس سے قبل جلسوں کی سیاست پنجاب میں ہو رہی تھی۔  پنجاب کے بارڈر کے قریب سندھ میں منعقد ہ  اس جلسے میں سندھ کے علاوہ پنجاب کے سرائیکی بیلٹ سے بھی لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ بے نظیر بھٹو کے بعد سندھ میں جلسوں کا رواج ختم ہو گیا تھا۔ لوگ بھول گئے تھے کہ اب کوئی بڑے جلسے بھی ہونگے۔ پر گھوٹکی میں شاہ محمود قریشی نے جلسہ کر کے بتایا کہ نہیں بڑے جلسے اب بھی ہو سکتے ہیں۔ 
یہ دوسرا موقعہ تھا کہ گھوٹکی ملکی و غیر ملکی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا۔ کوئی بارہ سال پہلے بینظیر بھٹو کے قیادت میں سندھ کی تمام قومپرست جماعتوں نے سندھ پنجاب بارڈر کے قریب کموں شہید کے مقام پر کالا باغ ڈیم کے خلاف ریلی نکالی اور دھرنا دیا تھا۔ تب نجی ٹی وی چینل نہ  تھے  اور صرف پرنٹ میڈیا نے اس تاریخی احتجاج کو کور کیا تھا۔ گھوٹکی ایک بار پھر ملکی و غیرملکی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا  جب سابق وزیر خارجہ اور پیپلز پارٹی چھوڑنے والے رہنما مخدوم شاہ محمود قرشی نے یہاں جلسہ منعقد کیا۔
 ملک میں اور مقامات پر بھی  جلسے  ہو رہے ہیں اور حکومت  ان جلسوں میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈال رہی۔کراچی میں عام شاہراہوں کو بند کر کے جلسے کئے جاتے ہیں۔ پنجاب میں وہاں کے وزیر اعلی نے عام شاہراہ پر جلسہ کیا۔ مگر گھوٹکی میں  ہونے والے شاہ محمود قریشی کے جلسے کے انعقاد میں رکاوٹیں ڈالنے کی شکایات سامنے آئیں۔
شاہ محمود قریشی کا یہ جلسہ تین وجوہات کی بنا پر اہمیت کا حامل رہا۔ اس جلسے کے وجہ سے  ماضی میں پارٹی کی ٹکٹ ٹھکرانے والے مہر برادران کے سامنے پیپلز پارٹی  جھک گئی۔ جلسے کے اعلان کے بعد صدر آصف زرداری کے دوست اور صوبائی وزیر سراج درانی  خانگڑہ پہنچ گئے اور انہوں نے مہر برادران کو صدر سے ملاقات کے لئے راضی کیا۔ اور بعد میں جلد ہی انہوں نے صدر سے ملاقات بھی کی۔ یہ سب کچھ کیوں  ہوا؟
 سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ جلسہ سندھ میں ہو رہا تھا۔ اور پیپلز پارٹی سندھ پر اس کے مالکانہ حقوق کی دعویدار ہے، جس پر اس کوکسی اور کا دعوا قبول نہیں۔ اور اگر کوئی اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے گا تو رد عمل تو ہونا ہی تھا۔ اس بات کا اظہار بعد میں مخدوم نے اپنی تقریر میں  یہ کہہ کر کیا کہ سندھ اسلام آباد والوں کا نہیں سندھ کے لوگوں کا ہے۔ ویسے تو سندھ میں مسلم لیگ، ایم کیو ایم اور قومپرست جماعتوں کے جلسے ہوتے رہتے ہیں۔ ان پر پیپلز پارٹی کی قیادت کو کبھی اعتراض نہیں ہوا۔مبصرین کے مطابق چونکہ شاہ محمود نے حال ہی میں قیادت سے اختلاف کر کے پارٹی چھوڑی ہے۔ ان کے بلاوے پر ہزاروں افراد جمع ہو جائیں گے  تو دنیا یہ سمجھے گی کہ جلسے میں شریک سب لوگوں کا تعلق سب سندھ  سے ہے۔ جنہوں نے بغاوت کرکے قریشی کا ساتھ دیا ہے۔ اس لئے پارٹی اپنی مورثی ملکیت کھونا نہیں چاہتی۔
 تیسرے یہ کہ مخدوم شاہ محمود ایسے موقعہ پر جلسہ کیا  جب ملک کی سب سے بڑی حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ ن  ملک میں گو  زرداری گو کی تحریک چلا  رہی ہے۔ اور مخدوم کا مطالبہ بھی وہی ہے جو نواز شریف کا ہے۔  یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جس طرح سے عمران خان کو مینار پاکستان کے جلسے کے بعد سیاسی طور پر پنجاب میں تقویت ملی ہے، اسی طرح مخدوم شاہ محمودنے سندھ میں ہزاروں افرد کٹھے کرکے سندھ میں  انٹری لی ہے جو پیپلز پارٹی کے لئے پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔ 
 جلسے میں مسلم لیگ ْ کی ناراض خاتون رہنما ماروی میمن بھی موجود تھیں پر نہ انہوں نے تقریر کی اور نہ ہی تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔  جلسے کے بعد شاہ محمود قیشی نے گھوٹکی کی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے والے مہر برادان سے بھی ملاقات کی اور انہیں تحریک انصاف میں شمولیت کی دعوت دی، جس پر مہر برادران نے  ان سے کچھ مہلت مانگی اور کہا کہ وہ دوستوں سے مشورہ کر کے بتائیں گے۔ اس سے قبل  مہر برادران  صدر آصف علی زرداری سے اور فنکشنل لیگ کے رہنما پیر صدرالدین شاہ سے بھی مل چلے ہیں۔ 
 شاہ محمود قریشی نے جلسے کے لئے گھوٹکی کا انتخاب اس  لئے کیا کہ گھوٹکی سمیت سندھ میں شاہ محمود قریشی  کے مریدوں کی خاصی تعداد ہے۔ اس لئے حکمت عملی یہ بنائی گئی کہ سندھ بھر سے قافلے اور پنجاب کے سرائیکی بیلٹ سے مرید بھی آسانی سے گھوٹکی پہنچ سکتے ہیں۔ اور یوں جلسے کے شرکاء کی تعداد ہزاروں میں چلی جائے گی۔ مخد وم  اگر پاور دئٹ بی کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ ان کے ساتھ لاکھوں لوگ ہیں۔ تو  ان کے لئے کئی آپشنز کھل جاتے ہیں۔  
جو بھی آپشنز ہوں مخدوم صاحب نے حسب توقع عمران خان کی تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔ اگرچہ شاہ محمود قریشی کبھی عمران خان کے قریب نہیں رہے ہیں۔نہ ہی کبھی بھی ان کی سیاست کی سچائی کے  معترف نہیں رہے۔ بہرحال انہیں معلوم تھا کہ میاں نواز شریف  اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیاں اس وجہ سے اختلاف ہیں کہ ماضی میں  ان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بھولنے کے لئے تیارنہیں۔
ان کے پاس دوسرا  آپشن مسلم لیگ ن میں شمولیت کا تھا۔
شاہ محمود قریشی نے چند روز قبل مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف سے بھی ملاقات کی تھی،  سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ مخدوم نے  انہیں پیشکش کی تھی کہ  اگر وہ اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں اگوشہ نرم رکھیں  تو وہ ان کی پارٹی کا حصہ بننے کے لئے تیار ہیں۔اگر واقعی مخدوم قریشی نے یہ الفاظ نواز شریف کو کہے ہیں  تو یہ  اقتدار کے ایوانوں میں در اصل اہمیت کے حامل  حلقوں کا پیغام تھا۔ مگر نواز شریف نے یہ آفر قبول نہیں کی اور مخدوم صاحب کو یقین ہو گیا کہ اباقتدار کی ریس میں  اسٹیبلشمنٹ کا جیتنے والا گھوڑاعمران خا ن ہی ہیں لہذا انہوں نے انکی پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔  
تیسرا آپشن  نئی پارٹی بنانے کا تھا۔ جس کے ذریعے وہ پیپلز پارٹی کے ناراض، پرانے اور باغی رہنماؤں کو کٹھا کرتے۔ یہ بڑا مشکل، صبر آزما اور جہاد ٹائپ کا کام تھا۔ جس کے لئے وقت بھی درکار تھا۔ اور اس جدوجہد میں جلدی اقتدار ملنے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں نظر آرہا تھا۔ اس لئے شارٹ کٹ تحریک انصاف ہی  بنی۔
جیسا کہ انہوں نے اپنے  نئے سیاسی تشخص کا آغاز سندھ سے کیا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ ان کے پاس سندھ کو دینے کے لئے کیا ہے۔اگر وہ الگ پارٹی بناتے تو کیا وہ کھل کر یہ اعلان کرسکتے تھے کہ سندھ کی معدنیات، تیل، گیس  پر اس صوبے کو حق دیا جائے۔ اور اگر وہ مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرتے تو کیا وہ سندھ کو حقوق دلا پاتے جسکی سندھ کی لوگ توقع رکھتے ہیں یا اور پیپلز پارٹی چھوڑنے کا سوچتے۔قریشی صاحب سندھ کی پارٹی پیپلز پارٹی میں رہتے ہوئے سندھ کو جو حقوق نہ دلا سکے وہ نواز شریف کی پارٹی میں رہ کر کیسے دلاتے؟
اب انہوں نے عمران خان کی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ہے، جسکا سندھ میں کوئی وجود ہی نہیں۔اس صورتحال میں سندھ کے لئے کیا
 دے سکیں؟۔ ہاں یہ  ضرور ہوا ہے کہ  اس جلسے اور قریشی صاحب کے تحریک انصاف میں شمولیت سے عمران کو  سندھ میں پاؤں رکھنے کی جگہ ملی ہے جس کے بنیاد پر وہ ایم کیو ایم سے قربت رکھتے ہوئیایک ملک گے متبادل سیٹ اپ دکھا سکتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کو بھی سوچنا چاہئے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکلتی محسوس ہوتی ہے۔ اصل وجہ انکے اپنے اعمال ہیں۔آج اگر سندھ کے لوگ مخدوم کے جلسے میں جاتے ہیں تو وہ مخدوم سے محبت کم اور پی پی کی پالیسوں اور رویوں سے اختلاف کا نتیجہ ہے۔ یہ تو پنجاب سے آیا ہوا مخدوم ہے جس کا تو آسانی سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے سوال یہ ہے کہ اگر کوئی سندھ سے مخدوم اٹھ کھڑا ہوا توحکومت کے پاس کیا راستہ ہوگا؟



Sat, Nov 26, 2011 at 9:12 PM
گھوٹکی نوٹس (غیر شایع شدہ)
بینظیر بھٹو  کے قیادت میں جب سندھ کی تمام قومپرست جماعتوں نے سندھ پنجاب بارڈر پر  کموں سہید کے مقام پر  کالا باغ ڈیم کے خلاف ریلی نکالی اور  دھرنا دیا تھا۔ تب نجی ٹی وی چینل نہ ونے کی وجہ سے صرف پرنٹ میڈیا نے ہے کور کیا تھا۔ اب دوسری مرتبہ گھوٹکی تب ملکی و غیرملکی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہے جب  سابق وزیر خارجہ اور پیپلز پارٹی چھوڑنے والے رہنما مخدوم شاہ محمود قرشی نے یہاں جلسہ منعقد کیا۔ اگرچہ ملک میں اور بھی جالسے ہط رہے ہیں اور حکومت ان جسلوں کے آگے کوئی رکاوٹ نہیں ڈال رہی۔کراچی میں عام شاہراہوں کو بند کر کے جلسے کئے جاتے ہیں۔ پنجاب میں وہاں کے وزیر اعلی نے عام شاہراہ پر جلسہ کیا۔ مر گھوٹکی میں  ہونے والے مخدوم شاہ محمود قریشی کے جلسے کے انعقاد میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔
گھوٹکی میں ہونے والا جلسہ تین وجوہات کی بنا پر  اہمیت کا حامل ہے۔ جس کی وجہ سے ماضی میں پیپلز پارٹی کی ٹکٹ تھکرانے والے مہر برادران کے سامنے جھک گئی۔ جلسے کے اعلان کے فورا بعد  صدر آصف زرداری کے دوست اور صوبائی وزیر سراج درانی  خانگڑہ پہنچ گئے اور ھنہوں نے مہر برادران کو صدر سے ملاقات کے لئے راضی کیا۔ اور بعد میں جلد ہی انہوں نے صدر سے ملاقات بھی کی۔ اب یہ باتیں بھی ہو رہی ہیں کہ کسی بھی وقت وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ اور صدر کی ہمشیرہ فریال تالپور بھی خانگڑہ کا دورہ کرنے والی ہیں۔ اور یہ مہر گروپ کو پیپلز پارٹے میں شمولیت کرائیں گے۔ یہ سب کچھ کیوں کیا جا رہا ہے؟  سیاسے مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ جلسہ سندہھ میں ہو رہا ہے۔ اور پیپلز پارٹے کا دعوا ہے کہ  سندھ اس کے ملکیت ہے۔ جس پر کسی اور کا دعوا قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اور جب کطٗی اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے گا تو رد عمل لازمی ہے۔ ویسے تو سندھ میں مسلم لیگ اور ایم کیو ایم کے جلسے ہوتے رہتے ہیں۔ ان پر پیپلز پارٹی کی قیادت کو کبھی اعتراض نہیں ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ شاہ محمود نے حال ہی میں  قیادت سے اختلاف کر کے پیپلز پارٹی چھوڑی ہے۔ ان کے بلاوے پر ہزاروں فراد جمع ہو جائیں  تو دنیا یہ سمجھے گی کی  یہ سب سندھ کے لوگ ہیں اور ان کا تعلق سندھ سے ہے۔ انہوں نے بغاوت کرکے  قریشی کا ساتھ دیا ہے۔ اس لئے پارٹی اپنی مورثی ملکیت کھونا نہیں چاہتی۔ تیسرے یہ کہ پیپلز پارٹی  کو یہ بھی فکر ہے  کہ  مخدوم شاہ محمود ایسے موقعہ پر جلسہ کیا  جب ملک کی سب سے بڑی حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ ن  ملک میں گو زرداری گو کی تحریک چلا کر جلسے کر رہی ہے۔ اور مخدوم براہ راست یا بلواسط طور اس مہم  کا حصہ بنا ہوا ہے۔ انکا مطالبہ بھی وہی ہے جو  نواز شریف کا ہے

No comments:

Post a Comment