sangi-Column Mery dil mery musafer Nov 31
Thu, Dec 1, 2011 at 11:27 AM
میرے دل میرے مسافر
سندھ میں کارڈ کارڈ کھیل
سہیل سانگی
سندھ میں کارڈ کارڈ کھیلا جا رہا ہے۔ کارڈ کے اس کھیل نے لوگوں کو پریشان کر دیا ہے۔ پہلے تو صرف راشن کارڈ ہوا کرتا تھا۔ اسکے بعد شناختی کارڈ ایجاد ہوا۔ابھی اس کارڈ کا چکر پورا ہی نہیں ہوا تا کہ سیلاب کی وجہ سے وطن کارڈ متعارف ہوا۔رواں سال کی بارشوں نے پاکستان کارڈ کو جنم دیا۔ اب لوگ ان کرڈوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔سب سے بڑھ کر اور خطرناک سندھ میں کارڈ ہے۔ جوملکی سیاست میں خاصا مقبول رہا ہے۔ کارڈوں کی بعض اور بھی اقسام ہیں۔ جیسے عید کارڈ اور پوسٹ کارڈ۔ان د و کارڈوں کو انٹرنیٹ اور موبائل فون نیختم کردیا۔ شادی کارڈ ابھی تک مروج ہیں۔دعوتوں کی بہتات کی وجہ سے لوگ اس سے بھی خاصے نالاں ہیں۔شناختی کارڈ ہو یا وطن کارڈ یا آخری کارڈ یعنی سندھ کارڈ ان کارڈوں سے کسی عام آدمی کا آج تک بھلا نہیں ہوا ہے۔ بلکہ عام آدمی ان کارڈوں کے چکر میں پھنسا ہوا ہے۔ بھلا ہو رہا ہے تو مختلف محکموں کے اہلکاروں کا یا ایجنٹوں کا یا پھر حکومت میں شامل بعض لوگوں کا جو یہ سارا کارڈ کا کھیل کھیل رہے ہیں۔
ابھی گذشتہ سال کے سیلاب متاثرین کی بحالی نہ ہو پائی تھی کہ امسال کی بارش نے اس سے بھی بڑی آبادی کو بے گھر کردیا۔مون سون کی بارشوں نے صوبے میں دریائے سندھ کے بائیں علاقے میں سیلاب کی صورتحال پیدا کردی۔پاکستان ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق کل اکیانوے لاکھ اٹھہتر ہزار آٹھ سو گیار افراد متاثر ہوئے۔اور ابھی تک تیس فیصد سے زائد افراد ابھی تک کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔حکومت سندھ نے اعلان کیا کہ سیلاب زدہ ہر کنبے کو پاکستان کارڈ جاری کیا جائے گا۔ جس کے ذریعے وہ پہلی قسط کے طور پہ دس ہزار روپے مقرر بنکوں کی برانچوں سی حاصؒ کر سکیں گے۔یہ پاکستان کارڈ اے ٹی ایم کارڈ کے طور پر کام کریگا۔ قومی شناختی کارڈ بنانے والے ادارے نادرا کو یہ ذمہ داری دی کئی کہ وہ متاثرہ علاقوں میں جا کر سیلاب زدگان کو پاکستان کارڈ جاری کرے۔ کچھ نادرا کے انتظامات کی کمی تھی تو کچھ عملے کی کمی۔ لاکھوں لوگوں کو ابھی تک یہ امدای کارڈ جاری نہ ہو سکے۔
مختلف شہروں سے پہنچنے والی شکایات سے پتہ چلتا ہے کہ ابھی اس کام کو مکمل ہونے میں اور مدت درکار ہوگی۔صھیح انتظامات نہ ہونے اور سیاسی بنیادوں پر یا پیسوں کے عوض کارڈ کے اجراء نے صورتحال کو مزیدپیچیدہ بنا دیا ہے۔ تنگ آمد بجنگ آمد۔ کئی مقامات پر سیلاب زدگان نے نادرا سینٹروں پر ہلہ بول دیا اور توڑ پھوڑ بھی کی۔ پولیس نے مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا جس سے درجنوں متاثرین زخمی ہو گئے۔عمرکوٹ، سانگھڑ، میرپورخاص اور بدین مے مختلف مقامات پر پولیس اور پاکستان کارڈ حاصل کرنے والے متاثرین کی جھڑپیں روز کا معمول ہیں۔ایک اندازے کے مطابق ابھی تک چالیس فیصد سے زائد لوگوں کو کارڈ جاری کرنا باقی ہے۔نادرااہلکاروں کا کہنا ہے کہ کئی لوگوں کے پاس شناختی کارڈ بھی نہیں ہیں اس لئے پہلے انکو شناختی کارڈ بنا کر دیئے جا رہے ہیں اور اس کے بعد پاکستان کارڈ۔
پاکستان کارڈ حاصل کرنے کے لئے لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے عمر رسیدہ اور بے سہارا لوگ رش میں پاؤں تلے روندے جا رہے ہیں۔اگرچہ نادرا نے مختلف یونین کونسلز کے لئے شیڈول بنایا ہے تاہم اس شیڈول پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا ہے مگر ایجنٹوں کے ذریعے پسند کے لوگوں کو کارڈ جاری کئے جا رہے ہیں۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حکومت کے پاس پیسے ہی نہیں ہیں کہ ایک ساتھ تمام متاثرین کو ادائگی کر سکے۔ اس لئے ناردرا کو ہدایت کی گئی ہے کہ کاردڈ کے اجراء کی رفتار حکومت کے پا س موجود پیسوں کے حساب سے ہی رکھے۔ اطلاعات ہیں کہ کارڈ جاری ہونے کے بعد بنکوں پر بھی متاثرین کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہوتی ہیں۔یہاں پر بھی پولیس یا پھر بنک عملہ ناجائز طور پر پیسوں کی وصولی کے بعد پاکستان کارڈ کے ذریعے پیسے نکالنے کی اجازت دیتا ہے۔ ڈیوٹی پر موجود پولیس رشوت لے کر پسندیدہ لوگوں کو پہلے پیسے دلانے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔
اگرچہ شہری علاقوں سے بارش کا پانی نکال دیا گیا ہے تاہم دیہی علاقوں میں کئی ایک مقامات پر تین سے چار فٹ تک پانی کھڑا ہے جس کی نکاسی کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی۔حکومت کی مدد سے ابااثر افراد کی زرعی زمینوں سے پانی نکال دیا گیا ہے۔ تاہم باقی زمینوں پر ابھی تک پانی کھڑا ہے جہاں ربیع کی فصل نہیں ہو سکے گی۔
حکومت نے آبادگاروں کو بلامعاوضہ گندم کا بیج اور کھاد فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پر وقت پر ان کی فراہمی شروع نہیں کی جا سکی۔اس تقسیم
میں بھی سیاسی بنیادوں پر تقسیم اور ناجائز پیسوں کی ادائگی کے بعد فراہمی کی شکایات عام رہی۔
سیلاب زدگان کی پہلی بے عزتی کارڈ حاصلؒ کرتے وقت اور دوسری بے عزتی بنک سے پیسے نکالتے وقت ہوتی ہے۔
سیلاب پر سیاست اور پیسے بنانے کا دھندہ صرف منتظمین، حکمرانوں یا ایجنٹوں نے ہی نہیں کیا بلکہ ملکی و غیر ملکی غیر سرکاری تنظیموں نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ بعض غیرملکی ڈونر اداریسیلاب زدگان کی امداد کے لئے مقامی این جی اوز کو صرف اس وقت امدادی پروجیکٹ دے رہے تھے جب وہ ان ڈونر اداروں کے اہلکاروں کو پیشگی تیس فیصد کمیشن کی ادائگی نہیں کر رہی تھیں۔ سیلاب نے صرف عام آدمی کی مصیبتوں میں اضافہ نہیں کیا بلکہ کرپشن کلچر کی نئی شکلیں ایجاد ہوئیں۔ جب ملکی این جی اوذ کمیشن ادا کرکے پرجیکٹ حاصل کرینگی تو لگ بھگ اتنا ہی اپنا حصہ نکالیں گی۔ اس طرح سے مستحق لوگوں تک بمشکل تیس فیصد ہی رقومات اور امداد پہنچ رہی تھی۔
گذشتہ سال کے سیلاب نے کئی شہروں کو برباد کیا اور کئے بستیاں وجود ہستی سے مٹ گئیں۔ لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ ستر لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوگئے۔سندھ کی کئی اضلاع میں ہفتوں تک سیلاب چلتا رہا۔ تب حکومت نے وطن کارڈ کے نام سے ایک رنگین خواب دکھایا۔قطاروں میں کھڑے لوگوں پر لاٹھیاں برسیں احتجاج ہوئے اور خاصی تذلیل کے بعد انہیں کچھ خیرات ملی۔ یوں وطن کارڈ کی درد کتھا توختم ہوئی۔ مگر آج بھی سیلاب زدگان کراچی، حیدرآباد اور دیگر شہروں میں بے کسی کی زندگی گذار رہے ہیں۔ ابھی حال ہی میں کراچی کے علاقے ملیر میں انکو بے دخل کرنے کے لئے لاٹھیاں برسائی گئیں۔
امسال جب بارشوں میں سندھ کا دوسرا حصہ متاثر ہوا نوے لاکھ افراد متاثر ہوئے۔ تو دوسرے کارڈ یعنی پاکستان کی کہانی شروع ہوئی۔ اس کارڈ کا شروع میں نام پیپلز کارڈ تجویز کیا گیا۔ پر بعد میں بعض اتحادیوں کے اعتراضات پر یہ نام تبدیل کر کے پاکستان کارڈ رکھا گیا۔ اس بارکارڈ کی قیمت کچھ کم تھی۔ پہلے مرحلے میں دس ہزار روپے رکھے گئے۔لاکھوں لوگ اس کارڈ کے حصول کے لئے روزانہ مختلف شروں
میں قطاریں لگائے کھڑے ہیں۔ جبکہ جن کو ملے ہیں وہ لوگ ابھی تک کارڈ سنبھال کے بیٹھے ہیں۔
سندھ کارڈ پاکستان کی سیاست میں کچھ عرصے سے عام ہے۔ سندھ کے لوگوں کے احساس محرومی اور اقتدار سے دوری کی شکایت کو سندھ کارڈ کا نام دیا گیا۔ کہ ذاوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد اس کارڈ کی رفتار تیز ہو گئی۔ بعد میں بعض سیاستدانوں نے اقتدار حاصؒ کرنے کے لئے اور لاہور اور اسلام آباد نے سندھ کے مطالبات سے گریز کرنے کے لئے اس کارڈ کا استعمال کیا۔اس کارڈ کو بعض قوم پرستوں نے بھی استعمال کیا۔ اس طرح سندھ کے لوگ کسی ایک یا دوسرے کارڈ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ جس سے نکلنے کی کوئی راہ نظر نہیں آتی۔قدرتی آفات آتی ہیں تو انہیں ایک کارڈ یا جاتا ہے۔ اپنے سیاسی یا معاشی حقوق کی بات کرتے ہیں تو سندھ کارڈ پکڑادیا جاتاہے۔ کارڈوں کییہ درد کہانی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔
No comments:
Post a Comment