Wednesday, 4 March 2020

پسند کی شادی Unpublished

Sat, Nov 26, 2011 at 8:28 PM
Unpublished
پسند کی شادی
شازیہ خاصخیلی اور محمد حسن سولنگی کو ایس پی آفیس سے دو سوگز کے فاصلے پر  اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ ایس پی کے بلانے پر  ذاتی سماعت کے لئے آئے تھے۔ فاطمہ خان کو  پولیس تحویل سے مسلح افرد چھین کر اغوا کر کے لے گئے جب  عدالت  سے واپسی پر عدالت سے چند گز دور وہ پولیس کے ساتھ جا رہی تھی۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت کی تھی کہ اسکو تحفظ فراہم کیا جائے۔ اس کے بعد اس کے ساتھ کیا  ہوا کچھ پتہ نیں۔ یہ واقعات باتاتے ہیں کہ پولیس اور عدالت سے بھی خواتین کو تحفظ فراہم نہیں کر پا رہے ہیں۔
باوجود اسکے کہ  درجنوں خواتین کو کارو کاری کے الزام میں قتل کیا جاتا ہے یا اس الزام میں کہ انہوں نے نجی دائرے سے باہر نکل کر عام دائرے میں پہنچنے کی کوشش کی ہے۔ اور انپی آزادانہ خواہش کا اظہار کرکے پسند کی شادی کی ہے۔ یہ مطالعہ  بہت دلچسپ ہے کہ کئی خواتین اپنے مرضی پر شادی کر رہی ہیں۔ اور ایسا سر عام الان بھی کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ معاشرے اور قانون سے تحفظ بھی طلب کرتی ہیں۔
جب کوئی جوڑا  پسند کی شادی کرنے کا راستہ اختیار کرتا ہے تو  گھر چھوڑنے کے بعد  وہ کسی وکیل  سے رابطہ کرتے ہیں جو ان کے لئیایک حلفیہ بیان تیار کرتا ہے۔  جس پر دستخط کرکے کسے جڈیشل میججسٹریٹ یا روٹری پبلک سے تصدیق کراتے ہیں۔  اس کے بعد نکاح نامہپڑھا کے ایسا اعلان مقامی اخبار میں کرتے ہیں۔ اخباری اس اشاعت کو  دھیان طلب یا  توجہ طلب کہا جاتا ہے۔ بعض  جوڑے عدالت سے بھی رجوع کرتے ہیں۔ جس میں وہ  اپنی  خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ انہیں کارو کاری قرار دے کر  قتل کر دیا جائے گا لہذا انہیں قانون تحفظ فراہم کرے۔سہمے ہوئے جوڑے  لڑکی کے والدین اور رشتیدراوں سے ڈرے ہوئے ہوتے ہیں۔ 
یہ اعلان ان کے شادی کو مشتہر کردیتا ہے۔ اسکے  علاوہ پولیس کو بھی ان کے خلاف  کوئی اقدام کرنے سے روک دیتا ہے۔ وسیع اشاعت  رکھنے والے سندھی روزنامہ کاوش کا ایک ماہ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہروزانہ تین سے چار ایسے اعلان نامے بطور اشتہار شایع ہوتے ہیں۔  مقامی اخبارات کے شعبہ اشتہارات سے تعلق رکھنے والے عملے کا کہنا ہے کہ روزانہ آتھ سے دس ایاسے شتہارات مختلف اخبارات میں شایع ہوتے ہیں۔ یہ تعداد فصلیں اترنے کے موسم میں دوگنی ہو جاتی ہے۔ 
گھروں سے نکلنے والے جوڑوں کا تعلق صوبے کے مختلف اضلاع سے ہے۔ اور اس میں کوئی ذات پات کا بھی معاملہ نہیں کیونکہ تقریبا تمام بردریوں کے لوگ اس طرح کے واقعات میں شامل ہیں۔ تاہم اکثر جوڑوں کا تعل نچلے یا درمیانہ طبقے سے ہے۔
بعض اوقات لڑکی کے والدین پتہ چلنے پر عدالت پہنچ جاتے ہیں اور لڑکی  کو سمجھانے بجھانے کے کوشش کرتے ہیں یا دباؤ ڈالتے ہیں۔ کئی جوڑے گھر سے فرار کے بعد بہت ہی کسمپرسی کی زندگی گذارتے ہیں۔ ان شتہارات کا متن وہی ہے جو آج سے تیس سال پہلے تھا۔ اکثر لڑکیاں یہ الزام عائد کرتی ہیں کہ ان کے والدین اس کی مرضی کے خلاف پیسوں کے عوض کسے بڑی عمر کے شخص سے شادی کرانا چاہتے ہیں۔  
گھر سے نکلنے والی لڑکی کے والدین لڑکے اور اسکے بائیوں و دیگر رشتیداروں کے خلاف اغوا، چوری ڈکیتی وغیرہ کا مقدمہ درج کراتے ہیں۔ اسکے علاوہ برادری کی پنچایت یا قبیلے کے جرگے کا سہارا لیتے ہیں۔
انسانی حقوق و خواتین کے حقوق  کے لئے کام کرنے والی تنظیمیں چند ایک جوڑوں کی مدد کر پاتی ہیں۔ جو کسی نہ کسے وجہ سے ہائی پروفایل بن جاتے ہیں۔
خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والے حسن پٹھان کا کہنا ہے کہ تحفظ کی اپیل اور عدالت سے رجوع کرنے کے با وجود  پولیس  بہت کم اقات  ان جوڑوں کی مدد کو آتی ہے۔ اور اخبار میں شایع ہونے والی اشتہار یا اپیل کا  شاید ہی نوتیس لیتی ہو۔یہاں تک  کہ ان کا یہ اعلان نامہ ریکارڈ پر بھی نہیں رکھا جاتا۔ متثرہ جوڑے خود اخبارات کی کلپنگ تھانیدار، ایس  پی اور دیگر انتظامی اہلکاروں کو بھیجتے ہیں۔ یہ اعلے اہلکار ایسی اپیل کو ماتحت عملے کو مارک کر کے بھیج دیتے ہیں اور اس سے زیادہ کارروائی نہیں ہوتی۔ اخبارات میں ایسی اعلان اور حلف نامے کے باوجود پولیس لڑکی اور لڑکے کے خلاف مقدمہ درج کرتی ہے۔ کئی ایسے بھی واقعات ہوئے ہیں کہ ججوں نے لڑکے کو پولیس کے حوالے کیا اور لڑکی کو والدین کے حوالے یا پھر  دارالامان بھیج دیا۔ اگر لڑکے کو پولیس تحویل میں دیا جاتا ہے تو پولیس اس پہ تشدد کرتی ہے۔ اور دباؤ ڈالتی ہے کہ وہ اپنے موقف سے ہٹ جائے۔ والدین لڑکی پر دباؤ ڈالتے ہیں اور ذاتی ضمانت پر یا پولیس کی مٹھی گرم کرکے اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔  عام خیال یہ کہ پولیس افسران اور ججوں کی اکثریت فری ول میریج کے خلاف ہے۔وہ اس بات پر لڑکی کو برا بھلا کہتے ہیں اس نے والدین کی عزت مٹی میں ملا دی۔
میڈیا، سول سوسائٹی کے مدد اور اب عدلیہ میں بدلتے ہوئے رجحانات کے وجہ سے ایسے واقعات بڑھے ہیں۔پہلے معاملات کو دبا دیا جاتا تھا۔ اب میڈیا اور عدالت میں لائے جاتے ہیں۔ عام طور پر ایسے معاملات نوخیز لڑکیوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ جو یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ وہ زندگی بھر کے  بارے میں ایک فیصلہ کیاسے کر رہی ہیں۔ اصل میں گھروں میں ہم ان لڑکیوں کو اسپیس نہیں دیتی کہ وہ اظہار کر سکیں۔ بات کر سکیں۔اگر گھر میں لڑکی  کو اسپیس دی جائے تو ممکن ہے کہ وہ مضبوط دلائل کی وجہ سے قائل ہو جائے۔ اگر قائل نہیں بھی ہوتی ہیوہ بعض پہلؤوں پر سوچتی ضرور ہے اور بعض  منفی پہلؤوں  یا پھر خدشوں  سے بچنے کے لئے یقین دہانیاں یا پیشگی اقدامات کر لیتی ہے۔ جب اسکو گھر میں اسپیس نہیں ملتا تو وہ براہ ر است بغاوت کی طرف چلی جاتی ہے۔
ذوالفقار شاہ کا خیال ہے کہ اخبار میں ایسی اشاعت والدین اور رشتیداروں کو مزید غصہ دلاتی ہے۔کیونکہ اسکے وجہ سے وہ برادری میں اور جان پہچان والوں میں خود کو بے عزت سمجھتے ہیں 

No comments:

Post a Comment