Mon, Dec 5, 2011 at 10:48 AM
کالم۔ برائے پانچ دسمبر
وزیر اعلی سندھ اور وزیر داخلہ کے نام
سہیل سانگی
یہ ایک کہانی نہیں۔ سچا واقعہ ہے ہے، مگر ہماری مین اسٹریم میڈیا کے پاس اسکے لئے نہ ٹائیم ہے نہ ہی اس کی ترجیحات۔ وزیر اعلی سندھ کے ضلع اور وزیر داخلہ کے حلقہ انتخاب میں دس پولیس موبائل اور درجنوں مسلح افراد نے ایک گاؤں پر حملہ کر کے26 جریب زرعی زمین پر قبضہ کر لیا اور چھ افراد کو گرفتار کر لیا۔
سوہو کناسرو گاؤں خیرپور ضلع میں تاریخی مقام کوٹ ڈیجی کے پاس واقعہ ہے اور صوبائی وزیر داخلہ منظور وسان کا حلقہ اتخاب ہے۔ گذشتہ ہفتے منظور وسان کے داماد منور وسان جو کہ تحصیل کے ناظم بھی رہے ہیں دس سے زائد پولیس موبائل اور درجنون مسلح افراد کے ہمراہ گوٹھ سوہو کناسرو پہنچے اور اسلح کے زور پر اجن برادری کی زمین پر قبضہ کر لیا۔ پولیس نے چھ افراد کو گرفتار کر لیا۔ جبکہ گاؤں کی خواتین نے بچوں سمیت گنے کے کھیت میں پناہ لی۔ لیکن پولیس اور مسلح افراد گھسیٹتے ہوئے انہیں کھیتوں سے لے آئے اور بری طرح سے مارا پیٹا۔ ان خواتین نے کلام پاک کا واسطہ بھی دیا۔ لیکن حملہ آوروں اور پولیس نے ان کی ایک بھی نہیں سنی۔
اس واقعے کی کوریج کے لئے جب صحافی وہاں پہنچے تو پولیس اور مسلح افراد نے ان پر بندوقیں تان لیں اور انہیں برا بھلا کہنے کے ساتھ ان سے کیمرے بھی چھیننے کی کوشش کی۔
اجن برادری کے معززین کا کہنا ہے کہ مسلح افراد اجن برادری کی فصلیں زبردستی کاٹ کے ٹریکٹر ٹرالیوں میں بھر بھر کے لے گئے۔ مسلح افراد اور پولیس نے اجن برادری کے گھروں میں کیمپیں قائم کرلی ہیں۔ خواتین سمیت اجن برادری کے لوگوں نے خیرپور پہنچ کر پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا۔غلام محمد اجن، قمرالدین اجن نے صحافیوں کو بتایا کہ وزیر داخلہ کے داماد نے انکا جینا محال کردیاہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی خواتین بچے گود میں اٹھائے چھپتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔اور لاک اپ میں ان پر کتے چھوڑے گئے۔انکا کہنا تھاکہ انکا کوئی قصور نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر انہیں انصاف نہ ملاتو وہ سپریم کورٹ کے سامنے خودسوزی کرینگے۔
میڈیا کو کوریج سے روکنے اور اور کیمرے چھیننے کے کوشش کرنے کے خلاف صحافیوں نے خیرپور پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا۔ایک درجن سے زائد صھافیوں کا کہنا ہے کہکوریج کرنے والے صحافیوں پر اسلح تان کر انکو کوریج سے روکا گیا اور کیمرے چھیننے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ بااثر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
اجن برادری کے لوگوں کا کہنا ہے کہ جس زمین پر واسان نے قبضہ کیا ہے، وہ انکے پاس 1965سے ان کے پاس ہے اور جان برادری کے لوگ برسہا برس سے یہ زمین کاشت کرتے آئے ہیں۔
یہ سب کچھ گذشتہ چار روز سے مقامی اخبارات میں رپورٹ ہوتا رہا ہے۔گاؤں والے خیرپور شہر میں مظاہرے کرتے رہے۔ صحافی بھی وزیراعلی کے شہر میں ریلیاں نکالتے رہے۔ پر کسی کے کان پر جوں بھی نہیں ہلی۔ نہ حکومت سندھ نے اس پر کوئی کارروائی کی ہے اور نہ ہی حکومت یا ضلع انتظامیہ کی جانب سے ان الزامات کی تردید یا وضاحت کی گئی ہے۔یہ امر بھی حیران کن ہے کہ اتنے سنگین الزامات کی وزیر داخلہ یا اسکی فیمیلی نے بھی کوئی تردید نہیں کی۔جس سے لوگوں کا گماں یقین میں تبدیل ہوگیا ہے کہ گاؤں والوں کا موقف صحیح ہے۔
وسان خانداں علاقے کا بااثر خاندان ہے۔ ماضی قریب میں چاہے بلدیاتی انتخابات ہوں یا عام اتخابات، چاہے کوئی بھی دور ہو اس خاندان نے اتخابات نہیں ہارے۔ منظور وسان صوبائی وزیر ہیں جبکہ ان کے بھتیجے نواب وسان قومی اسیمبلی کے رکن ہیں۔ منور وسان جن پر حملہ کرنے اور زمین پر قبضہ کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے وہ بھی کوٹ ڈیجی تحصیل کے ناظم رہے ہیں۔ یہ حقائق بتاتے ہیں کہ چاہے کوئی بھی دور ہو، وسان خاندان س بااثر رہا ہے۔ ان کے مقابلے میں جن برادری جن کی زمینوں پر قبضہ کیا گیا ہے کبھی بھی براہ راست یا بلواسطہ طور پر حکومت میں نہیں رہی ہے۔ ایسے میں یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اجن برادری نے وسانوں کی زمینوں پر قبضہ کر لیا ہو۔ ہاں اس کے مقابلے میں یہ بات زیادہ قابل فہم ہے کہ وسانوں نے اجن برادری کی زمین پر قبضہ کیا ہو۔
باشعور حلقوں کا کہنا ہے کہ کوٹ ڈیجی کے علاقے میں سود کا کاروبار عام ہے۔ چھوٹے اور درمیانہ طبقے کے لوگوں کو قرضے میں پھنسا کر ان کی جائدادیں زبردستی خرید لی جاتی ہیں۔ اس کاروبار میں کئی بااثر افراد ملوث ہیں۔
جب وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ کی ناک کے نیچے یعنی انکے اپنے آبائی ضلع میں یہ سب کچھ ہو رہا ہوتو باقی سندھ میں کیا ہو رہا ہوگا، باقی لوگ انصاف کی کیاتوقع رکھ سکتے ہیں۔خیرپور سے تعلق رکھنے والے ایک پرانے سیاسی کارکن نے وزیراعلی سے بڑی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چاچا قائم علی شاہ کی کوئی نہیں سنتا۔ خود ان کی کابینہ کی اراکین بھی نہیں سنتے۔انہوں نے ایک قصہ سنایا اور کہا کہ یہ سو فیصد وزیراعلی پر لاگو ہوتا ہے۔ قصہ کچھ اس طرح سے ہے۔ ایک پیر صاحب غریبوں کی بستی میں منزل انداز ہوئے۔ اور وہ بھی قحط سالی میں۔ مرید تمام تر کوششوں کے باوجود کوئی انتظام نہ کر سکے۔ ڈرتے ڈرتے ایک مرید پیر صاحب کے پاس آیا۔ اور ان سے بڑے مودبانہ انداز میں پوچھا، قبلہ آپ کے لئے تو دال پکائی ہے، اب خلیفوں کے لئے کیا حکم ہے۔ پیر صاحب صورتحال کو بھانپ گئے اور غصے سے بولے خلیفوں کا کالا منہ کرکے روانہ کرو۔ سو سندھ میں وزیراعلی کے آبائی ضلع کے لوگوں کے ساتھ یہ ہو رہا ہے تو باقی لوگ کہاں جائیں کس کا دروازہ کھٹکھٹائیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ واقعہ نہیں معلوم کئی ایسے باثر لوگوں کو شہہ دیگا کا وہ بھی اسلحے کے زور پر اور پولیس کی مدد سے اپنی من پسند زمینوں پر قبضہ کرلیں۔
صوبائی حکومت کی یاتو کوئی سنتا نہیں یا پھر وہ اپنے اتحادیوں کو منانے اور مفاہمت کی پالیسی کو کامیاب کرنے میں اتنی مصروف ہے کہ اس کے پاس عام آدمی یا اسکے مسائل نہ ترجیح ہیں اور نہ ہی اسکے پاس اتنا وقت ہے۔
سندھ میں اپوزیشن برائے نام بھی نہیں۔ all king's men یعنی سب لوگ بادشاہ کے لوگ ہیں اور حکومت میں شامل ہیں۔اسلام ٓباد میں موجود اپوزیشن حکومت کو گرانے کی آخری کوششوں میں مصروف ہے۔سپریم کورٹ ملک کے سیاسی مسائل حل کرنے میں لگی ہوئی ہے، ایسے میں سوہو کناسرو کے دیہاتی یا اسے کئی علاقوں کے لوگ کہاں جائیں۔ان کی کہیں شنوائی نہیں ہوتی۔ ملک میں موجود بحران ایک عام آدمی پر کس طرح اثرانداز ہوتا ہے، اور بااثر لوگ اس موقعے کا کس طرح فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کوٹ ڈیجی کا واقعہ اس کی ایک چھوٹی پر مضبوط مثال ہے۔
No comments:
Post a Comment