Wednesday, 4 March 2020

عدالتی فیصلے کے منتظر قلاباز 2011-12-08

 Thu, Dec 8, 2011 at 1:07 AM
عدالتی فیصلے کے منتظر قلاباز 
میرے دل میرے مسافر۔ سہیل سانگی
صرف پنجاب میں ہی نہیں، سندھ میں بھی سیاسی قلاباز سپریم کورٹ کے فیصلے کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ان میں سے اکثریت اسیمبلیوں سے اور باقی اقتدار سے باہر ہے۔ انکا خیال ہے کہ اسلام آباد میں دیگ پک رہی ہے، جس میں سے انہیں بھی کچھ ملے گا۔بڑے کھلاڑی تو لاہور اور اسلام آباد میں ہیں، پر دوسرے بھی نہیں تیسرے جوڑ کے کھلاڑی یہاں بھی ہیں، جو کمر بستہ ہو رہے ہیں۔
سندھ پیپلز پارٹی کا ہوم گرؤنڈ ہے۔اس لئے ان تیسری جوڑ کے کھلاڑیوں کی کچھ اہمیت ہے۔ یہ اہمیت اس وجہ سے بھی ہے کہ پیپلز پارٹی کو چھوڑ کے صوبے میں کوئی پارٹی نہیں ہے جو اکیلے سر حکومت بنا سکے۔ مسلم لیگ نوں ہو یا عمران خان کی تحریک انصاف، یا کوئی اور،  سب کو سندھ کے ان قلاباز بااثر وڈیروں کا سہارا لینا پڑے گا۔ 
ایسے سیاسی سیٹ اپ میں ہی ان کی اہمیت بنتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ سندھ میں اس وقت تین چار وزیر اعلی گھوم رہے ہیں۔ ارباب غلام رحیم، علی محمد مہر اور لیاقت جتوئی  اور سردار غوث بخش مہر کا نام خاص طور پر لیا جا سکتا ہے۔ غوث بخش مہر جو اس وقت مسلم لیگ ق میں ہیں، ان کو چھوڑکر باقی تینوں حضرات مختلف ادوار میں وزیر اعلی رہ چکے ہیں۔ ایک بار پھر وہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ بلی کے بھا گوں چھیکا  ٹوٹے تو ان کے نصیب میں ایک بار پھر وزیر اعلی کا عہدہ آجائے۔ اگرچہ یہ بات خاصی مشکل ہے۔ کیونکہ کے پیپلز پارٹی کے علاوہ جس کسی نے بھی حکومت بنائی،  وہ ایک مرتبہ ہی وزیر اعلی رہا۔ یہ خوش نصیبی پلٹ کے کبھی نہ غوث علی شاہ کی قسمت میں آئی نہ ہی مظفر حسین شاہ کی قسمت میں۔پھر بھی اقتدار عجب چیز ہے۔ سینئر سیاستدان مرحوم غلام مصطفی جتوئی نے ایک مربہ سندھی ایڈیٹرز سے گپ شپ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اقتدار ایسا پیالہ ہے جو ایک مرتبہ ہونٹوں کو چھو لے تو پوری عمر آس رہتی ہے۔سو اس بار بھی الیکشن کے بعد اگر کوئی ایسا فارمولہ بنتا ہے تو کوئی نیا چہرہ ہی سامنے آئے گا۔ کیا پتہ یہ چہرہ  مرحوم غلام مصطفی جتوئی خاندان سے ہو یا پیر پگارا خاندان سے یا پھر ٹھٹہ کے شیرازی برادران میں سے ہو، جو گذشتہ ایک دہائی سے بڑا جوا کھیلنے کی تیاری کر رہے ہیں۔سندھ میں الیکشن جیتیں یا نہ جیتیں مگر پیپلز پارٹی کو سیاسی طور پر کمزور دکھانے کے لئے مختلف گروپ اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے۔ اور اس نیک کام میں اسلام آباد اور لاہور کے مقتدرہ حلقے بھی ان کی تن، من اور دھن سے مدد کرسکتے ہیں۔  
ماضی میں پیپلز پارٹی پر خراب رویے کا الزام عائد کرکے پارٹی چھوڑنے  والوں کا ایک جگہ جمع ہونے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ مگر یہ اتنا بھی تیز یا موثر نہیں۔
 پیپلیز پارٹی مخالف گروپوں کی ابتدائی سرگرمیوں کے بعد نئے سیاسی اتحاد کی تیاریاں ہو چکی ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے آنے کی دیر ہے۔ ممکن ہے کہ اس سے قبل آئندہ ایک دو ہفتوں میں ایسے اتحاد کا اعلان بھی ہو جائے۔
ممتاز علی بھٹو، لیاقت جتوئی، ارباب غلام رحیم، سید جلال محمود شاہ ڈاکٹر قادر مگسی وغیرہ ایک پلیٹ فارم پر آنے کے لئے مذاکرات میں مصروف ہیں۔
وزیر اعلی کے عہدے کے امیدوار مہر گروپ نے لاڑکانہ کے الطاف انڑ، مشرف دورکے صوبائی وزیر ڈاکٹر سہراب سرکی،  ٹھٹہ کے شیرازی برادران، سکھر کے سابق ضلع ناظم سید ناصر شاہ، مسلم لیگ ق سے تعلق رکھنے والے غوث بخش مہر سے رابطہ قائم کر چکے ہیں اور اپنا گروپ  بنانے کا تاثر دے چکے ہیں۔
مہر گروپ نے ماضی میں پیپلز پارٹی لی ٹکٹ ٹھکرادی تھی اور آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن میں حصہ لیا تھا۔دو ہفتے قبل گھوٹکی میں شاہ محمود قریشی کے جلسے اور مہر برادران کے حالیہ سیاسی رابطوں نے ان کی اہمیت بڑھا دی ہے۔ پیپپلز پارٹی کو بھی مجبور ہو کر ان سے آکر بات کرنی پڑی۔ 
 سندھ کے قوم پرست بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے اتحاد سپنا کو ازسرنو سرگرم کریا ہے۔ اور فیصلہ کیا ہے کہ قوم پرست ایک ہی پلیٹ فارم سے انتخابات لڑیں گے۔ لیکن اوپر کی سطح پر رابطوں نے معاملے کو گڑبڑ کردیا۔ سپنا کے موجودہ کنوینرسید جلال محمود شاہ نے اتحادیوں کو اعتماد میں لئے بغیر لیاقت جتوئی اور ارباب غلام رحیم سے رابطے کیا۔ویسے بھی ممتاز بھٹو، جلال محمود شاہ کو اتحاد کا کنوینر مقرر کرنے پر خوش نہیں تھے۔ اور جلال شاہ کے اس اقدام نے ان کی مزید پوزیشن خراب کردی اور اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔سندھ کے قوم پرستوں کواس بات پر ناراضگی ہے کہ لیاقت جتوئی نے دو مرتبہ ان کو استعمال کیا اور اقتدار حاصل کیا۔اس مرتبہ بھی وہ ایسا ہی کھیل کھیلیں گے۔
ایم کیو ایم سندھ کی شہری سیاست کی اہم کھلاڑی ہے۔ کراچی کی سورتحال پر سپریم کورت کے فیصلے اور سابق وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کی مہم نے اس کو دفاعی پوزیشن میں ڈال دیا تھا۔لیکن لگتا ہے کہ ایم کیو ایم اب اس پریشانی سے باہر آگئی ہے۔اور آخر تک پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑا رہنے کا تہیہ کئے ہوئے ہے۔بلکل ویسے جیسے آخر تک پرویز مشرف کے ساتھ کھڑی تھی۔ اطلاعات ہیں کہ ڈاکٹرذوالفقار مرزا اپنے قریبی ساتھیوں سے رابطے میں ہیں اور رواں ماہ کے دروان وطن واپسی پر اپنی سیاسی ٹیم تشکیل دینگے۔ڈاکٹر مرزا کو ملک میں اور سندھ میں کیا ریسپانس ملتا ہے؟ یہ ابھی بتانا قبل از وقت ہوگا۔
سندھ میں سیاسی کھلاڑیوں کا ایک اور بھی گروپ ہے۔ جس میں مشرف دور کے صوبائی وزیر اور جرگے منعقد کرنے میں شہرت رکھنے والے  میر منظور پنہور، مقبول شیخ اور پرویز شاہ شامل ہیں۔ یہ گروپ بھی اپنا الگ تشخص شو کرنے کے جتن کر رہا ہے۔
اسلام آباد میں جو بھی سیاسی شطرنج کھیلی جا رہی ہو، سندھ بہرحال اہم ہے۔ اسکی بڑی وجہ یہ ہے کہ سندھ پیپلز پارٹی کا ہوم گراؤنڈ ہے۔ جب تک اسکو یہاں پر ناک آؤٹ یا اکیلا نہیں کیا جاتا تب تک تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔اس مقصد کے لئے مختلف کوششیں کی جا رہی ہیں۔شاہ محمود قریشی نے رانگ نمبر ڈائل کرلیااور تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی۔اس کے بعد نواز شریف نے کاصا جارحانہ کھیل کھیلا جوپنجاب میں عمران خان کی بڑہتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے انکے لئے ضروری بھی ہو گیا تھا۔ ان سیاسی  چالوں کے بعد اب نواز شریف سندھ میں اپنی پوزیشن کے تعین کیلئے لاڑکانہ میں جلسہ کرنے آرہے ہیں۔
یہ سرگرمیاں اپنی جگہ پر، سندھ میں صورتحال پیپلز پارٹی کے حق میں ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ کسی نہ کسی بہانے پیپلز پارٹی کوقبل از وقت  ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وہ این آر او پر سپریم کورٹ کے فیصلے، میمو گیٹ اسکینڈل، نیٹو فورسز کے حملوں پرملک کے اندر بعض حلقوں 
 کے رد عمل اور اب نواز شریف کے سپریم کورٹ جانے کو ایک ہی سلسلے کی کڑیاں قرار دے رہے ہیں۔سیاسی  پنڈتوں کا خیال ہے کہ
سندھ کے عوام دل کا غبارچاہے کسی طرح ہی نکالیں لیکن بالآخر ووٹ پیپلز پارٹی کو ہی دیتے ہیں۔

No comments:

Post a Comment