Wednesday, 4 March 2020

سندھ کا مسئلہ سیاسی نہیں انتظامی ہے 2011-12-12


Mon, Dec 12, 2011 at 1017 AM
سندھ مسئلہ انتظامی نہیں سیاسی ہے
سہیل سانگی
ٍنواز شریف نے پیپلزپارٹی کے گڑھ اور بھٹوز کے شہر لاڑکانہ میں جلسہ کر ہی لیا۔مخدوم شاہ محمود قریشی کے جلسہ کے بعد کسی اپوزیشن پارٹی کا سندھ میں یہ دوسرا جلسہ تھا۔ جبکہ عمران خان اور ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے جلسے ابھی پائپ لائن میں ہیں۔
نواز شریف گڑھی خدابخش بھی گئے اور ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹوکی مزاروں پر پھول چڑھائے۔ جس سے وہ یہ تاثر دینا چاہ رہے ہیں کہ وہ صرف زرداری کے مخالف ہیں بھٹوز یا پیپلز پارٹی کے خلاف نہیں۔ لاڑکانہ کے جلسہ کامقصد بھی یہی تھا۔ بعد میں انہوں نے اپنے تقریر میں بھی  یہ بات برملا کہی کہ یہ پیپلز پارٹی اصل پیپلز پارٹی نہیں۔ کیا  اسکا مطلب یہ ہے کہ نواز شریف نے پیپلز پارٹی کی بالادستی اور اسکے بنیادی آئیڈیا کو تسلیم کر لیا ہے۔اور وہ بھی شہیدوں کی سیاست پر اتر آئے ہیں؟
جلسے سے قبل انہوں سندھ نیشنل فرنٹ کے سربراہ ممتاز علی بھٹو، پی پی شہید مرتضی بھٹو گروپ کی چیئرپرسن میڈم غنوا بھٹو اور سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمن ڈاکٹر قادر مگسی سے بھی رابطے کئے تھے۔ بعض رہنماؤں نے ان کی حمایت کا بھی اعلان کیاتھا۔  تاہم یہ طے ہونا باقی ہے کہ یہ مجمع صرف نواز شریف کا تھا یا اس میں  زرداری مخالف قوتوں نے اپنے بندے بھیجے تھے۔ مسلم لیگ ن کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ سب انکی پارٹی کے بندے تھے۔ عام خیال یہ ہے کہ سندھ کی بعض پارٹیوں نے نواز شریف کی مدد کی۔کیا سندھ کی سیاسی جماعتیں واقعے نواز شریف کے جلسے میں اپنے لوگ بھیج سکتی ہیں؟ سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے۔ زبانی حمایت کرنا  اور بات ہے۔ساتھ کھڑا ہونا مختلف بات ہے۔ مسلم لیگ ن ایک پنجاب بیسڈ پارٹی سمجھی جا رہی ہو اور قوم پرستوں کی سیاست کا فوکس پنجاب مخالفت ہو۔ اس پر طرہ یہ سندھ کے وہ اشوز جو قوم پرست اٹھا رہے ہوں ان پر نواز شریف کا کوموقف واضح نہ  ہو۔ ایسے میں وہ زرداری مخالفت میں نواز شریف کی صرف اخلاقی مدد ہی کر سکتے ہیں۔
نواز شریف گذشتہ دنوں آصف زرداری کے شہر نواب شاہ اور سابق وزیر داخلہ  ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے شہر بدین میں جلسے کر چکے ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ میاں صاحب نے یہ جلسے اس وقت کئے جب صدر آصف زرداری ملک سے باہر تھے۔ اب  لاڑکانہ کا جلسہ بھی تب کیا ہے جب صدر زرداری دبئی ہیں۔ اور میاں صاحب لاڑکانہ میں آکر گو زرداری گو کے نعرے لگا رہے ہیں۔
سندھ میں میاں صاحب کی پارٹی تنظیمی طور پر خاصی کمزور ہے۔ 2007 کے عام انتخابات میں  انکی جماعت نے سندھ میں ایک بھی امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا۔روایتی وڈیرے جو انکے دور حکومت میں ساتھ رہے، وہ یا تو اپنا الگ الگ گروپ بنائے ہوئے ہیں یا پھر مسلم لیگ ق میں ہیں۔ لاڑکانہ میں نواز شریف کے ساتھ الطاف انڑ اور امداد چولیانی تھے۔ انڑ آج کل مسلم لیگ ق میں ہیں اور امداد چولیانی بیمار ہیں۔پارٹی کے دو سینیئر رہنما الاہی بخش سومرو سیاست سے کنارہ کش ہیں۔ جبکہ غوث علی شاہ جوکہ جلاوطنی کاٹ کے آئے ہیں ان کو نواز شریف نے پارٹی سے دور رکھا ہوا ہے۔پارٹی کے ایک اور رہنما مخدوم شاہنواز انتقال کر چکے ہیں۔ مسلم لیگ سندھ کے لئے پنجاب اسیمبلی کے ڈپٹی اسپیکررانا شہود کو کوآرڈینٹر مقر کیا گیا گیا ہے۔جنہوں میں کراچی کے پنجاب ہاؤس میں قیام کیا۔ وہ یہی تاثر دیتے ہیں کہ یہ پورا شو انکاہے۔پارٹی کی سندھ میں کوئی مؤثر تنظیم موجود نہیں تھی، اس لئے پنجاب سے ایک شخص کوبلا کر کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا۔
 لاڑکانہ کے صحافیوں کا کہنا ہے کہ جلسے میں شرکت جو دعوت نامے تقسیم کئے گئے اس وفد کے ساتھ کوئی مقامی لیڈر نہیں تھا۔ ان کی جماعت کے ساتھ اگر کچھ پرانے لوگ تھے بھی تو انکو نظرانداز کیا گیا۔ایسی ناراضگی  کے اظہار کے طور پرپارٹی کے ایک سینئر کارکن نثار شاہ نے خود سوزی کی کوشش کی جنہیں نازک حالت میں کراچی لے جایا گیا۔ 
عمران خان نے لاہور کے جلسے میں موسیقی کی روایت ڈالی ہے۔ جسے نواز شریف کو بھی برقرار رکھنا پڑا۔ان کی آمد سے قبل سندھ کے مقبول فنکار شمن میرالی اور دیگر فنکاروں نے گیت سنائے اور لوگوں کو محظوظ کیا۔ محفل موسیقی کا پروگرام جلسے کے پروگرام کا حصہ تھا کیونکہ جو ہینڈ بل وغیرہ تقسیم کئے گئے تھے ان میں موسیقی کا ذکر موجود تھا۔ جلسہ مسلم لیگ کا تھا۔ پر گیت سندھ کی قوم پرستی کے گونج رہے تھے۔ نواز شریف جب جلسہ گاہ پہنچے تو انکا استقبال جیئے سندھ کی طرز پر بنائے گئے ایک گیت سے کیا گیا۔ ایک اور خاص بات یہ تھی کہ انکو ایک عدد گھوڑا بطور تحفہ پیش کیا گیا۔
بے نظیر بھٹو حکومت میں تھیں یا اپوزیشن میں، نواز شریف انکے کٹر مخالف رہے۔ اب اچانک انکے لئے ہمدردی پیدا ہو گئی۔ اور ان کو اپنی بہن کہا۔عام خیال یہ ہے کہ نواز شریف بے وہ بے نظیر کے نام پر سندھ میں داخل ہونا چاہتے  ہیں۔ بھائی ہونے کے دعویدار نے محترمہ کے خلاف کئی مقدمات درج کئے۔اور اپنے بچے سمیت جیل کے چکر کاٹتی رہی۔ اور بعد میں جلاوطنی کاٹی۔ سندھ کے لوگ اتنے بھی سادہ نہیں کہ وہ اس بات کو بھول گئے  ہوں۔
اب آئیے دیکھتے ہیں کہ حزب اختلاف کی سب سے بڑی پارٹی کے سربراہ نے اس اہم جلسے میں اپنی تقریر میں کیا کہا۔میاں صاحب نے اپنی تقریر میں ایسا کچھ نہیں کہا جسے متبادل پروگرام کہا جا سکے۔ انکا زیادہ زور اس پر تھا کہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا گیا۔جیسے بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو گرفتار کرنا صرف سندھ کا مسئلہ ہو۔
انکے نزدیک سندھ کے تین چار بنیادی مسئلے ہیں۔ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانا، سیلاب زدگان کے مصائب،  زرعی اجناس اورکھاد کے قیمتیں اورامن و امان۔ انہوں نے سندھ کے ان اشوز پر بات نہیں کی جو سندھ کے کور اشوز کہلاتے ہیں۔ بعض حلقوں کا خیال تھا کہ سندھ اور پنجاب کے درمیان کالا باغ ڈیم، مالی معاملات، دریائے سندھ کے پانی کے معاملہ وغیرہ پر جو عدم اعتمادی ہے، میاں صاحب اس حوالے سے سندھ کے لوگوں کو یقین دہانی کرائیں گے۔ پر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ لوگ ابھی تک  یہی بات کرہے ہیں کہ  سندھ کے لئے متبادل قیادت کیا چیز لائی تھی؟ کیا اعلان کیا تھا؟ میہڑ کے خمیسو خان یا ٹنڈو باگو کے نبی بخش جب بات کرتے ہیں تو یہی کہتے ہیں کہ میاں صاحب نے کچھ نہیں کہا  یا کچھ خاص نہیں کہا۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ جلسہ سندھ کے لوگوں کے لئے تھا ہی نہیں۔ جن کے لئے تھا انکو کر کے دکھایا گیا۔
سوال یہ ہے کہ وہ سندھ میں سیاست کرنا چاہتے ہیں، پیپلز پارٹی کا متبادل بننا چاہتے ہیں یا صرف پیپلز پارٹی کی مخالفت کرنے آئے ہیں۔ اگر وہ  اس صوبے میں سیاست کرنی ہے تو پارٹی کی تنظیم سازی کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ اور جن سیاسی معاملات پر سندھ کے لوگ بھڑک اٹھتے ہیں  انکو ایڈریس کرنا ہوگا۔ کیونکہ سندھ کا مسئلہ سیاسی ہے نہ کہ انتظامی جیسے میاں صاحب سمجھ رہے ہیں،  یا لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

No comments:

Post a Comment