Wednesday, 4 March 2020

کوئی تو ثالث تھا۔۔۔ 2011-12-19

 Mon, Dec 19, 2011 at 12:52 AM
میرے دل میرے مسافر۔ سہیل سانگی
کوئی تو ثالث تھا۔۔۔
لگتا ہے کہ خطرہ ٹل گیا۔ صدر آصف علی زرداری  واپس وطن پہنچ گئے ہیں۔ یہ سب کچھ کیسے ہوا؟ ویسے تو بہت سارے سوالات ہیں جن میں سے بیشتر کا جواب شاید کبھی نہ مل سکے، تاہم کچھ ساوالات کے جوابات آنے والے وقتوں میں ملتے رہینگے۔
اب یہ طے ہو چکا ہے کہ میمو گیٹ دفنانے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے مک از کم وقتی طور پر میمو گیٹ سے پیدا ہونے والے اختلافات بھول جانے کا فیصلہ کیا ہے۔دو اہم اداروں کا حکومت سے ٹکراؤ اچانک چند گھنٹوں میں حل ہو گیا۔ بڑی بات ہے۔کہنے کو تو چند گھنٹے ہیں اور بظاہر ایک دو ملاقاتیں ہیں مگر معاملات کو قریب سے جاننے والوں کا کہنا ہے کہاس پورے معاملے کو  طے  حل کرنے میں کئی گھنٹے اور اور کئی  ملاقاتیں صرف ہوئی ہیں۔
 بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ ہفتے ایک اعلی سطحی اجلاس میں اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا گیاکہ میمو کیس میں سپریم کورٹ میں عسکری قیادت اور حکومت ایک جیسا موقف پیش کریں۔ اور آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف جنرل شجاع پاشا کے جوابات سپریم کورٹ میں داخل کرنے سے پہلے وزیر اعظم کو بھیجے جائیں گے۔ لیکن یہ بیل جلدی مونڈے نہیں چڑھی۔ عسکری قیادت اور حکومت نے  الگ الگ بلکہ ایک دوسرے سے متصادم جوابات داخل کئے۔آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کا موقف تھا کہ میمو ایک حقیقت ہے جبکہ حکومت کا موقف تھا کہ اس کا کوئی وجود نہیں۔
 عسکری قیادت کی شاید اس لئے بھی اس کیس میں دلچسپی کم ہو گئی کہ تمام ریکارڈ منصور اعجاز رلیز کر چکے تھے۔ اور جنرل شجاع پاشا امریکہ میں ملاقات کر کے تمام شواہد کٹھے کر چکے ہیں۔جو ریکارڈ میڈیا کو ریلیز کیا گیا ہے اس میں  یہ بات بھی کہی گئی ہے کہمسٹر پی نے مبینہ طور زرداری حکومت کو گرانے کے لئے بعض عرب ممالک سے منظوری لے لی تھی۔ اگرمیڈیا میں شور ہوتا رہا اور سپریم کورٹ میں اس معاملے پر کھل کر بحث کی تو مسٹر پی کی پوری کہانی کھل جائیگی۔ اور میمو گیٹ کا رخ کسی اور طرف ہو جائیگا۔
عسکری قیادت کو اس بات کا بھی احساس ہے کہ میمو گیٹ کے تکرار میں صدر زرداری یا  وزیراعظم گیلانی میں سے کسی ایک کو بھی ہٹایا گیا تو  متبادل قیادت موجود نہیں ہے۔ فوجی قیادت نواز شریف سے پہلے سے بیزار ہے۔لہذا اس کے ساتھ چلنا خاصا مشکل ہوگا۔ عمران خان کو پاؤں جمانے میں ابھی وقت لگے گا۔ لہذایہی بہتر ہے کہ صدر آصف زرداری اور گیلانی پر ہی گذارا کیا جائے۔ 
 اس اثناء میں پیپلز پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کا بھی اجلاس ہوا جس میں پورے معاملے کو عوام میں لے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔  
مقتدرہ حلقوں  کے پاس ایک اور تجویز زیر غور رہی جسکا عندیہ وزیر اعظم گیلانی نے بھی دیا تھا۔ وہ تھا قومی حکومت۔ قومی حکومت میں فیصلہ سازی مشکل ہوتی اور یہ بات امریکہ اور عسکری قیادت دونوں کو پسند نہیں کہ ایک فیصلے کے لئے اتنے سارے لوگوں  کے محتاج ہوں۔ اس بات نے نواز شریف کو بھی ڈرا دیا۔ اس سے قبل قومی اسیمبلی میں وزیر اعظم نے متنبیہ کیا کیا کہ مسلم لیگ (ن)  والے خوش نہ ہوں، اگر موجودہ حکومت جاتی ہے تو انکی حکومت بھی نہیں آئے گی۔ بلکہ موجودہ نظام ہی ختم کردیا جائیگا۔اور خاصے عرصے تک انتخابات نہیں ہونگے۔ وزیر اعظم کے اس بیان  کے بعد چوہدری نثار علی نے قومی اسیمبلی کے اجلاس میں نرم رویہ رکھا۔ ان کو یقین تھا کہ اگر انکی پارٹی کو حکومت میں آنے کا موقعہ نہیں مل رہا تو ابھی زرداری  اور پیپلز پارٹی کی حکومت کو گرانا گناہ بے لذت ہو جائیگا۔چوہدری نثار علی قومی اسیمبلی میں یہ تک کہا کہ انکی پارٹی جمہوریت کے خلاف کسی سازش کا ھصہ نہیں بنے گی اور حکومت سے تعاون کرنے کے لئے تیار ہے۔ 
 آرمی چیف سپریم کورٹ میں  جواب داخل کر کے یہ تاثر دیا ہے کہ سپریم کورٹ نہایت ہی قابل احترام ادارہ ہے۔ اس ایکشن سے یہ بھی مطلب نکلتا ہے کہ کل اگر سپریم کورٹ نے اگر کسی فیصلے پر عمل درآمد کرانے کی ہدایت کی  تو اس پر عمل کیا جائیگا۔اس طرح سے سپریم کورٹ کی طاقت میں اور بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ سپریم کورٹ میں  جوابات داخل کرنے کے بعد  عدالت اور آرمی چیف دونوں نہیں چاہتے تھے کہ  اب میڈیا اس معاملے پرزیادہ شورمچائے۔ 
اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے آرمی نے وزیر اعظم سے ملاقات کی۔ اور ا س تین گھنٹے کی میٹنگ کے دوران فون پر صدر نے وزیر اعظم اور آرمی چیف جنرل کیانی سے بھی بات کی۔ اس ملاقات کے بعد ہورا ماحول ہی بدل گیا۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ فوج اور عدلیہ دونوں جمہوریت کے ساتھ ہیں اور یہ دونوں ادارے جمہوریت کو ڈی ریل نہیں کرینگے۔
امریکی قومی سلامتی کے سابق مشیر جیمز جونز کے حلفیہ بیان نے حکومت کی پوزیشن دو حوالوں سے مضبوط کردی۔ ایک تو یہ کہ اس میمو سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ ابھی تک امریکہ اس حکومت کا ساتھ دے رہا ہے۔
 تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو ہفتوں سے امریکہ پاکستان میں ہونے والی سرگرمیوں کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا اور بظاہر اس پر اظہار خیال نہیں کر رہا تھا۔ تاہم وہ مختلف آپشنز پر بھی غور کر رہا تھا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ ہمیشہ اس فریق کی حمایت کرتا ہے جس کے ساتھ عوام کھڑے ہوں یا جس کے پیچھے عوام کو کھڑا کیا جا سکے۔ دو ہفتوں کی سرگرمیوں کے مطالعے اور ہر فریق کی طاقت کا  اندازہ لگانے کے بعد  بالآخر اس نے  اپنی حمایت کا  وزن حکومت کے دامن میں ڈالا۔مبصرین کے مطابق ملک کے تین سرکردہ اداروں کے درمیان اتنا بڑا ٹکراؤ تھا کہ کسی کی ثالثی کے بغیر اسکا حل ہونا ممکن نہیں تھا۔کوئی تو ثالث تھا جس نے یہ معرکہ سرانجام دیا۔ سوال یہ ہے کہ ایسا ثالث کون تھا جس نے متصادم سب  اداروں کو منوا بھی لیا اور ہر فریق کو ضمانت بھی دے دی؟ ایسے معاملات حل کرنے کے لئے ملک کے اندر نہ مکینزم ہے اور نہ ہی کوئی ایسی شخصیت۔ ایک بار پھر کسی باہر کی شخصیت یا ملک کا کمال  دکھائی دیتا ہے۔جس پر تمام فریقین کو بھروسہ بھی ہے۔
 بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ جب آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کے بیانات پر بحث کریگی تو اور صورتحال واضح ہو جائے گی۔ کیونکہ عدالت عظمی کے ریمارکس صورتحال کو واضح کرے گی۔ یہ صرف کہنے کی بات ہے۔ البتہ اس بات کا ضرور امکان ہے کہ ایک دو سماعتوں  کے بعد کسی اچھے وقت کے انتظار میں یہ درخواست پینڈنگ میں چلی جائے۔ بالکل اسی طرح جیسے اصغر خان کی درخواست التوا میں پڑی ہوئی ہے۔کیونکہ ایسی درخواستیں جس میں خفیہ اداروں کے معاملات زیر بحث آئیں اس کو منظر عام پر نہیں لایا جا سکتا اور نہ ہی  عدالت سے کوئی فیصلہ لیا جا سکتا۔لہذا میمو گیٹ کو دفنانے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اور آئندہ چند روز میں ٹی وی چینلز کا رویہ بھی تبدیل ہو جائیگا  میڈیا بھی کچھ اور کرنے لگے گی۔

No comments:

Post a Comment