Thursday, 5 March 2020

نئے صوبے: انتخابی مہم کا مقبول نعرہ بنے گا؟ 2012-01-09

 Mon, Jan 9, 2012, 9:47 AM
نئے صوبے: انتخابی مہم کا  مقبول نعرہ  بنے گا؟ 
میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی
وزیر اعظم سیدیوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ سرائیکی صوبہ ضرور بنے گا اور قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں سرائیکی صوبے کے قیام کا بل پیش کیا جائیگا۔موجودہ حکومت نے پختونوں کو  پختونخواہ کی شکل میں شناخت دی۔ گلگت۔  بلتستان کو بھی شناخت ملی۔اب سرائیکی عوام کو بھی یہ شناخت دینے  جا رہی ہے۔ 
 نئے صوبوں کی حمایت اور مخالفت کے گرما گرم بحث  کی فضامیں ایم کیو ایم نے بیسویں آئینی ترمیم کا بل قومی اسیمبلی میں جمع کرایا ہے۔ جس میں نئے صوبوں کی تشکیل کے ساتھ اسکے طریقہ کار کو بھی تبدیل کرنے کی تجویز دی ہے۔بل میں کہا گیا  ہے کہ آئین میں صوبوں کی تشکیل کے طریقہ کار تبدیل کر کے متعلقہ صوبائی اسیمبلی کی دو تہائی اکثریت کے بجائے ریفرینڈم کے ذریعے فیصلہ کیا جائے۔بالفاظ دیگرے متعلقہ صوبائی اسیمبلی سے  اسکا  اختیار لے لیا جائے۔ 

ملک میں نئے صوبے بنانے یعنی صوبوں کی جغرافیائی حدود میں تبدیلی کے لئے آئین میں ایک طریقہ متعین ہے۔آئین کے آرٹیکل239  کی شق4 میں ایسی کسی تقسیم یا تبدیلی کے لئے  متعلقہ صوبائی اسیمبلی کی دو تہائی اکثریت کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ سرائیکی صوبے کے لئے بھی یہ آئینی طریقہ اختیار کیا جائیگا۔ مگر ایم کیو ایم راستہ مختصر کرنے کے لئے اس شق میں ترمیم کی تجویز لے کر قومی اسیمبلی میں پہنچی ہے۔ جس مطابق جس صوبے کی تقسیم ہونی ہے اس کے منتخب نمائندوں اور اداروں کو نظر انداز کرکے بالائے بالا فیصلہ کرانا  چاہ رہی ہے۔یہ کہاں کہ انصاف ہے کہ پارلیمنٹ کو کسی صوبے کی تقسیم کے لئے حق دیا جائے،  جبکہ قومی اسیمبلی میں ایک صوبے کی پچاس فیصد سے زائد نشستیں ہوں؟  ایک طرف اٹھارویں آئینی ترمیم منظور کر کے صوبوں کو خودمختیاری دی گئی ہے تو دوسری طرف نئے صوبے بنانے کا اختیار  پارلیمنٹ کو یعنی وفاق کو دیا جا رہا ہے۔
 ایم کیو ایم نے آئین میں متعین طریقے سے ہٹ کر ریفرینڈم کرانے کی تجویز دی ہے۔ ہمارے ملک میں ریفرینڈم کی تاریخ بڑی تکلیف دہ رہی ہے۔ان ریفرنڈمز میں عوام کی رائے اور مرضی کا کتنا عمل دخل تھا یہ سب کو پتہ ہے۔ریفرنڈم تو جنرل ضیا نے بھی کرایا تھا۔  اس ریفرنڈم میں عوام کی کتنی مرضی شامل تھی؟
 جس دن ایم کیو ایم نے قومی اسیمبلی میں یہ بل جمع کرایا اس دن سے  ایوان میں غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال اور ہنگامہ آرائی اتنی بڑھ گئی کہ ڈپٹی اسپیکر کو بیس منٹ کے لئے اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔ مسلم لیگ (ن) اور عوامی نیشنل پارٹی کسی بھی طور پر لسانی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کی مخالف ہیں۔نواز لیگ کا کہنا ہے کہ وہ نئے صوبوں کے قیام کے خلاف نہیں ہے مگر اس سے متعلقہ صوبائی اسیمبلی سے دو تہائی اکثریت سے منظور  ہونا چاہئے۔ 
تعجب کی بات ہے نئے صوبوں کے لئے وہ پارٹی بات کرہی ہے جسکا پنجاب اور پختونخوا میں ایک بھی رکن اسیمبلی نہیں۔آخریہ پارٹی کون سے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے؟۔  سندھ کے عوام  اس تجویز کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پارٹی ابھی دوسروں کے لئے صوبوں کی بات کرکے آگے چل کر کراچی صوبے کی بات کرے گی۔ 
کراچی اور حیدرآباد کی دیواروں پر چاکنگ کر کے میڈیا میں یہ بات کی کہ ہمارا اس چاکنگ سے کوئی تعلق نہیں مگر حکمران نوشتہ دیوار پڑھ لیں۔ اس  پرسندھ کے لوگوں میں سخت اشتعال پیدا ہو گیا۔تاہم بروقت مداخلت کی وجہ سے صوبہ خونریزی  سے بچ گیا۔اس طرح کی اشتعال انگیز سرگرمیاں  80اور 90کی دہائی میں کی گئیں تھیں جس کے نتیجے میں کئی انسانی جانیں موت کے منہ میں چلی گئیں۔ آج تک ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی کراچی اور حیدرآباد کا مقدر بنی ہوئی ہیں۔در اصل بعض حلقے سندھ کی تقسیم کے لئے کافی عرصے سے سرگرم ہیں،تاکہ صوبے کی آڑ میں سندھ کے وسائل، بندرگاہ، شہروں اور وہاں کی اربوں روپے کی زمین، عمارتوں پر قبضہ کر لیا جائے۔ بعض سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم اس بل کو  الیکشن میں استعمال کرنا چاہتی ہے۔ 
 جب ملک سلامتی سمیت کئی مسائل میں گھرا ہوا ہے۔  جمہوری عمل خطرے میں ہے۔ اداروں کے درمیاں ٹکراؤ  خطرناک شکل حد تک موجود ہے۔ایبٹ آباد آپریشن،سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو کے حملے، میمو معاملے پر کمیشن میں جاری تحقیقات، سرکاری اداروں کی تباہی،  رکارڈمہنگائی،  بیروزگاری، تیل اور گیس کی کمی کے مسائل شدید صورت اختیار کر چکے ہیں۔ ایسے میں آئینی ترمیم  یعنی صوبائی اسیمبلیوں کو بائی پاس کرنا وغیرہ  کے معاملات اٹھائے جا رہے ہیں  جن پر اتفاق رائے کے بجائے شدید اختلاف رائے موجود ہے اسکی ایک جھلک گذشتہ ہفتے قومی اسیمبلی کے اجلاس میں نظر آچکی ہے۔ 
تعجب کی بات ہے۔ نصف صدی تک پہلے سے موجود صوبوں کو تسلیم کرنے اور انکو اختیارات  دینے کا معاملہ  متنازع بنا رہا۔حال ہی میں اٹھارویں ترمیم کے تحت  دی گئی صوبائی خود مختیاری پرٹھیک سے عمل درآمدہونا باقی ہے۔ اس صورتحال میں مزید صوبے بنانے کی بات شدت سے سامنے آئی ہے۔ تین سال تک ان سیاسی پارٹیوں کو نئے صوبے بنانے کا  خیال نہیں آیا، جب ملک معاشی اور سیاسی بحران کا شکار ہ تب اتنے زور و شور سے یہ بات اٹھائی جا رہی ہے۔  
ایم کیو ایم نے بل تو پیش کردیا ہے مگر اس کو کیا کہئے کہ وہ ایسے صوبوں میں نئے صوبے بنانے جا رہی ہے جہاں پر  اس کی ایک بھی سیٹ نہیں ہے۔ جبکہ کہ آئین کے مطابق کسی صوبے کی جغرافیائی حدود میں تبدیلی کے لئے متعلقہ صوبے کی اسیمبلی سے دو تہائی اکثریت سے منظوری لازمی ہے۔ کیا ایم کیو ایم نے دوسرے متعلقہ فریقین سے صلاح مشورہ کیا ہے۔ ایسا بھی نہیں لگتا کیونکہ کہ پختونخوا میں اے این پی کی حکومت ہے اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی ان دونوں پارٹیوں نے قومی اسیمبلی میں ایم کیو ایم کی اس عمل پر جھگڑا کیا اور مخالفت کی۔
صورتحال یہ ہے کہ کوئی بھی پارٹی اتنی اکثریت میں نہیں ہے کہ نئے صوبوں کے بل کو منظور کراکے اس کو عملی شکل دے پائے۔ابھی یہ بحث کسی نتیجے پر نہیں پہنچی تھی کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے  قبائلی علقوں پر مشتمل قبائلستان کا صوبہ نانے کی بحث چھیڑ دی ہے۔
آئینی طور پر موجودہ سیاسی حالات میں کوئی نیا صوبہ بنانا مشکل ہی نہیں ناممکن لگتا ہے۔ کیونکہ نئے صوبے تجویز کرنے والی پارٹیوں کو خواہ پیپلز پارٹی ہو یا  ایم کیو ایم،  یا مسلم لیگ (ق)متعلقہ صوبائی اسیمبلیوں میں اکثریت حاصل نہیں۔ اے این پی  اپنے دو اضلاع کیسے سرائیکی صوبے کو دے دیگی، جبکہ ہزارہ صوبے کے سوال پر 2010 میں تقریبا دو بندے قتل کئے جا چکے ہیں۔
 پاکستان کی  مرکز پسند اسٹیبلشمنٹ جو پہلے صوبے موجود ہیں ان کو خود مختیاری اور حقوق دینے کے لئے تیار نہیں وہ کیسے دوسرے صوبوں کو برداشت کر لے گی؟ اسکا مطلب یہ کھیل کچھ اور ہے۔اس کی د ہی مطلب ہو سکتے ہیں  ایک یہ کہ ملک میں صوبائیت  کے ابھار کے نام پر ایک بار پھرصوبوں کی حیثیت ختم کرکے مرکزیت  کا نظام  نافذ کر دیاجائے۔ دوسرے یہ کہ آئندہ  انتخابات میں نئے صوبوں کی تشکیل کا معاملہ انتخابی مہم کا  مقبول اور  بھرپور نعرہ  ہو جائے۔

No comments:

Post a Comment