Thursday, 5 March 2020

مشرف کی آمد 2012-01-16

 Mon, Jan 16, 2012 at 10:09 AM
مشرف  کی آمد
 کالم  سہیل سانگی
نو سال تک ملک کے سیاہ و سفید کے ملک  رہنے والے ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے وطن واسپی کا اعلان کرتے ہوئے صدارتی انتخاب لڑنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔ ان کی آمد کے حوالے سے بہت سے سوالات ہیں۔ کیا وہ  واقعے جنوری کے آخر میں  پاکستان آرہے ہیں؟ اگر آئیں گے تو نا کے ساتھ کیا سلہک کیا جائے گا؟ سیاست میں ان کا کیا رول ہوگا؟ وغیرہ وغیرہ۔
ان کا بیرون ملک جانا  بینظیر بھٹو اور نواز شریف سے مختلف تھا۔ وہ گئے بھی اپنی مرضی سے تھے۔ نواز شریف کو انہوں نے ملک بدر کیا تھا۔جبکہ بینظیر کے لئے وطن عزیز کی سر زمیں اتنی تنگ کردی گئی تھی کہ ان کے پاس سوائے جلاوطنی کے اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ابھی جب وہ وطن ّنے کا سوچ رہے ہیں یقینا انہیں یہ یاد آرہا ہوگا کہ کس طرح  انہوں نے ان دونوں سیاسی رہنماؤں کو وطن آنے سے روکا تھا۔   
بینظیر بھٹو کو این آر او کے باوجود وطن آنے کی اجازت نہیں دی۔اور کہا کہ وہ اگر آئیں تو اپنے رسک پر آئیں وہ ان کے تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتا۔بینظیر جب وطں پہنچیں تو ان کے استقبالی جلسے کو خون سے نہلا دیا گیا۔ اور بعد میں 27 دسمبر کو انہیں رالپنڈی میں قتل بھی کر دیا گیا۔ 
 کیاوطن واپسی پر ریٹائرڈ جنرل کا محاسبہ ممکن ہے؟  مسلم لیگ (ن) کا موقف ہے کہ مشرف کے خلاف 2007میں ایمرجنسی نافذ کرنے پر غداری کا مقدمہ چلایا جانا چاہئے۔وزیر اعظم اور صدر کا کہا ہے کہ مشرف پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے۔ پارلیمنٹ میں دو جماعتیں مسلم لیگ (ق) اور ایم کیوایم  بھی موجود ہیں جو مشرف کے ساتھ تھیں۔
مشرف کی پالیسیوں  اور اقدامات سے  ملک کو معاشی، سیاسی نقصانات ہوئے سو ہوئے مگروہ بعض  ایسے اعمال کے بھی مرتکب ہوئے جو جرائم میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ آئین اور قانون سے بالاتر نہیں ان کو آئین کے کٹہرے میں ضرور کھڑا ہونا پڑیگا اور بہت سارے سوالات کے جوابات دینے پڑینگے۔ اگر تاریخ کو کھنکھلا جائے تو اور بھی بہت سارے  واقعات سامنے آئیں گے، مگر ذیل میں چند ایسے الزامات ہیں  جن سے عام پاکستانی بھی آگاہ ہے۔
 ۱)  ایبٹ آباد کی سیشن کورٹ نے گمشدہ افراد کے ایک مقدمے میں مشرف کو  اشتہاری مجرم قرار دے چکی ہے۔
۲)  فروری  2011میں انسداد دہشتگری کی عدالت نے بینظیر بھٹو کے قتل کی سازش کرنے کے الزام میں وارنٹ گرفتاری جاری کئے  چکی ہے۔
۳)  مارچ 2011 میں سندھ ہائی کورٹ   ان کے خلاف غداری کے الزامات عائد کر چکی ہے۔ 
۴)  بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کا مقدمہ قتل ہے، جس میں انہیں اشتہاری مجرم قرار دیا جا چکا ہے۔ 
 ۵)  پاکستان کی سرزمین امریکہ کے ہاتھوں بیچا اور تین اڈے امریکہ کے حوالے کئے۔جہاں سے امریکہ اپنے آپریشن اور حملے کرتا رہا۔ 
 ۶)کارگل کی مہم جوئی 
 ۷)  نومبر 2007کی ایمرجنسی جس کی توثیق ابھی تک پارلیمنٹ نے نہیں کی۔ 
 ۸) ججوں کی معزولی اور انہیں حراست میں لینا۔  
 ۹) بینظیر بھٹو کا قتل، جس میں خود بینظیر انہیں نامزد کر گئی تھیں۔ 
 ۰۱)  12 مئی2007کو کراچی میں قتل عام 
 ۱۱)  ڈرون حملوں کی اجازت، جس  سے متعلق  ایک آئینی درخواست  پشاور ہائی کرٹ میں زیر سماعت ہے۔ 
  کچھ  مقدمات تو عدالتوں میں ہیں۔ جب کہ باقی  الزامات کے لئے کئی لوگوں کی کوشش ہے کہ وہ بھی مقدمات کی شکل اختیار کر لیں۔ جبکہ سابق ڈکٹیٹر کی کوشش ہے کہ وہ  واشنگٹن اور ریاض سے  ضمانتیں لے کہ پاکستان پہنچنے پر انہیں گرفتار نہیں کیا جائیگا۔ جب تک اس طرح کے واضح پیغامات  صدر زرداری اور  جنرل کیانی کو نہیں مل جاتے  وہ نہیں آنا چاہ رہے ہیں۔بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عربیہ نے مشرف کو یقین دلایا ہے کہ ان کے خلاف آئین کے شق چھ کے تحت غدرای کا مقدمہ نہیں چلایا جائے۔ 
 اقتدار پر قبضہ کرنے کے کچھ ہی عرصہ بعد مشرف نے  ججوں کے حلف میں تبدیلی کا حکم نامہ جاری کیا اور ججوں سے کہا گیا کہ وہ فوج سے وفاداری کا حلف لیں۔اگست 2002 کو لیگل فریم ورک آرڈر  جاری کر کے 73ع کے آئین میں کئی ترامیم کیں۔مسلم لیگ کو توڑ کر  الگ سے مسلم لیگ (ق) بنوائی۔ اور مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم کی مخلوط حکومت قائم کی۔جس نے  ان کی حکومت کوlegitimise  کیا. دسمبر 2003 میں مشرف نے چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے ساتھ معاہدہ کیااورآئین میں سترہویں ترمیم منظور کراکے آرمی چیف اور صدرکے عہدے پر بیک وقت  فائز رہے۔  
  جنت سے نکالے گئے یہ ”فرشتے“ خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر کے خود کو  لندن اور دبئی تک محدود کرنے والے مشرف کا کوئی سیاسی رول یا مستقبل ہے بھی؟ 
ریٹائرڈ جنرلوں کی خواہشا ت اپنی جگہ، پر پاکستان کی تاریخ میں آج تک کسی بھی ریٹائرڈ جنرل نے شدید خواہشات اور کوششوں کے باوجود کوئی بڑا کارنامہ نہیں کیا، اصغر خان،  جنرل اسلم بیگ  اور کچھ اور جنرل  بارہا یہ کوشش کر چکے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ فوج نے کبھی ریٹائرڈ جنرل کا ساتھ نہیں دیا ہے، ماسوائے انکی فوجی اعزاز کے ساتھ تدفین کے۔حاضر سروس  اور ریٹائرڈ جنرل کے بارے میں فوج کے اپنی  قواعد و ضوابط ہیں۔ 
مشرف نے 2010 میں لندن میں بیٹھ کر آل پاکستان مسلم لیگ بنائی۔ جس کے بعد وہ  مختلف ممالک میں لیکچر دیتے رہے۔ان کے لیکچرز کے سلسلے کی دو چیزیں اہم ہیں۔ ایک یہ کہ ہمیشہ اپنی احیثیت سے بڑھ کرباتیں کیں، دوسرے یہ کہ سامعین  کا حلقہ ان کے حامیوں کا تھا۔
 اگر مشرف  وطن آجاتے ہیں اور مقدمات سے بھی بچ جاتے ہیں  تو یقیننا وہ سیاست کرنے کی کوشش کرینگے۔ اس کوشش میں  وہ سب سے زیادہ نقصان نواز شریف کو انتخابی مہم میں دے سکتے ہیں۔  ان کی واپسی کا  زیادہ سیاسی اثرعمران خان اور نواز شریف پر پڑسکتا ہے۔ نواز شریف  اور جنرل مشرف ایک دوسرے کے سیاسی اورذاتی مخالفبن چکے ہیں۔ 
مشرف کو ایک مضبوط اور منظم مشین چاہئے۔جبکہ ان کی اپنی پارٹی ایسی نہیں ہے۔ ان کے لئے ایک آپشن یہ بھی ہے کہ  وہ ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کر لیں۔ ایم کیو ایم  انکی اتحادی رہی ہے، اوروہ خود بھی اردو اسپیکنگ ہیں۔ انہوں نے  ملک میں جو بلدیاتی نظام نافذ کیا تھا  اسکا سب سے زیادہ فائدہ بھی ایم کیو ایم کو ملا تھا۔ ایم کیو ایم نے آخر تک مشرف کا ساتھ دیا تھا اور عہدہ چھوڑنے سے چند دن قبل جب ان کے ساتھ کوئی بھی نہیں تھا، ایم کیو ایم نے کراچی میں ان کی حمایت میں ریلی نکالی تھی۔
رواں ماہ  کے دوران کراچی میں ویڈیو خطاب میں مشرف نے اعلان کیا کہ وہ جنوری کے آخری ہفتے میں پاکستان آئینگے۔  یہ خبریں بھی شایع ہوتی رہیں کہ انہوں نے آرمی چیف  جنرل کیانی سے فون پر بات کی  اور اپنے تحفظ کے لئے فوج کو اپنی ذمہ داریاں یاد دلانے کی کوشش کی۔ن سے نہ صرف اسکی آمرانہ پالیسوں کی وجہ سے نفرت کی جاتی ہے،  میڈیا پر کریک ڈاؤن، سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف کارروائی،  بجلی کا بحران وغیرہ۔ ایسے نکات ہیں کہ لوگ ابھی تک بھولے نہیں، ایٹائرڈ جنرل کے پاس صرف آئیڈیا ہی آئیڈیا ہے جسے وہ  امریکہ اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے پاس بیچنا چاہ رہے ہیں۔
 گذشتہ دو ہفتوں کے دوران  فوج کی صدر زارداری اور  وزیر اعظم گیلانی سے ناراضگی  کے باعث اس شبہہ کو مزید تقویت ملی کہ آرمی  ایک فوجی سیاستدان کی حمایت کریگی۔مگر موجودہ فوجی قیادت  ملک کی رائے عامہ اور  جمہوریت دوست  ہونے کی دعویدار بنی ہوئی ہے۔ایسے میں اگر عدالتیں  ریٹائرڈ جنرل مشرف سے کچھ حساب کتاب کرتی ہیں تو فوج بیچ میں نہیں آئیگی۔اگر مشرف کو سزا ہو جاتی ہے یا وہ جیل بھیج دیئے جاتے ہیں  تو یہ ان کے سیاسی کریئر کے لئے فائدیمند ہوگا، کیونکہ پاکستان میں بھٹو سے لیکر نواز شریف تک سب کا ہائی پروفائل جیل کی وجہ سے ہی بنا۔
 مبصرین کا کہنا ہے کہ تبدیل شدہ حالات میں  ان کی واپسی کے امکانات کم ہیں۔وہ شاید  چند  ماہ مزید انتظار کریں۔

No comments:

Post a Comment