Thu, Jan 5, 2012, 1:35 AM
میمو گیٹ کا عدالتی فیصلہ کیا بتاتا ہے؟
کالم میرے دل میرے مسافر۔۔۔۔ سہیل سانگی
ججوں کی بحالی کی تحریک کی اہم رہنما اور انسانی حقوق کی علمبردار نے میمو گیٹ میں عدالتی فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حسین حقانی کی وکیل کے طور پر عاصمہ جہانگیر کو مقدمے اور اسے ملکی حالات پر مرتب ہونے والے اثرات سے خاصی آگاہی ہے۔نجی ٹی وی چینل سے جو انہوں نے باتیں کی ہیں وہ بہت بڑے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ ان کی باتوں کو وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی حالیہ بیانات سے اور بھی تقویت ملتی ہے۔ ٹی وی چینل کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جج اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ میں ہیں۔اور چیف جسٹس بھی سیاست کا شکار ہوگئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو گھر بھیجنے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔عدالت کا فیصلہ اسٹیبلشمنٹ کی فتح ہے۔کچھ حلقے عاصمہ جہانگیر کے بیان کو توہین عدالت سے عبارت کر رہے ہیں۔عین ممکن ہے کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کوئی درخواست دائر ہو۔ اگر ایسا کیا گیا تو ایک اور بحران جنم لے گا۔ مگر ایسی توہین عدالت کی درخواست سے چونکہ عدلیہ بہت ذیادہ زیر بحث آجائیگی لہذا اس بات کے بہت کم امکانات ہیں۔تاہم اسے مکمل طور پر خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اب کوئی شبہہ باقی نہیں رہا کہ اداروں کے ٹکراؤ شدید تر ہو جانے کے بعد ملک کو عدم استحکام کا خطرہ ہے۔یہ عدم استحکام معاشی بھی ہے تو سیاسی بھی۔وزیر اعظم نے بھی اس صورتحال کی سنگینی کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: اگر موجودہ جمہوری حکومت نہیں رہی تو عدلیہ کی بھی لمبی چھٹی ہو جائیگی اورمیڈیا کو بھی تنگی کا منہ دیکھنا پڑیگا۔عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت مدت پوری کرنے کیلئے عدلیہ میں بیٹھی ہوئی ہے۔ نہ تو کوئی کام کر رہی ہے۔نہ سوچ رہی ہے، نہ ہی کوئی ڈھنگ سے جواب دے رہی ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد عدالتی کمیشن نے میمو گیٹ کی تحقیقات شروع کردی ہے۔عدالت نے عدالتی پر عملدرآمد کی رپورٹ طلب کی ہے۔حکومت کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا ہے۔اسٹبلشمنٹ کسی طور پر حکومت کو بردشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ حزب اختلاف کی بڑی جماعتیں خاص طور پر صدر زرداری کے خلاف مہم چلائے ہوئے ہیں کہ وہ مارچ میں ہونے والے سینٹ کے اتخابات سے پہلے عام انتخابات کا اعلان کرے۔
صدر زرداری نے بینظیر بھٹو کی برسی کے موقعے پر گڑھی خدابخش میں خارجہ پالیسی اور غیرملکی تجارت کے حوالے سے جو باتیں کی تھیں ان سے امریکہ اور حکومت کے درمیاں خلیج کا پتہ چلتا ہے۔اگر آرمی، امریکہ اور عدلیہ تینوں جمہوری عمل کو ختم کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں یا موجودہ حکمرانوں سے جان چھڑانا چاہ رہے ہیں تو پھر ایک ہی راستہ بچا ہے کہ صدر مارچ میں سنیٹ کے انتخابات کے فورا بعد عام انتخابات کا اعلان کریں۔ایسا کرنے سے شاید آصف زرداری اپنے عہدے پر برقرار رہیں۔اس تمام دباؤ حکومت برداشت کئے ہوئے ہے۔صدر زرداری خود مستعفی ہونے کے لئے تیار نہیں۔ فوج مارشل لاء نافذ کرکے حکومت میں آنے کی پوزیشن میں نہیں، کیونکہ ملکی خواہ غیرملکی حالات اس بات کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ عدلیہ کی جانب سے جتنا دباؤ ڈالا گیا وہ ناکافی ثابت ہوا کہ وہ حکومت چھوڑ کر بھاگ جائیں۔ مخالفین کی تمام تر خواہشات کے باجود کہ عدلیہ باضابطہ فیصلہ دے کر حکومت کی چھٹی کرا دے۔شاید براہ راست عدلیہ یہ فیصلہ دینے سے گریزاں ہے۔ ایسے میں ایک اور راستہ ڈھونڈا جا رہا ہے، وہ ہے حکومت کو ناکام اور ناکارہ ثابت کیا جائے۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہانی اپنی خوف ناک اوتکلیف دہ اختتامیہ کی طرف جا رہے ہیں۔ ملکی پارلیمنٹ کو غیر اہم اور غیر متعلقہ بنانے کی بھر کوششیں کی جا رہی ہیں۔صرف اتنا ہی نہیں صوبائی اسیمبلیوں میں کورم کی کمی اور میڈیا میں اسکی بھرپور انداز سے کوریج کورم نہ ہونے کو کچھ معنی پہنا رہی ہے۔
ملک میں جس طرح کی گورننس چل رہی تھی بحرانوں کا جنم لینا فطری تھا۔ اداروں کی خراب کارکردگی کی وجہ سے حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔بجلی کا بحران پہلے تھا۔اب گیس کے بحران نے سر اٹھایا ہے۔معاشی بحران تو تھا ہی اب اداروں کے زوال کی کہانی شروع ہو گئی ہے۔ اس تمام قصے میں بھگتنا عوام کو پڑتا ہے۔
پاکستان ریلویز، پی آئی اے، اور اسٹیل مل کا زوال چند ماہ پہلے ہم دیکھ چکے ہیں۔ اب گیس کمپنیوں نے صورتحال کو مزید خراب کردیا ہے۔ چولہے نہیں جل رہے ہیں، بچے بغیر ناشتہ کئے اسکولوں کو جا رہے ہیں ٹرانسپورٹ بند ہے، گاڑیوں کے کرائے بہت بڑھ گئے ہیں۔ ان چیزوں نے عام آدمی جو سیاسی بحران کو حکمران طبقے کا کھیل یا میوزیکل چیئر سمجھتا تھا، اسکو بھی اس بحران میں فریق بنایا گیا ہے۔گیس کا بحران بیروزگاری بھی پیدا کر رہاہے۔
گیس کے اس بحران اور پنجاب میں اس اشو پر زیادہ احتجاج کی وجہ سے ایک اور پہلو بھی ابھر کر سامنے آیاہے۔وہ یہ کہ چھوٹے صوبوں اور خاص کر سندھ میں یہ احساس برھ گیا کہ پنجاب گیس کم پیدا کرہا ہے اور استعمال زیادہ کر رہا ہے۔ اعداد شمار کے مطابق سندھ ستر فیصد گیس پیدا کرتا ہے اور اکتالیس فیصد استعمال کرتا ہے۔ پنجاب پانچ فی صدگیس پیدا کرتا ہے اور 41فی صد استعمال کرتا ہے۔ بلوچستان کی پیداوار 7فیصد ہے اور استعمال 17فیصد ہے۔ جبکہ خیبر پختونخوا کی پیداوار 10فی صد اور تصرف 7 فیصد ہے۔ملک میں 3500 سی این جی اسٹشن ہیں جن میں سے2300 پنجاب میں ہیں۔گیس کے اس بحران نے ملکی معاملات میں ایک نئے عنصر کا اضافہ کریدا ہیجس کا اثر ابھی چاہے نہ ہو پر آگے چل کریہ عنصر بہت سی چیزوں پر اثرانداز ہوگا۔پاکستان میں گیس کا بحران 2008 جاری ہے۔قوم گیس ایمرجنسی کی صورتحال پر کھڑی ہے۔کئی ایک بحران مشرف حکومت کی دین ہیں۔بد نظمی، کوئی توانائی نہیں، کارخانے بند، کاروبار بند۔ مسئلہ یہ ہے کہابی جلد انتخابات ہوں یا مقررہ مدت پر، دونوں صورتوں میں انتخابات قریب ہیں۔ ایسے میں حکومت طویل المیعاد منصوبوں کے بجائے مختصر میعاد کے فیصلے کرے گی۔ اور یہ فیصلے وقتی رلیف تو دے سکیں گے مگر کوٗی مستقل حل نہیں دے سکیں گے۔ ایڈہاک فیصلے آگے چل کر عوام کے ہی گلے پڑیں گے۔
گیس کا بحران لوگوں کو سڑکوں پر لے آیا ہے۔ پنجاب کے شہروں میں ٹرانسپورٹروں، صنعتکاروں اور سی این جی مالکان کی ہڑتال نے مسائل میں اضافہ کرنے کے ساتھ احتجاج میں بھی اضافہ کردیا۔لوگ ویسے ہی سڑکوں پر ہیں۔ادھر مسلم لیگ (ن) اور حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم نے گیس کے بحران پر قومی اسیمبلی میں واک آؤٹ کیا۔ جماعت اسلامی نے بھی ملک گیر احتجاج کی اپیل کی ہے۔
پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے غیر اہم بننے، گیس کے بحران اور سیاسی بحران میں سرکاری مشنری اور دفاتر کی کارکردگی ختم ہو جانے کی وجہ سے ایک اور بڑا بحران جنم لے چکا ہے۔ جس کا ذکر عاصمہ جہانگیر ان الفاظ میں کر چکی ہیں کہ”حکومت کوئی کام نہیں کر پارہی ہے“۔ شاید اب اٹبلشمنٹ یہی چارہی ہے کہ حکومت کا کاروبار خود سے بیٹھ جائے، اور اسکی ذمہ داری کسی اور کے بجائے خود حکمرانوں پر ہی آئے۔
No comments:
Post a Comment