Thu, Jan 19, 2012, 1:34 PM
آسرے میں بیٹھے ہوئے سندھ کے متاثرین
کالم سہیل سانگی
پورا ملک سیاست اور سیاسی بحران کی لپیٹ میں ہے۔ گذشتہ مون سون کی بارشوں کے لاکھوں متاثرین پانچ ماہ گذرنے کے بعد بھی بے سروسامانی میں زندگی گذار رہے ہیں۔ ان کی بحالی کا کوئی انتظام نہیں ہو سکا ہے۔ چند ماہ قبل سپریم کورٹ نے معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا۔اس کے بعد ملک کی اعلی ترین عدالت بھی سیاسی معاملات میں الجھ گئی اور بھول گئی کہ نصف درجن اضلاع میں کھڑے ہوئے پانی کی واقعی نکاسی ہو پائی یا نہیں، اور ان اضلاع کے لاکھوں رہائشی اب کس حال میں ہیں۔
صورتحال یہ ہے کہ ابھی تک بدین، عمرکوٹ، میرپورخاص، سانگھڑ اور ٹنڈوالہ یار کئی علاقوں میں دو سے چار فٹ تک پانی کھڑا ہے۔ متاثرین کی بحالی، سڑکوں کی تعمیر، نہیں ہو سکی ہے۔تباہ شدہ اسکولوں کی عمارتوں کی تعمیر نہ ہونے کی وجہ سے تعلیمی عمل معطل ہے۔کئی علاقے ایسے بھی ہیں جہاں تاحال بجلی اور گیس بحال نہ ہو سکی ہے۔لوگ پینے کے صاف پانی کے لئے پریشان ہیں۔ لہذا کوئی ایسا دن خالی نہیں جب متاثرین سڑکوں پر دھرنا نہیں دیتے اور مظاہرے نہیں کرتے۔تین اضلاع کے متاثرین اس سردی میں بھی کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔
نیشنل ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی دسمبر کی رپورٹ کے مطابق 232,000 افراد ابھی تک 755 کیمپوں میں رہ رہے ہیں جنہیں ہر طرح کی امداد کی ضرورت ہے۔ نوے لاکھ متاثرین میں سے 25 فی صد کو مختلف بیماریاں لگ چکی ہیں۔
یہ متاثرین بے گھر ہی نہیں رہے بلکہ بے یار و مددگار بھی رہے۔ آفت زدہ قرار دینے کا اعلان بہت ہی دیر سے کیا گیا تب تک لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے تھے۔ امدادی کارروائیوں میں جو گھپلے ہوئے وہ الگ حساب ہے مگر خود یہ کارروائیاں بھی دیر سے شروع کی گئیں۔ جو امدای کارروائیان ہوئیں وہ بھی کم تھیں۔ مزید برآن یہ کہ جو گھپلے اور کوتاہیاں ہوئیں انہوں نے لاکھوں افراد کو بہت بڑی تکلیف میں ڈال دیا ہے۔
آئیے ایک نظر ڈالیں کہ کس اسٹیک ہولڈر نے کیا کیا۔ حکومت کی جانب سے وطن کارڈ کے ذریعے متاثرین کوپہلی قسط میں دس ہزار روپے ملے۔ دوسری قسط کا کوئی آسرا نظر نہیں آتا، کیونکہ نہ حکومت کے پاس وقت ہے اور نہ ہی کوئی اا س اشو کو فالو کرنے والا۔ ٓسمان سے باتیں کرتی ہوئے مہنگائی کے دور میں دس ہزار روپے میں کوئی اپنے خاندان کے لئے کیا راشن لے گا، ٹینٹ خریدے گا یا، سردی سے بچنے کا انتظام کریگا یا پھر بیماری کی صورت میں علاج کرائے گا۔ حکومت ان متاثرین کی بحالی اور مالی امداد تو کجا حکومت زیر آب علاقوں سے پانی کی نکاسی بھی نہیں کر پائی کہ لوگ اپنے گھروں کو جا سکیں۔
رہی سہی کسررلیف کے سامان میں کرپشن کرکے نوکرشاہی نے پوری کی۔ اس کرپشن کی ایک جھلک واٹر فلٹر اور کمبلوں کی خریداری میں ملتی ہے۔محکمہ رلیف نے دو نجی کمپنیوں کو نو کروڑ روپے ایڈوانس دیئے مگر یہ سامان فراہم نہیں کیا گیا۔ اس معاملے کی کوئی نہ تحقیقات ہوئی اور نہ ہی کسی کے خلاف کارروائی ہوئی۔ یہ سب چیزیں غریب سیلاب زدگان کی کے لئے خریدی جا رہی تھی۔ جو ان تک نہیں پہنچ سکیں۔رلیف کمشنر کا کہنا ہے کہ گوداموں میں 20 ہزار خیمے اور20 ہزار کمبل موجود ہیں۔رلیف کمشنر نے دیدہ دلیری سے بول دیا ہے جیسے بحالی کا تمام کام مکمل ہو چکا ہو، سب لوگ اپنے گھروں کو چلے گئے ہوں اور گھروں میں رہ رہے ہوں، لہذا یہ کمبل اور خیمے بچ گئے ہوں۔ لوگ سڑکوں اور دیگر مقامات پر عارضی بندوبست کر کے رہ رہے ہیں اور سردیوں میں مر رہے ہیں۔ جبکہ زمینی صورتحال مختلف ہے۔ اگر سرکاری اعداد و شمار کو ہی لیا جائے تو سندھ کے محکمہ رلیف کی بے حسی پر افسوس ہوتا ہے۔ نیشنل ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی دسمبر کی رپورٹ کے مطابق 232,000 افراد ابھی تک 755 کیمپوں میں رہ رہے ہیں جنہیں ہر طرح کی امداد کی ضرورت ہے۔ نوے لاکھ متاثرین میں سے 25 فی صد کو مختلف بیماریاں لگ چکی ہیں۔
عالمی برادری بھی کوئی زیادہ امداد نہیں کر پائی ہے۔ متاثرین کو آسرے میں عالمی برادری نے بھی رکھا۔ اقوام متحدہ نے 356ملین ڈالر کی امداد کی اپیل کی تھی۔ مگر تاحال بمشکل وعدہ شدہ رقم کا چالیس فی صد رقم ملا ہے۔ سال 2010 کے سیلاب متاثرین کے لئے ایک ارب نوے کروڑ ڈالر کا وعدہ کیا گیا تھا، جس میں سے عالمی برادری نے ایک ارب تیس کروڑ ڈالرفراہم کئے تھے۔ حالانکہ بارشوں سے ایک سال قبل والے سیلاب کے مقابلے میں زیادہ تباہی آئی تھی۔ نیشنل ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق 34 ہزار گاؤں متاثر ہوئے، 16 لاکھ گھر منہدم ہوئے۔ اور 96 لاکھ افراد متاثر ہوئے۔ 22لاکھ ایکڑسے زائد کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ 36فی صد مویشی مر گئے۔ یوں صوبے کے 13 اضلاع میں غذائی کمی پیدا ہو گئی ہے۔ عالمی برادری کے کمزور ردعمل کی وجہ سے اور بھی صورتحال خراب ہو گئی ہے۔ ہیٹی میں جب تباہی آئی تھی تو فی متاثرفرد کے حصے میں 948 ڈالر آئے تھے مگر پاکستان میں 2010 کے سیلاب کے فی متاثر کے حصے میں 122 ڈالر آئے۔ اگر حساب لگایا جائے توبارش متاثرین کے حصے میں چند ڈالر بھی نہیں آئیں گے۔
اب یہ متاثرین کسی غیبی طاقت یا معجزے کے آسرے میں ہیں۔ کوئی تو ہو جو کوئی عالمی برادری کو جگائے، کہ وہ وعدہ کی گئی رقم فراہم کرے۔ یہ کام حکومت بھی کر سکتی ہے اور غیر سرکاری تنظیمیں بھی جو اس امدادی رقم میں اتنی ہی حصیدار ہوتی ہیں جتنے کہ خود متاثرین ہوتے ہیں۔ حکومت اور حزب اختلاف کو سیاسی بحرانوں سے فراغت ملے کہ ا ن کو متاثرین یاد آئیں۔ یا پھر سپریم کورٹ بھی سیاسی معاملات نمٹانے کے دوران کچھ وقت ان لاکھوں لوگوں کے لئے نکال لے اور ان کی مدد کے کئے ہدایات جاری کرے۔
No comments:
Post a Comment