Thursday, 5 March 2020

سندھ تبدیلی کے دہانے پہ -2012-10-23

Mon, Jan 23, 2012, 10:32 AM
 سندھ تبدیلی کے دہانے پہ
 کالم۔۔ سہیل سانگی
”بھوتار کلچر“ یعنی وڈیرہ شاہی سے بیزا ر سندھ کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے ہزاروں افراد سندھ کے عظیم شاعرجن کواب لوگ سیاسی امام کہنے لگے ہیں شاہ عبداللطیف بھٹائی کی مزار پربھٹ شاہ میں جمع ہوئے اور تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔مگر نئی پارٹی بنانے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ جس کا بڑا چرچا تھا۔ ااس بڑے مجمع کے محرک سندھی میڈیا گروپ ”کاوش“کے ایڈیٹر علی قاضی ہیں جو گذشتہ کئی برس سے اس آئیڈیا پر کام کر رہے تھے کہ صوبے کے بھوتار کلچر (وڈیرہ شاہی)میں کیونکر تبدیلی ممکن ہے۔ انہوں نے صوبے کے مختلف شہروں میں جا کر مختلف مکاتب فکر کے لوگوں سے صلاح مشورہ کرتے رہے اور اس سوال کا جواب تلاش کرتے رہے۔ 
علی قاضی کا تعلق سندھ کے جانے پہچانے سیاسی گھرانے اور میڈیا فیملی سے ہے ان کے والد قاضی محمد اکبر پرانے مسلم لیگی تھے اور سندھی صحافت کو بطور ادارہ  بنانے کے پیش رو تھے۔ان کے انتقال کے بعد علی قاضی نے والد کے صحافتی مشن کو آگے بڑھایا۔ اور ایک شام کے اخبار سے آغاز کیا، بعد میں یہ ادارہ ترقی کر کے میڈیا گروپ  بن گیا  اور اب یہ گروپ   نصف درجن مقبول اخبارات اور جرائد کے ساتھ ساتھ دو ٹی وی  چینل کا بھی مالک ہے۔
صحافی سے سیاستدان بننے والے علی قاضی پندرہ سال سے نجی محفلوں میں، دانشوروں، سیاسی کارکنوں اور سماج کے مختلف حلقوں کے ساتھ سندھ میں تبدیلی کے موضوع پر بحث بھی کرتے رہے اور لکھتے بھی رہے۔ اس موضوع پر انہوں نے دو کتابیں بھی لکھی۔ان کا کہنا ہے کہ خراب حکمرانی، ٹوٹا پھوٹا انفرا اسٹرکچر،  ڈاکو فیکٹر، بھتہ خوری  کے ساتھ ساتھ امن امان کی بدترین صورتحال، صحت، تعلیم جیسے شعبے یہاں کے لوگوں کی قسمت تو نہیں۔ وڈیروں کے ایک ٹولے کی حکومت آتی ہے تو دوسرے ٹولے کی آجاتے ہیں۔ انتخابات میں عام آدمی کا ووٹ بے وقعت ہوکر رہ گیا ہے۔الیکشن ہو تو بھی نا ہوں تب بھی عام آدمی کے حالات زندگی تبدیل نہیں ہو رہے ہیں۔انکا کہنا ہے کہ کہ اگر آج لوگ ان کو ’نو“ کہہ دیں تو تبدیلی آجائیگی۔ 
علی قاضی ایک ذہین شخص ہیں۔ بطور ایڈیٹر کے انہوں نے بولڈ صحافت کی اور انسانی حقوق اور دیگر اہم نئے موضوعات سندھ کی صحافت میں متعارف کرائے۔ وہ بہت ہی متحرک بندہ ہے ان کے ملک کی تقریبا تمام اہم سیاسی شخصیات سے روابط  اور اٹھنا بیٹھنا رہا ہے۔اور ادبی اور معاشرے کے دیگر طبقات سیبھی خاصا  انٹر یکشن  ہے۔
دو سال قبل انہوں نے سندھی کلچر ڈے منایا تھا، جس کو صوبے بھر میں بڑی پذیرائی ملی، اور سندھ کے تمام شہروں میں ہزاروں لوگ  اجرک اور ٹوپی پہن کے سڑکوں پر نکل آئے۔  ایک سال  بعد جب  دریائے سندھ میں مٹی اڑ رہی تھی تو انہوں نے سندھو دریا کا دن منانے کی اپیل کی کہ اگر لاکھوں لوگ دریائے سندھ پر پہنچ جائیں تو صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔ انکی اس کال کو بھی زبردست رسپانس ملا اور لاکھوں لوگ مقررہ دن پر سندھ بھر میں دریا کے کنارے جمع ہوئے۔اور دریا بادشاہ  پر پھول نچھاور کئے۔ لوگوں کو متحرک کرنے کے ان دو کامیاب تجربوں کے بعد علی قاضی نے باضابطہ  تبدیلی کی مہم چلانے کا فیصلہ کیا جو کہ برہ راست سیاسی نعرہ تھا۔ اکثر لوگوں کا خیال تھا کہ بھٹ شاہ پر وہ  نئی پارٹی کا اعلان کریں گے۔ مگر انہوں نے یسا نہیں کیا۔حالانکہ وہ اس سے قبل نئی پاڑتی بنانے کا عندیہ دے چکے تھے۔ 
  ”تبدیلی“کے نعرے کے ساتھ انہوں نے ڈیڑھ ماہ قبل باقاعدہ مہم  شروع کی۔سندھ کے کونے کونے میں گئے اور 188جلسے کئے۔ تمام لوازمات کے باوجود انہوں نے پارٹیٰ کا اعلان نہیں کیا۔ تاہم یہ جلسہ اور صوبے بھر میں منعقدہ ریلیاں اس بات کا اظہار ہیں کہ لوگ فوری طور پر تبدیلی چاہتے ہیں 
سندھ میں پیدا ہونے والی اس تحریک کو شہری اور درمیانہ طبقے، پرانے سیاسی کارکنوں، ادیبوں، دانشوروں اور نوجوانوں کی حمایت حاصل ہے۔سول سوسائٹی کے یہ لوگ کھڑے ہوئے پانی میں پتھر پھینک کر وڈیرہ شاہی کے خلاف جمود کوتوڑنا چاہتے ہیں۔اور وڈیرہ شاہی کلچر کے  مدمقابل متبادل کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے نئی پارٹی کیوں نہیں بنائی؟ یہ سوال سندھ بھر میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ ان کے بعض قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ علی صاحب کا شروع سے یہی  خیال تھا کہ اگر بھٹ شاہ پر کم از کم ایک لاکھ افراد جمع ہوئے تو وہ سیای جماعت کے قیام کا اعلان کرینگے۔ مجمع ایک لاکھ سے تو کم تھا یعنی محتاظ اندازے کے مطابق  ساٹھ  ستر ہزار افراد تھے۔مگر سیاسی معنوں میں اتنے بڑے مجمع کو ایک لاکھ کہا جا سکتا ہے۔ دوسرے حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ  محتاط طبیعت کے ہیں، جلد بازی میں کوئی کام نہیں کرنا چاہتے۔ وہ اس ہر مزید ہوم ورک کرنا چاہتے ہیں۔ باقاعدہ پارٹی منشور، کارکنوں کا کیڈر، دوسری سطح کی قیادت وغیرہ پر ابھی کام کرنا باقی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ملک میں موجود سیاسی بحران کی نوعیت کے پیش نظر انہوں نے اس مرحلے پر پارٹی بنانے کا فیصلہ فی الحال ملتوی کردیا ہو۔ ان میں سے جو بھی صورتحال ہو یہ طے ہے کہ سندھ کے لوگوں نے تبدیلی کا اشارہ دے دیا ہے۔ یہ تبدیلی کیسے ہوگی، اس کی شکل کیا ہوگی، اور نئی صورت کیا ہوگی؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات  سیاسی لوگ اور تجزیہ نگار تلاش کر رہے ہیں۔ کیونکہ خود علی قاضی اور دوسرے تبدیلی پسندوں نے ابھی تک کوئی روڈ میپ نہیں دیا ہے۔
اس پوری تحریک سے ایک اور سوال نے بھی جنم لیا ہے کہ کیا میڈیا معاشرتی تبدیلی میں براہ راست کردار ادا کر سکتی ہے؟ اس تحریک میں میڈیا نے بہت بڑا رول ادا کیا ہے۔
بھٹ شاہ کے جلسے کی خاص بات یہ تھی کہ سارے لوگ اپنے خرچے پر ہی آئے تھے اور انکا تعلق خاموش اکثریت سے تھا۔ روایتی سیاسی کارکن اخال خال موجود تھے۔ایک مبصر نے خوب تجزیہ کیا کہ روایتی سیاسی کارکن اپنی اپنی پارٹیوں سی کمٹیڈ ہیں وہ اب پروفیشنل بن گئے ہیں اور ان کے مفادات  پہلے سے موجود پارٹیوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔لہذا نہ وہ  آئے اور نہ ہی ان کو آنا چاہئے تھا۔ یہ تو پورا معاملہ ایک طرح سے اان کے خلاف تھا۔
 یہ پارٹی تو بنے گی آج نہیں بنی تو کل صحیح۔دیکھا جائے تو یہ تحریک سندھ کے شہری درمیانہ طبقے کی ہے۔ جس کو شہروں میں نہ  نمائندگی مل رہی ہے نہ اس کی حیثیت کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔دیہی علاقوں کا وڈیرہ اس شہری طبقے کی نمائندگی نہیں کرتا۔ اور نہ ہی ان کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔یہ شہری درمیانہ طبقہ تعلیم، کاروبار، اور دیگر ایسے شعبوں میں کچھ آگے نکل آیا ہے۔ 
اس وقت سندھ میں موجود پارٹیوں کی شہری علاقوں کی سندھی آبادی میں جڑیں نہیں۔ پیپلز پارٹی کا بیس دیہی علاقے ہیں اور اس کی ترجیح بھی دیہی علاقے ہیں۔ ایم کیو ایم  شہری علاقوں میں سندھی آبادی کامسئلہ ہے، پیپلز پارٹی اس کو ٹھیک سے دیکھ نہیں پا رہی۔ سندھ کی قوم پرست پارٹیاں بھی بڑی حد تک دیہی ہیں، کسی حد تک ڈاکٹر قادر مگسی کی سندھ ترقی پسند پارٹی شہری علاقوں میں اپنے وجود کا دعوا کرتی ہے، مگر اسکو بھی زیادہ پذیرائی دیہی علاقوں میں ہے۔ 
کیا سندھی شہری درمیانہ طبقہ اتنا مضبوط ہے کہ وہ سیاست میں اپنا حصہ نکال سکے،؟ سندھی بزنیس کلاس نہ ہونے کے برابر ہے۔ درمیانی طبقہ روایتی طور پر موقع پرست ہوتا ہے۔لیکن سندھ میں اس طبقے نے جتنی مار کھائی ہے  لہذا ممکن ہے کہ وہ زیادہ بہادری اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرے۔ اسکی ثابت قدمی کی ایک اور بھی وجہ ہو سکتی ہے کہ سندھ میں اردو بولنے والے مڈل کلاس نے ایک مثال قائم کی ہے جو کہ براہ راست اس طبقے کا رقیب ہے۔اس تحریک کی کامیابی تب ممکن ہے جب شہری آبادی کے ساتھ یہ سندھ کی دیہی آبادی کو اپنے ساتھ جوڑے۔بہرحال کچھ بھی ہو سندھ ایک تبدیلی کے دہانے پہ کھڑا ہے۔

No comments:

Post a Comment