Thursday, 5 March 2020

درانی کے شیدی کے بارے میں ہتک آمیز ریمارکس 2012-01-31

Tue, Jan 31, 2012, 12:56 AM
درانی کے شیدی  کے بارے میں ہتک آمیز ریمارکس 
میرے دل میرے مسافر۔۔ کالم سہیل سانگی 
وزیر بلدیات سندھ آغا سراج درانی کے سندھ اسمبلی کے ایوان میں شیدی کمیونٹی کے بارے میں دیئے گئے ہتک آمیز ریمارکس نے سوالیہ نشان چھوڑ دیئے ہیں کہ آج  اکیسویں صدی میں بھی  ایک ذمہ دار حکومتی عہدیدارایسے کلمات  استعمال کر رہے ہیں، جو نسل پرستی کے دائرے میں آتے ہیں۔ اگر برطانیہ یا کوئی اور ایسایورپی ملک ہوتا تو اب تک آغا سراج درانی کے خلاف نسلی امتیاز برتنے  کے الزام میں مقدمہ درج ہو چکا ہوتا۔ تعجب ہے کہ سندھ اسمبلی کے اسپیکر اور دیکر اراکین نے اتنی بڑی بات کا نوٹس نہیں لیا۔  اور نہ ہی پیپلز پارٹی نے تاحال سراج درانی سے پوچھ گوچھ کی ہے کہ انہوں نے اتنا  زہریلا جملہ کیسے بول دیا جو نسلی امتیاز کے دائرے میں آتا ہے  اورجس سے ایک پوری کمیونٹی کے جذبات مجروح ہوئے۔
  ایوان میں  وقفہ سوالات کے دوران وزیر موصوف بظاہر طنز و مزاح میں جواب دے رہے تھے۔ سوال کراچی میں رانی باغ کے ہاتھیوں  کے بارے میں تھا۔ جس کے جواب میں  وزیر بلدیات سراج درانی نے کہا کہ ایشیائی ہاتھی سفید ہوتا ہے اور افریقی ہاتھی کالا یعنی شیدیوں جیسا ہوتا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اگر ایوان میں وزیر موصوف کی برادری  سے متعلق ایسے کلمات ادا کئے جاتے تو انکا کیا ردعمل ہوتا؟  ہمارے سیاسی لیڈران  ذمہ دار پوزیشن پر بیٹھ کر غیر ذمہ دارانہ ریمارکس دیتے ہیں۔۔ ایوان میں اگر ایسے الفاظ کی اجازت دی جائیگی تو عام آدمی  کیا اثر لے گا۔
  ان نازیبا الفاظ کے خلاف شیدی  برادری سراپا احتجاج ہے۔ سندھ کے مختلف شہروں میں اس کمیونٹی نے مظاہرے کئے۔ انکا مطالبہ ہے کہ صوبائی وزیر  اس کمیونٹی سے معافی مانگیں۔ اور صدر آصف علی زرداری آغا سراج کو عہدے سے فارغ کریں۔
  سندھ میں ایک لاکھ سے زیادہ شیدی  یا حبشی برادری بستی ہے۔ غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے یہ لوگ مزدوری یا پھر گھروں میں کام کرنے کی ملازمتیں کر کے گذراوقات کرتے ہیں۔ پیغمبر صلی اللہ وسلم کے صحابی بلاول حبشی بھی اسی افریقی کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے۔  سندھ میں انگریزوں کے خلاف میانی کی جنگ میں مجاہدانہ طور پر لڑنے والے ہوش محمد شیدی جن کو سندھ میں ہیرو کی حیثیت حاصل ہے، انکا تعلق بھی اس کمیونٹی سے تھا۔ افریقی نسل کے یہ لو گ کراچی سمیت ذیلی سندھ کے مختلف شہروں میں آبا د ہیں۔بعض مورخین لیاری کی آبادی کو کہ بلوچی اور مکرانی  کے طور پر پہچانی جاتی ہے، ان کو بھی عرب نسل کے افریقی قرار دیتے ہیں۔کسی اور غریب طبقے کی طرح یہ لوگ بھی پیپلز پارٹی کے ووٹر ہیں۔پیپلز پارٹی کا ترانہ ”بجا تیر“ کی دھن بھی شیدی موسیقی پر ہے۔ صوبائی وزیر نے تو اپنی پارٹی  کے ووٹرز کی دل آزاری کی ہے۔
افریقی نسل کے یہ لوگ تاریخ کے مختلف ادوار میں سندھ میں آکر آباد ہوئے۔زیادہ تعداد ان لوگوں کی ہے جن کے آباؤ اجداد کو سترہویں صدی میں پرتگالیوں نے غلام بنا کر یہاں لا کر بیچا تھا۔بیحد محنتی،  جسمانی طور پر مضبوط یہ کمیونٹی اگرچہ مکمل طور پر سندھی ثقافت میں رچ بس گئی ہے تاہم اپنی بعض رسومات خاص طور پر ڈانس اور موسیقی کی  لۂ کو ابھی تک نہیں چھوڑا ہے۔ 
اس صورتحال کو سیاسی کوتاہ نظری کہئے یا علمیت کی کمی۔ یا پھر وزیر اور دیگر اراکین کے اندر بیٹھا ہوا ایک وڈیرہ یا رئیس جو نہیں سمجھتا کہ ایک غریب آدمی کی یا ایک غریب کمیونٹی کی بھی عزت نفس ہوتی ہے۔ 
اصل میں ہمارے سیاستدان جب بولتے ہیں تو انہیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ جو کچھ وہ بول رہے ہیں ان کی معنی کیا ہیں؟ اس کے اثرات کیا ہونگے؟   دور کیوں جاتے ہیں ماضی قریب کی چند مثالیں موجود ہیں۔سابق صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا جو آج کل سیاسی طور پر لاپتہ ہیں، انہوں نے اپنے دور وزارت میں اردو بولنے والے افراد سے کہا تھا کہ وہ تقسیم ہند کے وقت ننگے اور بھوکے آئے تھے۔ ان کے ان ریمارکس نے پیپلز پارٹی کی اتحادی جماعت کو ناراض کردیا، نتیجے میں ڈاکٹر مرزا کو معافی مانگنی پڑی۔ 
  ملک کی تاریخ میں حال ہی میں کچھ ایسے واقعات ہوئے ہیں جس کے بعد سیاست میں اخلاقیات کا سوال ایک با پھر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
دو ماہ قبل وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے صدر پاکستان آصف علی زرداری  پر سخت تنقیدکرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں الٹا لٹکا دیا جائیگا۔ اس پر سیاسی حلقوں میں خاصی گرما گرمی  ہوئی۔ اس سوال کے دو پہلو تھے۔ ایک یہ کیا  ملک کے منتخب صدر کے لئے  جس کو  دو تہائی ممبران نے ووٹ دے کر منتخب کیا ہے، اس کے خلاف  ایسی زبان استعمال کرنا عوام کا استحقاق مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ اس دلیل میں  اس لئے بھی وزن ہے  کیونکہ ایک رکن اسیمبلی  کے خلاف اگر اس طرح کے ریمارکس آتے ہیں تو  فورا  ایوان میں تحریک استحقاق آ جاتی ہے۔ جبکہ صدر کئی سو  اراکین اسمبلی کے ووٹوں منتخب ہو کر آئے ہیں۔ دوسرا یہ تھا کہ بطور وزیراعلی پنجاب انکو ایسی زبان نہیں استعمال کرنی چاہئے تھی۔ بعد میں شہباز شریف نے  یہ کہا کہ انہوں نے زرداری کے بارے میں بطور صدر نہیں بلکہ پیپلز پاٹی کے سربراہ کے طور پر یہ الفاظ کہے ہیں۔اور  معذرت کرنے کے بعد معاملہ رفع دفع ہو گیا۔  
  گذشتہ ہفتے مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر شہریار مہر نے سندھ اسمبلی میں وزیرا علی سندھ کو جوکر کہا۔ جس پر  وزیراعلی نے کوئی خاس ردعمل کا اظہار نہیں کیا معلوم مگرسنجیدہ حلقوں نے سخت نوٹس لیا۔ شہریار مہر کو  چند ماہ قبل ایم کیو ایم کی حکومت سے علحدگی کے بعد  وزارت  ماحولیات اور متبادل توانائی قلمدان دیا گیا تھا۔ چند ہفتے بعد جب ایم کیو ایم نے دوبارہ حکومت میں شمولیت اختیار کی تو  اس محکمے کو  دو حصوں میں تقسیم کر ماحولیات کا محکمہ ایم کیو ایم کو اور متبادل توانائی کا محکمہ شہریار مہر کو دیا گیا۔ شہریار مہر کو اس بات پر ناراضگی تھی۔ جس کی شکایت وہ اپنی پارٹی قیادت کو کر چکے تھے۔اس ناراضگی کی وجہ سے وہ مختلف مواقع پر وزیراعلی سندھ پر تنقید کرتے رہے ہیں اور کابینہ کا اجلاسوں میں بھی شریک نہیں ہو رہے تھے۔بعد میں مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین کو وزیراعلی سندھ سے معافی مانگنی پڑی۔ تعجب کی بات ہے کہ جو  لوگ اقتدارمیں ہوتے ہیں انہوں نے ہی  ایسی زبان استعمال کی۔ وہ نہیں سمجھتے کہ لیڈرشپ ایک عمل ہے عہدہ نہیں۔ عمل جاری رہتا ہے، عہدہ تو آنی جانی چیز ہے۔
 لیڈرشپ حکمت عملی اور کردار کا خوبصورت امتزاج ہے۔یہ کونسی حکمت عملی ہے اور کونسا کردار ہے۔ہمارے سیاستدانوں کو سمجھنا چاہئے کہ سیاست اور اخلاقیات کے درمیاں گہرا تعلق ہے۔  ان کے پیشے یعنی سیاست کا  پہلا اور لازمی جز اخلاقیات ہی ہے۔
سیاست ایک ایسی سرگرمی ہے جس کے ذریعے  لوگ ان قوانین کو بناتے ہیں ترمیم کرتے ہیں۔ جن کے تحت وہ رہتے ہیں۔لہذا یہ ایک معاشرتی سرگرمی ہے جس میں  جس میں تنوع بھی ہے اور تضاد بھی۔ یہ منشا بھی کہ تعاون کرنا ہے اور اجتماعی طور پر فیصلے بھی کرنے ہیں۔سیاست تضادات حل تلاش کرنا ہے کیونکہ تمام تضادات اس کے ذریعے حل نہیں ہو سکتے۔ 
اگرچہ ابھی انتخابات کا اعلان تو نہیں ہوا تاہم گمان غالب ہے کہ رواں سال میں ہی متوقع  ہیں۔ لہذا بڑی جماعتیں تیاری کے طور پر  بڑے بڑے جلسے کر رہی ہیں۔ جیسے ہی انتخابات کا اعلان ہوگا، انتخابی مہم اور اور گفتار میں بھی  تیزی آجائے گی۔ آج سیاستداں جو زبان استعمال کر رہے ہیں اور اخلاقیات کے فقدان کی چغلی لگاتی ہے۔ لگتا ہے کہ انتخابات میں بہت ہی نازیبا زبان استعمال کی جائیگی۔اس لئے سیاست میں اخلاقیات کا باضابطہ کوئی نصاب تجویز کرنا پڑے گا۔  نازیبا  اور ہتک آمیززبان سے جہاں خود سیاستدانوں کا امیج اور پروفائیل خراب ہوگا وہاں تصادم کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ 

  

No comments:

Post a Comment