Thursday, 5 March 2020

پیپلز پارٹی کا سندھ میں امتحان -2012-01-26

Thu, Jan 26, 2012, 11:56 AM
پیپلز پارٹی  کا  سندھ میں امتحان 
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
بیسویں آئینی ترمیم  کے ذریعے نئے صوبوں کی تشکیل کا طریقہ کار تبدیل کرنے کے بل نے سندھ میں پیپلز پارٹی کے لئے مشکلات پیدا کردی ہیں۔ سندھ اسمبلی میں اس آئینی ترمیم کے خلاف قرارداد پیش کرنے کی کوشش اور قوم پرستوں نے ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ نیشنل پیپلز پارٹی کے رہنما اوراعتدال پسند سیاستداں مرحوم غلام مصطفی جتوئی کے بیٹے مسرور جتوئی سندھ اسمبلی میں سندھ کی موجودہ جغرافیائی سرحدوں کے آئینی تحفظ کے لئے ایک قراردد پیش کرنا چاہ رہے ہیں۔ لیکن تین مرتبہ ایسی کوشش کے باوجود انہیں قرارداد پیش نہیں کرنے دی گئی۔
نئے صوبے بنانے یا صوبوں کی جغرافیائی حدود میں تبدیلی کے لئے آئین میں طریقہ کار موجود ہے۔ آرٹیکل239  کی شق4 کے تحت ایسی کسی تقسیم یا تبدیلی کے لئے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت لازمی ہے۔ قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے پیش کردہ بل میں نئے صوبوں کے قیام کے لئے متعلقہ صوبائی اسیمبلی کی دو تہائی اکثریت کے بجائے ریفرینڈم کے ذیعے فیصلہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ جس کی سندھ کے سیاسی حلقے مخالفت کر رہے ہیں۔
اگرچہ یہ قرارداد نیشنل پیپلز پارٹی کے ایم پی ایز پیش کررہے تھے مگراس پر پیپلز پارٹی  وزراء کے علاوہ دو اور اتحادی جماعتوں مسلم لیگ فنکشنل اور اے این پی کے ایم پی ایز نے بھی دستخط کئے تھے۔ دستخط کرنے والے پیپلز پارٹی کے اکثریت ان ممبران کی ہے جو کبھی سابق صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے قریبی سمجھے جاتے تھے۔ سندھ اسمبلی اگر یہ قرارداد منظور کرلیتی ہے تو ا قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کی پیش کی گئے بیسویں ترمیم منظور کرانا محال ہو جائے گا اور یہ بل سیاسی اور اخلاقی حمایت سے محروم ہو جائیگا۔ لہذا ایم کیو ایم کے لئے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ  اس قرارداد کو سندھ اسمبلی میں روکنے کے لئے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی پر دباؤ ڈالے۔ایم کیو ایم جو اپنے کارڈز بڑے احتیاط اور سلیقے سے کھیلنے کے لئے مشہور ہے اس کے آئینی ترمیم کے بل کا راستہ بلاک کیا جا رہا تھا۔
  اس صورتحال کو دیکھ کرمتحدہ کے ایک رہنمانے وزیر داخلہ رحمان ملک کو فون کرکے بتایا کہ پیپلز پارٹی ان کی بیسویں آئینی ترمیم کے خلاف سندھ اسیمبلی میں قرارداد منظور کرانا چاہ رہی ہے۔جسے روکا جائے۔ وزیراعلی سندھ نے  اتحادیوں کی شکایت کا فوری نوٹس لیا اور اس قرارداد پر دستخط کرنے والے پی پی پی کے اراکین اسمبلی کو چیف منسٹر ہاؤس طلب کیا۔ اس اجلاس میں 30 میں سے 10 ایم پی ایز نے شرکت نہیں کی۔ اجلاس میں شرکت کرنے والے اراکین سے وزیر اعلی نے پوچھ گوچھ کی کہ انہوں نے کس کی اجازت سے ایم کیو ایم کی بیسویں ترمیم کے خلاف قرارداد پر دستخط کئے۔اور انہیں بتایاگیا کہ یہ عمل پارٹی پالیسی کے خلاف ورزی ہے۔ اراکین نے بتایا کہ انہوں نے ووٹروں کے مطالبے پر دستخط کئے ہیں اور اگر وہ اپنی دستخطوں سے دستبردار ہوئے تو اپنے حلقہ انتخاب میں نہیں جا سکیں گے۔تاہم وزیراعلی نے انہیں اب خاموش رہنے کی تلقین کی۔
نیشنل پیپلز پارٹی سندھ میں حکمران اتحاد میں شامل ہے۔صوبائی کابینہ میں ایک وزیر بھی شامل ہے۔ پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے نیشنل پیپلز پارٹی  نے سنیٹ کی ایک سیٹ کی فرمائش کی تھی، اور انکار پر پیپلز پارٹی کو امتحان میں ڈالا ہے۔
  نیشنل پیپلز پارٹی کے ایم پی اے مسرور جتوئی کی مجوزہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی میں پیش کردہ بیسویں آئینی ترمیم کے بل پر سندھ کے عوام کو شدید تحفظات اور خدشات ہیں۔ یہ اسمبلی آئین کے آرٹیکل239 کی شق 4 میں ترمیم کی مخالفت کرتی ہے۔اس آئین  پر بانیان نے دستخط کئے تھے جس میں سندھ کی سرحدوں کو تحفظ فراہم کیا گیا تھا۔یہ اسمبلی اور سندھ کے عوام ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کریں گے جو مستقبل میں سندھ کی تقسیم میں معاون و مددگار بنے۔اسپیکر نثار کھڑو نے اپنی صفائی پیش کی کہ ان کا کوئی قصور نہیں، ایم کیو ایم بھی ایک ایسی قرارداد لانا چاہ رہی ہے۔
اگرچہ ایم کیو ایم کی رابطہ کیمٹی کے فاروق ستاراندرون سندھ کے دورے کے دوران اور پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد سندھ اسمبلی میں یہ کہ چکے ہیں کہ وہ سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے۔ مگر سندھ کے مختلف حلقوں کی ان یقین دہانیوں سے تشفی نہیں ہو سکی۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کی تمام تر سیاست کا محور کراچی اور سندھ ہے۔ خدشہ ہے کہ آنے والے وقتوں میں اس بنیاد پر سندھ کی تقسیم کا مطالبہ کیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ میں نئے صوبوں کی تشکیل کا طریقہ کارتبدیل کرنے کے خلاف تحفظات کا کھل کر اظہار کیا جا رہا ہے۔ دانشور حلقوں کی جانب سے مباحثے اور کانفرنسیں منعقد کی جارہی ہیں۔  تاہم ایم کیو ایم سکھر میں جلسہ کر رہی ہے جس میں خوشحال سندھ کا نعرہ دے کر ان خدشات اور تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
تاریخ سے واقف قانوندانوں کا کہنا ہے کہ بہاولپور ریاست کو ایک ایگزیکیوٹو آرڈر کے تحت مغربی پاکستان میں شامل کیا گیا تھا۔ اور یہ ایگزیکیوٹو آرڈ واپس لینے سے  بہاولپور ریاست  بحال ہو جائے گی۔  جس کو سرائیکی صوبہ بنایا جا سکتا ہے۔بعض حلقوں نے پیپلز پارٹی کو تجویز دی ہے کہ وہ فی الحال سرائیکی صوبے کی تجویز سے دستبردار ہو جائے۔ کیونکہ ایسا کرنے سے ایک ایسا پنڈورا باکس کھلے گا  اور وہ قوتیں جو سندھ کو تقسیم کرنا چاہتی ہیں وہ سندھ کا معاملہ بھی سرائیکی صوبے سے نتھی کریں گی۔ جس میں سب سے زیادہ نقصان سندھ کا ہوگا۔مبصرین کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کا ترمیمی بل خود سرائیکی صوبے کی راہ روک دے گا۔اور پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیاں اختلافات کی ایک  اور وجہ بن جائے گا۔
سندھ یونائٹیڈ پارٹی، جیئے سندھ قومی محاذ،  جیئے سندھ محاذ،عوامی تحریک، سندھ نیشنل فرنٹ اور دیگر پارٹیوں پر مشتمل سندھ بچاؤ کمیٹی نے بیسویں ترمیم کا آئینی بل واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔اورا28 جنوری کو بیسویں آئینی ترمیم کے بل کے خلاف صوبے بھر میں ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ایم کیو ایم کے سکھر والے جلسے کے ایک دن بعد یہ ہڑتال کی جا رہی ہے۔ قوم  پرست  لیڈروں کا کہنا ہے کہ ہڑتال کے بعدبھی بیسویں آئینی ترمیم کا بل واپس نہ لیا گیا تو لانگ مارچ، ہڑتالوں کے ذریعے حکمرانوں کا چلنا دوبھر کردیں گے۔ چند ماہ قبل صوبے میں دو طرح کے بلدیاتی نظام رائج کرنے کے خلاف سندھ بھر میں کامیاب ہڑتال ہو چکی ہے۔
پتہ چلا ہے کہ اب پیپلز پارٹی اس اشو پرصوبائی اسمبلی میں نئی قرارداد لانا چاہتی ہے۔ مگر اس میں آئین کے آرٹیکل  239کی شق4میں ترمیم کاذکر نہیں ہوگا۔یوں پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کی ناراضگی سے بھی بچنا چاہتی ہے اور سندھ میں موجود بے چینی کو بھی ٹھنڈا کرنا چاہتی ہے۔ لیکن نیشنل پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہناہے کہ پیپلز پارٹی کی تجویز کردہ قرارداد میں مسرور جتوئی کی قرارداد کی روح شامل نہیں ہوگی۔
 پیپلز پارٹی اپنی جانب سے کوئی قرارداد پیش کرکے اسمبلی کے اندرجو سیاسی پیش رفت ہوئی تھی اس سے تو بچ سکتی ہے اور اپنی اتحادی جماعت کا بھی تحفظ کرسکتی ہے مگر سڑکوں پر احتجاج کا کیا کرے گی؟ اور صوبے بھر میں موجود رائے عامہ کو کیسے بدل دے گی؟ یہ اس کے لئے ایک
 امتحان ہے۔

No comments:

Post a Comment