Thursday, 5 March 2020

سنیٹ انتخابات سے عام انتخابات تک - 2012-02-06

Mon, Feb 6, 2012, 11:17 AM
سنیٹ  انتخابات سے عام انتخابات تک ۔۔  سہیل سانگی  
ُ وزیر اعظم کی توہین عدالت میں مقدمہ میں طلبی اپنی جگہ پہ، پیپلز پارٹی نے  2 مارچ کو  سنیٹ کے انتخابات کو یقینی بنانے کے لئے مفاہمت کے ایک فارمولے پر کام کر رہی ہے۔ فارمولے کے اہم بات یہ ہے کہ سنیٹ کے انتخابات بلا مقابلہ کرائے جائیں۔یہ تحرک  اس پس منظر میں ہے کہ مختلف جماعتوں کو اسمبلیوں میں عددی حمایت موجود ہے اس کو تسلیم کرتے ہوئے  اس کے مطابق ہی  نشستیں دی جائیں اور بعض اتحادی  جماعتوں کو ایکموڈیٹ کرکے سیاسی حمایت حاصل کی جائے۔ حکمرن جماعت نے اس مقصد کے لئے اتحادی جماعتوں کے علاوہ سب سے بڑی مخالف جماعت مسلم لیگ (ن) سے بھی مذاکرات کئے ہیں۔ اس فارمولے کے تحت مسلم لیگ (ق) کو دو نشستیں دی جائیں، جس کی ایوان بالا میں نمائندگی بالکل ختم ہو رہی تھی۔مبصرین  کا کہنا ہے کہ وسیم سجاد کے لئے اسلام آباد کی نشست اور سید مشاہد حسین کو پنجاب سے نشست دینے  پر رضامندی کا اظہار کیا گیا ہے۔  
وفاقی دارالحکومت سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے سنیٹ کے انتخابات بلامقابلہ کرانے کے ساتھ بعض دیگر معاملات بھی نتھی کررہی ہے، جس کوحل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔پیپلز پارٹی کا یہ موقف ہے کہ فی الحال سنیٹ کے انتخابات ہوجائیں باقی معاملات کو بعد میں دیکھا جا سکتا ہے۔ 
سندھ میں اس فارمولے پر عمل درآمدزیادہ مشکل نظر نہیں آتا۔ بڑے سیاسی فریق پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور فنکشنل لیگ ہیں۔ باقی تیں اتحادی یعنی مسلم لیگ (ق)، نیشنل پیپلز پارٹی اور اے این پی چھوٹے گروپ ہیں۔ جن کو عددی اثر  کی وجہ سے نہیں بلکہ سیاسی ذائقے کے طور پر حکمران اتحاد میں شامل کیا گیا ہے۔صوبائی اسمبلی میں پارٹی پوزیشن کے مطابق ایم کیو ایم ک کو سنیٹ کی دو نشستیں ملتی ہیں لیکن اس فارمولے کے تحت اسے ایک نشست زیادہ ملے گی۔ مسلم لیگ فنکشنل کو بھی ایک نشست دینے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایم کیو ایم  بخوشی سنیٹ کے انتخابات بلامقابلہ کرانے پر تیا رہو جائیگی۔ اس ضمن میں بابر غوری عندیہ دے چکے ہیں۔ 
یہ فارمولہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی قابل عمل نظرآتا ہے۔ اگر مسلم لیگ (ن) مان جاتی ہے تو تمام انتخابات بلامقابلہ ہوجائیں گے۔
سیاسی مبصرین اس فارمولے کی کامیابی کو سیاسی قوتوں کی بڑی فتح قرار دے رہے ہیں۔سنیٹ میں بلا مقابلہ امیدوار لانے سے مجموعی طور پر اتحاد کا مظاہرہ ہوگا۔ جس کے ملک کے موجودہ بحران پر بھی مثبت اثرات پڑینگے۔ اول یہ کہ کوئی سنیٹ  انتخابات کے حوالے سے کوئی نئی جوڑ توڑ نہیں ہوگی،اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ سیاسی قوتوں کے اتحاد کا مظاہرہ غیر سیاسی قوتوں کو کمزور کریگا۔ اگر یہ انتخابات بلا مقابلہ ہو جاتے  ہیں تو جو پارٹیاں اور لوگ اسمبلیوں میں ہیں ان کا ایک طرح سے غیررسمی اتحاد بن گیا گیا ہے اور یہ جماعتیں ایک سسٹم کا حصہ بن جائیں گی آئندہ انتخابات میں بھی کسی اور قوت کے بجائے ایک دوسری کی بلاواسطہ ایک دوسرے کی خیرخواہ ربن سکتی ہیں۔ یہ صورتحال نئے سیاسی ایکٹرز بشمول عمران خان کی تحریک انصاف اور جماعت اسلامی  وغیرہ کا دروازہ بند کردے گی اور اس کے ساتھ ساتھ نئی سیاسی صف بندی کی بھی پیش بندی کردے گی۔
  یہ فارمولہ مسلم لیگ (ن) کو بھی سوٹ کرتا ہے جسکو پنجاب میں عمران خان کا سامنا ہے، جس کی مقبولیت کو نواز شریف نے بھی بھانپ لیا ہے اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی بڑے پیمانے پر انٹری کو اگر چیک نہیں کی گیا تو باقی تینوں صوبوں کی طرح پنجاب میں بھی منقسم مینڈیٹ آئے گا اور  وہاں پر مخلوط حکومت بنے گی۔ جبکہ پیپلز پارٹی کو بھی سرائیکی بیلٹ میں یہ غیر رسمی اتحاد فائدہ  دے سکتا ہے جہاں کچھ ہیوی ویٹ تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں۔ ان ہیوی ویٹز کی شمولیت کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ پنجاب میں عمران خان سے زیاداہ خطرہ پیپلز پارٹی کو ہی ہے۔ کیونکہ تاحال پنجاب کے بالائی حصے سے کسی ہیوی ویٹ کی شمولیت کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ 
سندھ میں یہ غیر رسمی اتحادعام انتخابات میں بھی زیادہ قابل عمل ہے۔کیونکہ اس کے نتیجے میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے فارمولہ پر عمل درآمد میں کوئی بڑی رکاوٹ نہیں۔ یعنی جو سیٹ جس پارٹی کے پاس ہے وہ اسی کے پاس رہنے دی جائے۔کوئی بھی فریق زیادہ لالچ نہ کرے اور مفاہمت کا جذبہ رکھے توکراچی میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان بمشکل دو تین نشستوں پر تنازع ہے۔ ورنہ ہر ایک جانتا ہے کہ کونسی نشست کس جماعت کی ہے۔
 اندرون سندھ میں تھرپارکر میں ارباب، ٹھٹہ کے شیرازی، گھوٹکی کے مہر، دادو سے لیاقت جتوئی پیپلز پارٹی کے فولڈ سے باہر ہیں۔جبکہ اندرون سندھ کی باقی نمائندگی یا پیپلز پارٹی کے پاس ہے یا پھر فنکشنل لیگ اور اور جتوئی گروپ کے پاس ہے۔
سندھ میں جو فورسز اس فولڈ سے باہر رہتی ہیں وہ ہاتھ پاؤں ما ر رہی ہیں کہ آئندہ انتخابات کے نتیجے میں انکو بھی کچھ شیئر ملے۔ شیرازی اور مہر جب تک کوئی ”بڑا اشارہ“نہیں ملتا پوزیشن تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔یہ تینوں گروپ لیاقت جتوئی کی طرح انتخابی نتائج کے بعد اور براہ راست اسلام آباد ے ڈیل کرنے کے آسرے میں ہیں۔تاہم ارباب نے شاہ محمود قریشی سے ورکنگ رلیشن شپ بنانے کی کوشش کی ہے۔تھر کے علاقے میں شاہ محمود قریشی کے ووٹر تو موجود ہیں مگر اس کو ووٹ بنک میں تبدیل کرنے کا سیٹ اور مقامی طور پر لیڈرشپ موجود نہیں۔ ارباب گروپ شاہ محمود قریشی کی اس کمزوری کو اچھی طرح سے سمجھتے ہیں۔لہذاانہوں نے تحریک انصاف میں شمولیت کے بجائے انتخابات میں اور ا سکے بعد ساتھ دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
  شاہ محمود قریشی کے عمرکوٹ میں ہونے والے جلسے کے لئے بڑے پیمانے پر کوششیں کی جا رہی ہیں کہ سندھ سے کوئی ہیوی ویٹ تحریک انصاف کی جھولی میں آئے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے ارباب گروپ کے علاوہ لاڑکانہ کے الطاف انڑ اور پیپلز پارٹی کے دو رہنماؤں یوسف تالپور اور میرپورخاص کے سید قربان علی شاہ سے مذاکرات کئے۔ الطاف انڑ جو مشرف دور میں صوبائی وزیر رہ چکے ہیں اور عام حالات میں اپنی صوبائی اسمبلی کی نشست جیت جاتے ہیں، وہ بھی ان غیر یقینی حالات میں عمران خان کی پارٹی میں شمولیت کے لئے تیار نہیں۔ سابق وفاقی وزیر نواب یوسف تالپور کو پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت نے کھڈے لائن لگایا ہوا ہے اور مقامی سطح پر بھی انکو زیادہ اہمیت نہیں دی جارہی ہے۔ یوسف تالپور پیپلز پارٹی سے پہلے ممتاز بھٹو کے سندھ نیشنل فرنٹ میں رہے ہیں اور قربان علی شاہ بھی کبھی ممتاز بھٹو کے قریب تھے۔ بعد میں وہ کچھ عرصہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ رہے اور ایم این اے بھی منتخب ہوئے۔ا ن سے بھی شاہ محمود قریشی نے رابطہ کیا تھا۔ قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کامیاب رہے لیکن  چند ہی دنوں میں پیپلز پارٹی نے انہیں منا لیا۔  
اس فارمولے کے سندھ میں اثرات کچھ اس طرح سے بھی ہونگے کہ آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی اور فنکشنل لیگ کا رسمی یا غیر رسمی اتحاد اندرون سندھ میں کسی اور پارٹی یا گروپ کے لئے کوئی بڑی جگہ نہیں چھوڑتا۔لہذا چھوٹے گروپوں کو اپنی اہمیت کو مزید کم ہوتے ہوئے دیکھ کر سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں ہوگا کہ ووٹ پیپلز پارٹی یا اس کے اتحادی فولڈ میں آجائیں۔اپوزیشن جماعتیں اس فارمولے کے لئے تیار نہیں ہوتی ہیں تو سندھ میں اس فارمولے پر عمل کیا جائے گا۔

No comments:

Post a Comment