Sun, Jan 1, 2012 at 11:51 PM
میرے دل میرے مسافر۔ سہیل سانگی
حکایات۔ جنون ۔ ارشیر کاؤسجی
وہ بائیس سال تک قلم کو تیغ بنا کر مسلسل لڑتے۔ بالآخر مایوس ہو کر قلم کا ہتھیار پھینک دیا اوروہ کالم نگاری سے ریٹائر ہوگئے۔یہ ہیں ملک کے مشہور کالمسٹ اردشیر کاؤسجی۔ یہ ضیا ء الحق کا دور تھا۔ 1989 میں انہوں نے”ایڈیٹر کے نام خطوط“ سے لکھنے کا آغاز کیا اور پھر ڈان کے ایڈیٹر کے کہنے پر باقاعدہ کالم لکھنا شروع کیا اور صف اول کے کالمسٹ بن گئے۔ انکا آخری کالم ڈان میں 25 دسمبر کو شایع ہوا۔ایسا لگا کہ پاکستان میں لکھنے کے محاذ کا مورچہ خالی ہو گیا۔
صحافتی دنیا میں کالم وہ تحریر ہے جو ادارتی پالیسی سے ہٹ ہوتی ہے۔ کالم نگار کو آزادی ہوتی ہے کہ وہ ادارے کی پالیسی کو ایک طرف رکھ کرسیاسی اور سماجی اداروں اور مسائل پر اپنی آزادانہ رائے کا اظہار کرے۔ یہ بات کاؤسجی اور انکے کالموں پر سو فی صدصحیح ثابت ہوتی ہے۔ وہ ڈان کے کالمسٹ تھے۔ ڈان کی پالیسی چاہے کچھ بھی رہی ہو، ارد شیر پر ادارے کی پالیسی کا اطلاق نہیں ہوتا تھا۔کاؤسجی کی تحریر کے لئے وہ خود ہی ذمہ وار سمجھے جاتے تھے۔
ایک اچھے کالم نگارکی طرح کاؤسجی بھی اپنی ذات میں انجمن ہیں۔ وہ زندگی کے کئی نشیب و فراز دیکھ چکے ہیں اور تجربے نے انکی رائے کو اہم بنا دیا۔ کالم علم و دانش اور تجربہ کا خوب صورت امتزاج ہے جسکو کالم نگار دلچسپ پیرائے میں آج کے حالات سے جوڑ کر بیان کرتا ہے۔ یہ بات کاؤسجی کے کالموں میں نمایاں ہے۔ ان کے کالموں میں ایک آوازاور ایک گونج سنائی دیتے ہے۔یہ آواز اتنی طاقتور ہ اور بھرپور ہے جس کو قاری باقاعدہ محسوس کرتا ہے۔ باوجود اسکے کہ ان کے کالم ایک ذاتی اور جانبدارانہ تحریر ہیں تاہم اس میں صحافت کے اعلی اصولوں کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔انکے کالموں میں انکی شخصیت بھی جھلکتی ہے۔جہاں ان کا ایک نقطہ نظربھی ہے اور لکھنے کا اسٹائل بھی۔
کاؤسجی 1926میں پیدا ہوئے ان کے والد رستم کاؤسجی کا بھی شپنگ کا بزنیس تھا۔ کالج سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے بھی شپنگ کا کاروبار جوائن کیا۔
کراچی پرست اردشیر کا تعلق ہزاروں برس پرانی تہذیب زرتشت سے ہے۔ 85 سالہ یہ پارسی پاکستان کی تاریخ کے چشم دید گواہ ہیں۔کاؤسجی کا المیہ وہی ہے جوہر شہری بورجوازی کا ہوتا ہے۔وہ اپر کلاس کا حامی ہوتا ہے۔اس لئے اگر وہ کسی آمر کے اگر حامی نہ تھے تو مخالف بھی نہیں تھے۔ ان کی تلوار مشرف کے آٹھ سالہ دور میں نیام میں بند رہی۔
وزیر اظم ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں پاکستان میں سیاحت کو فروغ دینے کے لئے مشیر مقرر کیا۔ مگر یہ معاملہ زیادہ عرصے تک چل نہیں سکا۔ وہ بھٹو کے دور حکومت میں 72 روز کے لئے جیل میں بھی رہے۔نیشنلائزیشن کی پالیسیوں کی وجہ سے جس میں انکی شپنگ کمپنی کو بھی قومی ملکیت میں لے لیا گیا تھاوہ ذوالفقار علی بھٹو کے مخالف بنے اور آخر تک رہے۔وہ پیپلز پارٹی کے کٹر مخالف رہے۔یہاں تک بے نظیر بھٹو کی شہادت پر انہوں نے بہت ہی محتاط کالم لکھا۔وہ بیگم بھٹو کے انتقال پر بہت اچھا کالم لکھ سکتے تھے مگر انہوں نے ایک لفظ بھی نہیں لکھا۔اگرچہ بطور رائٹر وہ آزاد ہیں کہ انکاموضوع تحریر کیا ہو۔ مگر تاریخی شخصیات اور واقعات کو ذاتی تعصب کی بناء پر نظرانداز نہیں کیا جانا چاہئے۔
کاؤسجی کا تعلق کراچی کے اس اشرافیہ طبقے اور قبیل سے تھا جو ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی دوست تھے۔ تاہم بہت کم سندھی انکی دوستی کے دائرے میں رہے۔ الاہی بخش سومرو انکے اچھے دوستوں میں سے ہیں۔وہ اکبر خان بگٹی کے بھی دوست رہے۔ جن کو وہ ضدی، کتابوں کا کیڑااور انتقام پسند کہتے ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ بلڈنگ کے سامنے کبھی اہنسا کے پرچارک موہن لال گاندھی کا دیو قامت کانسی کا ایک مجسمہ نصب تھا۔آزادی کے ایک سال بعداسے ہٹا دیا گیا۔ معروف کالم نویس کاؤسجی نے اس واقعے کو یوں بیان کیا ہے انیس سو اکتیس سے ہائی کورٹ کی عمارت سے باہر چوک پر یہ مجسمہ نصب تھا۔ جنوری 1948میں کراچی میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے۔ محمد علی جناح ایک دن اس مجسمے کے سامنے سے گذررہے تھے تو انہوں نے اس مجسمے کی سلامتی کا نوٹس لیا اوراپنے سیکریٹری ایس ایم یوسف سے کہا کہ جب تک حالات معمول پر نہیں آجاتے مجسمہ یہاں سے ہٹا دیا جائے۔ ایس ایم یوسف نے اس دہکتی ہوئی صورتحال میں کسی غیرجانبدار شخص کو بیچ میں لانے کا سوچا اور جمشید نرسوانجی سے رابطہ کیا۔کاؤسجی کے مطابق نرسوانجی نے بی وی ایس پارسی اسکول کے سابق طالب علموں کو کٹھا کیا۔اور انہیں اوزار اور گاڑیاں فراہم کیں۔”رات کی تاریکی میں ہم نے اس مجسمے کا وہاں سے ہٹایا۔اور میرے والد کے گھر لاکر گیریج میں رکھ دیا۔ کاؤسجی لکھتے ہیں کہ ہم نے بھارتی حکومت سے رابطہ کیا اور کہا کہ گاندھی جی کو بچانے کے لئے آگے آؤ۔ مجسمے کو بعد میں بی وی ایس پارسی اسکول میں چھپایاگیا۔“بعد میں جب بھارتی ہائی کیمشن قائم ہوا تو تو ہائی کمشنر کے حوالے کردیاگیا۔
یوں گاندھی کے فکر اور یادگار نے ذہنوں سے نکل کر کتابوں میں جگہ لے لی۔ بعد میں شہر میں حالات کچھ یوں بدل گئے کہ مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کے سا شہر کی شناخت تبدیل کردی۔ جن کا ذکر کاؤسجی اپنے کالموں میں مسلسل کرتے رہے۔
کراچی میں جدید شہری نظام متعارف کرانے اور شہریوں کی فلاح وبہبود میں پارسی برادری کا کلیدی کردار رہا ہے۔اس کی نشانیاں آج بھی اسکولوں اور ہسپتالوں کی شکل میں ملتی ہیں۔ اب یہی پارسی شہر میں نایاب ہوگئے ہیں۔یہ ردعمل بھی انکے کالموں دیکھا جا سکتا ہے۔
شاید یہ بے چینی، بے قراری اور اضطراب تلخ اور ترش کالم کی صور میں نظر آتے تھے۔
کاؤسجی اتنے کراچی پرست ہیں کہ ان کے نزدیک کراچی ہی پاکستان ہے۔وہ سیکو لر لبرل اور جناح کے پرستار ہیں۔ چند ہی ایسے کالم ملیں گے جن میں جناح کی گیارہ اگست کی تقریر کا حوالہ نہ ہو۔اس لئے ان کو پیپلز پارٹی جیسی مقبول پارٹی سے کوئی ہمدردی نہیں تھی۔وہ ایک آرسٹوکریٹ ہیں۔اور بھٹو کی عوامی سیاست کو پسند نہیں کرتے۔وہ سیکیولر تو تھے مگر مذہب کی بنیاد پر بعصغیر کی تقسیم یا دو قومی نظریے کے خلاف نہیں ہیں۔وہ کئی رفاعی کام بھی کرتے ہیں اور کاؤسجی فاؤنڈیشن کے تحت وہ کئی نوجوانوں کو اعلی تعلیم کے لئے اسکالرشپس بھی دیتے رہے ہیں۔
وہ ایک مثالی شہری ہیں۔شہری اور پبلک پراپرٹی کے محافظ کاؤسجی نے کراچی کی بلڈر مافیا، پلاٹوں اور فلاحی پارکوں پر قبضے، ماحولیاتی آلودگی پر مدلل انداز میں لکھا اور بہت لکھا۔
انہوں نے سیاست پر جو بھی لکھا زبردست لکھا۔ان کے کالموں نے مختلف حکومتوں اور مافیاؤں میں تہلکہ مچا دیا۔غیر قانونی تعمیرات اورسے لیکرترقیاتی منصوبوں پرعدالتوں کے حکم امتناعی ایک پوری تاریخ ان کے کالموں سے مرتب کی جا سکتی ہے۔
بعض اوقات سمجھ میں نہیں آتا تھا ان کی بے باک تحریر اور انداز کو حکمران کس طرح برداشت کئے ہوئے ہیں؟ بعض حلقوں کا کہنا تھا کہ کاؤسجی اظہار کی آزادی کا جزیرہ تھے اور حکومت دنیا کو دکھانے کے لئے ہر حال میں یہ جزیرہ برقرار رکھنا چاہتی تھی۔ جام صادق علی ہوں یا ایم کیو ایم سب کے خلاف لکھتے رہے۔انکے قلم نے اگر کسی کو رعایت دی تو وہ جنرل مشرف تھے۔عین ممکن ہے کہ انہوں 11/9 کے واقعات کے بعد مشرف کی سیکیولر پالیسی کی وجہ سے انہوں نے یہ موقف اختیار کیا ہو۔ اگر انہوں نے کسی کو فیور بھی دی تو بغیر کسی لالچ یا مفاد کے۔پاکستان میں بہت کم کالم نگار بچے ہیں جن کو پڑھنا قاری کی عادت بن گئی ہو، کاؤسجی ان میں سرفہرست ہیں۔ مگر 25 دسمبر سے یہ اسپیس خالی ہے۔
وہ 85برس کی عمر کے باوجود ہشاش بشاش ہیں مگر انہوں نے کالم نگاری سے ریٹائرمنٹ لے لی ہے۔کاؤسجی کراچی کے جنگل میں اتنے گھرے ہوئے ہیں کہ انہوں نے اندرون سندھ نہ کبھی دیکھا نہ محسوس کیا۔لہذا وہ سندھ کے وسیع لینڈ اسکیپ، لوگوں کے مسائل اور حالات کا چشم دیداحوال لکھنے سے قاصررہے۔
وہ اپنے کالم میں کرپشن، اقربا پروری، انتظامی نااہلی کے خلاف سالہا سال تک جہاد کرتے رہے۔ مافیاؤں اور کرپٹ افسران کے لئے دہشت کے طور پر پہچان رکھتے تھے۔ تاہم بعض لوگ ان کے کالم میں اپنا ذکر اعزاز سمجھتے تھے۔
ملکی حالات سے مایوس ہوکر انہوں نے کالم نگاری کوخیربادکہہ دیا ہے۔انہوں نے ڈان کے موجودہ ایڈیٹر کی اس پیشکش پر بھی غور کیا ہے کہ جب لکھنے کے لئے ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے وہ کسی بھی وقت لکھ سکتے ہیں۔ کاؤسجی جیسے کالم نگار کی کالم نگاری سے ریٹائرمنٹ کئی سوالیہ نشان چھوڑے ہیں۔ کیا پاکستان کے معاشرے میں مجاہدانہ کالم نگاری کا اب کوئی رول نہیں رہا؟ کیا ہمارے ملک کے دیگر کالم نویس کاؤسجی کی طرح بغیر لالچ اورچمک کے لکھیں گے اور عوامی کاز کو پروان چڑھائینگے؟
دنیا میں اکثربڑے لوگوں نے ریٹائرمنٹ اور زندگی کے آخری ایام اپنے مزاج، موڈ، کیفیت اور انداز سے گزارے ہیں۔ نیلسن منڈیلا سیاست سے ریٹائر منٹ کے بعداپنا وقت خود نوشت اور یاداشتیں مرتب کرنے پر دیا۔ کیا کاؤسجی بھی ایسا کرینگے؟اور اپنی آٹوبایوگرفی یا یاداشتیں لکھیں گے۔

No comments:
Post a Comment