Thu, Feb 9, 2012, 10:44 AM
تھرکے کوئلہ کی سیاست۔ سہیل سانگی
پسماندہ علاقے تھر کے لوگ آنکھوں میں خوشحالی سپنے سجائے ہوئے گذشتہ دو عشروں سے بیٹھے ہیں کہ وہاں سے دریافت ہونے والا کوئلہ ان کی تقدیر بدل دیگا۔ ملک کے لوگ اس آسرے میں ہیں کہ اس کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی لوڈ شیڈنگ کا عذاب اور بڑھتے ہوئی قیمتوں میں کچھ رلیف دے گی۔چار حکومتیں آئیں کسی نے کوئی ایسا عملی اقدام نہیں کیا کہ کہ یہ کا بلیک گولڈ واقعی گولڈ بن سکے۔
بنظیر بھٹو نے تھاریو ہالے پوٹو کے مقام پر تھر کول پوجیکٹ کا افتتاح کیا۔ اس کے بعد نوازشریف کی حکومت آئی اور چلی بھی گئی۔ پرویز مشرف نے نو سال راج کیا۔اب پی پی کو پاور میں آئے چار سال ہوچکے ہیں۔ گوٹ وہیں پھنسی ہوئی ہے، سوائے نواز شریف کے باقی وعدے اور اعلان تینوں حکومتوں نے بہت کئے۔ ایسا لگتا تھا کہ آنے والی صبح تھر کے لوگوں کے دروازے پر دستک دینے والی ہے۔
تھر میں کوئلے کے ذخائر اتفاقی طور پر 1983 میں دریافت ہوئی تھے جب سازدا اس ریگستان میں پینے کے پانی کے لئے بورنگ کر رہی تھی۔ سولہ سال قبل 1996 میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے کیٹی بندر کے مقام پر کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس پروجیکٹ سے پہلے 36 ماہ میں 13000معگاواٹ بجی پیدا ہونی تھی اور اس کے بعد ہر سال 13000میگاواٹ کا اضافہ ہونا تھا۔ اوت سال 20002 میں پروجیکیٹ سے 52,000میگاواٹ بجلی تیار ہونی تھی۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اسلام کوٹ سے وایا بدین کیٹی بندر تک ریلوے لائن مل رہی تھی، جہاں پر بھاری بحری جہازوں کے لئے ایک ڈیپ سی بندرگاہ تعمیر ہونا تھا۔مزیدار بات یہ ہے کہ اس تمام پروجیکٹ پر پاکستان حکومت کو ایک ٹکا بھی خرچ نہیں ہو رہا تھا۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔
سنہ 2002 میں چین نے 136 ماہرین کی ایک ٹیم بھیجی۔ شینہوا کمپنی کے ماہرین نے 2004ع میں رپورٹ دی کہ تھر کا کوئلہ بڑے پیمانے پر استعمال کے قابل ہے۔ رپورٹ میں تجویز کیا گیا کہ کھلی کان کنی کے ذریعے کوئلہ نکالا جائے اور وہیں پر ہی پہلے مرحلے میں 600میگاواٹ کا بجلی گھرقائم کیا جائے۔ اور آگے چل کر یہ بجلی گھر 3000 میگاواٹ بجلی پیداکریگا۔ یہ پروجیکٹ بلاک نمبر 2 میں تجویز کیا گیا تھا جو کہ تھر کول فیلڈ کے کل ایراضی 9000 مربع کلومیٹر کا معمولی حصہ تھا۔ چینی کمپنی نے 5.6امریکی سینٹ فی کلوواٹ بجلی فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ تب ہم آئی پی پیز سے 6.5 سینٹ فی کلوواٹ کے حساب سے بجلی خرید کر رہے تھے۔واپڈا نے بجلی کا ریٹ 5.3سینٹ فی کلوواٹ کرنے کی ضد کی۔بعد میں حکومت کے خرچ پر جرمنی کی ایک کمپنی نے بتایا گیا کہ تھر کول سے بجلی بنانے کی لاگت 7.6 سینٹ فی کلوواٹ آئیگی۔
تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ دو ماہرین کے درمیاں تنازع چل رہا ہے اور اب میڈیا میں بھی یہ بحث زوروں پرے۔ پلاننگ کمیشن کے ممبر اور جوہری ٹیکنالاجی کے ماہر ڈاکٹر ثمر مبارک کا کہنا ہے کہ زیر زمین ہی کوئلے سے گیس پیدا کی جائے۔ جبکہ پاکستان سائنس فاؤنڈیشن کے سابق چیئرمن فرید ملک اس ٹیکنالاجی کے سخت مخالف ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ قابل عمل ہیں۔ان کو ڈاکٹر ثمر کی مہارت پر اور جو ٹیکنالاجی وہ تجویز کر رہے ہیں ان دونوں پر شبہہ ہے۔تعجب کی بات ہے کہ ا س پورے بحث اور تنازع میں صوبائی خواہ وفاقی حکومت خاموش تماشائی ہیں۔ جیسے یہ کوئی دو افراد کے درمیان ذاتی جھگڑاہو۔کون پوچھے کہ یہ اربوں روپے کے عوامی پیسے کا معاملہ ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں نہ تو قومی اسمبلی کی توانائی سے متعلق کمیٹی نے اور نہ ہی تھر کول انیڈ انویسٹمنٹ بورڈ نے اس گمبھیر مسئلے کا نوٹس لیا۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وزیراعلی سندھ سید قائم علی شاہ ان دونوں صاحبان کو بلاتے اور ان سے بعض غیر جانبدار ماہرین کی موجودگی میں بریفنگ لیتے۔اور اس معمے کو حل کرکے پروجیکٹ کو آگے بڑھاتے۔
ڈاکٹر فرید ملک کی یہ دلیل ہے کہ کوئلے سے زیر زمین گیس اس وقت بنائی جاتی ہے جب ایریا چھوٹا ہو اور ذخائر کم ہوں۔
عالمی بنک 2009 تک تھر کے کوئلے پر کام کر رہی تھی اس کا خیال ہے کہ 90فی صد ذخائر امریکن جیولاجیکل سروے کے معیار کے مطابق مقدار اور وسعت کا تعین نہیں کیا گیا۔عالمی بنک دراصل اس پروجکٹ سے ہاتھ نکالنا چاہ رہی تھی اس لئے یہ رپورٹ دی۔در اصل جن ذخائر کی مقدار اور وسعت تعین کیا گیاہے ان سے پتہ چلتا ہے کہ کوئلے کہ تہہ تقریبا 80 میٹر کی گہرائی پر 0.20 میٹر سے لیکر 22.81 میٹر تک ہے۔یعنی مقدار بڑی مقدار میں ہیں اور ان کی کہرائی مختلف مقامات پر مختلف ہے۔
ڈاکٹر ثمر کی حامی لابی کا کہنا ہے کہ کوئلے کے زیادہ تر ذخائر کی تہہ 0.20میٹرہے اس پتلی سی تہہ کے لئے 80 میٹر تک گہری کھدائی مالی حوالے سے فائدہ مند نہیں۔ اس لئے تھر کا کوئلہ زیر زمین گیس بنانے کے ذریعے استعمال کرنا چاہئے۔ سندھ کے سیکریٹری کول اینڈ انرجی اعجاز علی خان کی 2009 میں دی گئی رپورٹ کے مطابق زیر زمیں گیس بنانے والی ٹیکنانولاجی آزمودہ ٹیکنالاجی ہے اور اس ٹیکنالاجی کے ذریعے برطانوی فرم ”کوگھر انرجی لمٹیڈ “کے ذریعے بلاک نمبر3میں 400 میگاواٹ کا بجلی گھر لگایا جا سکتا ہے۔ بلاک نمبر 5 ڈاکٹر ثمر کو دیا گیا ہے کہ کوئلے کو زیر زمین ہی جلا کر اس سے گیس پیدا کریں جس سے 100 میگاواٹ کا ایک بجلی گھرقائم کیا جائیگا،تھر کول کے مجموعی طور پر12بلاک ہیں جن میں سے صرف دو یعنی بلا نمبر3 اور بلاک نمبر 5 گوئلے سے زیر زمین پیدا کرنے کے لئے دیئے گئے ہیں۔ صوبائی سیکریٹری کے مطابق گیسیفکیشن ایک تحقیقی اوآزمائشی منصوبہ ہے۔
زیر زمیں کوئلے کو گیس میں تبدیل کرنے کے مخالف پاکستان سائنس فاؤنڈیشن کے سابق چیئرمن ڈاکٹر فرید اے ملک کہتے ہیں کہدنای بھر میں کوئلہ زمیں سے نکالنے کے بعد ہی گیس میں تبدیل کیا جا تا ہے۔ ڈاکٹر ثمر مبارک اور ان کی ٹیم کی تجویز کردہ ٹیکنالاجی کو تجرباتی طریقہ کارسمجھتے ہیں۔جس کے تحت کوئلہزمیں سے کود کر نہیں نکالا جائے گا بلکہ زیر زمین ہی اسے جلا کر گیس پیدا کی جائیگی۔ اس ٹیکنالاجی کے کمرشل استعمال کے لئے پوری دنیا میں تحقیق کی گئی پر ابھی تک کوئی ایک بھی پلانٹ اس ٹیکنالاجی کے تحت نہیں کامیابی سے نہیں چل رہا ہے۔
ڈاکٹر فرید ملک کو ڈاکٹر ثمر کی مہارت پر بھی شک ہے اور کہتے ہیں کہ جوہری ٹکنالاجی کے ماہر ڈاکٹر ثمر کو اس شعبے سے واقفیت نہیں ہیں۔ کیونکہ جوہری ٹیکنالاجی اور کان کنی دو الگ چیز ہیں۔
ایک ٹی وی ٹاک شو میں انہوں نے ڈاکٹر ثمر مبارک کے اس دعوے کو گمراہ کن قرار دیا کہ اگرفنڈ فراہم کی جائیں تو وہ ملکی ضروریات کے برابر بجلی ایک سال میں پیدا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے تین سال اس طریقہ کار کی تیاری میں پہلے ہی ضایع کئے ہیں۔ اس کام کو آگے بڑھانے سے پہلے پیشہ ورانہ طور پر آزمایا جانا چاہئے۔ بہت سارا وقت اور پیسہ زیاں کیا جا چکا ہے۔ تھر میں دنیا کے بڑے ذخائر ہیں جس کو تجرباتی ٹیکنالاجیز کا یرغمال نہیں بنانا چاہئے۔ ڈاکٹر فرید ملک کا یہ بھی استدلال ہے کہ ڈاکٹر ثمر مبارک مالیاتی یا ٹیکنیکل آڈٹ کے بغیر کام کرتے رہے ہیں۔دنیا میں ہر پروجیکٹ ایک مرحلہ مکمل ہونے کے بعد آڈٹ میں جاتا ہے اس کے بعد دوسرا مرحلہ شروع کرتا ہے۔
ڈاکٹر ثمر مبارک 9.9نے ملین روپے کا مطالبہ کیا ہے اور دسمبر2013 کی نئی ڈیڈ لائن دی ہے۔ سندھ حکومت کو اس پروجیکٹ کے لئے 200ملین روپے اور وفاقی حکومت کو 5 ارب روپے انجنوں اور دیگر اشیاء کے لئے فراہم کرنے تھے۔ پر تاحال یہ رقم رلیز نہیں کی گئی۔ تمام پروجیکٹس کی قابل عمل ہونے کی رپورٹ بنتی ہے۔ پر ڈاکٹر ثمر کے پروجیکٹ میں ایسی کوئی چیز نہیں۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ان کے اس دعوے کی ماہرین سے جاچ پڑتال کرائی جائے۔ بلیو فلیم جس کا وہ دعوا کرتے ہیں اس کے اخراجات اور حاصلات دونوں کو سامنے رکھا جائے۔ ورنہ ہم مزید دو سال اور کروڑوں روپے غیر آزمودہ ٹیکنالاجی پر ضایع کر دیں گے۔
ڈاکٹر ثمر 2009سے گیسیفیکیشن طریقہ کار کو چلا رہے ہیں، اب تک یہ پروجیکٹ کروڑوں روپے نگل چکا ہے مگر نتیجہ صفر ہے۔ تھر کول کو ترقی دینے کی تمام تر کوششوں کو گمراہ کر دیا گیا ہے۔ دنیا بھرمیں کوئلے کو گیس میں تبدیل کان کنی کے بعد کیا جاتا ہے۔ بطور قوم نہ ہمارے پاس اتنا وقت ہے اور نہ ہی وسائل جو اس ٹوٹکا ٹیکنالاجی پر صرف کریں۔ تھر میں ترقی کوئلے کی کھدائی سے ہوگی۔
زیر زمین گیسیفکیشن بھول بھلیاں ہیں۔ جس کا از سرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
2008میں حکومت سندھ کے محمکہ توانائی نے نجی شعبے کو نجی و سرکاری شعبے کی باہمی شراکت کے تحت ایک مشترکہ کاروبار کی کمپنی سندھ اینگر کول مائننگ کمپنی کے نام سے قائم کی گئی۔اس کمپنی نے بلاک نمبر 2 میں جہاں چینی ماہرین نے کام چھوڑا تھا وہاں سے کام شروع کیا۔اینگر و نے کوئلے کی کھدائی شروع کرنے کے لئے جون1212 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔کوئلے کی پیداوار کے لئے کھدائی کے اس پرجیکٹ کی کل مالیت 4ارب ڈالر ہے۔ ابتدائی ٹیسٹ شروع کرنے اور کان کنی کے پروجیکٹ کے لئے انفرا اسٹرکچر موجود ہے۔
گزشتہ ماہ کہ کوئلے کے امریکی سرمایہ کاروں کو ایک کنسورشیم نے تھر کول پروجیکٹ سے10 ملین ڈالر سرمایہ کاری کی پیشکش کی تھی۔اس پروجیکٹ کے تحت 6000 میگاواٹ بجلی پیدا کی جائیگی اور گیسیفکیشن اور کوئلے سے لیکیڈ توانائی بھی پیدا کی جائیگی۔ کنسورشیم نے بورڈ آف انویسٹمنٹ سے مذاکرات کئے۔ مگر تاحال کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔لیکن یہ پیشکش سیاسی مصلحت زیادہ لگتی ہے کیونکہ یہ پیشکش ایسے وقت کی گئی ہے جب پاکستان ایران سے گیس خرید کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔
پاکستان واحد ملک ہے جو اپنی توانائی کی ضرورتوں کا 60فیصد تیل کی درآمد سے پورا کرتا ہے۔ لہذا یہاں پر امپورٹرز کی مضبوط لابی ہے یہ تاثر عام ہے کہ آ ّئل درآمد کرنے والی لابی تھر کول کی ترقی اور اس کے کمرشل استعمال کے خلاف ہیں۔سندھ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کالا باغ ڈیم کی حامی لابی تھر کے کوئلے کو توانائی اور بجلی کے استعمال میں لانے کے خلاف ہے۔
حکومت سندھ اربوں روپے صرف انفرا اسٹرکچر پر خرچ کر چکی ہے مگر ابھی تک پروجیکٹ کے شروع ہونے کے آثار نظر نہیں آتے۔ صورتحال کا تقاضا یہ ہے کہ تھر کول کے استعمال سے متعلق کوئی واضح رخ تعین کر کے مناسب ٹیکنالاجی کا فیصلہ کرکے کام کو آگے بڑھایا جائے۔ صوبائی حکومت 3000 میگاواٹ کا پائلٹ پروجیکٹ شروع کرے یہ تین سال کے عرصے میں تمام مطلوبہ بنچ مارک مہیاکردے گا۔
No comments:
Post a Comment