Mon, Feb 13, 2012 at 11:13 AM
بلوچوں سے مذاکرات: سوچ بدلنے کی ضرورت
کالم ۔ سہیل سانگی
وزیر داخلہ رحمان ملک نے سنیٹ میں یہ نوید دی ہے کہ بلوچستان کو پاکستان سے علحدہ کرنے کی عالمی سازشیں تیز ہو گئی ہیں۔ بلوچوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ جبکہ عالی سطح پر قراردایں اور بیانات جاری ہو رہے ہیں۔اوزیر داخلہ کے مطابق امریکی سفیر سے حکومت پاکستان نے وضاحت طلب کی ہے۔ایم این اے میریعقوب بزنجو کا کہنا ہے کہ بلوچوں کی کوئی نہیں سنتا۔بلوچستان کے مسئلے پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ ایسا نہ ہو کہ وقت ہاتھوں سے نکل جائے۔ہمایوں کرد نے کہا کہ امریکہ پاکستان سے بلوچستان کو الگ کرنا چاہتا ہے۔ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے۔ وزیر داخلہ نے بلوچ نوجوانوں سے مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہتھیار پھینک دیں۔مگر بلوچ رہنماؤں نے صورتحال کوبہتری کی طرف لے جانے کے لئے لاپتہ ہونے والے افراد کو رہا ئی اور نواب اکبر بگٹی کے قاتلوں کو گرفتاری کو اولین شرط بتایاہے۔
امریکی کانگریس میں بلوچستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا اوامریکی کانگریس کی خارجہ امور کی کمیٹی نے پاکستان کی فورسز پر بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کئے ہیں اور اس فورس کی امداد بندکرنے کو کہا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بعض مبصرین بلوچستان کے بارے میں امریکی موقف کوپاک امریکہ تعلقات میں حالیہ کشیدگی، نیٹو کی سپلائی روکنے، ایران سے گیس حاصل کرنے سے منسلک کر رہے ہیں۔ وزیر داخلہ رحمان ملک پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر سے وضاحت طلب کرنا چاہ رہے تھے۔ امریکی سفیر نے سنیچر کے روز بی بی سی کو ایک انٹرویو میں یہ وضحت تردی ہے کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں سب سے بڑا مسئلہ ہیں۔اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کس پر حکومت پاکستان سے بات کرنی چاہئے۔
بلوچستان کا مسئلہ سالہا سال سے چل رہا ہے۔ہر دورحکومت میں اس صوبے میں آپریشن چلتا رہا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت آنے کے بعد صدر زرداری نے بلوچوں سے معافی مانگی اور آغاز حقوق بلوچستان پییکیج دیا۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے یہ سال بلوچستان کے ساتھ یکجہتی کا سال منانے کا اعلان کیا ہے۔مشرف دور میں چوہدری شجاعت اور مشاہد حسین کی سربراہی میں کیمٹیاں بنائی گئیں مگر بامقصد اور حقیقت پسندانہ مژاکرات نہیں ہو سکے۔ حال ہی میں جب نواز شریف نے حکومت کے خلاف مہم شروع کی تو سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لئے تو وہ بلوچستان کے بجائے کراچی تشریف لے گئے۔ جہاں انہوں نے بلوچ لیڈر عطاء اللہ مینگل سے ملاقات کی۔ سردارمینگل نے انہیں بتایا کہ معاملات انکے ہاتھ سے نکل چکے ہیں اور وہ اس مسئلے پر بات چیت کرنے کے مجاز نہیں، اگر بات کرنی ہے تو ان نوجوانوں سے کریں جوناراض ہوکر پہاڑوں پر چلے گئے ہیں۔
مشرف دور میں خفیہ اداروں نے سرگرم کارکنوں کو قتل کرنے اور گم کرنے کا جو کھیل شروع کیا تھا وہ آج بھی جاری ہے۔اس کارروائی نے صورتحال میں مزید کشیدگی پیدا کردی۔
گذشتہ ہفتہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سنیٹ میں بلوچستان پر آزادی سے بات کی گئی ہے۔سینٹ کے ڈپٹی چیئرمین میر جان محمد جمالی نے وزیر داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ ایوان بالا کے بند اجلاس میں بریفنگ دیں۔بلوچستان میں ایک عرصے سے حالات خراب رہے ہیں، وزیر داخلہ نے بھی تسلیم کیا ہے کہ کوئی طاقت بلوچستان کو علحدہ کرنا چاہتی ہے۔
بنگال میں علحدگی کی تحریک کے جنم لینے سے پہلے بنگالی بھی اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کر رہے تھے۔وہ اٹھتے ہی بنگلادیش بنانے کا خیال نہیں تھا۔مگرجب اسٹبلشمنٹ نے نہ صرف انکو سیاسی حقوق نہیں دیئے بلکہ ان کے اثاثوں پر بھی حق تسلیم نہیں کیا تو بنگالیوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ اسلام آباد کی سڑکوں سے انہیں اپنی پٹ سن خوشبو آ رہی ہے۔کیونکہ یہ شہر ان کی آمدن سے تعمیر ہوا ہی۔مگر پھر بھی انکی بات نہیں مانی گئی۔آج بلوچ بھی وہی بات کر رہے ہیں کہ ان کی نہیں سنی جا رہی ہے۔آج بلوچستان میں بھی وہی حالات بن گئے ہیں جو بنگال میں تھے۔حالانکہ اپنے سیاسی، معاشی اور ثقافتی حقوق کے لئے آواز اٹھانا ہر شہری کا انسانی اور آئینی حق ہے۔
پاکستان کی اسٹبلشمنٹ کو اس وقت بھی ہوش نہیں آیا جب ٹکا خان نے کہا کہ”ہمیں لوگ نہیں زمین چاہئے۔“آج اگرچہ یہ الفاظ دہرانا باقی رہ گئے ہیں۔ بلوچ نوجوانوں کو ڈھونڈھ کر قتل کیا جا رہا ہے۔ان کی قیادت کو پراسرارطور پر گم کیا جا رہا ہے۔اکبر بگٹی جب وسائل پر حق ملکیت جتا رہا تھا تو جنرل مشرف نے ایک سمینار میں کہا تھا کہ”وہاں سے ہٹ کرونگا تو اسے پتہ بھی نہیں چلے گا۔“ بعد میں دنیا نے دیکھا کہ کس طرح سے اکبر بگٹی کو قتل کردیا گیا۔اس بات نے بلوچ عوام کو اور بھی ناراض کردیا۔اب عالمی سطح پر بلوچستان پر قراردادیں پاس ہو رہی ہیں مگرحکمرانوں کو پرواہ نہیں ہے۔
بلوچ نوجوانوں کا قتل اور لاپتہ ہونا ضمنی بات ہے۔ اصل میں بلوچستان کے لوگ سمجھتے ہیں کہ وفاق انکے وسائل اور جغرافیائی مھل وقوع کو ان سے پوچھے بغیر استعمال کر رہا ہے۔ لہذا وہ سیاسی و اقتصادی معاملات میں فیصلہ سازی کا اختیار مانگتے ہیں۔اور ان حقوق کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔
ابھی بھی وقت ہے کہ بلوچوں کو منا کر انہیں قومی دھارا میں شامل کیا جائے۔ ابھی جو بلوچ عوام مطالبات کر رہے ہیں وہ کوئی زیادہ مشکل نہیں ہیں۔ جن کو ریاست پورا نہ کر سکے۔بلوچتان بتدریج ریت کی طرح حکمرانوں کی مٹھی سے نکلا چلا جا رہا ہے اور سیاسی جماعتیں بالکل اسی طرح تماشائی ہیں جس طرح وہ بنگال کے وقت تھیں۔
یہ صھیح ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اگر ایٹمی ہتھیار سوویت یونین کو ٹکڑے ہونے سے بچا نہ سکے تو پاکستانکے تحفظ کی ضمانت کیسے بنیں گے؟ پاکستان کی اصل طاقت ایٹمی ہتھیار نہیں، عوام ہیں۔وہ صوبے ہیں جن کی اکائی کی وجہ سے اس ملک کا وجود ہے۔
آج اگر علحدگی کے جذبات اور رجحانات پائے جاتے ہیں تویہ سب کچھ راتوں رات نہیں ہوا۔مسلسل ناانصافیوں، تشدد اور مسلح کاروائیوں کے بعد بلوچ علحدہ ہونے پر سوچ رہے ہیں۔یہ بات قابل غورہے کہ وہ کونسے قوتیں ہیں جو بلوچستان پر مسلسل ظلم روارکھ کر انہیں پاکستان کے خلاف کھڑا ہونے پر مجبور کر رہی ہیں۔
بلوچستان میں لاوا ایک عرصے سے پک رہا تھا وہ اب کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔اسٹبلشمنٹ کو ہوش سے کام لینا پڑے گا۔ ماضی میں سیاسی قوتوں کی کوششوں سے یہ سبق ملتا ہے کہ بلوچستان کے لوگ تب تک مذاکرات کی ٹیبل پر نہ آئیں جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے۔ بلوچستان کے لوگ حقیقی معنوں میں وفاق پاکستان سے اپنی جائز شکایات کا ازالہ چاہتے ہیں۔اس مقصد کے لئے بلوچستان کے ساتھ مفتوح علاقے جیسا سلوک ختم کرنا پڑیگا۔بلوچستان صوبے کی خود مختیار حیثیت کو تسلیم کرنا پڑیگا۔یہ بات بھی تسلیم کرنی پڑے گی کہ بلوچستان کے وسائل پر صرف اور صرف وہاں کے لوگوں کا حق ہے۔ناراض بلوچ لیڈروں کو منانا پڑے گا۔ بلوچستان کے مسئلے کا حل آپریشن یا تحفے میں لاشیں دینے میں نہیں بلکہ مذاکرات میں ہے۔
مذاکرات کی پیشکش اور کوششیں اچھی بات ہے۔ سوال یہ ہے کہ بات چیت کیسے ہو اور کس سے ہو؟ سب سے پہلے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو یہ طے کرنا ہوگا کہ یہ مذاکرات صرف دکھاوا نہیں بلکہ با مقصد اور حقیقت پسندانہ اور واقعی کچھ حاصل کرنے کے لئے ہونگے۔ دوسرے یہ کہ سوچ کا رخ بدلنا ہوگا۔یعنی بلوچوں کی جائز شکایات دور کرنی ہونگی۔کاروائیاں روک کرنیک نیتی دکھانے کے اظہار کے طور پر کچھ ایسے خیرسگالی کے اقدامات کرنا ہونگے۔ مزاحمتکاروں کو بات چیت کے لئے آمادہ کرنا۔ ہتھیابند نوجوانوں کو پہاڑوں سے اتارنے کے لئے ان اسباب کا سدباب کرنا ہوگا جس کی وجہ سے انہوں نے ہتھیار اٹھائے تھے اور پہاڑوں پر چلے گئے تھے۔
No comments:
Post a Comment