Thursday, 5 March 2020

سنیٹ میں سندھ کی نمائندگی -2012-2-20

Mon, Feb 20, 2012, 12:57 AM
 سنیٹ میں سندھ کی نمائندگی کا سوال 
سہیل سانگی
سینٹ کے انتخابات کا اثر کسی اورصوبے پہ ہو نہ  ہو، سندھ جہاں مختلف لسانی گروپ بستے ہیں، وہاں  میں اس کے اثرات واضح نظر آرہے ہیں۔ ان انتخابات کے بعد یہاں مختلف لسانی آبادیوں اور مکتب فکر کی نمائندگی میں ردو بدل واقع ہوگا۔ وفاقی سظھ پر  حکومت کی پالیسی تھی کہ سنیٹ کے انتخابات بلامقابلہ ہوں۔ جسکا اظہار بعض نشستوں پر نظر بھی آیا۔ مگر ویراعلی سندھ سید قائم علی شاہ کااس بات پر مصر تھے کہ انکے صوبے میں ہر حال میں  سنیٹ کے انتخابات بلامقابلہ ہوں سندھ اسمبلی میں موجود باقی تمام گروپوں اور جماعتوں کو اکموڈیٹ کر لیا گیا ہے کیونکہ وہ سب کی سب حکمران اتحاد میں شامل ہیں۔ صرف ارباب غلام رحیم کا گروپ باقی ہے مسلم لیگ ہم خیال کے نام سے  وجود رکھتا ہے۔انکی فرمائشیں ذرا لمبی تھیں جو حکومت پوری نہ کر سکی۔ لہذا محض اس گروپ کی وجہ سے انتخابات کو پروسیس ہوگا۔
۔یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ بلامقابلہ انتخابات کی اتنی مجبوری کیا ہے۔
وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ اور وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے مسلم لیگ ہم خیال کے ارباب رحیم سے فون پر دبئی رابطہ کیا تھا۔اور ان سے کہا تھا کہ وہ سندھ میں سنیٹ کے اپنے امیدوار دستبردار کرادیں۔ارباب رحیم کا مطالبہ ہے کہ سنیٹ کی ایک عمومی سیٹ عبدالغفار قریشی کو دی جائے۔اور انہیں سنیٹ میں لیڈر آف اپوزیشن بنایا جائے۔  یہ شرائط حکومت کے لیے قابل قبول نہیں تھے۔مسلم لیگ ہم خیال کے ارباب رحیم کی چھٹی کی درخواست اسمبلی میں پیش نہیں کی جا سکی۔حالانکہ وزیر قانون  ایاز سومرو نے بدھ کو کہا تھا کہ درخواست پر فیصلہ جمع تک موخرکرنے کو کہا تھا۔اسمبلی میں درخواست پیش ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اور حکومت کے درمیان بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔یوں سندھ میں بلامقابلا سنیٹ کے انتخابات کے امکان ختم ہو گئے ہیں۔
انتخابات  کے بعدارباب رحیم کو اسمبلی بلڈنگ میں ایک نوجوان نے جوتا مارا تھا۔ جس کے لئے انہوں نے پیپلز پارٹی کو لیڈروں کو ذمہ دار ٹہرایا تھا۔  بعد وہ دبئی چلے گئے اور اسمبلی کے کسی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور لیڈروں کو بشمول کامریڈ جام ساقی،  سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا تھا۔اورمحترمہ بے نظیر بھٹو اور صدر آصف زارداری کے خلاف ہتک آمیز زبان استعمال کرتے رہے۔
کراچی کی نمائندگی
 کراچی تمام پارٹیوں کے لئے اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے جہاں ہر سیاسی جماعت اپنا وجود  اورنمائندگی رقائم رکھنا  چاہ رہی ہے۔ ان انتخابات کے بعد سنیٹ میں سندھ سے نمائندگی کی کمپوزیشن بڑی عجیب بن جائے گی۔ سندھ میں کل 23 سنیٹرز میں سے 13کا تعلق کراچی سے ہوگا۔اس طرح سے کراچی ملک کا واحد شہر ہوگا جس کی ایوان بالامیں اتنی بڑی نمائندگی ہوگی۔ ایم کیوایم  جو کہ کراچی کی سیاسی نمائندگی کی اکیلی دعویدار کہلاتی ہے اس نے اس مرتبہ  چاروں امیدوار کراچی سے نامزد کئے ہیں۔ اس سے پہلے ایک سنیٹر احمد علی بروہی اندرون سندھ سے تھے۔لہذا اب  ایم کیو ایم کے ساتوں سنیٹرز کراچی سے ہونگے۔
 ایم کیو ایم کے علاوہ خودپیپلز پارٹی کے چھ سنیٹرز یعنی وزیر داخلہ رحمان ملک، رضا ربانی، ڈاکٹر عاصم حسین،  فاروق نائک، مسز مدثرسحر کامران،  اور الماس پروین کراچی سے ہونگے۔ حالانکہ پیپلز پارٹی  سندھ اسمبلی میں کراچھی سے نشستیں  بمشکلایک سنیٹ کی نشست کے برابر ہونگی۔
اے این پی
کراچی شہر پٹھانوں کے لئے  اہم شہر بنتا جا رہا ہے۔جہاں مستقبل میں بھی  پٹھانوں کی آبادکاری کی گنجائش موجود ہے۔اس وقت بھی کراچی پٹھانوں کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اے این پی کے پاس گنجائش نہیں تھی کہ کراچی سے  اپنا سنیٹرلے آتی۔ اس نے یہ کسر یوں پوری کی کہ پارٹی کے صوبائی صدر کو خیبر پختونخوا سے سنیٹ کی ٹکٹ دی ہے۔ حالانکہ ان کے سیاسی کام کا دائرہ کراچی رہا ہے اور وہ اے این پی سندھ کے صدر ہیں۔یوں  شاہی سید کراچی کی ہی نمائندگی کریں گے۔ کراچی میں اس وقت بھی  پشتو  بولنے والوں کی ایک صوبائی اسمبلی کی نشست ہے، اور اسے سندھ حکومت میں نمائندگی بھی حاصل ہے۔افغان مہاجرین کی بڑے پیمانے پر آبادکاری نے پٹھان آبادی کی پوزیشن اور مضبوط کردی ہے۔بعض حلقوں کا خیال ہے کہ آئندہ انتخابات میں اگر حلقہ بندی صحیح رہی تو پٹھان آبادی کو کم از کم دو صوبائی اور ایک قومی کی نشست مل سکتی ہے۔ اس آبادی کی نمائندگی کونسی جماعت کرے؟ اس پر صوبہ خیبر پختونخوا  میں اثر رکھنے والی  دو بڑی جماعتیں اے این پی اور جمیعت علمائے اسلام (ف)  زور لگا رہی ہیں۔جبکہ تحریک انصاف کے عمران بھی کوشش کریں گے کہ پشتون آبادی کی سیٹ ان کے حصے میں آئے۔ مولانا فضل الرحمان کا کراچی کا جلسہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔مولانا فضل الرحمان کے پاس مذہبی نعرہ ہے اور اے این پی کے پاس  یہ قوت کہ وہ طاقت کے زور پر کراچی میں پٹھانوں کے مفادات کا تحفظ کر سکتی ہے۔جے یو آئی کا خیال ہے کہ وہ پٹھان ووٹ کے علاوہ مذہبی رجحانات کے حامل غیر پٹھان ووٹ کو بھی اپنی طرف لا سکتی ہے۔ ایسے میں انہیں مذہبی جماعتوں کا اتحاد کام آتا ہے۔
غیر سندھی نمائندے
سندھ کے لوگوں کو یہ بھی شکایت رہی ہے کہ سنیٹ میں  ان کی نمائندگی  مؤثر اوردرست نہیں۔ پیپلز پارٹی کے کئی سنیٹرز کا تعلق مقامی آبادی سے نہیں، وہ نان سندھی اسپیکنگ ہیں۔پیپلز پارٹی کے پاس کل 14سنیٹرز میں چھ  نان سندھی اسپیکنگ ہیں۔یعنی وزیر داخلہ رحمان ملک، رضا ربانی، ڈاکٹر عاصم حسین،  فاروق نائک، مسز مدثرسحر کامران،  اور اسلام الدین شیخ۔  یہ حضرات سندھ  اور اس کے لوگوں اور حقوق کے بارے میں واضح سوچ نہیں رکھتے۔پیپلز پارٹی پر  اس حوالے سے تنقید ہوتی رہی ہے کہاس نے سیاسی مصلحت کی بنا پر سندھیوں کی نمائندگی غیر سندھیوں کے حوالے کی ہوئی ہے۔
مسلم لیگ (ق) اور جے یو آئی
نئی سنیٹ کے خدوخال میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ (ق) اور جے یو آئی کی سندھ سے نمائندگی ختم ہو گئی۔ جبکہ مسلم لیگ فنکشنل کی نمائندگی دو سے کم ہو کر ایک رہ جائے گی۔ ملک کی دوسری بڑی پارٹی ہونے کی دعویدار مسلم لیگ (ن) کا تو سنیٹ یا اسمبلی میں نمائندگی کے حوالے سے کوئی ذکر فکر ہی نہیں، کیونکہ اس جماعت کی سندھ سے قومی خواہ صوبائی اسمبلی میں کوئی سیٹ نہیں۔
 علماء کی نمائندگی ختم
سیاسی طور اندرون سندھ کبھی بھی مذہبی جماعتوں کے زیر اثر نہیں رہا مگر کراچی اور حیدرآباد میں اردو آبادی کی وجہ سے خاصے مذہبی اثرات رہے ہیں۔ستر کے انتخابات میں جب ملک میں قوم پرست ، سیکیولر اور سوشلزم کے نعرے پر لوگوں نے ووٹ دیئے تب بھی کراچی اور حیدرآباد سے جماعت اسلامی اور مولانا نورانی کی جمیعت علماے پاکستان کے ممبران منتخب ہوئے تھے۔ ایم کیو ایم نے ان دو شہروں میں مذہبی جماعتوں کے سیاسی اثر کو توڑا۔مگر اس کے باوجود کراچی میں مجموعی طور پر مذہبی اثر گاہے بہ گاہے نظر آتا رہا ہے۔حیدرآباد سے تو  بعد میں بھی جے یو پی ایک آدھ نشست جیتتی رہی ہے۔سنیٹ میں جے یو آئی کے ڈاکٹر خالد محمود سومرو اور ایم کیو ایم کے ڈاکٹر عبدالخالق پیرزادہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد سندھ سے علماء کا بھی کوئی نمائندہ نہیں ہوگا۔
ٓیم کیو ایم کی نشستوں میں اضافہ 
ایم کیو ایم کے تین سنیٹرز کرنل سید طاہر حسین مشہدی، احمد علی بروی ریٹائر ہوئے مگر اس کو تین کے بجائے چار نشستیں مل رہی ہیں۔جس کے بعد ایم کیو ایم کے پاس سنیٹ میں سات نشستیں ہو جائیں گی۔
 ایک چیز مثبت ہوئی ہے کہ پیپلز پارٹی نے اس مرتبہ کارکن طبقے کو سنیٹ میں جگہ دی ہے۔ مسز مدثرسحر کامران، اعجاز دھامراہ اور سعید غنی پرانے جیالے ہیں۔ اعجاز دھامراہ  پارٹی کے بانی بھٹو کے ساتھی اور پارٹی کے بنیادی رکن قاضی محمد بخش دھامراہ کے خاندان سے ہیں۔ سعید غنی مزدور رہنما اور مسلم کمرشل بنک ایپملائز یونین کے رہنما  کے بیٹے اور کراچی میونسپل میں اپوزیشن لیڈر رہے ہیں۔
سندھ سے منتخب  والے سنیٹرز میں سے چند ایک کو چھوڑ کر ایک بڑی اکثریت نے ایوان میں شاید ہی کبھی لب کشائی کی ہو۔ یہ حضرات صرف  کسی بل پر ووٹ دینے کا  آلہ بنے رہے ہیں۔مگر سندھ کے لوگ چاہتے ہیں کہ جب ملک کے اندر سیاسی صف بندی تبدیل ہو رہی ہے  اور صوبوں کے مابین بھی نیا  سیاسی ایڈجسٹ منٹ بن رہا ہے، ایسے میں انکی صحیح اور مؤثر نمائندگی ہو۔ 

No comments:

Post a Comment