Thursday, 5 March 2020

بینظیر بھٹو قتل کیس تحقیقات کی بریفنگ 2012-2-27

Mon, Feb 27, 2012, 11:28 AM
بینظیر بھٹو قتل کیس تحقیقات کی بریفنگ  
 میرے دل میرے مسافر۔۔ کالم۔۔۔سہیل سانگی
اراکین سندھ اسمبلی کووفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے بریفنگ دے ہی دی۔ وزیر داخلہ اور دئریکٹر جنرل ایف آئی اے کی یہ بریفنگ القاعدہ  اس کی مقامی شکل طالبان کے گرد گھومتی ہے۔اس بریفنگ میں ہمارے  پراسرارریاستی پرچھائیں کو چھوا تک نہیں گیا ہے۔جہادی جماعتوں، حقانی نیٹ ورک اور طالبان کا ریاستی عناصر سے جو گٹھ جوڑ کے بڑے چرچے رہے ہیں۔ اس لئے پیپلز پارٹی طویل اور کٹھن تجربہ رکھنے کے باوجود محتاط اور بڑی حد تک ڈری ہوئی ہے کہ کہیں پوری حقیقت بیان کرنے سے اسے ابھی یا مستقبل میں نقصان نہ اٹھانا نہ پڑے۔یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے محترمہ کے قتل کیس کے لئے طعنے سنے مگر محترمہ کے مقدمہ کے حوالے سے سیدھی بات کرنے کے لئے تیار نہیں۔اس پوزیشن نے پیپلز پارٹی کو بے رحم دائرے میں گھومنے پر مجبور کیا گیا۔
حکومت یہ رپورٹ سنیٹ اور قومی اسمبلی میں بھی پیش کرسکتی تھی۔ وہاں پر بھی کسی پارٹی کو اس اعتراض نہیں تھا، کیونکہ حزب اختلاف کی بڑی پارٹی مسلم لیگ (ن) تک قاتلوں کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔یوں کہیے کہ سندھ اسمبلی کے اراکین کو یہ بریفنگ دینے سے ملک گیر لیڈر اور عالمی شخصیت کو محدود کرنے کی کوشش سمجھا جائیگا۔
 در اصل نہ  تویہ انویسٹیگیشن رپورٹ تھی اور نہ ہی سندھ اسمبلی کے ایوان میں پیش نہیں کی گئی بلکہ یہ ایک بریفنگ تھی جو اراکین اسمبلی کو دی تھی، کیونکہ اجلاس ملتوی کرکے ہاؤس کو کمیٹی میں تبدیل کرنے کے بعد بریفنگ دی گئی۔لہذا نہ تو ریکارڈ پر رپورٹ رکھی گئی اور نہ ہی اس کی قانونی حیثیت بنی ہے جو کسی ایوان میں پیش کی گئی رپورٹ یا دستاویز کی ہوتی ہے۔
 یہ رپورٹ سنیچر کے روز پیش ہونی تھی مگر وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے عین وقت پر آنے سے انکار کردیا۔انکا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے اداروں کے درمیان ٹکراؤ  ہوگا۔ بعد میں وزیراعلی سید قائم علی شاہ نے صدر آصف علی کی ہمشیرہ فریال تالپور سے رابطہ کیا جو کہ سندھ کے اندر پارٹی اور حکومتی معاملات کی نگران ہیں۔ تب جا کر رحمان ملک راضی ہوئے اور منگل کے روز اراکین اسمبلی کو بریفنگ دی گئی۔
 اس رپورٹ میں تقریب وہی کہانی جو مشرف دور میں بیان کی گئی تھی۔اگر محترمہ کے قتل کا تمام پلان بیت اللہ محسود نے بنایا تھا اور مشرف کے فرشتوں کو بھی پتہ نہیں تھا تو پھر حاکم وقت نے مقبول لیڈر کو کیا سیکیورٹی فراہم کی؟محترمہ کی وطن واپسی پر  کراچی میں کارساز کے پاس ہونے والے واقعے سے چند لمحے پہلے بیت اللہ محسود کے کس ساتھی نے بجلی بند کی تھی؟ سعید عرف بلال نامی بمبار جو بیت اللہ محسود سے چار لاکھ روپے لیکر پیٹ سے بم باندھ کے اور جیب میں پستول رکھ کر گیا تھا وہ محترمہ تک کیسے پہنچا وہ اندر کیسے پہنچاکہ اس نے محترمہ پر فائر کیا۔دوسری گیٹ پر اکرام نامی بمبار کھڑا تھا محترمہ کا انتظار کر رہا تھا۔اس کو کون سی سلیمانی ٹوپی پہنی ہوئی تھی کہ وہاں موجود سیکیورٹی والوں کو نظر ہی نہیں آیا۔واقعے کے فورا بعد بیت اللہ محسود کے کس ساتھی نے جائے واردات دھو ڈالی تھی۔اس جیسے کئی سوالات لوگوں کے ذہنوں میں ابھرتے ہیں۔ 
اصل میں محترمہ کے قتل کے نشانات کارساز کراچی کے واقعے سے اٹھانے چاہئے تھے۔ خود رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 27 دسمبر کے واقعے کی18اکتوبر سے بہت مماثلت ہے۔ بعض اراکین نے وزیر داخلہ سے سوالات بھی کئے کہ 18اکتوبر سانحہ کی تحقیقات کا کیا ہوا؟ اس پر ممبران کو بتایا گیا کہ یہ صوبائی معاملہ ہے۔ صوبائی حکومت  ہی جواب دے سکتی ہے۔ 
محترمہ کے قتل کو اس وقت کے حالات اور واقعات کے پس منظر میں ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ 2007  میں طالبان کی پالیسی میں بڑی شفٹ رونما ہوئی تھی۔ انہوں نے اہم شخصیات اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
 کئی ماہ پہلے اسلام آباد کے ایک صحافی رؤف کلاسرانے بعض مصدقہ ذرائع کے حوالے سے ایک کالم میں لکھا تھا کہ قتل کی سازش کے سلسلے میں اسلام آباد میں ایک برگیڈیئر کے گھر پر میٹنگ ہوئی تھی۔کلاسرا کے اس اطلاع کی تحقیقات کے لئے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنائی گئی مگر تاحال اس ضمن میں کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔ اور نہ ہی اس بریفنگ میں اسکا حوالہ موجود تھا۔ 
افغان صدر حامد کرزئی اور ایک عرب ملک نے محترمہ کو پیغام بھیجا تھا کہ انہیں قتل کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ مگر نہ تو اقوام متحدہ کی ٹیم نے اور نہ ہی سکارٹ لینڈ کی ٹیم نے ان دونوں ممالک سے رابطہ کیا۔ 
 قتل کیس میں اس وقت کے آئی بی کے سربراہ برگیڈییر اعجاز شاہ کے رول کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر وزیر داخلہ کا جواب تھا کہ دنیا میں آج تک کسی بھی خفیہ ادارے کے سربراہ کے خلاف کوئی نہ کارروائی ہوئی ہے اور نہ ہی ثبوت ملا ہے۔ 
 پاکستان  پالیسیوں اور رویے کی وجہ سے بہت مشکل ملک بن گیا ہے۔کوئی اس کیساتھ چلنے کے لیے تیار نہیں۔افغانستان جیسے ملک کا سربراہ بھی ہم پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں۔ افغان جنگ اور دہشتگردی کے خلاف جنگ ہم نے افغانستان اور امریکہ کی وجہ سے لڑی۔ہمارے اس کنٹری بیوشن جوکے باوجود اب وہی ملک ہم پر ڈبل گیم کا الزام لگا رہے ہیں۔
ہم اب ڈبل گیم کھیلنے والے کے طور پرپہچانے جاتے ہیں۔اپنے لوگوں کے ساتھ ڈبل گیم اور غیروں کے ساتھ بھی ڈبل گیم۔چیٹنگ ہماری قومی علامت اور عادت بن گئی ہے۔ہم نے اپنے سویلین لیڈروں اور اپنے لوگوں کے ساتھ جو کچھ اس وجہ سے کوئی اور ہم سے کوئی امید رکھنے کا رسک کیوں لے گا۔ 
تعجب ہے محترمہ بے نظیر بھٹو کیس میں ہمیں خوش کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیشن اسکاٹ لینڈ یارڈ کی کمیشن، جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم وغیرہ وغیرہ سب بنیں مگر نتیجہ صفر ہی رہا۔ اس کے باجوود ان حلقوں کو پیپلز پارٹی پر جو بے اعتمادی ہے وہ ختم نہ ہو سکی۔پیپلز پارٹی ان کے لیے نفسیاتی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ کمانڈر کے یہ الفاظ بہت بھاری اور معنی خیز تھے جو انہوں نے محترمہ کی شہادت کے بعد غیرملکی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہے تھے۔”فوج کاایک حصہ محترمہ کو سیکیورٹی رسک سمجھتا تھا۔“ ان الفاظ کی نہ تب نہ ہی بعد میں کوئی تردید آئی ہے۔اسامہ اس ملک کے لیے سیکیورٹی رسک نہیں تھا۔سیکیورٹی رسک محترمہ جا کے ٹہری جن کو سنگدلی سے قتل کردیا گیا۔
  لوگ طویل عرصے سے منتظر تھے کب محترمہ کے قاتل قانون کی گرفت میں آتے ہیں۔یہ رپورٹ منتظر کوگوں کوکتنا مطمئن کریگی؟ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس رپورٹ میں جن کو ملزم ٹہرا گیا ہے ان کی حیثیت کٹھ پتلی سے زیادہ نہیں۔ یہ تو صرف ایکٹر تھے۔جب کہ اس ساری سازش کے اصل محرک کوئی اور افراد تھے۔
 نامکمل حفاظتی اقدامات کا سوال بھی قتل کی سازش کا اہم حصہ لگتا ہے۔وزیر داخلا نے کہا ہے کہ جنرل مشرف کے ریڈ وارنٹ جاری کرکے انٹرپول کے ذریعے گرفتار کیا جائیگا۔ بریفنگ کے دورانڈئریکٹر جنرل ایف آئی اے  خالد قریشی نے بتایا کہ محترمہ کے قتل کیس میں پرویز مشرف کو اس لیے بھی ملزم قرار دیا گیا ہے کہ انہوں نے محترمہ کو دھمکی دی تھی کہ اگر وہ انتخابات سے پہلے آئیں تو پھر جو کچھ ہوگا اسکی ذمہ  دار وہ خود ہونگی۔دوسرے یہ کہ مشرف نے محترمہ کو مناسب سیکیورٹی نہیں دی جس کا انہوں نے وعدہ کیا تھا۔
کہنے کو تو جنرل پرویز مشرف کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرنے کو کہا گیا ہے۔ پر کیا یہ ممکن ہے؟ میجر ارشد کو ٹنڈوبہاول کیس میں جو کہ سیتھا ایک میجر کو پھانسی دینے کے لئے دو خواتین کو خود سوزی کرنے پڑی تھی۔ ڈاکٹر شازیہ کے مقدمہ میں ادارہ کچھ اس طرح کھڑا ہوگیا تھا۔ اور اسکو سزا نہیں دینے دی۔ تو کیا یہ ادارہ اپنے ایک سابق سربراہ کو یوں گرفتار ہونے دیگا؟ 
یہ سب کچھ کیسے ہوگا؟۔ ظاہر ہے کہ مشرف اور حکومت کے درمیاں کچھ گارنٹی دینے والے بھی ہونگے۔ وہ سب کیسے یہ کرنے دیں گے؟ اس کا مطلب یہی نکلتا ہے کہ یہ سیاست کے سوائے کچھ بھی نہیں۔

No comments:

Post a Comment