Mon, Apr 9, 2012, 1:28 AM
قوم پرست سیاست کا عوامی رنگ بشیر خان قریشی
میرے دل میرے مسافر۔۔ کالم۔۔ سہیل سانگی
دو ہفتے قبل کراچی میں منعقد کی گئی فریڈم مارچ اور وہاں اس کی تقریر کی ان الفاظ کی گونج ابھی فضاؤں میں باقی تھی کہ اچانک دل کا دورہ پڑنے سے وہ انتقال کر گئے۔بشیر خان قریشی جس نعرے پر جدوجہد کر رہے تھے اس پر ان سے پہلے بھی بلکہ ابھی کچھ مختلف لیڈر کام کر رہے ہیں، مگر ان جماعتوں یا لیڈر کو مقبولیت نہ مل سکی جو بشیر خان نے حاصل کی۔اس کی وجہ انکا اسٹائل اور مخصوص طبیعت تھا۔لہٰذا انکی سیاست، طریقہ کار اور ذاتی تجربہ مطالعہ کی تقاضا کرتا ہے۔
سندھ کی قوم پرست سیاست میں تیں بڑے رجحانات ہیں۔ایک گروہ پارلیمانی سیاست کے ذریعے سندھ کے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔جس میں جی ایم سید کے پوتے سید جلال محمود شاہ، ڈاکٹر قادر مگسی، جلال محمود شاہ، ممتاز بھٹو شامل ہیں۔ دوسرا گروہ علحدگی چاہتا ہے اور سندھ کی آزادانہ حیثیت کا خواہان ہے۔اس رجحان کی نمائندگی بشیر خان قریشی، خالق جونیجو، عبدالواحدآریسر، صفدر سرکی وغیرہ کرتے ہیں۔بشیر خان قریشی دوسرے رجحان کے اہم نمائندے اور سندھ کی تمام قوم پرست جماعتوں اور گروپوں میں سب سے بڑی جماعت کے رہنما تھے۔قوم پرست سیاست میں جی ایم سید کے بعد سب سے زیادہ مقبول رہنما بن گئے۔ اگرسندھ کی سیاست پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ڈاکٹر مگسی رسول بخش پلیجو کی سیاست میں مین ڈائریکشن ایم کیو ایم کے خلاف ہے جبکہ بشیر خان قریشی اور ڈاکٹر صفدر سرکی کی پنجاب کے خلاف ہے۔ڈاکٹر قادر مگسی اور رسول بخش پلیجو نواز شریف کے اس لندن میں بنائے گئے اس اتحاد کا حصہ رہے ہیں جو انہوں نے بینظیر بھٹو سے میثاق جمہوریت پر دستخط کرنے کے بعد اپنی الگ شناخت کے لئے بنایاتھا۔
قوم پرست سیاست جو صرف تعلیمی اداروں تک محدود تھی۔ زمانہ طالب علمی میں سیاست میں قدم رکنھنے والے بشیر قریشی نے جیئے سندھ تحریک کو ایک نیا رخ دیا۔ اس کو عوام تک لانے کی بھرپور کوشش کی جس کا ثبوت بڑے بڑے جلسے اور ریلیاں ہیں۔یہ ان کی دو دہائیوں کی انتھک محنت تھی۔وہ دراصل ایک کارکن لیڈر تھے۔سندھ میں قوم پرست سیاست کرنے والے چھوٹے بڑے گروپ اور ان کے زیادہ تر رہنما باتوں کے بادشاہ ہیں۔ عام آدمی کو موبلائز کرنے یا دیہات میں جاکر مشکل حالات میں کام کرنے کے بجائے ڈرائنگ روم کی سیاست پر اکتفا کرتے ہیں۔بشیر قریشی نے باتوں کی بادشاہی کے بجائے عمل کے میدان کو منتخب کیا اور یوں لوگوں کے درمیاں پلتھی مار کر بیٹھنے والا بڑے بڑے اکابرین اور دانشوروں سے زیادہ مقبول ہو گیا۔
قدیم تہذیب موہن جو دڑو کے علاقے میں جنم لینے والے بشیر قریشی نے صوفیانہ اور سادہ طبیعت کے مالک تھے اور مخصوص سندھی اسٹائل میں ہاتھ جوڑ کر سلام کرکے اس شخص نے سندھ بھر میں رابطوں نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا۔ قوم پرست سیاست جواس سے قبل کارنر میٹنگز، ہوسٹلوں کے کمروں یا قومی کارکنوں کے اوطاقوں تک محدود تھی اسے وہاں سے سے نکال کرپہلی مرتبہ سڑکوں پرلے آیا۔وہ احتجاج کو جلسوں سے آگے لے گئے اور احتجاج کی نئی شکل دھرنوں کی سیاست کوسندھ میں متعارف کرایا۔ دھرنوں کے باعث وہ صوبے میں خواہ ملک میں توجہ کا مرکز بن گئے۔ لوگوں کو موبلائز کرنے اور مقبولیت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اور انہوں نے ان دھرنوں کے ذریعے بعض مقامی مسائل بھی حل کرائے۔
پانی کی قلت کا معاملہ ہو یا کالاباغ ڈیم کا منصوبہ، این ایف سی ایوارڈ ہو یا سندھ کے لوگوں کی ملازمتوں کا معاملہ ہو یامردم شماری میں ہیراپھیری۔بشیرقریشی نے شہر شہر جا کر لوگوں کومتحرک کیا۔بلاشبہ وہ سندھ کی ہم عصر قیادت میں وہ شخص تھا جن کا عوام سے سب سے زیادہ رابطہ تھااور عوام کو متحرک کیا۔
مشرف دور میں کالا باغ ڈیم کے خلاف خیرپور کے قریب ببرلوئی چوک کے مقام پرپاس دھرنا دینے جا رہے تھے تو فائرنگ کی گئی۔یہ خیرپور کی تاریخ کا سب سے بڑا دھرنا تھا۔۔ رانی پور سے کراچی تک لانگ مارچ کیا۔وہ ان لیڈروں میں سے نہیں تھے جو پیدل لانگ مارچ کرنے والے کارکنوں کو چھوڑ کر خود لینڈ کروزر پر شہر سے باہر آکے مارچ میں شامل ہوتے تھے۔ پنجاب کی سرحد سے کراچی تک پیدل لانگ مارچ کیا تو ان کے پاؤں میں چھالے تھے۔ سندھ کے مختلف اشوز پر زبردست تحریک چلائی۔کئی مرتبہ سندھ پنجاب بارڈر پر دھرنا دیا۔اور پنجاب کی طرف جانے والی ٹریفک کو بلاک کیا۔کموں شہید کے پاس کالاباغ ڈیم کے خلاف بینظیر بھٹو کے ساتھ دھرنا دیا اور بینظیر نے انہیں تقریر کے لیے بلایا۔ چھوٹے بڑے شہروں میں دھرنے دیئے۔مختلف شہروں سے کراچی تک لانگ مارچ کئے۔
سندھ میں قبائلی جھگڑے روز کا معمول ہیں۔ یہ جھگڑے ہر ماہ کئی انسانی جانیں نگل جاتے ہیں۔کئی مقامات پر یہ جھگڑے معیشت، تعلیم اور عام سماجی زندگی پر برے اثرات مرتب کرتے رہے ہیں۔ان قبائلی جھگڑوں کی وجہ سے کاروکاری پر عورتوں کا قتل اور بعد میں ان قتل کا فیصلہ جرگے کے ذریعے کرنا خاصا عام تھا۔انہوں نے قبائلی جھگڑوں اور خون خرابے کو روکنے کے لیے منت سماجت ”منتھ میڑ“ قافلوں کی رویت ڈالی۔وہ ْرآن مجید اور شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری کا مجموعہ لے کر پہنچے اور فریقین کو راضی نامہ کرنے پر قائل کیا۔یہ ایک سوشل ورک کی فیلڈ تھی لیکن اس کو انہوں نے سیاست کا حصہ بنانے کی کوشش کی۔
عام طور پر قوم پرست سیاست کا مرکز حیدرآباد رہا ہے۔ جہاں مختلف سیاسی پارٹیوں کے رہنما موجود بھی ہوتے ہیں اور انکے دفاتر اور انکی سرگرمیاں نظر آتی ہیں۔بشیرقریشی پہلے قوم پرست لیڈر تھے جنہوں نے نہ صرف کراچی میں سیاسی مقصد کے لیے رہائش اختیار کی بلکہ کراچی کو اپنی سیاست کا محور بنایا۔انہوں نے کئی شہروں سے کراچی تک کا مارچ کیا۔ کراچی میں ہر سال بڑی بڑی ریلی نکالنا ضروری قراردیا۔
بنیادی طور پرزراعت کے طالبعلم سیاست کی طرف آئے، مگر وہ کوئی بہت زیادہ کتابیں پڑھنے والا نہیں تھا۔مگر جذبہ اور سچائی ان کے لیے رہنمائی تھے۔یوں کہیئے کہ علم پیچھے رہ گیا اور عمل آگے نکل گیا۔وہ اتنی بڑی ریلیاں نکالتے تھے تو یہ علم کا نہیں عشق کا کارنامہ تھا۔
بشیر یاروں کا یار تھا۔ کارکنوں سے ذاتی تعلق اور وابستگی ان کی کامیابی کا سبب بنی۔ روپوشی کے زمانے میں وہ گاؤں گاؤں گئے جس نے ان کے طریقے کار کو نیا رخ دیا۔ اور کامیابی کی بھی وجہ بنی۔
وہ پارلیمانی سیاست سے دور رہے۔ نہ کسی کو انتخابات کا آسرا نہ اقتدار میں حصہ پتی کی لالچ۔اس کے باجود خاصی مقبولیت حاصل کی جو ابھی تک کسی قوم پرست سیاستداں کا صرف خواب ہی ہو سکتا ہے۔
سیاست بڑی عجیب چیز ہے۔ خاص طور پر آج کے دور میں۔ تھوڑی مقبولیت کے بعد لیڈر کے گردن میں بل آجاتا ہے۔ مگر اتنی بڑی مقبولیت کے باوجود انکا نہ کوئی پروٹوکول نہیں۔ ہر وقت کارکنوں کے درمیان ہوتے تھے۔بشیر کی ایک اور خصوصیت عدم تشدد تھا۔انہوں نے کراچی میں 23مارچ کو جو آخری ریلی نکالی اس میں کوئی ہتھیاروں کی نمائش نہیں تھی۔ورنہ کراچی میں سیاست بغیر ہتھیاروں کے کرنا ناممکن سی بات لگتی ہے۔
بشیر قریشی نے سیاست کرنے کا عوامی ڈھنگ اپنایاجو یا تو تحریک آزادی کے دوراں رہنماؤں نے اختیار کیا تھا یا پھر کمیونسٹوں کا تھا۔ یعنی نچلی سطح پرجا کر کام کرنا۔یہ وہ خصوصیات تھیں جس کی وجہ سے بشیر قریشی منفرد اور مقبول لیڈر بنے۔
No comments:
Post a Comment