Mon, Apr 2, 2012 at 1:00 PM
بھٹو کی میراث: صف بندی جو آج تک قائم ہے
میرے دل میرے مسافر کالم سہیل سانگی
پاکستان کی سیاست کی سئی ابھی تک ستر کی دہائی پر پھنسی ہوئی ہے۔دنیا بہت آگے نکل چکی ہے۔ سرد جنگ کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ اب سوویت یونین کا وجود نہیں رہا۔دنیا یک قطبی (uni polar) ہوگئی ہے۔اب سوشلسٹ بلاک اور سوشلزم کا وجودبھی نہیں رہا۔ لہٰذا سوشلزم سے کوئی خطرہ بھی نہیں، اب امریکہ بہادر اس جنگل میں اکیلا شیر ہے۔
آج ہم 2012 میں تاریخ پر نظرٖڈالیں۔ذوالفقار علی بھٹو کی موت کو تینتیس سا ل ہو چکے ہیں مگر پاکستان میں سیاست کی صف بندی جوستر کی دہائی بنی تھی وہ ابھی تک معمولی فرق لے ساتھ جوں کی توں برقرارہے۔ میں ڈائریکش وہی ہے۔سیاست میں لوگ اور جماعتیں بھٹو اور پیپلز پارٹی کے حامی ہیں یا مخالف۔
1977ع میں پاکستان قومی اتحاد(عرف عام پی این اے)نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک چلائی جس کے نتیجے میں جنرل ضیاء نے مارشل لا نافذ کردیا تھا۔ نو جماعتوں پر مشتمل اتحاد میں مذہبی اور بائیں بازو کی جماعتیں یعنی جماعت اسلامی، جمیعت علمائے اسلام، مسلم لیگ، جمیعت علمائے پاکستان پیش پیش تھیں۔نوابزادہ نصرللہ اور نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی کی بعد اسکی جگہ پر بنائی گئی شیرباز مزاری کی نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی بھی اس میں شامل تھیں۔
بعد میں ضیا دور میں یہ صف بندی کسی حد تک ٹوٹی۔ اور نیا سیاسی اتحاد اس تحریک بحالی جمہوریت(ایم آرڈی)وجود میں آیا اس اتحادنے پیپلز پارٹی کی قیادت میں ملک بھر میں خاص طور پر سندھ میں بھر پور تحریک چلائی۔ ضیاء کی مارشل لا کے خلاف اس اتحاد میں عوامی نیشنل پارٹی، جمیعت علمائے اسلام اور نوابزادہ نصراللہ واپس آکر جڑے جبکہ جماعت اسلامی اور مسلم جمیعت علمائے پاکستان بدستور پیپلز پارٹی سے دور اور ضیا کے کیمپ میں رہیں۔ایم آرڈی میں پیپلز پارٹی کے ساتھ عوامی نیشنل پارٹی، تحریک استقلال، قومی محاذ آزادی، مزدور کسان پارٹی شامل تھیں۔ نوابزادہ نصراللہ خان کا عوامی لیگ کاپس منظر تھا۔ لہذا یہ وہ جماعتیں ٹہریں جو قیام پاکستان کے بعد جمہوری یا عوامی پس منظر رکھتی تھیں۔
1970ع کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی سندھ پنجاب اور وفاق میں برسر اقتدار تھی آئی اور بلوچستان اور اب پختونخوا میں نیشنل عوامی پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام کی مخلوط حکومت تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی، نیشنل عوامی پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام فطری اتحادی ہیں جو کچھ عرصے کی علحدگی کے بعد دوبارہ واپس آ ملیں اور اب حکمران اتحاد میں شامل ہیں۔
بھٹوکے حامی اور مخالفین کی جانب سے تعریف یا تنقیداپنی جگہ پر مگر ان کو صحیح پس منظر میں پرکھنا ضروری ہے۔
بھٹو کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے پاکستان میں مقبول اور عوامی سیاست کی بنیاد ڈالی۔لوگوں میں یہ احساس پیدا کیا کہ وہ بھی کوئی حیثیت اور اہمیت رکھتے ہیں جنہیں تسلیم کیا جانا چاہئے۔انہوں نے عام آدمی کی حمایت کی، سڑکوں کی سیاست متعارف کرائی اور لوگوں میں احساس پیداکیا کہ وہ بھی اسٹیک ہولڈر ہیں ان کی بھی سنی جانی چاہئے۔احتجاج کی سیاست جو بائیں بازو کا شیوہ تھی بھٹو نے اسکو اپنالیا۔ وہ عوام کو ایک مؤثر طاقت سمجھتے تھے جنہیں سیاست میں یا تبدیلی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بعد میں ان کے مخالفین نے1977ع میں پی این اے کی تحریک میں اسی فارمولاکو استعمال کیا اورعوام کو سڑکوں پر لے آئے جس کے نتیجے میں انہیں اقتدار سے ہٹایاگیا۔ان کی تقریر کا اسٹائل بھی خاصا مقبول رہا جسے بعدمیں کئی سیاسی رہنماؤں نے اپنانے کی کوشش کی۔ پاکستان کی ایک بڑی پارٹی کے رہنما بھٹو کی ویڈیو کیسٹ دیکھ کر تقریر مشق کرتے تھے۔
آج پیپلز پارٹی اور بھٹو کو سندھ کی پارٹی یا سندھ کا لیڈر کا طعنہ دیا جاتا ہے مگر حقیقت اس کے الٹ ہے۔70ع کے انتخابات میں بھٹو پنجاب کے لیڈر تھے۔ پیپلز پارٹی نے ان انتخابات میں پنجاب میں 82 نشستوں میں سے 62 جیتی تھیں یعنی75 فیصد اور سندھ میں کل 27 میں سے 18 نشستیں یعنی 66 فیصدجیتی تھیں۔اسی طرح صوبائی نشستوں میں بھی پنجاب میں پیپلز پارٹی کے پاس 180میں سے 113 نشستیں یعنی 62 فیصد اور سندھ میں 60 میں سے28 نشستیں یعنی46فیصد تھیں۔
بھٹو کا یہ بھی کارنامہ تھا کہ انہوں نے بائیں بازو کی سیاست کو پاور پالیٹکس کا حصہ بنایا۔ اس سے پہلے لیفٹ کے گروپ سیاست تو کررہے تھے مگر مین اسٹریم سیاست میں رول ادا نہیں کر پا رہے تھے۔بھٹو نے بائیں بازو کو متحرک تو کیا مگر بعد میں سوشلزم نافذ کرنے میں خود بہت بڑی رکاوٹ بنے۔ جے اے رحیم، معراج محمدخان جیسے لوگ نکالے گئے۔ نیشنلائزیشن تو ہو گیا مگر زرعی اصلاحات پورے طور پر نہیں ہوئے۔نتیجے میں زمینداروں اشرافیہ آخر تک بھٹو کی پارٹی کے ساتھ رہی اور صنعتکار اس کے مخالف رہے۔
بھٹو کے اسٹائل سے شخصیت پرستی اورکرشماتی لیڈرشپ پیدا ہوئی، بعد میں یہی شخصیت پرستی خاندانی سیاست کی بنیاد بنی۔یہ وہ رجحان ہے جس کے تحت لیڈر پارٹی کے ساتھساتھ عام لوگوں اور ووٹرز میں بھی کو غیرمعمولی اختیا ر کا مالک بن جاتا ہے۔۔ وہ پاکستان کے پہلے لیڈر تھے جنہوں نے یہ فارمولا اپنایا۔ بعد میں بعض دیگر لیڈروں نے بھی اس اسٹائل کو اپنانے کی کوشش کی۔ پیپلز پارٹی میں یہ رجحان اتنا حاوی رہا کہ یہ بھٹوز کے لیے ہی بن گیا۔ شاید کرشماتی لیڈرکی صلاحیت او شخصیت پرستی نے ہی بے نظیر بھٹو کی جان لی۔
پاکستانیت بھٹو کی سیاست اور حکمت عملی ایک اہم نقطہ رہا۔ بعد میں بے نظیر بھٹو نے بھی اس نقطے کو اسی طرح پنایا۔ بھٹو شروع میں شہروں کا لیڈر تھا۔ شروع میں بھٹو نے 65ع کی جنگ میں ایوب خان کے موقف کی مخالفت کی اور اعلان تاشقند کا ڈرامہ رچایا اور اس بنیاد پر شہروں میں مقبولیت حاصل کی۔یہ پاکستانی قوم پرستی بھارت اور امریکہ دشمنی پر مبنی تھی۔مگر بعد میں بیرونی حالات نے انکو مجبور کیا کہ امریکہ کے ساتھ مفاہمانہ رویہ رکھیں۔
بھٹو نے اسلامی سوشلزم کا نعرہ لگا کر مذہب کو بھی استعمال کیا۔ بعد میں قادیانیوں کو اقلیت قراردینا اور پی این اے کے دباؤ میں آکر بعض مذہبی قوانین نافذ کرنا اس رجحان کا حصہ ہیں۔
سوشلزم کے نعرے اور ان کے بعض معاشی اقدامات کی وجہ سے قدامت پسند پارٹیوں کو اکٹھا ہونے کا موقعہ ملا۔ پہلے مرحلے میں اس کی پالیسیوں نے قدامت پسند درمیانہ طبقے کو دور کرنا شروع کیااور یوں اس طبقے کی پارٹیاں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئیں۔ ان کی پالیسیاں صنعتکاروں اور متوسط طبقے کو چبھنے لگیں جو کہ مزید قدامت پرستی کی طرف چلے گئے۔اور متحد ہونے لگے۔تب ملک میں مسلم لیگ (ن) جیسی کوئی ملک گیر مین اسٹریم کی پارٹی موجود نہیں تھی۔یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی اور جے یو آئی قائد بن گئیں۔یہ جماعتیں بنیادی طور پر مذہبی تھیں ان میں قدامت پسند اقدار تو موجود تھیں مگر مکمل طور پر اس کی نمائندگی نہیں کر رہی تھیں۔
ضیا نے محسوس کیا کہ متوسطہ طبقے میں بھٹو مخالف جذبات موجود ہیں، اور یہ کہ مذہبی جماعتوں میں اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ وہ قدامت پرست جمہوری قوتوں کو اپنی طرف کھینچ سکیں لہذا مسلم لیگ میں نئے سرے سے سانس ڈالی گئی۔ّگے چل مسلم لیگ ایک کامیاب اور مین اسٹریم کی پارٹی بن گئی۔
بھٹو کا ایک اور کارنامہ معاشی اقدامات تھے۔ بھٹو کے معاشی اصلاحات زیادہ تر ایوب خان کی پالیسیوں کے پس منظر میں تھے جو کہ زراعت سے وسائل صنعت کی طرف منتقل کر رہے تھے۔ معاشی استحصال کی وجہ سے مزدور طبے اور دیہی اشرافیہ میں بے چینی موجود تھی۔ لہذا انہوں نے بنیادی صنعتوں بنکوں، تعلیمی اداروں، زراعت سے متعلق صنعتوں کو قومی تحویل میں لیا۔بھٹو کا یہ قدم عالمی حالات سے مطابقت رکھتا تھا۔مگر گربڑ یہ ہوئی کی صنعتکاری اور قومیانہ زرعی اصلاحات کے بغیر کیا گیا۔اس بات نے متوسطہ طبقے اور صنعتکاروں کو ناراض کیا، یہ اقدام دیہی اشرافیہ کے حق میں جاتا تھا۔
روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا ملک کے نیم جاگیردارانہ اور نیم سرمایہ دارانہ نظام کی چکی میں جو لوگ پس رہے تھے، ان محروم لوگوں کی آس بندھی اور وہ اس کے پیچھے ہو لئے۔انہوں نے لوگوں میں نئی امید پیدا کی اور ایک نیا جذبہ پیدا کیا جن کے خواب بکھر رہے تھے۔بھٹو نے ایک ایسا مظہر پیش کیا کہ عام بندہ یہ سمجھنے لگا کہ انکے لیڈر کو ان سے بے پناہ لگاؤ ہے۔انہوں نے لوگوں کو منظم کیا۔ لوگ ابھی تک اسی راہ پر چل رہے ہیں۔ بھٹو پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ بااثرشخصیت تھے انکے انتقال کو تینتالیس برس ہو چکے ہیں مگر اس کی میراث ابھی تک قائم اور مضبوط ہے۔
No comments:
Post a Comment