Thursday, 5 March 2020

نواز لیگ کو سندھ میں کیا چاہئے؟ 2012-3-29

Thu, Mar 29, 2012 at 2:50 PM
نواز لیگ کو سندھ میں کیا چاہئے؟ 
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 
مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف کو بعد دیر بعد پتہ چلا کہ اسلام آاباد کا اقتدار حاصل کرنے کے لیے سندھ کی حمایت بہت ضروری ہے۔ورنہ گذشتہ انتخابات میں انہیں وفاق میں حکومت بنانے کا کوئی آسرا نہیں تھا تو انہوں نے سندھ میں کوئی ایک بھی امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا۔ حال ہی میں انہوں نے ایک بار پھر پیپلز پارٹی اور قوم پرستوں کے مضبوط گڑھ سندھ کا دورہ کیا۔وہ سال میں جتنی بار لندن جاتے ہیں اتنی ہی بار سندھ کا دورہ بھی کرتے ہیں۔مگر گذشتہ ڈیڑھ دو سال سے وہ گاہے بہ گاہے سندھ آتے رہے ہیں اس کوشش میں ہیں کسی ہیوی ویٹ کو پارٹی میں شمولیت کے لئے قائل نہ کر سکے ہیں۔
وہ ان تمام کوششوں کے باوجود سندھ میں کوئی بڑا جلسہ نہیں کر پائے ہیں۔ جبکہ ان  کے رقیب عمران خان گھوٹکی، کراچی اور عمرکوٹ میں سیاسی شو کر چکے ہیں۔
 سندھ میں پیپلز پارٹی سے کسی ہیوی ویٹ کی نواز لیگ میں شمولیت یا حمایت کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ لے دے کے قوم پرست اور کچھ آزاد گروپ جو”بلی کے بھاگوں چھیکا ٹوٹے“ کے منتظر ہیں وہ نواز لیگ میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں یا اتحاد یا سیاسی حمایت کر سکتے ہیں۔مگر اس میں بھی بہت سارے اگر مگر ہیں۔اگرچہ پنجاب میں پارٹی کے بعض حلقے سندھ کو اہمیت دینے کے مخالف ہیں مگراس کے باوجود  میاں صاحب نے سندھ میں قوم پرستوں اور دیگر سیاسی گروپوں سے رابطہ کیا ہے۔انہوں نے  
حالیہ برسوں میں بہت محنت کے بعد کچھ کامیابیاں میاں صاحب کے حصے میں آئی ہیں۔ چند ماہ قبل  انہوں نے سندھ کی ایک قوم پرست جماعت سندھ ترقی پسند پارٹی جو اب پارلیمانی سیاست کرنا چاہتی ہیاس کے دفتر”ترقی پسند ہاؤس“گئے اور اس جماعت کے چیئرمین قادر مگسی سے ملاقات کی۔اس ملاقات میں ڈاکٹرقادر مگسی نے انہیں کچھ یقین دہانیاں بھی کرائی۔ مگر ان یقین دہانیوں پر قوم پرست حلقوں میں سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا۔میاں صاحب نے اسی دن عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو سے بھی ملاقات کی۔ان ملاقاتوں کا مقصد چند یقین دہانیاں پیپلز پارٹی کی حکومت سے جان چھڑانا کے لیے تعاون حاصؒ کرنا تھا۔ جس سے وہ خود نہیں جان چھڑا سکے ہیں۔
سندھ کی ان دو پارٹیوں نے تا حال مسلم لیگ (ن) کا ساتھ دینے کا واضح اشارہ نہیں دیا ہے۔تاہم مسلم لیگ (ن) کی وفاق میں پیپلز پارٹی کے متبادل ہونے کی پوزیشن کی وجہ سے قادر مگسی اور رسول بخش پلیجو سیاسی حکمت عملی کے طور پر نواز شریف کے اتحادی ہیں۔یہ دونوں جماعتیں نواز شریف کے ساتھ عملی طور پر اتحاد کرتی ہیں یا صرف سیاسی حمایت تک محدود رہتی ہیں؟ اس بات کا تعین اس بات پر ہوگا کہ اسٹیبلشمنٹ نواز شریف کو ہی اپناتی ہے یا کوئی اور مہرہ میدان میں لے آتی ہے؟ اور یہ بھی کہ واقعی پیپلز پارٹی کو ااقتدار سے دور کرنا چاہتی ہے؟ اگر یہ دونوں جماعتیں نواز شریف کا سہارا بنتی ہیں تو کسی حد تک انکو سندھ میں سیاسی طور پر تقویت مل سکتی ہے۔مگر اس کے لئے نواز شریف کو سندھ کے حوالے سے کچھ وعدے وعید کرنے پڑیں گے۔ مثال کے طور پر نواز لیگ اقتدار میں آکر سندھ کی پانی، مالی معاملات،  قدرتی وسائل وغیرہ کے لیے کیاقدامات کرے گی؟ اور حکومت میں آنے کے بعد انکو کیا ملے گا۔
ابھی تک ماروی میمن واحد شخصیت ہیں جنہوں نے میاں صاحب کو عزت بخشی۔ مشرف دور میں سیاسی منظر پر آنے والی ساحلی ضلع ٹھٹہ سے تعلق رکھنے والی ماروی میمن نے مسلم لیگ (ق) کو الوداع کہنے کے بعد کچھ عرصہ سندھ میں تبدیلی کا نعرہ بلند کرنے والے گروپ کے ساتھ گذارا۔ بعد میں عمران خان کی پیشکش پر غور کرتی رہی۔بالآخرانہوں نے رائیونڈ پہنچ کر نواز لیگ میں شمولیت اختیار کر لی۔ماروی میمن کا اپنا کوئی بھی ووٹ بنک یا حلقہ انتخاب نہیں۔کیونکہ ٹھٹہ پیپلز پارٹی یا پھر شیرازیوں کے زیر اثر ہے۔ اس وقت تک انکا کنٹری بیوشن یہ ہے کہ وہ سندھ کے مختلف اشوز پر جلسے جلوس اور احتجاج رتی رہی ہیں۔ خصوصی نشست کی طلبگار ماروی سندھ میں نواز لیگ کی سیاسی مہم چلانے میں مددگار ہو سکتی ہیں۔

 گھوٹکی اور شکارپور کے مہر برادران یعنی مشرف دور کے وزیر اعلیٰ سندھ علی محمد مہر اور موجودہ  وفاقی وزیر غوث بخش مہر کوبھی راضی کرکے پارٹی میں لانے کی کوششیں تاحال نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکی ہیں۔ غوث بخش مہر اس وات مسلم لیگ (ق) میں ہیں اور گھوٹکی کے علی محمد مہرسے پیپلز پارٹی کا بھی رابطہ ہے۔انہوں نے اگر پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار نہ کی تو وہ انتخابات جیت کر بعد میں ماحول دیکھنے کے بعد فیصلہ کریں گے کہ کس کا ساتھ دیا جائے۔قوی امکان ہے کہ وہ پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کریں گے یا پھر اس کے اتحادی بنیں گے۔مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور وفاقی وزیر غوث بخش مہر مسلم لیگ (ن) کے اتحادی ہیں۔
تمام تر کوششوں کے باوجود کوئی اور ہیوی ویٹ پارٹی میں شمولیت نہ کرسکا ہے۔اب سابق وزیر اعلیٰ لیاقت جتوئی نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کیا۔لیاقت جتوئی ماضی میں نواز شریف کی پارٹی میں رہے ہیں اور وزیر اعلیٰ بھی رہے۔ بعد میں انہیں ہٹا گورنر راج نافذ کیا گیا اورکر غوث علی شاکہ کو  مشیر اعلیٰ بنایا گیا۔ بعد میں لیاقت جتوئی مشرف دور میں وفاقی وزیر پانی و بجلی بھی رہے، اس سے پہلے وہ قوم پرستی کے لبادے میں سیاست کرنے والے لیاقت جتوئی پیپلز پارٹی کے بغیر جو بھی بھی سندھ میں سیٹ اپ بنا اسکا حصہ رہے ہیں۔لیاقت جتوئی کی نظر ایک بار پھر وزارت اعلیٰ کی کرسی پر ہے۔
 نوز شریف نے جی ایم سید کے پوتے جلال محمود شاہ سے اور سندھ نیشنل فرنٹ کے سربراہ ممتاز بھٹو سے بھی رابطہ کیا ہے۔ ممتاز بھٹونے ضیا دور میں پیپلز پارٹی سے علحدگی اختیار کی تھی۔اور اس کے بعدوہ پیپلز پارٹی کے کٹر مخالف رہے ہیں۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ انہیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اگر وہ اپنے فرنٹ کو نواز لیگ میں ضم کرتے ہیں،  پیپلز پارٹی شہید بھٹو سمیت سندھ کی بعض قوم پرست جماعتوں کو نوز لیگ کا اتحادی بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو انکو صدارت کا عہدہ دیا جائیگا۔مگر سندھ کے قوم پرستوں کو نواز شریف کی حمایت کرنے پرقائل کرنا میں مشکل کام ہے۔ شایدممتاز بھٹوایسا نہ کر پائیں۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جلال محمود شاہ اور ممتاز بھٹو نے نوز شریف سے دو معاملات یعنی کالا باغ ڈیم اور 1940 کی لاہور قرارداد  پر عمل کرنے کی پر یقین دہانی مانگی ہے۔لیکن نوز شریف ان دونوں مطالبات کو لمبی فرمائش سمجھتے ہیں۔
مشرف دور کے وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم پیپلز پارٹی کے مخالف صف بندی کا حصہ ہیں۔ مگر انہوں نے نواز شریف کے بجائے عمران خان کو منتخب کیا ہے جہاں سندھ میں تاحال کوئی اور ہیوی ویٹ
 موجود نہیں ہے۔اس کے علاوہ تھر کے علاقے میں جہاں کے تین نشستوں کی بنیاد پر وہ سیاست کرتے رہے ہیں تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی کے مرید موجود ہیں اور مقامی سیاست میں وہ ان کی مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ارباب غلام رحیم اور مخدوم شاہ محمود قریشی کے درمیان رابطہ ہے اور شاہ محمود قریشی نے تھرپارکر کے ایک نشست سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے۔
سندھ میں سیاسی طور  وجود رکھنا نوز شریف کے لیے بہت مشکل کام ہے۔ اول یہ کہ سندھ کے لوگ اور سیاسی حلقے سمجھتے ہیں کہ انکی مسائل اور مصائب کے لیے ذمہ دار پنجاب ہے۔ اور یہ مسلم لیگ (ن) کو پنجاب کی پارٹی سمجھتے ہیں۔لہٰذا سندھ میں جو اشوز اٹھائے جاتے رہے ہیں جن کو سندھ کے کور اشوز کا نام دیا جاتا ہے ان کافوکس پنجاب مخالفت پر مبنی ہے۔اور نوز شریف ان پر کوئی واضح موقف اختیار نہیں کر سکتے کہ یہاں کے سیاسی حلقوں اور لوگوں کو اپنی طرف لے آ پائیں۔دوسرے یہ کہ سندھ میں ان کی پارٹی کی تنظیمی صورتحال غیر اطمینان بخش رہی ہے۔
میاں صاحب نے شروع سے ہی پارٹی کی تنظیم کاری کے بجائے ایسے لوگوں پر تکیہ کیا جو تھوڑا بہت ووٹ بنک رکھتے ہیں۔ اور انتخابات جیت کر انکی سیاسی حمایت کر سکتے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے اس صوبے میں نہ پارٹی بنائی اور نہ ہی اپنا کوئی ووٹ بنک۔ لہٰذا  ایسے بنے بنائے لوگوں پر تکیہ کیا جو اپنا حلقہ انتخاب رکھتے تھے۔ابن الوقت اور موقع پرست لوگ ہی ان کے گرد جمع ہوتے رہے۔ اور حکومت جانے کے بعد یا برے وقت میں ان سے علحدہ ہوتے رہے۔ماضی میں یہ بھی المیہ رہا کہ جب شہباز شریف پارٹی کے سربراہ بنے تو انہوں نے پرانے لوگوں کے بجائے سردار رحیم جیسے لوگ آگے آئے۔ جس کی وجہ سے اختلافات بھی بڑھے اور پرانے لوگوں کی حوصلہ شکنی بھی ہوئی۔ یوں سندھ میں تنظیمی طور پر پارٹی ختم ہو کر رہ گئی۔ اضلاع تو دور کی بات ہیں ابھی تک پارٹی کی صوبائی سطح پر بھی تنظیم سازی مکمل نہیں ہے۔
پارٹی میں موجود سندھ کے لوگوں پر عدم اعتمادی کا یہ عالم رہا ہے کہ پارٹی کے صوبائی چیف خوآرڈینیٹر مشہود صاحب پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں اور وہاں صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر ہیں۔اگر آپ لوگوں پر اعتماد نہیں کرتے تو لوگ آپ پر کیوں کریں؟اب دیکھنا یہ ہے کہ میاں صاحب سندھ کو واقعے اپنا حلقہ انتخاب بنا رہے ہیں یا صرف فوری ضرورتوں کے لیے اپنا رہے ہیں۔

No comments:

Post a Comment