Mon, May 28, 2012 at 11:56 AM
پیپلزپارٹی کی سندھ کے لئے کمیٹی
میرے دل میرے مسافر کالم سہیل سانگی
بہت دیر کے مہمان آتے آتے۔ بالآخر پیپلز پارٹی کو احساس ہو ہی گیا کہ اسکے ووٹر پارٹی کی پالیسی سے خوش نہیں۔ جس طرح سے حکومت میں رہتے ہوئے پارٹی اور قیادت معاملات کو دیکھ رہی ہے اور کر رہی ہے، وہ ا سکے حلقہ انتخا ب کے خواہشات اور امنگوں کے مطابق نہیں۔ اس بات کا احساس اچانک اوراتنی شدت سے ہوا کہ وفاقی کابینہ کینے خصوسی کمیٹی تشکیل دے دی۔ پاکستان میں عوام کو کمیٹیوں اور کمیشنوں کی تشکیل، ان کی کارکردگی کا ماضی میں تلخ تجربہ رہا ہے۔ عموما یہی کہا جاتا رہا ہے کہ اگر کسی مسئلے کو حل نہ کرنا ہو یا کھٹائی میں ڈالنا ہو تو کمیٹی یا کمیشن بنادو۔لہذا کمیٹی سیاست میں ڈسٹ بن کا کام دیتی ہے۔ سندھ سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزراء مخدوم امین فہیم، خورشید شاہ، نوید قمر اور مولابخش چاندیو پر مشتمل خصوصی کمیٹی نے سندھ پہنچ کرکے تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔کمیٹی مہاجرصوبے کے حوالے سے مختلف سرگرمیوں اور اس کے میں سندھ کی وحدت کے لیے نکالی گئی ریلی پر فائرنگ کے واقعات کی تحقیقات کرے گی۔کمیٹی کے اراکین نے حیدرآباد سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔یہ پہلا موقعہ ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت میں آنے کے بعد قوم پرستوں سے بات چیت کرے گی۔اس سے قبل اپوزیشن میں رہتے ہوئے پی پی کالاباغ ڈیم، گریٹر تھل کینال کی تعمیر وغیرہ کے اشوز پر قوم پرستوں کے ساتھ اتحاد میں رہی ہے۔ لہٰذا قوم پرست اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کے جانے پہچانے اور بعض معاملات میں اتحادی بھی رہے ہیں۔
کئی مرتبہ یہ سولات اٹھائے جاتے رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی دنیا جہان کے ساتھ مفاہمت کی پالیسی پر چل رہی ہے۔ ان کے ساتھ بات چیت بھی ہو رہی ہے، مطالبات سنے بھی جا رہے ہیں اور تسلیم بھی کئے جا رہے ہیں مگر یہ مفاہمت سندھ اور بلوچستان میں نظر نہیں آتی۔ بلوچستان کے لیڈروں کو تو پھر بھیسچے یا جھوٹے منہ دو تین مرتبہ مذاکرات کی پیشکش کی گئی۔سند ھ جس کو پیپلز پارٹی کا گھر سمجھا جاتا ہے وہاں کے قوم پرستوں سے کبھی بھی بات کا عندیہ بھی نہیں دیا گیا۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے ان کی اہمیت کو سمجھا اور مانا ہے۔ حالانکہ اس عمل میں خاصی دیر ہو چکی ہے۔ درجنوں ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں،۔چلو دیر آید درست آید۔
باتت چیت کا سلسلہ اس لیے بھی شروع کیا گیا کہ نواز شریف نے سندھ میں جارحانہ انداز میں کام کرنا شروع کردیا ہے۔ چند ماہ قبل تک پیپلز پارٹی کے گڑھ اس صوبے میں نواز شریف کی پارٹی کا تنظیمی سطح پر کوئی باقاعدہ وجود نہیں تھا۔اور نواز شریف کو اپنے جلسے کرنے کے لیے پنجاب سے رہنما لا کر بندوبست کرنا پڑ رہا تھا۔اس کے علاوہ حالیہ چند ہفتوں میں رونما ہونے والے واقعات نے بھی خاصا اہم کردار ادا کیا۔ جیئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین بشیر خان قریشی کی پراسرار حالات میں موت اور ان کے جسم کے اجزاء کی میڈیکل رپورٹ نے کئے سوالات پیدا کردیئے۔جس کو تاحال حکومت واضح نہیں کر سکی ہے۔اس کے بعد کراچی میں سندھ کو تقسیم کرنے اور مہاجر صوبہ بنانے کے لیے مظاہرے ہوئے، وال چاکنگ کی گئی۔پوسٹر لگائے گئے۔ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ پیپلز پارٹی کے گڑھ لیاری میں آپریشن کیا گیا۔ لیاری جو پیپلز پارٹی کا ذاتی حلقہ مجھا جاتا رہا ہے وہاں سے پیپلز پارٹی کے خلاف نعرے لگے۔لوگوں نے احتجاج کیا۔ 22 مئی کو کراچی میں لیاری سے سندھ کی وحدت کے خلاف اٹھنے والے نعروں اور امکانی تحریک کے خلاف لیاری کے قدیمی باشندوں، کچھی برادری اور سندھی آبادی نے عوامی تحریک اور بعض دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر جلوس نکالا جس پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 12 افراد ہلاک ہو گئے اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوئے۔ اسی دن سندھ کے ایک قوم پرست گروپ جیئے سندھ متحدہ محاذ کے جنرل سیکریٹری مظفر بھٹو کی لاش ملی۔ جنہیں کوئی ایک سال قبل ایجنسیوں نے گرفتار کیا تھا۔ اور ان کی پارٹی اور لواحقین ان کی پراسرار گمشدگی پر احتجاج کر رہے تھے۔اور مطالبہ کر رہے تھے کہ انکو رہا کیا جائے اور اگر الزامات ہیں تو گرفتاری ظاہر کی جائے۔اور بتایا جائے کہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں؟ اگرچہ سندھ سے سیاسی کارکنوں کی پراسرار گمشدگی گذشتہ دو تین سال سے جاری ہے۔ اور مختلف وقتوں میں ایک سو ے زائد کارکنان اس عمل سے گزر چکے ہیں۔ مگر اس طرح سے گرفاری کے بعد لاش ملنا سندھ میں پہلا واقعہ تھا۔
ماروی میمن کی شمولیت کے بعد مسلم لیگ (ن) کو ایک سرگرم، موبائل لیڈر مل گیا ہے۔ یہ صورتحال اس سے پہلے کبھی بھی اس پارٹی کے ساتھ نہیں تھی۔ نواز شریف نے ممتاز بھٹو، رسول بخش پلیجو، ڈاکٹر قادر مگسی، جلال محمود شاہ سے ملاقاتیں اور رابطے کئے اور بعد میں فالو اپ کے طور پر ماروی میمن ان رہنماؤں سے رابطے میں ہے۔ ان رابطوں نے پیپلز پارٹی کو مجبور کردیا کہ وہ اپنے لوگوں سے رجوع کرے۔
پہلے مرحلے میں کمیٹی کے اراکین نے سندھ کے بعض دانشوروں سے مالاقات کی۔ ان دانشوروں میں سے زیادہ کا تعلق این جی او سیکٹر سے ہے۔ نہیں معلوم کہ کس طرح سے ان لوگوں کو دانشور بنا کر حکومتی ٹیم کے سامنے پیش کیا گیا۔اور یہ خود ایک سوال ہے کہ این جی اوز کا بھی کوئی سیاسی رول بنتا ہے؟ یا حکومت اس یکٹر کو یہ رول دینا چاہ رہی ہے جو کہ ا س سیکٹر کا مینڈیٹ نہیں۔
کابینہ کی کمیٹی کے اراکین کے مطابق صرف قوم پرستوں سے ہی نہیں ملے گی بلکہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے ملے گی۔تعجب کی بات ہے کہ کمیٹی کا ابھی تک نہ ٹرم آف ریفرنس آیا ہے اور نہ ہی یہ طے ہوا ہے کہ اسٹیک ہولڈرز کون کون ہو سکتے ہیں۔کمیٹی کے ممبران کے مطابق ایم کیو ایم سمیت دیگر پارٹیوں سے بھی ملاقاتیں کی جائینگی۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کمیٹی اس نام نہاد مہاجر صوبہ تحریک کے نمائندوں سے بھی ملاقات کرے گی۔کیونکہ مہاجر صوبے کے اشو پر ایم کیو ایم نے بلاواسطہ یہ بھی کہا ہے کہ لوگوں کی شکایات ہیں انکو سنا جائے۔اگر ایسا کیا گیا تو کمیٹی جن مقاصد کے لیے بنی ہے وہ حاصل نہیں ہو سکیں گے بلکہ پیپلز پارٹی جو سیاسی فائدہ اس کمیٹی کے ذریعے لینا چاہ رہی ہے وہ بھی نہیں لے پائیگی۔
بعض قوم پرست جماعتیں کمیٹی کے ممبران سے ملاقات کو اس بات سے مشروط کر رہی ہیں کہ پہلے پیپلز پارٹی یا حکومت بعض اقدامات اٹھائے اور مذاکرات کا ماحول بنائے۔سندھ کے دانشوروں نے وفاقی کابینہ کی کمیٹی کے سامنے جو مطالبات رکھے ہیں ان میں بالواسطہ طور پر پرانے بلدیاتی نظام کی بحالی، گورنر سندھ کی برطرفی اورحیدرآباد ضلع کی پرانی شکل میں بحالی کے مطالبات بھی شامل ہیں۔ جن میں سے گورنر ندھ کو ہٹانا اور حیدرآباد ضلع کی بحالی ایسے مطالبات ہیں جن کو چھیڑنے کا مطلب ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے اتحاد میں دراڑیں ڈالنا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ کمیٹی کا کام سیاسی ماحول پیدا کرنا اورسندھ میں پیپلز پارٹی جس مشکل میں پھنسی ہے اس سے نکالنا ہے نہ کہ سندھ کے حقیقی اشوز اور شکایات کو دور کرنا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کمیٹی مزید مذاکرات میں جانے سے پہلے اپنا ٹرم آف ریفرنس بناتی ہے اور یہ طے کرتی ہے کہ کون کون سے اسٹیک ہولڈرز ہیں اور کن کن ے ملنا ہے۔ اس طے کئے بغیر کمیٹی کی پوری کوشش ایک سیاسی مشق سے زیادہ نہیں ہو گی۔
No comments:
Post a Comment