Mon, May 14, 2012 at 1:12 PM
ممتاز بھٹو کی نواز لیگ میں شمولیت
میرے دل میرے مسافر کالم ۔۔ سہیل سانگی
ممتاز بھٹو کا فیصلہ ملکی یا سندھ صوبہ سندھ کوئی نیاپن لے آئے گا۔ممتاز بھٹو بہت انا پرست اور تیز طبع کے مالک قوم پرست سیاستدان ہیں۔ پیپلز پارٹی کی مخالفت ان کا اہم نکتہ ہے۔نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان کچھ سیاسی اختلافات یقیننا ہیں پر نواز لیگ کی پیپلز پارٹی کے ساتھ جو جنگ چل رہی ہے وہ ذاتی زیادہ ہے۔نواز شریف جب یہ کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی نے پندرہ سال حکومت کی تو وہ یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ انکو حکومت کرنے کا کم موقعہ کیوں دیا جا رہا ہے۔ میاں شہباز شریف نے جو زبان صدر آصف زرداری کے خلاف استعمال کی وہ بھی ابھی تک لوگوں کو یاد ہے۔
پیپلز پارٹی کی مخالفت وہ نکتہ ہے جس نے ممتاز علی بھٹو اور نواز لیگ کو ایک دوسرے کے قریب لا کر کھڑا کیا ہے۔اب ممتاز بھٹو کی مدد سے نواز شریف پیپلز پارٹی کے رہنماؤں خاص طور پر آصف علی زرداری کو کونے میں کھڑا کرنے کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ پنجاب میں نواز لیگ اکیلی ہی پیپلز پارٹی کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ نواز لیگ کو وہ شخص زیادہ اچھا لگے گا جو پیپلز پارٹی کے اندر یا باہر رہ کر پیپلز پارٹی پر کم مگر آصف علی زرداری پر زیادہ تنقید کرے گا۔ اگر کسی نے آصف علی زرداری سے وفاداری بنھانے کی کوشش کی تو وہ وہ اس سے بڑھ کر کوئی دشمن نہیں ہوگا۔ گیلانی صدر زرداری کے وفادار ہیں تو وہ نواز لیگ کے دشمن نمبر ون بن گئے ہیں۔ ممتاز علی بھٹو صدر زرداری کے دشمن ہیں تو وہ نواز لیگ کا حصہ بن گئے ہیں۔
نواز شریف کئی دفعہ یہ کوشش کر چکے ہیں کہ وہ صدر زرداری کی وفاداری سے باہر نکلیں مگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔ اب بھی نواز شریف جب بات کرتے ہیں تو ان کی تنقید کا نشانہ پیپلز پارٹی نہیں بلکہ آصف زردار ی ہی ہوتے ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ بینظیر بھٹو کی ہمدردی کا ووٹ تو انہیں ملنا چاپئے۔ وہ گزشتہ سال بینظیر کی مزار پر بھی گئے۔وہ لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ وہ پیپلز پارٹی نہیں ہے جو بھٹو کی تھی یا بینظیر کی تھی۔اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ نواز شریف سمجھتے ہیں کہ لوگوں کے دلوں سے پیپلز پارٹی یا بھٹو کی محبت ختم نہیں کی جا سکتی۔
یوسف رضا گیلانی جب فاروق لغاری نہیں بن سکے تو مسلم لیگ (ن) نے آصف علی زرداری کے ساتھ انہیں بھی ٹارگیٹ بنایا۔ اور وزیر اعظم ماننے سے انکار کر دیا۔اور سپریم کورٹ کی سزا کو جواز بنا کر وزیراعظم ہٹاؤ کی تحریک شروع کردی گئی ہے۔
مسلم لیگ (ن) مرکز خواہ صوبوں میں حکومت بنانے کے خواب دیکھ رہی ہے۔ مگراسکے پاس سوائے پنجاب میں اپنی حکومت نہیں بنا سکتی۔ اس لیے ممتاز بھٹو کو مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے سرگرم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔مسلم لیگ (ن) نے انتخابات سے پہلے اقتدار حاصل کرنے کے لیے بہت تیزی سے پتے کھیلنے کی کوشش کی ہے مگر تاحال کوئی ایک بھی پتہ کارگر ثابت نہیں ہوا ہے۔
سندھ کی سیاست میں داخل نواز شریف کو مشکل لگ رہا تھا تونواز لیگ نے پہلے بلوچستان کی صورتحال کو کیش کرانے کی کوشش کی لیکن بلوچستان بہت زیادہ گرم تھا اور عطاء اللہ مینگل کی جانب سے معذوری ظاہر کرنے کے بعد سندھ کا رخ کیا۔ وہی سندھ جہاں گذشتہ انتخابات میں ایک بھی امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا۔ جیسے سندھ اس کا حلقہ انتخاب ہی نہ رہا۔
نواز شریف نے سندھ کی تین اور قوم پرست جماعتوں یعنی قادر مگسی کی سندھ ترقی پسند پارٹی، رسول بخش پلیجو کی عوامی تحریک اور جلال محمود شاہ کی سندھ یونائٹیڈ پارٹی سے بھی رابطے کئے تھے۔مگر ممتاز بھٹو ان تینوں پارٹیوں سے سبقت لے گئے۔ممتاز بھٹو کی شمولیت کے بعد باقی قوم پرست پارٹیوں اور لیاقت جتوئی جیسے لوگوں کے لیے نواز لیگ میں کشش کم ہوگئی ہے۔کیونکہ ممتاز بھٹو کے ہوتے ہوئے ان کی بارگیننگ پوزیشن کمزور رہے گی۔ اور اگر سندھ کارڈ کے حوالے سے کچھ ملا تھا تو پہلے ممتاز بھٹو کو ہی ملے گا۔
یوں یہ قوم پرست جونئر در جونئر شراکت دار ہو جائیں گے۔
بشیر خان قریشی کے انتقال کے بعد اور ایم کیو ایم کی طرف پیپلز پارٹی مفاہمانہ رویے کی وجہ سے قوم پرست تیسری پارٹی یا فریق سمجھی جا رہے تھے مگرممتاز بھٹو کی نواز لیگ میں شمولیت کی وجہ سے مجموعی طور پر قوم پرستوں کی ساکھ کو دھچکا پہنچے گا۔
ممتاز بھٹو اور نواز شریف کو ایک ساتھ کام کرنے کا اس سے پہلے بھی تجربہ ہے۔ 1996ع میں جب صدر فاروق لغاری نے اپنی ہی پارٹی سے بے وفائی کرکے بینظیر بھٹو کی حکومت برطرف کی تھی تو اسٹیبلشمنٹ کی انتخاب نظر ممتاز بھٹوپر پڑی اور انہیں سندھ کا نگراں وزیر اعلیٰ مقرر کیا گیا۔اسٹیبلشمنٹ کا منصوبہ انتخابات کے نتائج میں ہیراپھیری کرنا تھا تاکہ پیپلز پارٹی کو حکومت میں نہ آنے دیا جائے۔
اس منصوبے پر بڑی کامیابی کے ساتھ کام کیا گیا اور نواز شریف وزیراعظم بن گئے۔اس وقت بھی ممتاز بھٹو کی پارٹی سندھ بھر میں صرف ایک صوبائی اسمبلی کی نشست حاصل کر پائی تھی اور وہ تھی ان کی آبائی گاؤں کی نشست جہاں سے انکے فرزند امیر بخش بھٹو منتخب ہوئے تھے۔ لیکن ان کی جیت سا سو ووٹ سے ہی ہوئی تھی۔
خیال کیا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی خراب کارکردگی کی وجہ سے ممتاز بھٹو کی نواز لیگ میں شمولیت سے خاصا فرق پڑے گا۔نواز لیگ کو تو اس سے کام کرنے میں کچھ سہولت حاصل ہو جائے گی۔بعض مبصرین اس فیصلے کو ممتاز بھٹو یا وہ جس طرح کی سیاست کر رہے تھے اس کی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔
کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے سندھ کی مجموعی سیاسی سوچ میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے کہ ایک ایسا سیاستداں جس کی بنیاد پنجاب پر ہو اس کے ساتھ مل کر قوم پرست سیاست کی جا سکتی ہے۔
یہ تمام عرصہ ممتاز بھٹو نے کبھی ایک موقعہ بھی پیپلز پارٹی کی مخالفت کے بغیر نہیں گزارا۔ انہوں نے چند روز پہلے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ چھوٹی قومیتیں پنجاب کے کے تسلط میں ہیں مظالم کا شکار ہیں، یہ تسلط ختم کئے بغیر ان کو حقوق نہیں مل سکتے۔
ایک ایسی پارٹی میں شمولیت کرنا جس کی طاقت کا سرچشمہ پنجاب ہو کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
جس کے جواب میں وہ یہی کہیں گے کہ نواز شریف نے انہیں سندھ کے حقوق کے لیے یقین دہانیاں کرائی ہیں۔
ماروی میمن اور لیاقت جتوئی کی شمولیت کو سیاسی حلقے زیادہ اہمیت نہیں دے رہے تھے۔ اب ممتاز بھٹو کی شمولیت کو پیپلز پارٹی کے گڑھ سندھ میں بریک تھرو قرار دیا جا رہا ہے۔ممتاز بھٹو دوسرے وڈیروں سے اتحاد بنانے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں وہ پیپلز پارٹی کے مخالفین کو ایک جگہ پر کٹھا کر سکتے ہیں۔
پیپلز پارٹی سے باہر سندھ کے وڈیرے ابھی تک گومگو میں ہیں کہ کیا اسٹیبلشمنٹ کا نواز شریف سے معاملات بن گئے ہیں؟ بظاہر ایسا نہیں لگتا۔ اگر ایسا ہے بھی تو اب اسی یا نوے کی دہائی نہیں ہے کہ کھل کر اسٹیبلشمنٹ ایسا کر پائے۔
سندھ میں فنکشنل لیگ اور مسلم لیگ (ق) کی انتخابی سطح پر موجودگی ایسے لوگوں کے پناہ گاہ بنی ہوئی ہے جو کسی وجہ سے پیپلز پارٹی میں شمولیت نہیں کر سکتے، مگر اقتدار کے مزے لوٹ سکتے ہیں کیونکہ ان کی جماعت مرکز میں پیپلز پارٹی کی اتحادی ہے۔ایسے میں وہ کیوں نواز لیگ میں شریک ہوں یا ممتاز بھٹو جیسے انا پرست سیاستدان کے ماتحت ہو کر کام کریں۔
اسٹیبلشمنٹ کی اگر خواہش ہے کہ دیہی سندھ میں پی پی مخالف متبادل بنایا جائے۔مگر یہ بیل مونڈے چڑھتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ کیانکہ آگے بھی آصف علی زرداری ہیں۔جو مفاہمت کے نام پر اپنے ساتھ فنکشنل لیگ اور مسلم لیگ (ق) کو بھی جوڑے ہوئے ہیں جو فلٹر کا کام کر رہے ہیں۔ جو انکی پارٹی میں نہیں آسکتے تو ان میں سے کسی پارٹی میں شامل ہو کر اقتدار میں بیٹھ سکتے ہیں۔لاڑکانہ کے سردار چانڈیو، غلام حسین انڑ، مرتضیٰ جتوئی، خانگڑھ کے مہر، ٹھٹہ کے شیرازی جو انفرادی طور پر نشستیں جیت سکتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کہ اگر آصف زرداری ان کے پاس چل کر آئے تو وہ پیپلز پارٹی میں شمولیت سے انکار کرسکیں۔
No comments:
Post a Comment