Thursday, 5 March 2020

مرزا کے بعد سسئی پلیجو بھی فارغ - 2012-6-4

Mon, Jun 4, 2012, 10:53 AM
مرزا کے بعد سسئی پلیجو بھی فارغ

 میرے دل میرے مسافر ۔کالم ۔۔سہیل سانگی
سندھ میں پیپلز پارٹی نے اپنی ایک اور وزیر کو فارغ کردیا ہے۔جس کے بعدگذشتہ ایک سال کے دوران ہٹائے جانے والے وزراء کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا پہلے وزیر تھے جنہیں وزارت سے فارغ کردیا گیا تھا۔ڈاکٹرذوالفقار مرزا کو ایم کیو ایم سے پارٹی کے تعلقات اور کراچی میں دہشتگردی کے واقعات میں ملوث بعض سیاسی کارکنوں کی گرفتاری کی وجہ سے ہٹایا گیا تھا۔ ڈاکٹر مرزا جو صدر آصف زرداری کے بہت ہی قریبی رفیق تھے انکا سندھ کے امن امان کے معاملات میں وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی مداخلت پر بھی اعتراض تھا۔ اس کے بعد ان کی حمایت کرنے پر دو وزراء جلیل میمن اور  شرجیل میمن کو بھی فارغ کر دیا گیا۔مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے  وزیر شہریار مہر کوبھی ایم کیو ایم سے اختلافات کی بناء پر ایک عرصے تک بغیر قلمدان کے رہنا پڑا۔ لیاری آپریشن اور قوم پرست رہنما بشیر قریشی کے اجزاء کی طبی رپورٹ پر اختلافات کی بنا پر دوسرے وزیر داخلہ منظور وسان کو جبری چھٹی پر بھیج دیا گیا۔اب سسئی پلیجو سے بھی وزارت ثقافت کا قلمدان لے لیا گیا ہے۔
بتایاجاتا ہے کہ ٹھٹہ سے تعلق رکھنے والی سسئی پلیجو نے گذشتہ روز سندھ کابینہ کے اجلاس میں متنازع میگا اسکیم ذوالفقار آباد کے معاملے پر کچھ اختلافات رکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اسکیم انکے حلقہ انتخاب میں شروع کی جا رہی ہے لہٰذا انکی رائے لی جائے اور علاقے کے لوگوں کو اعتماد میں لیا جائے۔کابینہ کا خصوصی اجلاس ذوالفقارآباد منصوبے کی منظوری کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ جس میں اس منصوبے کے ایم ڈی  نے کابینہ کو بریفنگ دی۔ 
کابینہ کے بعض اراکین کا کہنا ہے کہ بریفنگ کے دوران اتحادی جماعت کے وزراء بار بار مداخلت کرتے رہے۔سسئی پلیجو نے وزیر اعلیٰ کو بتایا کہ جہاں یہ منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے پہلے وہاں کے لوگوں کو سنا جائے اور ان کے خدشات کو دور کیا جائے۔جب ان کی بات نہیں سنی گئی تو سسئی نے کہا کہ”سائیں کراچی میں جب کوئی ریلی نکلتی ہے تو ہمارے بھائی کہتے ہیں کہ کراچی میں ہمارے اسٹیک ہیں لہٰذا ہم سے پوچھا جائے۔مگرذوالفقار آباد اسکیم کے لیے ٹھٹہ اور وہاں کے منتخب نمائندوں سے پوچھا نہیں جا رہا ہے۔“مگر ان کی بات سنی ان سنی کردی گئی۔جس پر خاتون وزیرنے احتجاج کیا اور کہا کہ میں ٹھٹہ سے منتخب ہوں اور میرا اسٹیک ہے۔جس پر وزیراعلیٰ  سید قائا علی شاہ نے انہیں سختی سے چپ رہنے کو کہا۔بعد میں سسئی بطور احتجاج واک آؤٹ کر گئیں۔اس رویے پر وزیر اعلیٰ کو شدید غصہ آیا اور انہوں نے سسئی سے وزارت ثقافت کا قلمدان واپس لے لیا۔اور اس عمل پر ان سے وضاحت بھی طلب کی۔
 بعد میں سسئی نے صحافیوں کو بتایا کہ ایم کیو ایم کے وزراء نے مداخلت کی اور انہیں بات نہیں کرنے دی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ان کو موقف رکھنے نہیں دیا۔اس صورتحال میں اجلاس میں بیٹھنا بے عزتی سے کم نہیں تھا۔لہٰذا اجلاس سے باہر نکل آئی۔مجھے نہیں پتہ کہ ذوالفقار آباد کا اصل پلان کیا ہے اور اس پر کس طرح سے عمل ہوگا؟علاقے کے لوگوں کو اس سے کس طرح اور کیا فائدہ ہوگا؟وزیر اعلٰی سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ سسئی پلیجو ان کی تقریر کے دوران بار بار مداخلت کر رہی تھیں۔فی الحال ان سے وزارت کا قلمدان لے لیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات شازیہ مری کا کہنا ہے کہ اجلاس میں سسئی اپنا تفصیلی موقف پیش کر چکی تھیں۔
 کابینہ کے اجلاس ہوتے ہی اس لیے ہیں کہ مختلف معاملات پر بحث کی جائے اور ان کو سمجھا جائے اور منظوری دی جائے۔مگر اجلاس  میں ایک وزیرکی رائے کو بھی نہیں سنا گیا۔ چار سال کے عرصے میں  نصف درجن وزراء کا اختلاف کر کے وزارتیں چھوڑنا کوئی معمولی بات نہیں۔سیاسی حلقے اس امر کو بڑی اہمیت دے رہے ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ پیپلز پارٹی  اس نقصان کا ازالہ کیسے کرتی ہے۔
 ٹھٹہ ضلع میں ساحلی پٹی پر ذوالفقار آباد کے نام سے ایک میگا پروجیکٹ شروع کیا جا رہا ہے۔اس پروجیکٹ  پر15 جون سے کام شروع ہو جائیگا۔صدر آصف علی زرداری نے اس پروجیکٹ کے لیے مزید زمین خرید کرنے کے بھی احکامات دیئے ہیں۔گاڑھو کے مقام سے  شاھبندر تک ایکسپریس وے تعمیر کرنے کا ٹھیکہ دینے کا کام بھی مکمل ہو گیا ہے۔چینی ماہریں عنقریب علاقے کا آکر جائزہ لیں گے۔ترکی اور چیک ریپبلک کی فرمیں بھی اس منصوبے میں دلچسپی کا اظہار کر رہی ہیں۔دبئی میں منعقدہ کانفرنس میں سرمایہ کاروں نے اس منصوبے میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔چین نے نئے میگا سٹی میں خصوصی صنعتی زون تعمیر کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کے تحت معاشی زون، متبادل توانائی، ہاؤسنگ اسکیموں، سیاحت، تعلیم، ہسپتالوں کی تعمیر کے لیے واک طلب کیے گئے ہیں۔
 پیپلز پارٹی کے بعض حلقے  قوم پرست سوچ رکھنے والی سسئی پلیجو کے اعتراضات کو سیاسی نہیں بلکہ ذاتی قرار دے رہے ہیں انکا کہنا ہے کہ سسئی کے ایک بہت ہی قریبی رشتہ دار بہٹ بڑے ٹھیکیدار ہیں اور ان اختلافات  کا پس منظر بھی وہی ہے۔وہ اس ضمن میں خاتوں وزیر کے حلقے میں کرائے گئے ترقیاتی کاموں اور زمینوں کی ملکیت  میں حالیہ تبدیلی پر بھی سوالات اٹھا رہے ہیں۔ سسئی کے قریبی حلقے ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ ان الزامات سے ہٹ کر دیکھا جائے تو سسئی  سرگرم اور بہت ووکل رہی ہیں خاص طور پر سندھ کے معاملات پر۔ اس حوالے سے ان کا اس سے پہلے وفاقی وزیر رحمان ملک سے ایک سے زائد مرتبہ جھگڑا بھی ہو چکا ہے اور ایم کیو ایم کی بعض سرگرمیوں پر اعتراض کرنے والے پارٹی کے رہنماؤں میں سے ہیں۔
سندھ کی ساحلی پٹی کو جغرافیائی طور پر حکمت عملی کی پوزیشن حاصل ہے۔ کیونکہ سمندر ی گزرگاہ ہرموز اور ملاکا اسی روٹ پر واقع ہیں جہاں سے دنیا کے تیل کا ستر فیصدیہاں سے گزرتا ہے۔ اس کے علاوہ وسطی ایشیا، ہند چینی ممالک، چین وغیرہ کو بھی یہی سمندری راستہ زیادہ فائدے مند ہے۔پاکستان وسطی ایشیا کی تیل اور گیس سے مالامال ریاستوں کے قریب ہے۔یہ ریاستیں لینڈ لاک ہیں انکو سوائے پاکستان کے ساحلی  پٹی کے کوئی راستہ نہیں کہ دنیا سے تجارت کر سکیں۔ اس خطے کے سمندری نقشے پر نظر ڈالیں تو ہمیں سمندری گزرگاہیں نظرآئیں گی۔ مشرق میں ملاکا کی گزرگاہ of Malacca Strait ہے جس کے ایک طرف سماترا کا جزیرہ ہے تو دوسری طرف ملائیشیا اور سینگاپور ہیں۔ مغرب میں ہرموز کی سمندری گزرگاہ ہے۔جو  بحر عرب کو خلیج  فارس سے ملاتی ہے۔ان دونوں سمندری گزرگاہوں کے بیچ میں کراچی اور ٹھٹہ کا یہ ساحلی علاقہ واقع ہے۔جہاں نیا میگاسٹی تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے میں گوادر کی طرح چین خاصی مدد کرنا چاہتا ہے۔ کیونکہ چین کوقراقورم کے ذریعے بحیرہ ہند اور بحیرہ عرب تک راستہ ملتا ہے
 سندھ کے لوگوں کو نئے میگا سٹی کی تعمیر پر شکوک اور تحفظات رہے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ مقامی آبادی کا کیا ہوگا؟ یہ آبادی جو صدیوں سے اپنے ہی ثقافتی رنگ میں رہتی ہے۔آج تک انکو نہ اعتماد میں لیا گیا ہے نہ ہی بریفنگ دی گئی ہے۔
 سندھ کی قوم پرست جماعتیں اس پروجیکٹ کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔ ان میں سے بعض کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی سے دستبردار ہو کر اس میٹروپولیٹن شہر کو اتحادی جماعت کے حوالے کرنا چاہتی ہے اور اب باقی آبادی کے لیے نیا شہر تعمیر کر رہی ہے۔گئی ہے۔جبکہ دوسرے حلقوں کا کہنا ہے کہ غیرملکی سرمایہ کاروں کوسندھ کی زمین بیچی جا رہی ہے جس سے سندھ کا کوئی بھلا نہیں ہوگا۔ یہ بھی اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس نئے شہر کی تعمیر سے سندھ میں دوسرے ممالک اور دوسرے صوبوں سے بڑے پیمانے پرلوگ یہا ں آ کر آباد ہوں گی۔ جس سے صوبے کی آبادی کا تناسب تبدیل ہو جائے گا اور سندھ کے پرانے باشندے اقلیت میں تبدیل ہو جائیں گے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ کے باشندے ابھی تک  مالی خواہ، انتظامی اور کاروباری حوالے سے آگے آ سکے ہیں کہ ملک کے بڑے سرمایہ دار یا غیر ملکی سرمایہ کا مقابلہ کر سکیں لہٰذا سندھ کے وسائل پر غیروں کا قبضہ ہو جائیگا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں مقامی لوگوں کے لی حقوق کے تحفظ کے لیے کوئی قانون نہیں بنایا گیا ہے اور نہ ہی  موثر اقدامات کئے گئے ہیں۔ اس صورتحال میں پیسہ،کاروباراورتجربہ جگہ گھیر لے گا۔
ماضی کا تجربہ یہ ہے کہ جس علاقے سے گیس یا تیل نکلتا ہے کمپنیاں وہاں کے لوگوں کو  اس کام میں ملازمتیں دینے کو بھی تیار نہیں ہیں۔اگر مناسب قانون سازی نہیں ہوگی تو باہر کے لوگوں کو یہاں  یہاں غیرقانونی طور پراملاک اور جائدادیں بنانے کا اختیار مل جائے گا۔گھارو، شاھبندر کے علاقے تو جدید ہو جائیں گے مگر یہاں کے باشندے کسی گداگر بستی میں رہ رہے ہونگے۔
 اس معاملے پر نواز شریف اس وجہ سے بھی خاموش ہیں کہ ان پر پہلے ہی یہ الزام ہے کہ وہ سندھ کے پروجیکٹس کے مخالف رہے ہیں اور انہوں نے بے نظیر بھٹو کا دیا ہوا کیٹی بندر پروجیکٹ اور تھر کول پروجیکٹ منسوخ کیا تھا۔ ذوالفقار آباد کیٹی بندر پروجیکٹ کی ترقی یافتہ شکل ہے اور اسی علاقے میں واقع ہے۔
 سندھ کے ماہرین کو شامل نہیں کیا جاتا۔ سب کام افسرشاہی کے حوالے ہے۔جس کی وجہ سے سندھ کے لوگوں میں مزید شکوک جنم لے رہے ہیں۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ممکن ہے یہ پروجیکٹ مکمل طور پر سندھ کے لوگوں کے فائدے میں ہو، مگر حکومت اس پروجیکٹ کو عوام میں پذیرائی نہیں دے سکی ہے۔ جس طرح سے اس کام کو چھپ چھپا کے آگے بڑھایا جا رہا ہے اس سے مزید خدشات جنم لے رہے ہیں۔

No comments:

Post a Comment