Thursday, 5 March 2020

عدلیہ کی آڑ میں سیاست 2012-5-7

 عدلیہ کی آڑ میں سیاست  
میرے دل میرے مسافر کالم سہیل سانگی 
میاں نواز شریف نے سنیچر کے روزوزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف تحریک کا آغاز کردیا ہے۔ انہوں نے پارٹی کے پارلیمانی لیڈر نثار علی خان کے حلقے ٹیکسلا میں جلسہ عام سے خطاب کیااور کہا کہ وہ عدلیہ کے تحفظ ملک کے تحفظ کے لئے  ”گو گیلانی گو“ تحریک چلا رہے ہیں۔ انہیں عدالتی فیصلے باوجود سوئس حکام کو خط نہ لکھنے پر مختصرسزا دی۔نواز شریف نے سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی تیس سیکنڈ کی سزا کو بنیاد بنا کر انہیں وزیراعظم ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ عدلیہ کے احترام کے لیے کیا ہے۔
 اگرچہ ابھی سپریم کورٹ سے تفصیلی فیصلہ آنا اور اس کے خلاف وزیر اعظم کی جانب سے اپیل کرنا بھی باقی ہے۔مگر تفصیلی فیصلے کا انتظار کئے بغیر تحریک شروع کردی گئی۔اس معاملے پر عمران خان فی الحال خاموش ہیں۔ وہ شایدکسی جلد بازی سے کام لینا نہیں چاہ رہے ہیں۔نہیں معلوم وہ تفصیلی فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں یا کسی اشارے کا۔
نواز شریف پر فرینڈلی اپوزیشن کے بھی الزامات لگے۔نواز لیگ چار سال تک ملک کے بڑے صوبے کی بلاشرکت غیرے حکومت کرتی رہی۔
وزیر اعظم کو مختصر سزا کے بعد ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئی ہیں۔ لانگ مارچ  اور اسکے جواب میں شارٹ مارچ کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ الزام تراشیاں،  وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ، دونوں پارٹیوں کے رہنماؤں کے خلاف دائر مقدمات کا تذکرہ ایک بار پھر سیاست کے موضوعات بن گئے ہیں۔ کچے پکے چٹھے جلسوں اور پریس کانفرنسوں میں پیش کئے جا رہے ہیں۔ دونوں جماعتوں کی پروپیگنڈا مشنری ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے دن رات مصروف ہے۔ روایتی سیاسی مخالفین کی ”خفیہ کہانیاں“ عوام کے کانوں تک پہنچنا شروع ہو گئی ہیں۔کسی پھر عوامی دولت کی لوٹ مار کے الزامات لگ رہے ہیں تو کسی پر عدلیہ کا احترام نہ کرنے کے الزامات۔ جواب میں سپریم کورٹ پر حملہ کی فلم دوبارہ چلائی جارہی ہے۔ اور عوام کو یاد دلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہماری سیاست کا پینڈورا باکس بند ہو تو سب خیر ہے۔مگر جب اسکا ڈھکن کھل جاتا ہے تو کئی کہانیاں سامنے آتی ہیں۔یہ سب سرگرمیاں اور کہانیاں الیکشن تک ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کی حکومت مخالف تحریک کے جواب میں پیپلز پارٹی نے بھی سندھ پنجاب سرحد پر کموں شہید کے مقام پر بہت بڑا جلسہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پیپلز پارٹی باقی تینوں صوبوں میں ایک ایک بڑا جلسہ کریگی اگرنواز شریف نے اسلام آباد کا رخ کیا اور لانگ مارچ کیا تو پی پی لاہور کی جانب لانگ مارچ کرے گی۔پیپلز پارٹی کموں شہید کے مقام پر جلسے کو وفاق کی علامت قرار دے رہی ہے۔نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں جب کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا اعلان کیا تھا تو بے نظیر بھٹو کی قیادت میں سندھ کی تمام قوم پرست جماعتوں نے کموں شہید کے پاس دھرنا دیا تھا۔اور اے این پی کے ساتھ مل کرپختونخوا پنجاب کی سرحد پر اٹک کے پل پر دھرنا دیا تھا۔
 پروگرام کے مطابق نواز شریف حکومت مخالف مہم کے دوران ماہ رواں میں سندھ اور پنجاب کے مختلف اضلاع کا دورہ کریں گے اور جلسے منعقد کریں گے۔وہ سندھ میں بعض قوم پرست گروپوں کے ساتھ ملکر اپنے لیے کچھ جگہ بنانے کی کوشش کرینگے۔ خیال کیا جاتاہے کہ یہاں سیاست میں تبدیلی واقع ہوئی ہے۔
 نواز شریف نے اس سے پہلی ججز کی بحالی کے لیے تحریک چلائی تھی اور لانگ مارچ کیا تھا۔ بعد میں آرمی چیف کی مداخلت پر رات کو دیر سے وزیر اعظم نے ایک ایگزیکیٹو آرڈر جاری کر کے ججوں کو بحال کردیا تھا۔
مختصر سزا کے بعد مسلم لیگ (ن) نے اعلان کیا تھا کہ وہ دیکھیں گے کہ کیسے ایک سزا یافتہ وزیر اعظم ایوان میں داخل ہوتے ہیں یا تقریر کرتے ہیں۔تاہم وزیر اعظم گیلانی  ایوان  سے خطاب بھی کر چکے ہیں اورمختلف وقتوں میں دونوں ایوانوں سے اعتماد کا ووٹ لے چکے ہیں۔
نواز شریف کے چھوٹے بھائی اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھائی کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے پنجاب میں وزیراعظم کو پروٹوکول دینے سے انکار کردیا ہے۔یوں انہیں وزیر اعظم ماننے سے انکار کر دیا۔
 اسکا مطلب یہ لیا جائے کہ یوسف رضا گیلانی اب پنجاب کو چھوڑ کر باقی تینوں صوبوں پر مشتمل پاکستان کے وزیراعظم ہیں؟ وہ بغیر پروٹوکول کے پنجاب کا دورہ کر رہے ہیں۔اگر یہ صحیح ہے توکیا کہ باقی تینوں صوبائی حکومتیں یا کشمیر، گلگت۔بلتستان کی حکومتیں وزیراعظم کو پروٹوکول دے کر توہین عدالت کا ارتکاب کر رہی ہیں؟ میاں صاحب کو چاہئے کہ وہ اس معاملے کو توہین عدالت کا کیس بنا کر عدلیہ سے رجوع کریں عدالتیں ضرور انصاف کریں گی۔
 یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ میاں صاحب عدلیہ کے سائے میں سیاست کرنا چاہ رہے ہیں۔اس سے قبل انہوں نے پاکستانی نژاد امریکی تاجر منصور اعجاز کی پاکستانی سفیر حسین حقانی سے بات چیت  کے حوالے سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ عدالت میں یہ معاملہ خاصا سنجیدگی اختیار کر گیا تھا۔  دنیا میں نہ ایسا قانون ہے اور نہ ہی روایت کہ کوئی سیاسی جماعت عدلیہ کے سایے میں سیاست کرے یا عدالتی فیصلے سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے۔ کیونکہ ایسا کرنے سے عدالت کا وقار مجروح ہوگااورعدلیہ کی غیرجانبداری مشکوک ہوجائے گی۔ لہٰذا عدلیہ خواہ سیاستدانوں دونوں کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ عدلیہ ملک کا ایسا ادارہ ہے جہاں لوگوں کو بلاامتیاز انصاف ملنے کی امید ہوتی ہے۔وہاں سیاستدانوں کی مداخلت ہوئی تو یہ امید اور اعتماد ختم ہو جائے گا۔ یہاں پر تو سر عام کہا جا رہا ہے کہ ہم عدلیہ کی حمایت کرتے ہیں جس کی اس وقت کوئی ضرورت بھی نہیں ہے۔ عدلیہ کو بھی چاہیئے کہ وہ سیاستدانوں کو اس عمل سے روکے۔کیونکہ یہ ایک خطرناک رجحان ہے۔ہمارے پاس لے دے کر یہی ایک ادارہ بچا ہے جس پر لوگوں کو ابھی تک اعتماد ہے۔ہاں تب عدلیہ کو سیاسی خواہ پیشہ ورانہ تنظیموں کی حمایت کی ضرور ضرورت تھی جب آمر جنرل مشرف نے ججز کو بند کردیا تھا۔حکومت میں آتے ہی وزیراعظم نے اپنی پہلی تقریر میں ان کی رہائی کا حکم دیاتھا۔عدلیہ بھی بحال ہو گئی۔اب اگر کوئی سیاسی پارٹی عدلیہ کے پیچھے چھپ کر جمہوریت پر وار کرتی ہے تو یہ ہماری بدقسمتی ہوگی۔
 گزشتہ چار سال سے حکومت اور عدلیہ کے درمیان جاری کشمکش نے سیاسی بحران کو جنم دیا ہے۔جس کے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔اگر کوئی شخص عدالتی فیصلوں پر عمل نہیں کرتا تو بار ایسوسی ایشنز موجود ہیں جو بہتر طور پر اس معاملے کو دیکھ سکتی ہیں۔
 مختلف سیاسی جماعتوں کی اپنی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں یہ ترجیحات جب مختلف سے آگے بڑھ کر منفی ہو جاتی ہیں تو معاملات بگڑ جاتے ہیں ان سیاسی معاملات کے بگڑنے کی وجہ سے ہم چار مرتبہ مارشل دیکھ چکے ہیں۔
 میمو گیٹ کی کارروائی شروع ہوئی تھی تب بھی ٹی وی پر سویلین اور ملٹری قیادت کی ملاقاتوں کی فوٹیج دکھائی جاتی تھی جس میں آرمی چیف اور خفیہ اداروں کے سربراہ بہت ہی سنجیدہ اور ناراض نظر آتے تھے۔ مگر اب  جب امریکہ اور پاکستان کے درمیاں نئے تعلقات کا آغاز ہو رہا ہے اس موقعے پر یہ دونوں قیادتیں ملاقاتیں کر رہی ہیں مگر ان کی فوٹیج میں غصۃ نہیں بلکہ مسکراہٹ نظر آتی ہے۔اس کے علاوہ مختلف اپوزیشن جماعتیں دوسرے راؤنڈ میں ابھی تک کوئی باضابطہ تحریک چلانے کا فیصؒہ نہیں کر پائی ہیں۔ ایسے میں میاں صاحب کی تحریک کوئی رنگ لاسکے گی؟ یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب آنے والا وقت دے گا۔

No comments:

Post a Comment