Thursday, 5 March 2020

پہلے نظام کا تو تعین ہو۔ 2012-5-21

Mon, May 21, 2012, 10:25 AM
 پہلے نظام کا تو تعین ہو۔۔
  کالم  ۔۔۔ سہیل  سانگی 
 سندھ ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ نے سندھ حکومت کو 90دن کے اندر بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم دیااور کہا ہے کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 140 A، 132 اور 17 کے تحت صوبہ بلدیاتی انتخابات کرانے کا پابند ہے۔حکومت سندھ کا یہ موقف ہے کہ اس مدت میں یہ انتخابات کرانا ممکن نہیں۔ اور وہ  وہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔
 عدالت عالیہ یہ فیصلہ سابق ڈسٹرکٹ ناظم سکھر کے ناصر شاہ اور سابق ضلع ناظمہ ٹنڈوالہیار راحیلہ مگسی کی درخواست پردیا ہے۔لیکن اس فیصلے سے مستفید ہونے والوں میں کچھ اورحلقے بھی شامل ہیں۔خاص طور پر کراچی کے معاملات اور پی پی ایم کیو ایم  اتحاد پر اس فیصلے کے گہرے اثرات پڑینگے۔
یہ فیصلہ اتنا سادہ بھی نہیں جیسے بظاہر نظر آتا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک کئی ایک سیاسی و آئینی بحرانوں سے دو چارہے۔ خود سندھ کے اندر بھی ایک چھپا ہوا سیاسی اور آئینی بحران پل رہا تھاجو اس فیصلے کے بعد شدت کے ساتھ سامنے آنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ سندھ میں ایک عرصے سے بلدیاتی نظام پر کشمکش جاری تھی۔حکمران اتحاد کی جماعت ایم کیوایم کا زور تھا کہ فوری طور پر اور جنرل مشرف کے فارمولے کے تحت بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں۔ پیپلز پارٹی کا موقف اس کے برعکس رہا ہے، وہ پرانا بلدیاتی نظام چاہتی ہے۔مگر اس فیصلے نے نہ چاہتے ہوئے بھی اس طرف دھکیل دیا گیا ہے کہ وہ نظام کا بھی اور انتخابات منعقد کرانے کا جلد فیصلہ کرے۔
 عام انتخابات سے قبل بلدیاتی انتخابات  کے عدالتی فیصلے نے پیپلز پارٹی کو امتحان میں ڈال دیا ہے۔ اور پیپلز پارٹی کو مخلوط حکومت برقرار رکھنے کے لیے ایم کیو ایم کی شرائط کو ماننے کے لیے دباؤ بڑھ جائے گا۔اس سے قبل کوٹا سسٹم اورحال ہی میں الگ مہاجر صوبے کے نعرے نے معاملات مزید خراب کردیئے ہیں۔
اس فیصلے کے سیاسی محرکات اپنی جگہ پر مگر بعض تیکنیکی پہلو بھی ہیں۔ اگر عدالتی حکم کے مطابق مختصر مدت میں بلدیاتی انتخابات کرائے گئے توکئی حوالوں سے یہ بلدیاتی انتخابات متنازع بن سکتے ہیں۔ابھی تک نئی حلقہ بندیاں نہیں ہوئی ہیں۔ کیونکہ موجودہ حلقہ بندیاں دس سال سے زیادہ پرانی ہیں اور کئی حلقوں پر سیاسی حلقوں کو اعتراضات ہیں۔
 انتخابی فہرستیں بھی ابھی مکمل نہیں ہیں۔ ان انتخابی فہرستوں پر کئی اعتراضات ہیں سپریم کورٹ اعتراض کر چکی ہے اور ان کے تحت منعقدہ انتخابات کو جائز نہیں سمجھ رہی ہے۔نئی انتخابی فہرستوں پر دو طرح کے اعتراضات ہیں۔ایک یہ کہ کئی ووٹرز کا اندراج غلط علاقوں میں کیا گیا ہے۔ جس کی درستگی کا کام نادرا کر رہی ہے۔ اور اندازہ ہے کہ ایک ماہ سے زائد مدت درکار ہے۔ درستگیاں مکمل ہونے کے بعد ایک بار پھر یہ فہرستیں ڈسپلے کی جائیں گی۔ووٹر لسٹوں میں اندراج  کے حوالے سے دوسرا اعتراض یہ ہے کہ کراچی حیدرآباد یا دیگر شہروں میں برسوں سے آباد دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نیاپنا اندراج شہری علاقوں میں کرایا تھا۔مگر الیکشن کمیشن اور نادرا نے ان کے ووٹ کا اندراج ان کے مستقل پتے کردیا ہے۔جبکہ ان لوگوں نے اپنا اندراج رضاکارانہ طور پر شہری علاقوں میں کریا تھا۔بعض قانوندانوں کے مطابق الیکشن کمیشن کا یہ اقدام آئین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے، جس میں ہر شہری کو اپنی پسند کی جگہ پر رہنے کی بلامتیاز آزادی ہے۔کراچی اورحیدرآباد کے حوالے سے یہ بات زیادہ اہم ہے۔ کیونکہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی کی آبادی کا تناسب گزشتہ پندرہ سال میں تبدیل ہوا ہے اور ان زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئی یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ تبدیلی انتخابی ناتئج پر بھی اثرانداز ہوگی۔
 سندھ میں بلدیاتی انتخابات کوئی اس طرح کے نہیں بلکہ بہت بڑا سیاسی اور معاشی مسئلہ ہے۔بلدیاتی نظام کونسا ہو ابھی یہ بھی طے نہیں۔
 مئی کے وسط میں عدالتی فیصلے کے مطابق یہ انتخابات اگست کے وسط میں منعقد ہونے ہیں۔ اگست کا وسط مون سون کا عروج ہوگا۔جبکہ ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی اور محکمہ موسمیات یہ پیشگوئی کر چکے ہیں کہ سال رواں میں گزشتہ سال جیسی بارشیں ہونے کا امکان ہے۔اس صورتحال میں بلدیاتی انتخابات کا انعقادمشکل نظر آتا ہے۔
کئی معاملات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔ لگتا ہے کہ عدالت عالیہ نے نہ خود سے اور نہ ہی فریقین کی جانب سے تمام پہلوؤں پر غور کیا گیا ہے۔
 اگر بلدیاتی انتخابات کرائے بھی جائیں تو کونسے نظام کے تحت؟
 گزشتہ دو روز سے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں دو اتحادی جماعتوں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان بلدیاتی نظام پر بات چیت چل رہی ہے۔اس ضمن میں دونوں جماعتوں کی جانب سے باضابطہ کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے تاہم اخباری اطلاعات اور بعض اخباری بیانات کی بنیاد پر ان کے موقف سامنے آئے ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ نے پیپلز پارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد میں پرویز مشرف کا ضلع حکومت کا نظام نافذ کیا جائے۔کراچی میں پانچ اضلاع ختم کر کے ایک ضلع قائم کرنے، صوبائی حکومت کے ماتحت پانچ خود مختیار ادارے بشمول  ملیر ڈولپمنٹ اتھارٹی،  لیاری ڈولپمنٹ اتھارٹی، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، کراچی ڈولپمنٹ اتھارٹی اور کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھار ٹی کراچی میونسپل کارپوریشن کے حوالے کئے جائیں۔
 میڈیا رپورٹس کے مطابق متحدہ یہ بھی چاہتی ہے کہ پولیس اور کمشنر یا ڈپٹی کمشنر بھی میئر کے ماتحت ہوں۔ کراچی ڈولپمنٹ اتھارٹی،  ملیر ڈولپمنٹ اتھارٹی، لیاری ڈولپمنٹ اتھارٹی کے علاقوں میں موجود سرکاری زمین کو لیز کرنے کے اختیارات حکومت سندھ سے لے کر میئر کے حوالے کئے جائیں، اور کراچی میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن یا کونسل کے بجائے کراچی میٹروپولیٹن گورنمنٹ اور حیدرآباد میں ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے نام سے ادارے بنائے جائیں۔
 پیپلز پارٹی ابھی تک ان مطالبات ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس کا یہ کہنا ہے کہ ملیر، لیاری، کراچی ڈولپمنٹ اتھارٹیز، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ صوبائی حکومت کے ماتحت ہیں۔اور زمین لیزکرنے کے اختیارات میونسپل کارپوریشن کو نہیں دیئے جا سکتے۔
 مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں جس سے اور بے چینی اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی کہ بالآخر ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان کونسے معاہدے ہو رہے ہیں۔جن کو نہ پیپلز پارٹی نہ ہی ایم کیو ایم عام کر رہی ہے۔
 حکومت سندھ ترامیم کے ساتھ 1979 کے بلدیاتی نظام اسمبلی سے منظور کرچکی ہے اور قانونی طور پر یہی نظام نافذ ہے۔ لیکن اس قانون کے برعکس کراچی اور حیدرآباد میں انتظام ایڈمنسٹریٹر کے ذریعے چلایا جا رہاہے۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مشرف دور میں کراچی اور حیدرآباد کے ناظموں نے کبھی بھی خود کو سندھ حکومت کے ماتحت نہیں سمجھا۔کبھی بھی صوبائی حکومت کے احکامات کو نہیں مانا۔
 اگر اسمبلی بل منظور کر چکی ہے اور گورنر سندھ اس پر دستخط کر چکے ہیں تو 1979 کا بلدیاتی نظام بحال ہے کی۔ اور اس پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا جاتا۔ سنجیدہ حلقے اس کو اکثریت کے فیصلے پر اقلیت کا فیصلہ مسلط کرنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ اچھی بات ہے کہ بلدیاتی ادارے لوگوں کی خدمت اور بنیادی شہری سہولیات کے لیے کام کریں مگربلدیاتی اداروں کو گورنمنٹ قرار دیا گیا تو ایک نیا تکرار جنم لے گا۔ 
 صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو عندیہ دے چکے ہیں اور وزیر اعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس میں ہونے والے اجلاسوں سے پتہ چلتا ہے کہ کوئی نیا نظام لیا جا رہا ہے۔ جو کہ 1979 کے نظام سے مختلف ہوگا۔
 اگر پیپلز پارٹی نے سندھ کے لوگوں کے مینڈیٹ کے خلاف ہوا تو لوگ قبول نہیں کرینگے۔ اور ایسا فیصلہ آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کے لیے مشکلات پیدا کرے گا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ نئے بلدیاتی نظام کے بارے میں جو فیصلہ ہو عوام کو آگاہ آگاہ کیا جائے۔

No comments:

Post a Comment