Mon, Apr 30, 2012 at 12:32 PM
نہ ان کی ریت نئی۔۔۔
عدالت کا فیصلہ عوام کا فیصلہ الگ الگ۔
عوام کو فیصلہ کرنے سے روک دیا گیا
میرے دل میرے مسافر۔۔ کالم سہیل سانگی
پاکستان میں وزیراعظم کو سزا کوئی نئی بات نہیں۔ لیاقت علی خان کو یہ سزا گولی کی شکل میں ملی۔ حسین شہیدسہروردی کو زبردستی ہٹایا گیا۔ اور بغداد پیکٹ کے موقع پر جو بعد میں سیٹو کہلایا، بیوروکریسی نے ان کے ساتھ جو سلوک کیا وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ بعد میں اسی تسلسل میں اسمبلی توڑ دی گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا۔ جونیجو حکومت کو برطرف کیا گیا۔ دو مرتبہ باری باری بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتوں کو برطرف کیا گیا۔اور اب سید یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کیس میں معمولی یا مختصر ہی صحیح سزا سنا دی گئی ہے۔ جس کے اثرات دور رس ہونگے۔فی الحال تو انکو عدالت کے کٹہڑے تین بار کھڑا کر کیا گیا اور اب انہیں مجرم وزیراعظم ٹہرایا گیا ہے۔ مطلب ”نہ یہ ان کی ریت نئی نہ ہماری روایت نئی“والا معاملہ ہے۔
یہ فیصلہ تو خاصے عرصے سے متوقع تھا۔حکومت کے لیے بھی اور عوام کے لے لیے بھی۔ جس طرح عدالتی کارروائی چل رہی تھی اس سے عیاں تھا۔یہ تو ہونا ہی تھا۔مگر عوام کے فیصلوں اور عدالتی فیصلوں کے میں فرق رہا ہے۔ عوام نے مولوی تمیزالدین کے کیس میں قومی اسمبلی توڑنے سے متعلق عدالت کے فیصلے کو کبھی بھی نہیں مانا۔ آگے چل کر جسٹس منیر کو برسوں بعد یہ اعتراف کرنا پڑا کہ انہوں نے غلط فیصلہ دیا تھا۔ مگر تب تک پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی گزر چکا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کا فیصلہ بھی عوام نے آج تک قبول نہیں کیا۔ اب عدالت اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے جا رہی ہے۔
وزیر اعظم گیلانی کے خلاف اس فیصلے کو بھی عوام دل سے قبول نہیں کر پا رہے ہیں۔اس کو سیاسی محرکات کا حامل فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ایسے میں پیپلز پارٹی کے اس دعوے میں وزن لگتا ہے کہ عوام کی عدالت میں وزیر اعظم نے مقدمہ جیت لیا ہے۔
اس فیصلے نے پیپلز پارٹی کو واپس اپنی مرغوب پچ یعنی احتجاجی سیاست پر لا کر کھڑا کیا ہے۔عدلیہ نے زبردست بالنگ کی ہے۔ اب تو چھکا لگے ہی لگے۔ پارٹی کے کارکن، اور اس کے حامی اس سیاست کے خاصے عادی ہی بھی ہیں اور ماہر بھی۔ بقول شخصے انکو اس میں مزا بھی آتا ہے۔ لہٰذا عملی سیاست کرنے والی اس پارٹی کے لیے یہ مشکل نہیں کہ وہ سڑکوں پر آکر اپنے وزیراعظم کے لیے احتجاج کریں۔اس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی مزیدمضبوط اور منظم ہو جائے گی۔
عدالت نے گیلانی کی شکل میں ایک مضبوط مہم چلانے والا فراہم کر دیا ہے۔ان کے خلاف کرپشن یا اخلاقی جرم کا ارتکاب کرنے کا الزام نہیں۔ بس یہ ہے کہ انہوں نے عدلیہ کی تضحیک کی ہے۔میہڑ اور ٹنڈو باگو کا نبی بخش یا خمیسو خان یہ سمجھتا ہے اب معاملہ برابر ہو گیا ہے۔اگر وزیر اعظم نے ججوں کی توہین کی تو اب سزا کی شکل میں یوسف رضا گیلانی کی بھی تضحیک ہوچکی کہ انہیں ”مجرم مجرم“کر کے پکارا جا رہا ہے۔
نقصان کس کا ہوا؟ پیپلز پارٹی کا سیاسی مستقبل سنور گیا۔ عدلیہ کی بھی واہ واہ ہوگئی۔گھاٹے میں تو عمران خان اور نواز شریف گئے۔ عمران خان جنہوں نے ٹائیم میگزین میں چیف جسٹس کا پروفائل لکھا تھا۔ اور نواز شریف جو گیلانی صاحب کو کم از پانچ سال جیل میں دیکھنا چاہتے تھے۔تاکہ پیپلز پارٹی کے پاس انتخابی مہم چلانے والا کوئی مضبوط شخصیت نہ ہو۔مگر فیصلے نے تو سیاسی بساط ہی الٹ دی۔اب گیلانی کے پاس یہ کارڈ بھی ہے کہ توہین عدالت تو قبول کی مگر آئین کا تحفظ کیا۔
سرائیکی بیلٹ سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم کو سزا ملنے پر پیپلز پارٹی کو اس بیلٹ میں مزید ہمدردیاں ملیں گی۔اسی طرح سندھ میں بھی پیپلز پارٹی فعال اور سرگرم ہو جائے گی۔یہ سب چیزیں پیپلز پارٹی جیسی جماعت کے لیے حکومتی دور میں کسی غنیمت سے کم نہیں خاص طور پر جب اس پر خراب حکمرانی، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ، منہگائی وغیرہ جیسے الزامات لگ رہے ہوں۔ ایسے میں سیاسی شہید بنا کر اس کی پکی ضمانت کرادی گئی ہے۔ اب یہ جماعت جب عوام کے پاس جائے گی تو اس کے پاس مضبوط دلیل ہوگی کہ اسے عدلیہ اور میڈیا دونوں نے کام نہیں کرنے دیا۔ بلکہ سانس بھی نہیں لینے دی۔لہٰذا عوام کے مسائل حل ہونے سے رہ گئے۔
دو درجن کے قریب ٹی وی چینل جو خود کا عوام کا نمائندہ قرار دیتے ہیں اس مہم میں بھرپور طریقے سے شریک رہے۔فیصلہ آنے سے پہلے والے دن ڈھول پیٹے رہی کہ قوم استعیفا چاہتی ہے۔
ایک سزا یافتہ وزیر اعظم کی حکمرانی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔اور اس سے ملک کا سیاسی منظر نامہ بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔ پارلیمان اور انتظامیہ میں سرگرمی برح جائے گی۔الیکشن کمیشن اہم ہو جائیگا۔ایک نروس حکومت کو نظام چلانا ہوگا جبکہ اپوزیشن اپنی تمام تر زور لگائے گی کی مہنگائی، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ وغیرہ کے معاملات کو اٹھائے۔
ایک منتخب وزیر اعظم کو صرف خط نہ لکھنے پر سزا دے دی گئی۔اس پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں کہ جنہوں نے آئین کی بنیادیں ہلا دیں صریحا خلاف ورزی کی، ملک کو تباہ کیا انکو کچھ نہیں کہا جا رہا ہے۔
حکومت کو چار سال پورے نہیں کرنے دیا گیا۔ لوگوں میں جو بے چینی تھی اس کا اظہار الیکشن میں نہیں کرنے دیا گیا۔عوام کو اس حقیقی نقطہ تک جانے سے روک دیا گیا۔
افراتفری کی زد میں آئے ہوئے پاکستان کو مالیاتی اداروں کو قرضے ری شیڈیول کرنے کی درخواست دینی پڑے کی۔ جن کے دباؤ کی وجہ سے ڈالر اور روپے کے درمیاں تواز ختم ہو جائے گا۔یہ معاملہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو روک دے گا۔
عوامی احتجاجوں اور مالیاتی صورتحال سے بچنے کا پرامن حل یہ ہوگا کہ جلد انتخابات کرائے جائیں۔اس سے پارلیمان اور عدلیہ کے درمیان کو پینگ پانگ ہو رہی ہے اس کا خاتمہ ہو پائے گا۔اگر عدلیہ سے ٹکراؤ جاری رہتا ہے تو کوئی نگراں حکومت نئے انتخابات کرانے کے لیے آ جائے گی۔
No comments:
Post a Comment