Showing posts with label Zulfiqarabad. Show all posts
Showing posts with label Zulfiqarabad. Show all posts

Monday, 9 March 2020

ذوالفقارآباد پس منظر اور پیش منظر 2012-7-8

Jul 8-2012 Zulfikarabad
Zulfikarabad
ذوالفقارآباد پس منظر اور پیش منظر
میرے دل میرے مسافر  کالم۔۔ سہیل سانگی 
بحیرہ عرب کے ساحل پر سندھ میں نئے میگا سٹی ذوالفقار آباد کا پروجیکٹ پر سندھ کے لوگ تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یہ شہربڑی بحری بندرگاہ اور بڑے بڑے صنعتی زون والا شہر ہوگا۔ ذوالفقارآباد ضلع ٹھٹہ کی چار تحصیلوں گھوڑاباریِ، شاہ بندر، جاتی اور کھاروچھان میں قائم کرنے کی تجویزہے۔چین کے شہرشین زین کی طرز پر تعمیر ہونے والے اس شہر کے لیے حکومت کو 13 لاکھ ایکڑ زمین مطلوب ہے۔ اس میں سے 20  ہزار ایکڑ زمیں نجی بتائی جاتی ہے جن کو حکومت معاوضہ دے گی۔ منصوبے کے لیے 10 لاکھ ایکڑ زمین سمندر کو خشک کرکے لی جائے گی۔مجوزہ شہر کے بارے میں تحفظات کی اصل وجہ اسکامحل وقوع ہے۔ جس کی معاشی ہی نہیں بلکہ فوجی اور سیاسی حوالے سے بھی بڑٰی اہمیت ہے۔
پاکستان کے جنوبی صوبے سندھ کا جغرافیائی محل وقوع ساحل کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ ہانگ کانگ کی لیز ختم ہونے کے بعد امریکہ اور یورپی ممالک ایسے کسی زمینی ٹکڑے کی تلاش میں ہیں۔ مستقبل میں امریکہ، یورپی ممالک اور چین کی تجارت کا اہم مرکز مشرق وسطی اور ایشیا ہیں جو کہ ترقی پذیر ہیں اور مستقبل میں اہم عالمی منڈی ہونگے۔
ذوالفقارآباد ہو یا گوادر یا پھر کراچی کا مسئلہ ان سب کو اس پس منظر میں دیکھے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا۔
 کراچی کے بعدذوالفقارآباد کی تعمیر سندھ کے ساحل کی اسٹریٹیجک پوزیشن اور بڑھا دے گا۔اس ساحل کی حکمت عملی کی پوزیشن کا اس سے اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ امریکہ کو بہرحال فغانستان میں موجود اتحادی فوجیوں کی سپلائی کے لیے پاکستان کو راضی کرنا پڑا۔ کسی ملک کی جغرافیائی اہمیت سے مراد اس کی جغرافیائی محل وقوع ہے۔ کسی اور ایشیائی ملک کے مقابلے میں پاکستان زیادہ بہتر اسٹریٹیجک محل وقوع رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ نہ صرف عالمی طاقتوں کی اس علاقے میں دلچسپی ہے بلکہ یہ محل وقوع علاقے کے ممالک کے ایک دوسرے کے لیے بھی اہمیت کاحامل ہے۔خاص طور پرتجارتی مقاصد کے لیے۔
سندھ کے ساحل کی یہ پٹی جنوبی ایشیا اور جنوبی مغربی ایشیا کے درمیان واقع ہے۔ایران اوروسطی ایشیا توانائی کے وسائل سے مالا مال ہیں۔بھارت اوردوسرے ان ممالک تک رسائی چاہتے ہیں۔پاکستان سندھ کے ساحل سے یا بلوچستان کے زمینی راستے سے ان ممالک کو روٹ فراہم کر سکتا ہے۔ایران پاکستان انڈیا پائپ لائن اور افغان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈایگریمنٹ اس کی مثالیں ہیں۔پاکستان انڈیا کی وسطی ایشیا اور ایران تک رسائی کے لیے سستا ترین راستہ ہے۔متبادل راستوں سے ایران سے تجارت اسے مہنگی پڑے گے۔لہٰذا اس کے لیے زیادہ منافع بخش ہے کہ وہ ایران، افغانستان اور وسطی ایشیا کی ریاستوں کے ساتھ تجارت اس روٹ سے کر سکے۔ اس سے یہ بات عیاں ہے کہ پاکستان کی کیا اہمیت ہے۔
 یہ جغرافیائی اہمیت رحمت ہی نہیں بعض اوقات پاکستان کے زحمت بھی بنی ہے۔ سرد جنگ کے زمانے میں امریکہ نے پاکستان کو سوویت یونین کے خلاف پراکسی جنگ میں استعمال کیا۔ پاکستان کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں لہٰذا1979 میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد امریکہ نے پاکستان کی جغرافیائی محل وقوع کو استعمال کیا۔اور اب پاکستان کو دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ میں بھی بڑی قیمت ادا کرنی پڑی۔وہ بھی افغانستان کے ساتھ بارڈر ہونے کی وجہ سے۔
 اس علاقے میں امریکہ کے دو مفادات اہم ہیں یعنی سیکیورٹی اور تجارت۔ امریکہ علاقے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر ات، ایران کی جوہری پروگرام، افغانستان میں دہشتگردی کو چیک کرنا چاہتا ہے اور بھارت کی مارکیٹ سے استفادہ کرناچاہتا ہے۔پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن کا کردار ادا کر رہا ہے اور امریکہ اپنی مفادات حاصل کرنے کے لیے پاکستان کی جنگی حکمت عملی والی جغرافیائی محل وقوع  (اسٹریٹیجک پوزیشن)کو استعمال کر رہا ہے۔ آج امریکہ اکیلا سپر پاور ہے  اور وہ کسی دوسرے پاور کو خواہ وہ چین ہو یا کوئی یورپی ملک ابھرتے دیکھنا نہیں چاہتا اور وہ مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں اپنا تسلط اور بالا دستی  برقراررکھنا چاہتا ہے۔کیونکہ یہ علاقے تیل اور توانائی کے وسائل میں مالا مال ہیں۔لہٰذا امریکہ کسی بھی مقابلے میں آنے والے کے اثرنفوذ کو چیک کرنا چاہتا ہے۔ایسے میں پاکستان اسکے کام کا ملک ہے۔سعودی عرب کے بھی یہاں جغرافیائی اور سیاسی حوالے سے مفادات ہیں۔سعودی عرب پاکستان کو ایران کے لیے بیلنسر کے طور پر دیکھتا ہے۔امریکہ اور سعودی عرب دونوں ایران پر حملے کی صورت میں پاکستان کو بڑی اہمیت دے رہے ہیں۔
پاکستان وسطی ایشیا کی تیل اور گیس سے مالامال ریاستوں کے قریب ہے۔یہ ریاستیں لینڈ لاک ہیں یعنی ان کے پاس بحری راستہ   نہیں۔انکو سوائے پاکستان کے کوئی راستہ نہیں کہ دنیا سے تجارت کر سکیں۔ اس لحاظ سے افغانستان اور ان ریاستوں کے لیے بھی پاکستان اسٹریٹیجک اہمیت رکھتا ہے۔
 چین کے لیے بھی پاکستان نہایت اہم ہے۔ کیونکہ چین کوقراقرم  کے ذریعے بحیرہ ہند اور بحیرہ عرب تک راستہ ملتا ہے۔ چین معاشی طور پر بڑی طاقت ہے۔ اور اس کی معیشت بڑھ رہی ہے۔لہٰذا چین اپنی معاشی ترقی برقرار رکھنے کے لیے دوسرے ممالک تک آسانی سے رسائی چاہتا ہے۔ چین کے لیے بلوچستان میں واقع گوادر پورٹ اہمیت کا حامل ہے۔کیونکہ یہ چین کو تجارتی روٹ فراہم کرتاہے۔
چین کو پاکستان کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی محل وقوع مغربی ریجن سے تجارت اور توانائی  کے وسائل تک رسائی کا راستہ  مہیا کرتی ہے۔ تاکہ اس روٹ سے چین خلیجی ریاستوں سے تیل درآمد کر سکے۔ لہٰذا چین پاکستان سے تعاون بڑھا ہا ہے جس سے امریکہ خوش نہیں۔
چین کی مدد سے تعمیر ہونے والاگوادر پورٹ ہرموز اسٹریٹ  (Strait of Hormuz) سے 180 میل کے فاصلے پر ہے جو کہ دنیا کے 40 فیصد تیل کی گزرگاہ ہے۔یہ جگہ پاکستان کو دنیا کے تیل کی تجارت پر نظر رکھنے کی صلاحیت عطا کرتاہے۔کراچی اور گوادر وسطی ایشیائی ریاستوں کو بڑے پیمانے پر تجارتی راستہ فراہم کرتے ہیں۔
 سندھ اور بلوچستان کے ساحل چین کے لیے بہت اہم ہیں۔شنگھائی پورٹ چین کے صنعتی ایریا سے 16ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جبکہ گوادر2500 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔کاشغر سے چین کے مشرقی ساحل کے پورٹ تک کا فاصلہ 3500 کلومیٹر ہے اور گوادر سے کاشغر 1500  کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔
گوادر کو چین کی حکمت عملی کی کڑی سمجھا جاتا ہے۔یہ چین  کے زیر اثر بنگلادیش، سری لنکا، برما، تھائلینڈ، کمبوڈیا، کے سلسلے کاحصہ ہے۔ گوادر پورٹ کی تعمیرنے ایران کو پریشان کیا۔ اس کو نیوٹرالائز کرنے کے لیے ایران نے انڈیا کی مدد سے چاربار کے مقام پر پورٹ تعمیر کیا جو گوادر سے صرف72 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔انڈیا 213 کلومیٹر سڑک ایران کے اس پورٹ کو افغانستان سے ملانے کے لیے تعمیر کر رہا ہے۔ انڈیا اس پورٹ کو وسطی ایشیا تک پہنچنے کے لیے چھوٹا راستہ سمجھ رہا ہے۔جو گوادر میں چین کی موجودگی اور اس کے اثر رسوخ کو کاؤنٹر کرے گا۔انڈیا سمجھتا ہے کہ گوادر میں چین کی موجودگی انڈیا کو چاروں طرف گھیرنے کی حکمت عملی ہے۔انڈیا بحیرہ عرب کے ساحل پر گوا  کے مقام پر بحری فوج کا  اڈہ بنا رہا ہے۔ 
 گوادر کے حوالے سے انڈیا کوپریشانی ہے کہ اس میں چین کی بہت بڑی انوالمنٹ  اور سرمایہ کاری ہے۔چین نے جو بڑے پیمانے پر سڑکوں کا نیٹ ورک بچھایا ہے وہ پاکستان سے جوڑ دے گا۔یہی پریشانی ذوالفقارآباد کے کیس میں بھی ہوگی۔
 امریکہ کے لیے چین کو نمبر ون معاشی دشمن ہے۔امریکہ سمجھتا ہے کہ چین ایران کے تیل پرپاکستان کے راستے اجارہ داری قائم کر لے گا۔امریکہ کو چین کی انوالمنٹ اور  انڈیا  کے ایران سے تعاون پر ہمیشہ تشویش رہی ہے۔
 کراچی بحیرہ عرب (بحیرہ ہند) کے ساحل پر واقع ہے جس کے جنوب اور مشرق میں ایشیا پیسفک کے بڑے بڑے ساحلی شہر آباد ہیں۔جس میں جدید ٹیکنالوجی کے قیادت کرنے والے ممالک تائیوان، جاپان، ملائیشیا سیگاپور وغیرہ شامل ہیں۔(مجوزہ ذوالفقارآباد بھی اس صف میں آکر کھڑا ہوگا)کراچی کے مغرب میں مسقط،دبئی، ایران اور آگے چل کر سعودی عرب کی طرف گزرگاہ ہے۔اس کے جنوب کی جانب افریقہ ہے جو آہستہ آہستہ عالمی تجارت میں اہم خطے کے طور پر ابھر رہا ہے۔
ان تمام ساحلی ممالک اور شہروں کا نقشہ بتاتا ہے کہ سندھ کا ساحل اپنی جغرافیائی محل وقوع یعنی اسٹریٹیجک لحاظ سے اہم ہے۔یہاں موجود دو سمندری پورٹ کراچی پورٹ اور بن قاسم پورٹ اس کی اہمیت میں اضافہ کردیتاہے۔مغرب میں گوادر کا بندر اور مشرق میں مستقبل کا بندرگاہ کیٹی بندراب ذوالفقارآباداس ساحلی پٹی کی حکمت عملی کی اہمیت کو اور بھی بڑھا دیتے ہیں۔سندھ کی ساحلی پٹی سے متصل تھر کا کوئلہ اور حال ہی میں بدین دریافت ہونے والے کوئلے کے ذخائر توانائی کے بیش بہا ذخیرہ ہیں۔جس نے اس پٹی کو معاشی و فوجی طور پر اور اہم بنا دیا ہے۔
 عربی، ہندی اور جنوب چینی سمندروں کی فوجی اور معاشی اہمیت اس وجہ سے بھی زیادہ ہے کہ دنیا کی تین طاقتور فریق  چین، جاپان اور انڈیا اس خطے میں واقع ہیں۔ گزشتہ دو عشروں کے دوران چین نہ صرف معاشی طاقت کے طور پر ابھرا ہے بلکہ فوجی اور سفارتی طاقت کے ذریعے آہستہ آہستہ ایشیا، پیسفک اور افریقہ میں امریکہ کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔چین اپنے اردگرد کے ممالک جاپان، انڈیا،کوریا، فلپائن، کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے ساتھ ساتھ پاکستان، ایران، روس اور افریقہ کے ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کر کے امریکہ کی تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔
 تجزیہ نگار نصیر میمن کے مطابق اس خطے کے سمندری نقشے پر نظر ڈالیں تو ہمیں سمندری گزرگاہیں نظرآئیں گی۔ مشرق میں ملاکا کی گزرگاہ  Malacca Strait of  ہے جس کے ایک طرف سماترا کا جزیرہ ہے تو دوسری طرف ملائیشیا اور سینگاپور ہیں۔ مغرب میں ہرموز کی سمندری گزرگاہ ہے۔جو بحیرہ عرب کو خلیج  فارس سے ملاتی ہے۔ان دونوں سمندری گزرگاہوں کے بیچ میں کراچی اور مجوزہ بندرگاہ ذوالفقارآباد واقع ہیں۔یہ دونوں پوائنٹ ہرموز کی گزرگاہ کو قریب ہے۔

ملاکا کی گزرگاہ بحر جنوب مشرقی کو بحر عرب اور بحر ہند سے ملاتی ہے۔ایک اندازے کے مطابق پچاس فیصد تجارتی جہاز ملاکا کی گزرگاہ سے گزرتے ہیں۔ خلیج فارس سے مشرق وسطہ اور پیسفک کے درمیاں سمندری راستے سے پیٹرولیم کی مصنوعات کی70 فیصد تجارت ہوتی ہے۔  چین اور انڈیا کے تجارتی طور پر ابھرنے کے ساتھ ساتھ اس سمندری خطے میں  پیٹرولیم اور تجارتی اشیاء کی ٹرانسپورٹ میں اضافہ ہو گا۔ ایک اندازے کے مطابق 2030 میں توانائی کا نصف حصہ چین اور انڈیا استعمال کرنے لگے گا۔آج چین امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر بڑی معیشت ہے۔ توانائی کی دوڑ میں  جاپان تیسرے نمبر پر اور انڈیا چوتھے نمبر پر ہے۔ 90 فیصد تیل کی توانائی پر انحصار کرنے والے بھارت اور چین کے لیے بحیرہ ہند چینی میں واقع  مالاکا اور خلیج میں واقع ہرموزاہم ترین گزرگاہیں ہیں۔2025 میں انڈیاٰا جاپان کو اس دوڑ میں پیچھے چھوڑ کر تیسرے نمبر پر آجائے گا۔اس طرح دنیا میں توانائی کے تین بڑے مراکز اس خطے میں ہونگے۔سعودی عرب کی تیل کی پیداوار کا نصف حصہ چین درآمد کرتا ہے۔ چین کے تیل کا 85  فی صد ہرموز اور مالاکا کی سمندری گزرگاہوں سے گزر کر آتا ہے۔ سعودی  عرب، ایران اور متحدہ عرب امارت کے تیل کا گزر ہرموز کی گزرگاہ سے ہے۔ یہ خطہ آج کل تیل کی گزرگاہ کا اہم مرکز بنا ہوا ہے۔یعنی گوادر، کراچی اور مجوزہ میگا سٹی ذوالفقارآبادکے پڑوس میں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بلوچستان اور سندھ کی اس ساحلی پٹی پر عالمی فوجی اور معاشی قوتوں کی نظر ہے۔ ذوالفقارآباد کی تعمیراور اسکی مخالفت کی وجوہات بھی ان قوتوں کے مفادات ہیں۔امریکہ اور انڈیا دونوں کوجس طرح سے گوادر پورٹ کی تعمیر اچھی نہیں لگ رہی تھی اسی طرح ذوالفقارآباد کی تعمیر بھی اچھی نہیں لگے گی۔
عالمی قوتوں کی حمایت اور مخالفت اپنی جگہ پر مگر سندھ کے لوگوں کو بھی خدشات اور تحفظات ہیں۔کراچی کی بندرگاہ  اور صنعتی حب کے تجربے نے ان کو بہت کچھ سکھایا ہے۔جہاں دوسرے صوبوں اورممالک سے اتنے لوگ آکر بسے ہیں کہ سندھ کا آدمی اپنے ہی وطن میں خود کو بے وطن سمجھنے لگا ہے۔
نئے شہر آباد کرنا اچھی بات ہے۔ مگر کوئی بھی شہر آباد کرنے سے پہلے وہاں کی آبادی کے خدشات دور کرنا لازمی ہے۔
 سندھ کے قوم پرست حلقوں کا خدشہ ہے کہ نئے شہر آباد ہونے سے سندھ کے پرانے باشندے اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے۔ جب نئے شہر آباد ہوتے ہیں تو ملکی و غیرملکی سرمایہ کار پہنچ جاتے ہیں۔ صنعتکاری اور سرمایہ کاری کے ساتھ روزگار کے مواقع بڑھتے ہیں۔ اور پھر ملکی وغیر ملکی لوگ روزگار کے لیے پہنچنا شروع ہ جاتے ہیں۔
ایسے منصوبے بنانے سے پہلے ایسی قانون سازی کی جائے جس سے مقامی آبادی کو اقلیت میں تبدیل ہونے کا خدشہ نہ ہو، ورنہ نئے شہر تعمیر کرنے میں رکاوٹ ہوگی۔سندھ کے لوگوں جن خدشات کا اظہار کر رہے ہیں انکو مندرجہ ذیل اقدامات سے دور کیا جا سکتا ہے۔
۱)ذوالفقارآباد میں کسی غیر کو، وہ چاہی ملکی ہو یا غیر ملکی شہر میں آکر بسنے،کاروبار یاسرمایہ کاری کرنے اور کارخانوں میں کام کرنے کے لئے ورک پرمٹ جاری کی جائے۔ بلکل اسی طرز پر جیسے بعض عرب ممالک میں ہے۔
۲)ان لوگوں کو نہ پاکستانی شہریت دی جائے اور نہ ہی یہاں کا شناختی کارڈیا ڈومیسائل وغیرہ جاری ہو۔
۳) ووٹر لسٹ میں نام کا اندراج بھی نہ کیا جائے۔
۴)سندھ کے لوگوں کو ایسی آئینی ضمانت دی جائے کہ ان باتوں پر عمل درآمد کو یقینی بن سکے۔
۵) سرمایہ کارپر لازم ہوکہ وہ اپنے ادارے میں نوے فی صد مقامی لوگوں کو ملازمت دے۔
 ۶)مقامی لوگوں کو تربیت اور ملازمتیں دینے کی ذمہ داری کمپنیوں کی ہوگی۔
۷) وفاقی اداروں کے بجائے مقامی لوگوں پر مشتمل اداروں کے ذریعے ان اقدامات پر عمل درآمد کیا جائے۔
 ۸)سندھ کے لوگوں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے سندھ میں پہلے سے آبادغیر ملکیوں کے کارڈ اور ووٹر لسٹ میں اندراج ختم کیا جائے۔انہیں ڈی پورٹ کرنے کے لیے مؤثر قانون سازی کی جائے۔ جب اس بات کو یقینی نہیں بنایا جائے گا تب تک سندھ کے لوگوں کو اعتبار نہیں آئے گا۔

Thursday, 5 March 2020

مرزا کے بعد سسئی پلیجو بھی فارغ - 2012-6-4

Mon, Jun 4, 2012, 10:53 AM
مرزا کے بعد سسئی پلیجو بھی فارغ

 میرے دل میرے مسافر ۔کالم ۔۔سہیل سانگی
سندھ میں پیپلز پارٹی نے اپنی ایک اور وزیر کو فارغ کردیا ہے۔جس کے بعدگذشتہ ایک سال کے دوران ہٹائے جانے والے وزراء کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا پہلے وزیر تھے جنہیں وزارت سے فارغ کردیا گیا تھا۔ڈاکٹرذوالفقار مرزا کو ایم کیو ایم سے پارٹی کے تعلقات اور کراچی میں دہشتگردی کے واقعات میں ملوث بعض سیاسی کارکنوں کی گرفتاری کی وجہ سے ہٹایا گیا تھا۔ ڈاکٹر مرزا جو صدر آصف زرداری کے بہت ہی قریبی رفیق تھے انکا سندھ کے امن امان کے معاملات میں وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی مداخلت پر بھی اعتراض تھا۔ اس کے بعد ان کی حمایت کرنے پر دو وزراء جلیل میمن اور  شرجیل میمن کو بھی فارغ کر دیا گیا۔مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے  وزیر شہریار مہر کوبھی ایم کیو ایم سے اختلافات کی بناء پر ایک عرصے تک بغیر قلمدان کے رہنا پڑا۔ لیاری آپریشن اور قوم پرست رہنما بشیر قریشی کے اجزاء کی طبی رپورٹ پر اختلافات کی بنا پر دوسرے وزیر داخلہ منظور وسان کو جبری چھٹی پر بھیج دیا گیا۔اب سسئی پلیجو سے بھی وزارت ثقافت کا قلمدان لے لیا گیا ہے۔
بتایاجاتا ہے کہ ٹھٹہ سے تعلق رکھنے والی سسئی پلیجو نے گذشتہ روز سندھ کابینہ کے اجلاس میں متنازع میگا اسکیم ذوالفقار آباد کے معاملے پر کچھ اختلافات رکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اسکیم انکے حلقہ انتخاب میں شروع کی جا رہی ہے لہٰذا انکی رائے لی جائے اور علاقے کے لوگوں کو اعتماد میں لیا جائے۔کابینہ کا خصوصی اجلاس ذوالفقارآباد منصوبے کی منظوری کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ جس میں اس منصوبے کے ایم ڈی  نے کابینہ کو بریفنگ دی۔ 
کابینہ کے بعض اراکین کا کہنا ہے کہ بریفنگ کے دوران اتحادی جماعت کے وزراء بار بار مداخلت کرتے رہے۔سسئی پلیجو نے وزیر اعلیٰ کو بتایا کہ جہاں یہ منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے پہلے وہاں کے لوگوں کو سنا جائے اور ان کے خدشات کو دور کیا جائے۔جب ان کی بات نہیں سنی گئی تو سسئی نے کہا کہ”سائیں کراچی میں جب کوئی ریلی نکلتی ہے تو ہمارے بھائی کہتے ہیں کہ کراچی میں ہمارے اسٹیک ہیں لہٰذا ہم سے پوچھا جائے۔مگرذوالفقار آباد اسکیم کے لیے ٹھٹہ اور وہاں کے منتخب نمائندوں سے پوچھا نہیں جا رہا ہے۔“مگر ان کی بات سنی ان سنی کردی گئی۔جس پر خاتون وزیرنے احتجاج کیا اور کہا کہ میں ٹھٹہ سے منتخب ہوں اور میرا اسٹیک ہے۔جس پر وزیراعلیٰ  سید قائا علی شاہ نے انہیں سختی سے چپ رہنے کو کہا۔بعد میں سسئی بطور احتجاج واک آؤٹ کر گئیں۔اس رویے پر وزیر اعلیٰ کو شدید غصہ آیا اور انہوں نے سسئی سے وزارت ثقافت کا قلمدان واپس لے لیا۔اور اس عمل پر ان سے وضاحت بھی طلب کی۔
 بعد میں سسئی نے صحافیوں کو بتایا کہ ایم کیو ایم کے وزراء نے مداخلت کی اور انہیں بات نہیں کرنے دی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ان کو موقف رکھنے نہیں دیا۔اس صورتحال میں اجلاس میں بیٹھنا بے عزتی سے کم نہیں تھا۔لہٰذا اجلاس سے باہر نکل آئی۔مجھے نہیں پتہ کہ ذوالفقار آباد کا اصل پلان کیا ہے اور اس پر کس طرح سے عمل ہوگا؟علاقے کے لوگوں کو اس سے کس طرح اور کیا فائدہ ہوگا؟وزیر اعلٰی سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ سسئی پلیجو ان کی تقریر کے دوران بار بار مداخلت کر رہی تھیں۔فی الحال ان سے وزارت کا قلمدان لے لیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات شازیہ مری کا کہنا ہے کہ اجلاس میں سسئی اپنا تفصیلی موقف پیش کر چکی تھیں۔
 کابینہ کے اجلاس ہوتے ہی اس لیے ہیں کہ مختلف معاملات پر بحث کی جائے اور ان کو سمجھا جائے اور منظوری دی جائے۔مگر اجلاس  میں ایک وزیرکی رائے کو بھی نہیں سنا گیا۔ چار سال کے عرصے میں  نصف درجن وزراء کا اختلاف کر کے وزارتیں چھوڑنا کوئی معمولی بات نہیں۔سیاسی حلقے اس امر کو بڑی اہمیت دے رہے ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ پیپلز پارٹی  اس نقصان کا ازالہ کیسے کرتی ہے۔
 ٹھٹہ ضلع میں ساحلی پٹی پر ذوالفقار آباد کے نام سے ایک میگا پروجیکٹ شروع کیا جا رہا ہے۔اس پروجیکٹ  پر15 جون سے کام شروع ہو جائیگا۔صدر آصف علی زرداری نے اس پروجیکٹ کے لیے مزید زمین خرید کرنے کے بھی احکامات دیئے ہیں۔گاڑھو کے مقام سے  شاھبندر تک ایکسپریس وے تعمیر کرنے کا ٹھیکہ دینے کا کام بھی مکمل ہو گیا ہے۔چینی ماہریں عنقریب علاقے کا آکر جائزہ لیں گے۔ترکی اور چیک ریپبلک کی فرمیں بھی اس منصوبے میں دلچسپی کا اظہار کر رہی ہیں۔دبئی میں منعقدہ کانفرنس میں سرمایہ کاروں نے اس منصوبے میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔چین نے نئے میگا سٹی میں خصوصی صنعتی زون تعمیر کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کے تحت معاشی زون، متبادل توانائی، ہاؤسنگ اسکیموں، سیاحت، تعلیم، ہسپتالوں کی تعمیر کے لیے واک طلب کیے گئے ہیں۔
 پیپلز پارٹی کے بعض حلقے  قوم پرست سوچ رکھنے والی سسئی پلیجو کے اعتراضات کو سیاسی نہیں بلکہ ذاتی قرار دے رہے ہیں انکا کہنا ہے کہ سسئی کے ایک بہت ہی قریبی رشتہ دار بہٹ بڑے ٹھیکیدار ہیں اور ان اختلافات  کا پس منظر بھی وہی ہے۔وہ اس ضمن میں خاتوں وزیر کے حلقے میں کرائے گئے ترقیاتی کاموں اور زمینوں کی ملکیت  میں حالیہ تبدیلی پر بھی سوالات اٹھا رہے ہیں۔ سسئی کے قریبی حلقے ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ ان الزامات سے ہٹ کر دیکھا جائے تو سسئی  سرگرم اور بہت ووکل رہی ہیں خاص طور پر سندھ کے معاملات پر۔ اس حوالے سے ان کا اس سے پہلے وفاقی وزیر رحمان ملک سے ایک سے زائد مرتبہ جھگڑا بھی ہو چکا ہے اور ایم کیو ایم کی بعض سرگرمیوں پر اعتراض کرنے والے پارٹی کے رہنماؤں میں سے ہیں۔
سندھ کی ساحلی پٹی کو جغرافیائی طور پر حکمت عملی کی پوزیشن حاصل ہے۔ کیونکہ سمندر ی گزرگاہ ہرموز اور ملاکا اسی روٹ پر واقع ہیں جہاں سے دنیا کے تیل کا ستر فیصدیہاں سے گزرتا ہے۔ اس کے علاوہ وسطی ایشیا، ہند چینی ممالک، چین وغیرہ کو بھی یہی سمندری راستہ زیادہ فائدے مند ہے۔پاکستان وسطی ایشیا کی تیل اور گیس سے مالامال ریاستوں کے قریب ہے۔یہ ریاستیں لینڈ لاک ہیں انکو سوائے پاکستان کے ساحلی  پٹی کے کوئی راستہ نہیں کہ دنیا سے تجارت کر سکیں۔ اس خطے کے سمندری نقشے پر نظر ڈالیں تو ہمیں سمندری گزرگاہیں نظرآئیں گی۔ مشرق میں ملاکا کی گزرگاہ of Malacca Strait ہے جس کے ایک طرف سماترا کا جزیرہ ہے تو دوسری طرف ملائیشیا اور سینگاپور ہیں۔ مغرب میں ہرموز کی سمندری گزرگاہ ہے۔جو  بحر عرب کو خلیج  فارس سے ملاتی ہے۔ان دونوں سمندری گزرگاہوں کے بیچ میں کراچی اور ٹھٹہ کا یہ ساحلی علاقہ واقع ہے۔جہاں نیا میگاسٹی تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے میں گوادر کی طرح چین خاصی مدد کرنا چاہتا ہے۔ کیونکہ چین کوقراقورم کے ذریعے بحیرہ ہند اور بحیرہ عرب تک راستہ ملتا ہے
 سندھ کے لوگوں کو نئے میگا سٹی کی تعمیر پر شکوک اور تحفظات رہے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ مقامی آبادی کا کیا ہوگا؟ یہ آبادی جو صدیوں سے اپنے ہی ثقافتی رنگ میں رہتی ہے۔آج تک انکو نہ اعتماد میں لیا گیا ہے نہ ہی بریفنگ دی گئی ہے۔
 سندھ کی قوم پرست جماعتیں اس پروجیکٹ کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔ ان میں سے بعض کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی سے دستبردار ہو کر اس میٹروپولیٹن شہر کو اتحادی جماعت کے حوالے کرنا چاہتی ہے اور اب باقی آبادی کے لیے نیا شہر تعمیر کر رہی ہے۔گئی ہے۔جبکہ دوسرے حلقوں کا کہنا ہے کہ غیرملکی سرمایہ کاروں کوسندھ کی زمین بیچی جا رہی ہے جس سے سندھ کا کوئی بھلا نہیں ہوگا۔ یہ بھی اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس نئے شہر کی تعمیر سے سندھ میں دوسرے ممالک اور دوسرے صوبوں سے بڑے پیمانے پرلوگ یہا ں آ کر آباد ہوں گی۔ جس سے صوبے کی آبادی کا تناسب تبدیل ہو جائے گا اور سندھ کے پرانے باشندے اقلیت میں تبدیل ہو جائیں گے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ کے باشندے ابھی تک  مالی خواہ، انتظامی اور کاروباری حوالے سے آگے آ سکے ہیں کہ ملک کے بڑے سرمایہ دار یا غیر ملکی سرمایہ کا مقابلہ کر سکیں لہٰذا سندھ کے وسائل پر غیروں کا قبضہ ہو جائیگا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں مقامی لوگوں کے لی حقوق کے تحفظ کے لیے کوئی قانون نہیں بنایا گیا ہے اور نہ ہی  موثر اقدامات کئے گئے ہیں۔ اس صورتحال میں پیسہ،کاروباراورتجربہ جگہ گھیر لے گا۔
ماضی کا تجربہ یہ ہے کہ جس علاقے سے گیس یا تیل نکلتا ہے کمپنیاں وہاں کے لوگوں کو  اس کام میں ملازمتیں دینے کو بھی تیار نہیں ہیں۔اگر مناسب قانون سازی نہیں ہوگی تو باہر کے لوگوں کو یہاں  یہاں غیرقانونی طور پراملاک اور جائدادیں بنانے کا اختیار مل جائے گا۔گھارو، شاھبندر کے علاقے تو جدید ہو جائیں گے مگر یہاں کے باشندے کسی گداگر بستی میں رہ رہے ہونگے۔
 اس معاملے پر نواز شریف اس وجہ سے بھی خاموش ہیں کہ ان پر پہلے ہی یہ الزام ہے کہ وہ سندھ کے پروجیکٹس کے مخالف رہے ہیں اور انہوں نے بے نظیر بھٹو کا دیا ہوا کیٹی بندر پروجیکٹ اور تھر کول پروجیکٹ منسوخ کیا تھا۔ ذوالفقار آباد کیٹی بندر پروجیکٹ کی ترقی یافتہ شکل ہے اور اسی علاقے میں واقع ہے۔
 سندھ کے ماہرین کو شامل نہیں کیا جاتا۔ سب کام افسرشاہی کے حوالے ہے۔جس کی وجہ سے سندھ کے لوگوں میں مزید شکوک جنم لے رہے ہیں۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ممکن ہے یہ پروجیکٹ مکمل طور پر سندھ کے لوگوں کے فائدے میں ہو، مگر حکومت اس پروجیکٹ کو عوام میں پذیرائی نہیں دے سکی ہے۔ جس طرح سے اس کام کو چھپ چھپا کے آگے بڑھایا جا رہا ہے اس سے مزید خدشات جنم لے رہے ہیں۔