Monday, 9 March 2020

پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم ساتھ رہیں تو۔۔ 2012-6-7

Thu, Jun 7, 2012, 10:17 AM
پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم ساتھ رہیں تو۔۔
 سندھ اکتا کانفرنس اور اسکے بعد   کالم۔۔ سہیل سانگی
نئے سال کی پہلی سہ ماہی تک پنجاب اور اسلام آباد سیاسی سرگرمیوں کے مرکز تھے۔ لیکن اپریل سے یہ مرکز حساس صوبے سندھ میں منتقل ہو گیا ہے جہاں بڑے پیمانے پر نئی سیاسی صف بندی کی کوششیں، جوڑ توڑ اور متبادل اور آپشنز پیدا کرنے کی کوششیں زوروں پر ہیں۔ 
سندھ کی بعض خصوصیات ہیں جن کو سامنے رکھ کر ہی یہاں کی صورتحال کو سمجھا جا سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی کا گڑھ ہی نہیں،سیاسی طور پر زیادہ باشعورسمجھا جاتا ہے۔لیکن اس کی بدقسمتی یہ ہے کہ صرف سیاسی طور پر ہی نہیں لسانی، ثقافتی طور پر بٹا ہوا صوبہ ہے۔اس صوبے میں کاروباری حب کراچی جو کہ جنگی اور تجارتی حوالے سے پورے علاقے میں اہمیت کا حامل ہے۔ یہی  صوبہ تیل، گیس، کوئلے اور دیگر قدرتی وسائل سے مالامال ہے۔اس صوبے کے دیہی علاقے بدترین غربت کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔اس غربت کا اندازہ حکمرانون اور دنیا کو اس وقت ہوا جب 2010 کے سیلاب اور 2011 کی شدید بارشوں نے اس غربت کو باہر لے آئی۔بلوچستان کے بعد اسی صوبے میں سب سے زیادہ قوم پرستی کے رجحانات پائے جاتے ہیں۔
مہاجر صوبے کے لیے بڑھتی ہوئی سرگرمیوں، کراچی میں محبت سندھ ریلی نکالی گئی پر حملہ کر کے  12افراد کو ہلاکت ا ور قاضی احمد کے مقام پر اٹک جانے والی کوچ پر فائرنگ میں 8 مسافروں کے قتل کی واردات کے بعد اندیشہ تھا سیاسی طور پر منقسم اس صوبے میں لسانی یا نسلی فسادات نہ پھوٹ پڑیں۔ مگر سندھ کے لوگوں نے اجتماعی دانش کا مظاہرہ کیا اور اس اشتعال انگیزی میں نہ آئے۔ اور احتجاج تو کیا مگر اس احتجاج کو پر امن رکھا۔
اگرچہ سندھ کی قوم پرست جماعتیں سپنا نام سے ایک اتحاد میں شامل ہیں، مگرعوامی تحریک نے  اس اتحاد سے ہٹ کرکراچی کی بعض مقامی تنظیموں اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ملک کر  22مئی کو لیاری سے محبت سندھ ریلی نکالی۔تاہم اس ریلی  کے ساتھ ہونے والے سانحے کی سندھ کے تمام قوم پرستوں نے مذمت کی اور اس پراحتجاج کیا۔محبت سندھ ریلی کے ساتھ سانحے کے بعد عوامی تحریک کو پذیرائی ملی ہے۔ اور اس نے سپنا سے ہٹ کر سولو فلائٹ کا فیصلہ کیا ہے اور سندھ بھر میں ریلیوں اور عام جلسوں کا پروگرام بنایا ہے۔
 اس مزاحمت کوپرامن رکھنے کے لیے کراچی میں سندھ ایکتا کانفرنس یا سندھ وحدت منعقد ہوئی جس میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو چھوڑ کر باقی تمام سیاسی جماعتوں نے خواہ وہ وفاقی ہوں یا قوم پرست یا مذہبی جماعتیں ہوں شرکت کی۔ اس کانفرنس کو سیاسی مبصرین حکمران اتحاد کے لیے مضبوط مخالفت کا پیغام قرار دے رہے ہیں۔کانفرنس کے شرکاء میں حکومت کی اتحادی جماعتوں میں سے مسلم لیگ فنکنشنل، نیشنل پیپلز پارٹی، اے این پی، جے یو آئی کے نمائندے شامل تھے۔ مذہبی جماعتوں میں سے جماعت اسلامی، سنی تحریک اور جے یو آئی (ف)، جبکہ وفاقی جماعتوں میں مسلم لیگ (ن)  اور تحریک انصاف نے شرکت کی۔قوم پرست جماعتوں میں جیئے سندھ قومی محاذ، عوامی تحریک، ڈاکٹر قادر مگسی، جلال محمود شاہ،  ورکرز پارٹی کے یوسف مستی خان، نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ شامل تھے۔ 
کانفرنس میں پیپلز پارٹی کی مخالفت اپنی جگہ پر رہی مگر پہلی مرتبہ ایم کیو ایم کے خلاف نہایت ہی سخت موقف اختیار کیا گیا۔  22مئی کے واقعے کے بعد سندھ میں جو ہلچل پیدا ہوئی یہ کانفرنس اسکا حصہ تھی،اس کانفرنس نے یہ پیغام دیا کہ ہڑتالیں اور،مظاہرے اپنی جگہ، پر اتحاد اور مشترکہ موقف کا اظہار بہت ضروری ہے۔اور یہ کہ ڈائلاگ بھی بہت ضروری ہے۔
 ایم کیو ایم پر پابندی کی قرارداد سندھ سے تعلق رکھنے والی تمام پارٹیوں نے منظور کی۔ چاہے وہ اقتدار میں ہیں یا  یا آئندہ انتخاب میں باری کے انتظار میں ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما غوث علی شاہ کی موجودگی میں ایم کیو ایم کے خلاف قرارداد کی منظوری نے بعض سوالات کو جنم دیاہے کہ آئندہ انتخابات کے بعد مسلم لیگ اقتدار کے کس کاریڈور میں ایم کیو ایم کو رکھے گی۔کیا مسلم لیگ (ن) میں یہ ہمت ہے کہ وہ یہ اعلان کرے کہ ”اگر وہ انتخابات جیت کر آئی تو ایم کیو ایم کو حکومت میں شامل نہیں کرے گیَ‘ ایسا اعلان کوئی بھی نہیں کرے گا۔یہ اقتداری سیاست کی مجبوریاں ہیں۔ جہاں بار بار دھوکہ کھایا  یا دیا جاتا ہے۔ کیونکہ سیاست میں کوئی حرف آخر نہیں۔ جلال محمود شاہ بھی لیاقت جتوئی کی حکومت میں ایم کیو ایم کے اتحادی رہے ہیں۔اسی طرح نیشنل پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ فنکشنل بھی اتحادی ہیں۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ اقتدار کی خاطر یہ سب جماعتیں آگے چل کر ایم کیو ایم کے ساتھ رہیں۔ سید غوث علی شاہ جن پر تاریخ کا یہ الزام ہے کہ انہوں نے ضیا دور میں ایم کیو ایم بنوائی آج وہی غوث علی شاہ ایم کیو ایم پر پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ بھی تاریخ کی ستم ظریفی ہی کہلائے گی۔ آنے والی کل کو یہ سب لوگ اس بات سے مکر بھی سکتے ہیں۔یہ بھی اقتداری سیاست کی مجبوری ہوتی ہے۔ حکومت نے انعام یافتہ لیاری کے بلوچوں سے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی  تو خورشید شاہ نے نائین زیرو پہنچ کر اس بات کی تریدی کی۔ 
اگرچہ سندھ ایکتا کانفرنس میں مختلف الخیال اور مختلف نظریات رکھنے والے سیاسی رہنما موجود تھے۔ ان میں سے بعض نے ایم کیو ایم کے خلاف، بعض نے پیپلز پارٹی کے خلاف تو بعض نے ان دونوں کے خلاف بات کی۔اردو بولنے والوں کی نمائندگی اگرچہ بہت کم تھی۔ مگر انہوں نے بھی یہ موقف اختیار کیا کہ مہاجر صوبے کی بات یا سندھ کو تقسیم کرنا خود مہاجروں کے مفا دمیں نہیں ہے۔ایسا کر کے وہ اردو بولنے والوں کو مرو ا رہے ہیں۔ ان کا ایم کیو ایم کے بارے میں سخت گیر موقف تھا۔
 مسلم لیگ (ن) کے ایک اہم رہنما  کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کو  احتساب کے عمل سے گزرنے کے بعد ان کی پارٹی اپنے حکمران اتحاد میں شامل کرے گی۔ احتساب  سے مراد کیا ہے اس کے بارے میں ان کی پارٹی تا حال خاموش ہے
 کانفرنس کے اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ جوں جوں عام انتخابات کا وقت قریب آرہا ہے پیپلز پارٹی۔ متحدہ اتحاد ملک میں لوگوں کو زبان اور نسل کی بنیاد پر لڑا کر اپنے من پسند مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔
اس کانفرنس سے کوئی نئی سیاسی صف بندی تو نہیں ہو سکی تاہم ایک آپشن کے طور پر یہ بات سامنے آئی کہاگر ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی ایک ساتھ رہیں تو کیا صورتحال ہو سکتی ہے۔
اس کانفرنس نے پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعت کو اکیلا کرنے کا عندیہ دیا۔ اور اس اکیلاپن سے نکلنے  کے لیے پیپلز پارٹی کو وفاقی کابینہ کی ایک کمیٹی سندھ بھیجنی پڑی جس ے سندھ کے قوم پرستوں اور ایم کیوایم  کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ جس کے بعد مہاجر صوبے کا معاملہ کچھ ٹھنڈا پڑا۔ جبکہ ایم کیو ایم نے اس اکیلے پن سے نکلنے کے لیے نواز لیگ اور دیگر جماعتوں سے رابطے شروع کیے ہیں۔


No comments:

Post a Comment