June 14-2012 Sindhi middle class
نواز شریف کے پاس سندھ کے لیے کتنی جگہ ہے؟
سندھ کے مڈل کلاس کے آپشنز
میرے دل میرے مسافر۔۔ کالم۔۔۔ سہیل سانگی
سندھ اب پہلے کا سندھ نہیں رہا۔ سیاستداں اور سیاسی مفکرین بحث بھی کر رہے ہیں اور بیانات بھی جاری کر رہے ہیں۔ اصل میں دو اہم سوالات ہیں جن کا درست جواب دیئے بغیر آج کے سندھ کو نہیں سمجھا جا سکتا۔ سوال یہ کہ تبدیل کیا ہوا ہے؟کیسے ہوا ہے؟ گزشتہ دو دہائیوں میں سندھ میں مڈل کلاس سائیز میں اور خصوصیات میں بھی بڑھا ہے۔ساٹھ اور ستر کی دہائی میں جو مڈل کلاس پیدا ہوا اور بڑھا اس نے بڑی حد تک پیپلز پارٹی میں جگہ مل گئی۔ ایک اور تبدیلی ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی شہادتوں کی وجہ سے بھی رونماہوئی۔وقت کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی روایتی اور پرانی پارٹی بن گئی۔یوں اس پارٹی پرپیپلز فیوڈل تسلط بڑھ گیا۔اس وجہ سے وہ اس مڈل کلاس کو اپنے اندر سمونے کے لیے نا کافی ثابت ہوئی۔ لہٰذا اب مڈل کلاس اقتدار کے کاریڈورز میں جانے کے لیے دوسرے راستے تلاش کر رہا ہے۔ اس کوشش کے ہمیں کئی ایک مظاہر ملتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے بعددوسرے نمبر پر ایم کیو ایم ایسی جماعت ہو سکتی تھی ن جو سندھ کے مڈل کلاس کو اپنے اند سمو سکتی تھی مگریہ جماعت دوسری زبان اور نسل کے لوگوں کو سمونے کے لیے تیار نہیں۔جب کہ اپنی پالیسیوں میں تنگ نظری کے باعث دیہی سندھ کے پرانے باشندوں کے لیے کوئی کشش نہیں رکھتی بلکہ دونوں کا ایک دوسرے کی طرف مخاصمانہ رویہ ہے۔لہٰذا سندھ کے لوگ اخلاقی طور پر بھی اس پارٹی میں جانے کے لیے تیار نہیں۔
اب صورتحال یہ ہے کہ ایک چھوٹا حصہ پیپلز پارٹی میں جگہ بنا لے گا۔ اور باقی وفاقی سیاست کرنے والی دو جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور فنکشنل مسلم لیگ کی طرف رجوع کرسکتا ہے۔ان آپشنز کے باوجود خاصا حصہ قوم پرست سیاست میں موجود رہے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے ک ملک کی بڑی پارٹیاں جو مین اسٹریم پارٹیاں کہلاتی ہیں وہ سندھ کے مڈل کلاس کو اپنے اندر سمونے میں ناکام رہتی ہیں۔ یہ وہ صورتحال ہے جس کا آج ہم بلوچستان میں سامنا کر رہے ہیں یا چند عشرے قبل خیبر پختونخوا میں کر رہے تھے۔ فنکشنل لیگ مسلسل انتخابی عمل کا حصہ رہی ہے۔ اس کی پوزیشن چھوٹی ہی سہی مگر تسلیم شدہ ہے۔اسٹیبلشمنٹ سے بھی اس جماعت کے تعلقات اچھے ہی رہتے ہیں۔اب اس جماعت نے حال ہی میں اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے اور اپنے دروازے دوسرے لوگوں کے لیے کھولے ہیں۔ ستر کے آخری عشرے میں بھٹو کے خلاف پاکستان قومی اتحاد کی تحریک کے بعد پہلی باراسمبلی کے اندر خواہ باہر باقاعدہ سیاسی سرگرمیاں شروع کی ہیں، اور ایک پاپولر پارٹی بننے کی تگ و دو کر رہی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ یہاں بھی پیپلز پارٹی کی طرح فیوڈل تسلط پایا جتا ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کا نئے آنے والوں کے لیے استقبالی رویہ نہیں۔ چونکہ یہ پی پی ملک کی ماتسلیم شدہ سب سے بڑی پارٹی ہے اس میں داخلا کا طریقہ لمبا اور مشکل ہے۔ وہ اپنی سائز کو بڑھانے نہیں بلکہ برقرار رکھنے کی کوشش میں ہے۔ فنکشنل لیگ سائیز میں چھوٹی ہے اور خود کو بڑا کرنا بھی چاہتی ہے اس لیے نئے آنے واالوں کا استقبال کرتی ہے۔ فنکشنل لیگ کو نواز لیگ پر سندھ میں اس وجہ سے بھی برتری حاصل ہے کہ یہ سندھی پارٹی ہے۔اورپیر سورہیہ بادشاہ کی انگریزوں کے خلاف حر تحریک اور گوریلا جنگ کی وجہ سے وہ بوقت ضرورت حریت پسندی کا لبادہ بھی اوڑھ لیتی ہے۔ لہٰذا قوم پرستوں کے لیے بھی کشش رکھتی ہے۔
نواز شریف کی صورت میں سندھیوں اور پنجابیوں کا اتحاد دوبارہ بنانے کی کوشش ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے یہ اتحاد بنایا تھا، مگر بعد میں پنجاب نے بھٹو کو پھانسی دے کر یہ اتحاد توڑ دیا تھا۔نواز شریف کے لیے اتحاد مجود ہے کہ وہسندھ میں اپنی پارٹی بنائے۔ اور سندھ اور پنجاب کے پرانے اتحاد کو زندہ کرے۔اس مقصد کے لیے انہیں اپنی پالیسیوں اور حکمت عملی میں تبدیلی لانی پڑے گی۔اور دونوں صوبوں کے مشترکہ مفادات والے اشوز پر زیادہ فوکس کرنا پڑے گا۔ اگر وہ اپنی پالیسی میں کوئی ایسی بڑی شفٹ لے آتا ہے توسندھ کے لوگوں کے لیے دروازے کھول سکتا ہے۔
وقت کے ساتھ نئے ایکٹر بنے ہیں وہ کیسے اکموڈیٹ ہوں؟ نئے کھلاڑی فنکشنل اور نواز لیگ میں جا سکتے ہیں، مگر شرط یہ کہ ان جماعتوں کی قیادت پروسیس صحیح کرتی ہے۔ اگر غلط پروسیسنگ کی تو یہ امکان رد ہو جائے گا۔ نتیجے میں یہ لوگ یا تو پیپلز پارٹی میں اپنے لیے کوئی جگہ تلاش کریں یا پھرقوم پرست سیاست میں ہی رہیں۔
سات سال تک نواز شریف اور ان کی پارٹی نے سندھ آنے کی زحمت نہیں کی۔2008 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے سندھ میں علامتی طور پر بھی ایک بھی ا میدوار کھڑا نہیں کیا۔مگر ان انتخابات کے بعد پنجاب میں جب یہ جماعت حکومت میں آئی تواس نے سندھ کے بنیادی اشوز پروہی پرانا موقف رکھا۔پانی کی تقسیم، وفاقی مالی وسائل کی تقسیم، توانائی کا بحران، گیس، تیل اور بجلی کے معاملات وغیرہ ایسے اشوز ہیں جن پر سندھ سمجھتا ہے کہ پنجاب اپنے حصے سے زیادہ استعمال کر رہا ہے اور ان وسائل کی شارٹیج کی صورت میں یہ شارٹیج شیئر کرنے کے لیے تیا رنہیں۔ لہٰذا جھگڑا کر کے بھی اپنے حسے سے زیادہ لیا ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ آج کل ممتاز کا کوئی مؤثر سیاسی رول نہیں تھا۔ان میں یہ پرانا رجحان ہے کہ کسی نہ کسی طرح سے پاور پالیٹکس میں شیئر ملے۔نواز شریف کو بھی ضرورت تھی کہ کوئی قوم پرست سیاست کے نام پر ہیوی ویٹ ملے۔وسیع تر وفاقی پارٹی میں ممتاز بھٹوجیسے کئی کردار ہوتے ہیں۔ ممتاز بھٹو کو کچھ اپنے اندر نرمی لانی پڑے گی۔ اور نواز لیگ سندھ کی بڑی پارٹی بن سکتی ہے۔اس میں ممتاز بھٹو کو بھی فائدہ ہے۔
انتخابی سیاست نظریاتی کم اور عملی زیادہ ہے۔ وہ بعض پر عوامی سیاست کی جگہ بھی لے لیتی ہے۔ سندھ میں جو بھی پارٹی ہوگی اسکو روایتی پاور بروکرز اور نئے ایکٹرز کا مکسچر بنانا پڑے گا۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ پارٹی کی بیل مونڈے نہیں چڑھے گی۔ نواز شریف کے پاس اور کوئی راستہ نہیں۔ پہلا راستہ یہ کہ وہ عوام ک انمائندہ بنے اور پھر انتخابی عمل میں جائے، جیسے بھٹو یا شیخ مجیب نے کیا تھا۔ دوسرا یہ کہ انتخابی عمل میں جائے اور اس کے بعد عوام میں جائے۔ پہلا کام اس وجہ سے بھی نہیں کر سکتا کیونہ وہ ورجن(virgin) نہیں۔
خراب حکمرانی، ایم کیو ایم کے دباؤ میں آکر بعض فیصلے کرنے اور پنجاب کو خوش رکھنے کے لیے بعض فیصلے کرنے کی وجہ سے سندھ میں پیپلز پارٹی کی مقبولیت میں فرق آیا ہے۔دوسری جانب نواز شریف کے لیے اتنی خیرسگالی کے جذبات (good will) پیدا ہو گئی ہے کہ لوگ ان کے جلسوں کو خراب نہیں سمجھتے۔ ان خیرسگالی کے جذبات کو وہ ووٹرز میں تبدیل کر سکتی ہے یا نہیں؟یہ ایک اہم سوال ہے۔ نواز شریف کے پاس دو راستے تھے۔ ایک تنظیم کاری کریں اور لوگوں کے پاس جائیں۔ دوسرا یہ کہ بااثر وڈیرے جو منتخب ہو سکتے ہیں ان سے رجوع کریں۔نواز شریف نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔اور وہ لیاقت جتوئی اور دوسرے پی پی مخالف وڈیروں کو جمع کر رہے ہیں۔اس سے نواز شریف اور ان وڈیرہ خاندانوں کو تو فائدہ مل سکتا ہے مگر سندھ کی سیاست میں کوئی نیاپن نہیں آئے گا۔صرف اچھے سیاسی بیانات دینے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔وہ پارٹی کو مستقل بنیادوں پر سندھ کی سیاست میں رکھنا چاہتے ہیں یا سیاسی شارٹ کٹ کے ذریعے اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
نواز شریف کے اچھے بیانات آئے ہیں مگر انکا اسٹائل وہی پرانا ہے۔وہ ہر قیمت پر کچھ نسشتیں جیتنا چاہتے ہیں۔پیپلز پارٹی کے پاس بھی وہی فارمولا ہے۔وہ ہرایک سے بات کرنے کے لیے تیار ہے۔
قوم پرستوں کے پاس پختہ ووٹ بینک نہ سہی مگر باہر کی کوئی بھی جماعت ہو اس کوسندھ میں سیاست کرنے یا انتخابات میں پاؤں رکھنے کے لیے اخلاقی جواز چاہئے۔یہ جواز قوم پرستوں کے بغیر نہیں مل سکتا۔
سندھ کے سیاسی حلقوں اور مڈل کلاس کو پیپلز پارٹی سے ناراضگی پنجاب کی وجہ سے اتنی نہیں جتنی ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد کرنے یا اسکو مراعات اور چھوٹ دینے کی وجہ سے ہے۔ نواز شریف نے ماضی میں یہ ثابت کیا ہے کہ ان کی شخصیت میں ڈھل مل یقینی ہے۔کیا انتخابات کے بعد وہ ایم کیو ایم کے ساتھ نہیں بیٹھے گا؟وہ کسی ایسے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہے؟
No comments:
Post a Comment