Thu, May 3, 2012 at 2:43 AM
لیاری میں کیوں گولیاں چل رہی؟
کالم میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
لیاری میں کیوں گولیاں چل رہی؟
کالم میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
گزشتہ چند روز سے کراچی کی قدیمی اور گنجان آدبادی والی بستی لیاری میدان جنگ بنی ہوئی ہے۔ بغیر وقفے کے گولیاں چل رہی ہیں۔ جب گولیوں کی آواز تھم جاتی ہے تو اس کی جگہ پر راکٹ لانچرز یا گرنیڈ کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ایک درجن سے زائد افراد ہلاک اور کئی ایک زخمی ہو چکے ہیں۔ لیاری کے باشندے قیدی اور یرغمال بن کر رہ رہے ہیں۔ لیاری کے تمام علاقوں میں بارود کی بوپھیل گئی ہے پانی اور بجلی غائب ہیں۔ تین روز تک پانی بند رہا۔کھانے پینے کی اشیا ختم ہوگئی۔ بچے دودھ کے لیے بلک رہے ہیں کیونکہ اب تو اس علاوے میں دکانیں ہی نہیں کھلتی۔ ایسے میں زیر آپریشن علاقے میں رہنا ناممکن ہو گیا ہے۔ کئی خاندان نقل مکانی کرکے دوسرے علاقوں میں منتقل ہو رہے ہیں۔ رائے عامہ انتظامیہ کے مقابلے میں سخت ہوتی جا رہی ہے۔ اب تویہ کہا جا رہا ہے کہیہ آپریشن ان لوگوں کو خوش کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے جو پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے والی قدیمی بستی کے رہائشیوں کے دشمن ہیں۔ جو لیاری میں عوامی حمایت نہ رکھنے کے باوجود لیاری پر حکم چلا رہے ہیں۔یوں یہ رائے رکھنے والے یہ آپریشن کو ایک سازش قرار دے رہے ہیں۔اور وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ آپریشن کی وجہ سے لیاری میں پیپلز پارٹی کی عوامی حمایت ختم ہوتی جا رہی ہے۔دوسری طرف احتجاج شدید تر ہو گیا ہے۔آئی سی آئی پل سے لیکر برنس روڈ تک پہنچنے والے لیاری کے احتجاج اس بات کا ثبوت ہے کہ پیپلز پارٹی کے ووٹرز اب اس سے مایوس ہو رہے ہیں۔
اگر ہم کراچی میں جرائم کے منظر کا تجزیہ کریں کئی علاقے لیاری سے زیادہ بدامنی کا شکار ہیں۔مگر تشدد کراچی کی اس قدیم اور غربت میں گھری ہوئی آبای کی مستقل علامت بن چکا ہے۔ جیسے لیاری میں بسنے والی پندرہ لاکھ سے زائد سب کی سب آبادی جرائم پیشہ ہو۔لیاری کا وہ تعارف کہیں کھو گیا ہے جس میں لال بخش رند، رحیم بخش آزاد، گاجیان بلوچ جیسے سچے اور پر خلوص سیاسی کارکن یا صدیق بلوچ اور غلام علی جیسے بے باک صحافی بھی ہوا کرتے تھے۔میر غوث بخش بزنجو جیسے رہنما اس بستی کا باقاعدگی سے دورہ کیا کرتے تھے۔ لیاری برسہا برس تک نے نڈر، محنتی اور اپنے کاز سے وفادارسیاسی کارکنوں کی کھیپ پیدا کرتی رہی ہے۔لیکن موجودہ صورتحال کو دیکھ کر سوال اٹھتا ہے کہ کیا لیاری کی کوکھ بانجھ ہوگئی ہے؟ لیاری کا یہ نیا تعارف کہاں سے آیا؟
لیاری میں اب سیاسی جلسے یا سیاسی لیکچر پروگرام نہیں ہو رہے ہیں بلکہ گزشتہ چند برسوں سے گینگ وار یا مافیا کی جنگ ہو رہی ہے۔ جس کے پاؤں تلے لاکھوں افراد روندے جا رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما ملک مخمدخان کو اٹھ چوک پر قتل کیا گیا جب وہ وزیر اعظم کی سزا کے خلاف ایک جلوس کی قیادت کر رہے تھے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس کا الزام کالعدم پیپلز امن کیٹی پر عائد کیا ہے۔ یہ تنظیم کبھی پیپلز پارٹی کے ساتھ الحاق میں تھی۔کیا یہ سمجھا جائے گا کہ اس تنظیم کے افراد پر مشتمل تنظیم نے اپنے بڑوں پر بندوق تان لی۔یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ممکن ہے کہ کمیٹی یا وہ گروہ جو گزشتہ کئی روز سے کراچی شہر کے سب سے بڑے بھتہ خور گروپ سے تضاد میں تھا ملک محمدخان اس کا شکار ہوا ہو۔
امن کمیٹی کے ہمدردوں کا کہنا ہے کہ تنظیم کا ایک گروپ جس کی قیادت بابا لاڈلا کر رہے ہیں اس کو آپریشن میں مستثنیٰ حاصل ہے۔جبکہ ارشد پپو گینگ کے جرائم پیشہ افراد کو امن کمیٹی کے لڑاکو کارکنوں کی شناخت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ٹارگٹیڈآپریشن نے پیپلز امن کمیٹی کو پیپلز پارٹی سے دور کردیا۔ بعض مقامی رہنما پارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا سوچ رہے ہیں۔ نواز لیگ کے رہنما سید غوث علی شاہ کا دورہ اس سلسلے کی کڑی سمجھا جا رہا ہے۔ پارٹی سے بیگانگی اور دوری کا معاملہ صرف امن کمیٹی تک محدود نہیں بلکہ اس نے لیاری کی تمام آبادی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ کیونکہ آپریشن کے دوران یہ آبادی بری طرح سے صائب کا شکار ہوئی ہے۔
انتظامی حلقوں میں یہ باتیں بھی ہو رہی ہیں کہ ایس پی اسلم چوہدری نے اپنی پرائیویٹ آرمی آپریشن میں استعمال کی ہے جس کا تعلق نہ پولیس سے ہے نہ ہی کسی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سے۔انکا کہنا ہے کہ اسلم چوہدری رحمان ڈکیت سے انتقام لینا چاہتا تھا۔ کیونکہ امن کمیٹی جب اس کی قیادت میں چل رہی تھی تو انہیں خاصی بے عزتی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
گزشتہ تین روز تک سندھ میں نہ وزیر اعلیٰ موجود تھے نہ کوئی اور اعلیٰ حکومتی اہلکار۔ کیونکہ وزیرداخلہ منظور وسان مستعفی ہو کے ہیں۔ یہ آپریشن صرف آئی جی سندھ سید مشتاق شاہ چلا رہے تھے۔
وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک، وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، اور وزیر داخلہ منظور وسان کا کہنا تھا کہ یہ بھتہ خوروں کے خلاف بلاامتیاز آپریشن ہے۔واقعی اگر ایسا ہے تو شہر کے دوسرے علاقوں میں جہاں بڑے پیمانے پر بھتہ وصول یا جاتا ہے وہاں کیوں نہیں شروع کیا جا رہا ہے۔۔ لیاری میں چھوٹے دکانداروں یا ٹرانسپورٹروں سے بھتہ لینے والے جب بھتہ خوری کے لیے کھارادر، جوڑیا بازار، اور ٹاور کی طرف بڑھے، تو ا لوگوں کو اعتراض ہوا جن کی اس دھندے پر اجارہ داری تھی۔ اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ لیاری کے ان جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کی جائے جو اپنا دھندے میں توسیع کر رہے تھے۔
یہ امر بھی خاصی دلچسپی کا حامل ہے کہ جب پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت اقتدار میں آئی۔تو رحمان ڈکیت نے مستقبل میں سیاست کرنے کی ٹھانی۔ پیپلز پارٹی کے منتخب نمائندوں کی جانب سے سستی، اور لاتعلقی وجہ سے امن کمیٹی نے اس کی جگہ لینا شروع کردی۔اور اپنی تنظیم کو سماجی تنظیم یا کمیونٹی کی تنظیم کے طور پر اپنا نیا تعارف کرایا۔ یہاں کے منتخب نمائندے کبھی کبھا ہی اپنے حلقے کا رخ کرتے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے لیاری کو نظرانداز کیا ہے۔ امن کمیٹی نے علاقے کی ترقی کے لیے کام کرنا شروع کیا اور اپنا امیج بنانا شروع کیا۔
لیاری میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی نے اپنے ووٹرز کو اس طرح سے کوئی اہمیت نہیں دی تو خود بلاول بھٹو زرداری کے لیے بھی لیاری کی قومی اسمبلی کی نشست جیتنا مشکل ہو جائے گا۔یہ دعوا خواہ سو فیصد صحیح نہ ہو مگر خو پیپلز پارٹی کے لوگ بھی یہ مانتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کو ووٹ دیں مگر یہ یقینی بات ہے کہ آئندہ انتخابات میں پارٹی کا ووٹ بینک سکڑے گا۔
ابھی چند ہی برس پہلے کا قصہ ہے کہ لیاری کو جمہوریت پسند احتجاجوں میں ہراول دستہ سمجھا جاتا تھا۔مگر یہاں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ جب سیاسی طبقے نے عام آدمی اور ووٹرز کو کی بری طرح سے نظرانداز کیا تو مقامی گینگسٹروں کو کھلااسٹیج مل گیا۔ان میں سے کئی جومقامی طور پر اڈے چلانے میں بھی ملوث ہیں۔انہوں نے سماجی اور فلاحی کاموں میں ہاتھ ڈال کر اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط بنا لی ہے۔آگے چل کر جنگجو گروپوں کے درمیاں علاقوں کی حد بندی کے سوال پر جھگڑے پھوٹ پڑے جو خود کو سیاستداں اور سماجی کارکن کے طور پر پوز کر رہے تھے۔اس تمام قصے میں پیپلز پارٹی کی مقامی اور مرکزی قیادت کاموش تماشائی بنی رہی۔ کئی پرانے پارٹی کے کارکن شکایت کرتے ہیں۔
اب لگتا ہے کہ یہ ایک سیاسی جنگ ہے جو پیپلز پارٹی ہار رہی ہے۔کیونکہ کہ پارٹی کی قیادت نے دوسروں کو خوش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صرف کراچی ہی نہیں سندھ مین بھی لیاری کی صورتحال پر تشویش پائی جاتی ہے۔ سندھ کے مختلف شہروں میں مظاہرے بھی ہو رہے ہیں۔پہلی مرتبہ پیپلز پارٹی کے کسی ایسے اقدام کے خلاف سندھ میں لوگ باتیں کر رہے ہیں مگر مقامی قیادت حکومت کے اس قدام کا دفاع نہیں کر پا رہی ہے۔
No comments:
Post a Comment