Dec 29, 2011
سندھ نامہ۔۔ سہیل سانگی
مسائل حل نہ ہونے کا شکوہ
سندھی پریس نے حکومت کی تمام تر توجہ موجودہ بحران پرہونے کی وجہ سے عوام کے مسائل مزید پیچیدہ ہونے کا شکوہ کیا ہے۔سندھ کے اخبارات کا کہنا ہے کہ صوبے میں امن امان کی صورتحال خاصی وگرگوں ہے اور عام آدمی کو انصاف نہیں ملتا۔
”روزنامہ کاوش“ اپنے اداریے میں لکھتا ہے: اقتدار اور اختیار کے سفینے میں سوار اور اچھی حکمرانی کے سرور میں مسرور افراد کو چھوڑ کر سندھ بھر میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہوگا جو سندھ میں قانون کی گمشدگی اور ریاست عدم موجود کی رائے نہ رکھتا ہو۔قانون کی گمشدگی کی خبر روزانہ کرائیم ڈائریوں اور میڈیا کی شہ سرخیوں سے مل جاتی ہے۔مگر ہمارے ”بادشاہ“ ہر صورت میں سندھ م میں قانون کی حکمرانی کے مفروضے پر یقین کرنے پر بضد ہیں۔سندھ میں اگر قانون کی حکمرانی ہوتی تو گھوٹکی میں دو بچوں سمیت چھ افراد ابھی تک ڈاکٗووں کے پاس قید نہ ہوتے۔میرپورخاص کے وکیل موہن لال ہوں یا مغوی ڈاکٹر، ان کو ڈاکؤوں کے پنجے سے رہائی دلانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تھا تو اپنی پہلی ترجیح امن امان بتائی تھی۔ جب اولین ترجیح کی یہ حالت ہو تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عوام کو کس طرح کی حکمرانی نصیب ہے۔شاید ہی کوئی ایسا دن ہو جب سندھ میں اغوا یا آبروریزی کے واقعات نہ ہوتے ہوں۔ امن آمریت کے دور میں بھی نہیں تھا اور آج بھی امن اور چین عوام کے لئے ایک خواب سا ہے۔لوگ جمہوری اور غیر جمہوری دور میں تمیز کیسے کریں؟ جب وہ طرز حکمرانی میں فرق تلاش کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ یہ جمہوریت کے خلاف سازش ہے۔عوام کو تحفظ فراہم کرنا حکمرانوں کی منصبی ذمہ داری ہے۔ایسا لگتا ہے کہ سندھ میں ڈاکؤوں کو فری ہینڈدیا گیا ہے۔سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر ڈاکو کس کے سہارے اتنی بڑی اور اتنی ساری کارروائیاں کر رہے ہیں۔اتنی بڑی نفری اور ٹرینڈ پولیس افسران سے ڈاکو زیادہ طاقتور ہیں؟ حکومت سندھ سے درخواست ہے کہ صوبے میں سرگرم اغوا انڈسٹری کے خاتمے کے لئے اقدامات کرے۔
روزنامہ کاوش نے ایک اور اداریے میں لکھا ہے کہ جوں جوں سردی بڑھتی جا رہی ہے سڑکوں اور کھلے آسمان تلے کیمپوں میں بسنے والے سیلاب متاثرین کی تکالیف میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔عمرکوت، بدین، میرپورخاص اور دیگر اضلاع میں ابھی تک بارش کا پانی نہیں نکالا جا سکا ہے۔سردی ب میں اضافے کے ساتھ لوگوں کے دکھوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور احتجاجوں کا سلسلہ بھی بڑھ رہا ہے۔حکمرا ں مفاہمت کی سرگرمیوں اور آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کی منصوبہ بندی میں اتنے مصروف ہیں کہ انہیں یاد ہی نہیں کہ و ووٹ لینے کے لئے عوام کے پاس بھی جانا ہے۔حکومت سے یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ اتنا بڑا کونسا ٹاسک تھا کہ پانچ ماہ گذرنے کے باوجودسیلاب اور بارش کے پانی کی نکاسی نہیں ہو سکی؟
سندھ یونیورسٹی کے معاملات پرزرار پیرزادو ”روزنامہ عوامی آواز“میں اپنے کالم میں رقم طراز ہیں:سندھ یونیورسٹی کی مجموعی طور خراب صورتحال کی ذمہ دار یوینورسٹی انتظامیہ ہے یا طلباء؟ بلاشبہہ پہلی ذمہ داری اس پر آتی ہے جو صاحب اختیا ر ہوتے ہیں۔اس وجہ سے سندھ یونیورسٹی انتظامیہ کی اولیں ذمہ داری ہے کہ وہ یونیورسٹی کا تدریسی و انتظامی ماحول درست رکھے۔ جبکہ طلباء تنظیموں کو سوچنا چاہئے کہ کہ اگر سب کچھ صحیح ہوتا یونیورسٹی انتظامیہ فرشتہ ہوتی تو پھر طلباء تنظیموں کا جواز کیا تھا؟ طلباء تنظیموں کے وجود کی جواز یہ ہے کہ وہ طلباء کے بنیادی حقوق کی محافظ بنیں اورطلباء کے مفادات کے خلاف انتظامی فیصلوں کو روکے اور اس کے خلاف جدوجہد کرے۔طلبا تنظیموں کی جدوجہد یا احتجاج کا مقصد تعلیم میں خلل ڈالنا نہیں بلکہ اس خلل کو ختم کرنا ہونا چاہئے۔مگر ہماری تنظیمیں ایسا احتجاج کرتی ہیں جس سے انتظامی کام تو چلتا رہتا ہے۔اور رکتا ہے تو وہ تعلیمی عمل۔طلبا تنظیموں کے احتجاج کی وجہ سے کلاسز معطل ہو جاتے ہیں۔امتحانات ملتوی ہو جاتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ طلبا تنظیموں کو اپنی جدوجہد اور طریقہ کار کا از سرنو جائزہ لینا چاہئے۔
”روزنامہ عوامی آواز“ کے ایک اور کالم نگار راز ناتھن شاہی اپنے کالم آئینہ میں لکھتے ہیں:گذشتہ ہفتے دادو ضلع کے شہر خیرپورناتھن شاہ میں ایک عوامی عدالت لگائی گئی جس میں شہر میں ہونے والی بدعنوانیوں، ناانصافیوں، بیروزگاری، مہنگائی، گذشتہ سال کے سیلاب سے پیدا ہونے والی پر انتظامیہ کی لاتعلقی، اراکین اسیمبلی کی لاپرواہی اور بے حسی پر غور کیا گیا اور انصاف کا مطالبہ کیا گیا۔سندھ میں پہلی مرتبہ یک عوامی عدالت لگا کر شہری مسائل پر بات چیت کی گئی۔خیرپورناتھن شاہ شاعروں اور ایم آرڈی کے شہیدوں کا شہر ہے جو کئی مسائل سے دوچار ہے۔ وزیراعلی سندھ نے دو سال قبل یہاں کیڈٹ کالج قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ مگر یہ اعلان اھبی تک فائلوں سے نکل نہیں سکا ہے۔عدالت میں شہر کے مختلف مسائل پر تفصیل سے بحث کی گئی اور انکے حل نہ ہونے کی وجوہات کی بھی نشاندہی کی گئی۔سندھ کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں ایسی عوامی عدالت لگانے کی ضرورت ہے کیونکہ اراکین اسیمبلی عوام سے وعدے کر کے آسرے دیکر ووٹ لے لیتے ہیں اور منتخب ہو جاتے ہیں۔ بعد میں پلٹ کر عام ووٹر کی طرف دیکھتے بھی نہیں۔ وہ حقائق کو جھوٹ سمجھتنے لگتے ہیں اور کرپشن کو حق سمجھتے ہیں۔غریبوں کے احتجاج کو بلاوجہ چیخ و پکار کہتے ہیں۔وہ اقتدار کی کرسی ملنے کے بعد عوام اور اس کے ساتھ کئے گئے وعدے بھول جاتے ہیں اور عوام کے بجائے خواص کے کام کرنے لگتے ہیں۔
”روزنامہ عبرت“کے کالم نگار مرتضی سیال لکھتے ہیں: زندگی اور سماج سے متعلق تمام معاملات میں قانون بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔حال ہی میں سندھ اسیمبلی نے قرارداد منظور کرکے کار کاری کو ناقابل معافی جرم قرار دیا ہے۔اس بل پر ممبران نے اپنی تقاریر میں کہا کہ جائداد ہضم کرنے اور دیگر اسے بہانوں پر عورتوں کو قتل کیا جاتا ہے۔وزیر داخلہ نے ایوان کو بتایا کہ پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کرے۔کارو کاری کو ناقابل معافی جرم قرار دینا خوش آئند بات ہے۔مگر جب اس پر عمل نہ ہو سکے تو ایسا قانون اور ایسی قرارداد کس کام کی؟ حکمرانوں کے بیانات پڑھ کر کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ وہ ہم لوگوں کو بیوقوف بنا ہرے ہیں۔اگر وہ قانون پر عمل کراتے تو کارو کاری، قبائلی جھگڑے، ڈکیتیاں، قتل اور اسٹریٹ کرائیم عروج پر نہ ہوتے۔یہ قانون پر عمل درآمد کرانے والوں کی نااہلی ہے کہ جرائم کی شرح اتنی بڑھ کئی ہے۔کاروکاری پہلی بھی ناقابل معافی جرم تھا، اس کو ایوان میں قرارداد کے ذریعے دوبارہ جرم قرار دینا سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے۔ قانون سازی کرنے یا پولیس کو ہدایات دینے کا کیا فائدہ؟ یہ واقعات جوں کے توں جاری رینگے جیسے سالہا سال سے جاری ہیں۔ان واقعات کی روک تھام کے لئے قانون کی حکمرانی قائم کرنی پڑے گی۔ نیک نیتی سے قانون کے مطابق کام کرنا پڑے گا۔جس کے لئے حکومت تیار نظر نہیں آتی۔مظلوم اور نارسا لوگ قانون اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مایوس ہو چکے ہیں۔لوگوں کو حکومت کی عملداری اورپولیس پر بھروسہ نہیں۔ جب بے اعتمادی اس حد تک بڑھ جائے تو اولین ضرورت اعتماد بحال کرنے کی ہوتی ہے۔یہ عمل اور نتائج کا دور ہے۔ خالی باتیں اور جھوٹے وعدے اعتماد بحال نہیں کر سکتے۔صرف طاقتور لوگوں کو ہی نہیں بلکہ
اللہ کے لوگوں کو بھی انصاف دینا پڑے گا۔
No comments:
Post a Comment