Wednesday, 4 March 2020

نادرا اور انتخابی فہرستیں 2011-12-29

Thu, Dec 29, 2011 at 1231 PM
نادرا  اور انتخابی فہرستیں 
میرے دل  میرے  مسافر ۔ سہیل سانگی 
  نادرا والے ابھی سیلاب زدگان کو پاکستان کارڈ اور وطن کارڈ دینے  میں ہی لگے ہوئے تھے کہ انہیں الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر نئی انتخابی فہرستیں بنانے کا کام بھی پکڑا دیا۔ سپریم کورٹ کی ہدیت ہے کہ ووٹروں کے اندراج کا کام 23  فبروری تک مکمل کیا جائے۔ پارلیمنٹ نے قانون منظور کیا ہے جس کے تحت ووٹ کی داخلا اور ووٹ کاسٹ کرنے کے لئے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ لازمی قرار دیا گیا ہے۔انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لئے انتخابی فہرستوں کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔الیکشن کمیشن نے انتخابی فہرستیں  جن کے تحت 2007کے انتخابات ہوئے تھے نادرا کے حوالے کیں۔  
ملک ایک سیاسی بحران سے گذر رہا ہے۔ اپوزیشن  جلد انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے۔جبکہ حکومت آئین کے مطابق پانچ سال کی مدت پوری کرنے پر زور دے رہی ہے۔یہ پانچ سال کی مدت مئی 1213 میں مکمل ہوگی۔ انتخابات مقررہ وقت پر ہوں یا قبل از وقت۔  وہ شفاف ہونے چاہئیں۔  شفافیت کا ایک جز انتخابی فہرستیں ہیں۔جن کی ذمہ داری نادرا کو سونپی گئی ہے۔یوں اس ادارے کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
  شروع شروع میں نادرا کے ذمے صرف کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ بنانا تھا۔ اس کے بعد ان کو  انکو غیر ملکی تاکیں وطن کا کام سونپا گیا۔سال رواں میں  نادرا کے ذمہ اسلحے کا لائسنس کی تجدید کا کام بھی دیا گیا۔
گذشتہ سال سیلاب کے متاثرین کی رجسٹریشن اور انکی مالی اعانت کے لئے  نادرا کے ذریعے ہی وطن کارڈ جاری کئے گئے۔ جون تک 1.68   ملین وطن کارڈ جاری کئے۔ جن کو بیس ہزار روپے فی خاندان کے حساب سے نقد امداد فراہم کی گئی۔رکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ سندھ میں 651,990  وطن کارڈ،  بلوچستان میں 120,918، خیبر پختونخواہ میں 243,208، پنجاب میں 608,825،  گلگت بلتستان میں 9,378  اور آزاد کشمیر میں 10,943 وطن کارڈ جاری کئے گئے۔
رواں سال  چھ لاکھ بارش کے متاثرین کو بھی پاکستان کارڈ جاری کئے گئے۔749,779  پاکستان کاڑد کے ذریعے  چھ ارب روپے سے زیادہ رقم بارش ائر سیلاب کے متاثرین میں تقسیم کی گئی۔ستمبر کے دوسرے ہفتے میں کام شروع کیا۔
آرمس لائسنس کی رجسٹریشن اگست کے آخر میں شروع کی۔ اسلحے  لائسنس کی تجدید کا کام اگست کے دوسرے ہفتے میں شروع کیا۔سندھ میں سیلاب اوربارش کے متاثرین کی رجسٹریشن  کا کام جاری رکھتے ہوئے نادرا عملے نے اسلحہ لائسنس کی تجدید اور انتخابی فہرستوں کو اپ ڈیٹ کرنے کے فرائض بھی نبھائے۔ گست میں نادرا نے  الیکشن کمیشن کی نگرانی میں 80 ملین ووٹرز انتخابی فہرستوں کا مسودہ شایع کردیا۔ نادرا کا کہنا ہے کہ اس نے 93 فی صد لوگوں کی رجسٹریشن مکمل کر لی ہے اور86   ملین افراد کو کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ جاری کریئے ہیں۔
عام طور پر الیکشن کمیشن ووٹرز کے داخلا کے لئے  200,000 اساتذہ کی خدمات حاصل کرتی ہے۔ اس مرتبہ الیکشن کمیشن نے نادرا کی  شایع شدہ انتخابی فہرستوں کی صرف تصدیق اور امکانی غلطیوں کو درست کرنے کا کام کیا۔ اور تصدیق کا یہ کام   اگست میں شروع ہوا۔مسودہ شایع ہونے کے بعد کئی دلچسپ باتیں سامنے آئیں۔شناختی کارڈز کے رکارڈ اور الیکشن کمیشن کی انتخابی فہرستوں کو جب تجزیہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ تقریبا(37 ملین)تین کروڑ سے زیادہ غیر مصدقہ ووٹر درج تھے۔جو کہ کل ووٹرز کی تعداد کا 44 فیصد بنتے ہیں۔ جبکہ تصدیق شدہ ووٹروں کی تعداد44   ملین ہے۔ یوں 2007  کی حتمی فہرستوں کے مطابق کل 81 ملین افراد کو شناختی کارڈ جاری کئے گئے تھے جن میں سے صرف 44 ملین نے بطور ووٹر درج ہیں۔اس وقت انتخابی فہرستوں کا مسودہ   80.6 ملین (80,547,743)  ووٹروں پر مشتمل ہے۔ کیونکہ2008 کے انتخابات کے بعد نادرا نے36 ملین نئے شناختی کارڈ جاری کئے۔ جن کا بطور ووٹر اندراج کیا گیاہے۔
 الیکشن کمیشن نے جولائی میں بتایا کہ انتخابی فہرستوں سے سینتیس ملین بوگس ووٹ خارج کردیئے گئے ہیں۔ان بوگس ووٹرز کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے۔15.02 ملین ووٹروں کی داخلا بغیر کسی شناختی کارڈ کے کی گئی تھی۔ 2.1  ملین کا اندراج غلط شناختی کارڈوں  پرتھا۔ 4.49 ملین ڈپلیکٹ داخلائیں تھیں۔ 6.46 ملین ایسے اندراج ہیں جو ہاتھ سے بنائے ہوئے شناختی کارڈوں کی بنیاد پر تھ جبکہ11.05   ملین ہاتھ سے بنائے ہوئے شناختی کارڈوں کا کوئی رکارڈ موجود نہیں۔
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے انتخابی فہرستوں کی درستی کا کام  نادرا کو دے کر رحمان ملک کا کام بڑھا دیا ہے۔ کیونکہ نادرا کا وزارت داخلہ کے ماتحت ہے۔  رحمان ملک کا کام بڑھا ہو یا نہ بڑھا ہوں نادرا کے ملازمین کا کام ضرور بڑھا ہے۔ کیونکہ  قومی شناختی کارڈ کا اندراج ہو یا پیدائش یا فوتگی کا رکارڈ رکھنے کا،  یہ سب نادرا کے ہی ملازمین کو ہی کرناہے۔اجبکہ غیرملکی تارکین وطن کی رجسٹریشن بھی  نادرا کے ذمے ہے۔اس کے علاوہ سیلاب یا دیگر ایسی قدرتی آفات کے متاثرین کی رجسٹریش بھی گذشہ ڈیڑھ برس سے نادرا کو دی گئی ہے۔ اب الیکشن کمیشن نے ووٹر فہرستوں کا کام بھی نادرا سے ہی کرا رہی ہے۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ نادرا  کے ذمے بہت سارے کام ہیں جو بڑی حد تک یہ ادارہ احسن طریقے سے کر رہا ہے۔ شہروں کی رجسٹریشن، ووٹرکا اندراج نہایت ہی اہم کام ہیں۔ جنکی شفاف طریقے سے رکھ اور بھی اہم ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ اتنا اہم کام کرنے والے ادارے کے ملازمین برسہا برس سے مستقل ملازمت سے محروم ہیں،  نہ انکا کوئی سروس اسٹرکچر ہے۔ نا ترقی کا طریقہ کار۔ پورے ادارے کو ایڈہاک بنیادوں پر چلایا جا رہا ہے۔ مستقل ملازمت نہ ہونے کی وجہ سے ملازمین  ملازمت کی سینیارٹی، پینشن، گریجوئٹی، سالانہ چھٹیوں اور دیگر ضروری مراعات سے محروم ہیں۔ ایک ایسا ادارہ جس کے ذمے اتنے سارے کام  اور وہ بھی نہایت اہمیت کے حامل انکے ملازمین کو ملازمت کا تحفظ اور دیگر سہولیات رکھنے  ان اہم کاموں  کو روکنے کے برابر۔ 
ملازمین کا کہنا ہے کہ  بارہا  وزارت داخلہ کو  اس ادارے کو مستقل شکل دینے اور ملازمین کو مستقل کرنے کے لئے یاددہانی کرائی گئی مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ اس وقت اس ادارے کے  11,000ملازمین مستقل ملازمت کے آسرے میں بیٹھے ہوئے ہیں۔انکا کہنا ہے کہ عام حالات ہوں یا ایمرجنسی، حکومت کو انکی ضرورت پڑتی ہے مگر  انہیں مستقل نہیں کیا جاتا۔
اب چونکہ انتخابی فہرستوں کی وجہ سے سپریم کورٹ بھی بیچ میں آ گئی ہے، تو ایک آسرا ہو چلا ہے کہ کسی بھی وقت سپریم کورٹ ان کے ادارے اور ملازمین کے مسائل کا نوٹس لے گی۔دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن یا اعلی عدلیہجو اس وقت بہت بڑا کام ان ملازمین سے کرا رہے ہیں، یہ کام ختم ہونے کے بعد انکو یاد رکھتے ہیں یا حکومت اور اس کے دیگر اداروں کی طرح بھول جاتے ہیں۔

No comments:

Post a Comment