Showing posts with label Senate. Show all posts
Showing posts with label Senate. Show all posts

Thursday, 5 March 2020

سنیٹ میں سندھ کی نمائندگی -2012-2-20

Mon, Feb 20, 2012, 12:57 AM
 سنیٹ میں سندھ کی نمائندگی کا سوال 
سہیل سانگی
سینٹ کے انتخابات کا اثر کسی اورصوبے پہ ہو نہ  ہو، سندھ جہاں مختلف لسانی گروپ بستے ہیں، وہاں  میں اس کے اثرات واضح نظر آرہے ہیں۔ ان انتخابات کے بعد یہاں مختلف لسانی آبادیوں اور مکتب فکر کی نمائندگی میں ردو بدل واقع ہوگا۔ وفاقی سظھ پر  حکومت کی پالیسی تھی کہ سنیٹ کے انتخابات بلامقابلہ ہوں۔ جسکا اظہار بعض نشستوں پر نظر بھی آیا۔ مگر ویراعلی سندھ سید قائم علی شاہ کااس بات پر مصر تھے کہ انکے صوبے میں ہر حال میں  سنیٹ کے انتخابات بلامقابلہ ہوں سندھ اسمبلی میں موجود باقی تمام گروپوں اور جماعتوں کو اکموڈیٹ کر لیا گیا ہے کیونکہ وہ سب کی سب حکمران اتحاد میں شامل ہیں۔ صرف ارباب غلام رحیم کا گروپ باقی ہے مسلم لیگ ہم خیال کے نام سے  وجود رکھتا ہے۔انکی فرمائشیں ذرا لمبی تھیں جو حکومت پوری نہ کر سکی۔ لہذا محض اس گروپ کی وجہ سے انتخابات کو پروسیس ہوگا۔
۔یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ بلامقابلہ انتخابات کی اتنی مجبوری کیا ہے۔
وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ اور وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے مسلم لیگ ہم خیال کے ارباب رحیم سے فون پر دبئی رابطہ کیا تھا۔اور ان سے کہا تھا کہ وہ سندھ میں سنیٹ کے اپنے امیدوار دستبردار کرادیں۔ارباب رحیم کا مطالبہ ہے کہ سنیٹ کی ایک عمومی سیٹ عبدالغفار قریشی کو دی جائے۔اور انہیں سنیٹ میں لیڈر آف اپوزیشن بنایا جائے۔  یہ شرائط حکومت کے لیے قابل قبول نہیں تھے۔مسلم لیگ ہم خیال کے ارباب رحیم کی چھٹی کی درخواست اسمبلی میں پیش نہیں کی جا سکی۔حالانکہ وزیر قانون  ایاز سومرو نے بدھ کو کہا تھا کہ درخواست پر فیصلہ جمع تک موخرکرنے کو کہا تھا۔اسمبلی میں درخواست پیش ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اور حکومت کے درمیان بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔یوں سندھ میں بلامقابلا سنیٹ کے انتخابات کے امکان ختم ہو گئے ہیں۔
انتخابات  کے بعدارباب رحیم کو اسمبلی بلڈنگ میں ایک نوجوان نے جوتا مارا تھا۔ جس کے لئے انہوں نے پیپلز پارٹی کو لیڈروں کو ذمہ دار ٹہرایا تھا۔  بعد وہ دبئی چلے گئے اور اسمبلی کے کسی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور لیڈروں کو بشمول کامریڈ جام ساقی،  سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا تھا۔اورمحترمہ بے نظیر بھٹو اور صدر آصف زارداری کے خلاف ہتک آمیز زبان استعمال کرتے رہے۔
کراچی کی نمائندگی
 کراچی تمام پارٹیوں کے لئے اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے جہاں ہر سیاسی جماعت اپنا وجود  اورنمائندگی رقائم رکھنا  چاہ رہی ہے۔ ان انتخابات کے بعد سنیٹ میں سندھ سے نمائندگی کی کمپوزیشن بڑی عجیب بن جائے گی۔ سندھ میں کل 23 سنیٹرز میں سے 13کا تعلق کراچی سے ہوگا۔اس طرح سے کراچی ملک کا واحد شہر ہوگا جس کی ایوان بالامیں اتنی بڑی نمائندگی ہوگی۔ ایم کیوایم  جو کہ کراچی کی سیاسی نمائندگی کی اکیلی دعویدار کہلاتی ہے اس نے اس مرتبہ  چاروں امیدوار کراچی سے نامزد کئے ہیں۔ اس سے پہلے ایک سنیٹر احمد علی بروہی اندرون سندھ سے تھے۔لہذا اب  ایم کیو ایم کے ساتوں سنیٹرز کراچی سے ہونگے۔
 ایم کیو ایم کے علاوہ خودپیپلز پارٹی کے چھ سنیٹرز یعنی وزیر داخلہ رحمان ملک، رضا ربانی، ڈاکٹر عاصم حسین،  فاروق نائک، مسز مدثرسحر کامران،  اور الماس پروین کراچی سے ہونگے۔ حالانکہ پیپلز پارٹی  سندھ اسمبلی میں کراچھی سے نشستیں  بمشکلایک سنیٹ کی نشست کے برابر ہونگی۔
اے این پی
کراچی شہر پٹھانوں کے لئے  اہم شہر بنتا جا رہا ہے۔جہاں مستقبل میں بھی  پٹھانوں کی آبادکاری کی گنجائش موجود ہے۔اس وقت بھی کراچی پٹھانوں کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اے این پی کے پاس گنجائش نہیں تھی کہ کراچی سے  اپنا سنیٹرلے آتی۔ اس نے یہ کسر یوں پوری کی کہ پارٹی کے صوبائی صدر کو خیبر پختونخوا سے سنیٹ کی ٹکٹ دی ہے۔ حالانکہ ان کے سیاسی کام کا دائرہ کراچی رہا ہے اور وہ اے این پی سندھ کے صدر ہیں۔یوں  شاہی سید کراچی کی ہی نمائندگی کریں گے۔ کراچی میں اس وقت بھی  پشتو  بولنے والوں کی ایک صوبائی اسمبلی کی نشست ہے، اور اسے سندھ حکومت میں نمائندگی بھی حاصل ہے۔افغان مہاجرین کی بڑے پیمانے پر آبادکاری نے پٹھان آبادی کی پوزیشن اور مضبوط کردی ہے۔بعض حلقوں کا خیال ہے کہ آئندہ انتخابات میں اگر حلقہ بندی صحیح رہی تو پٹھان آبادی کو کم از کم دو صوبائی اور ایک قومی کی نشست مل سکتی ہے۔ اس آبادی کی نمائندگی کونسی جماعت کرے؟ اس پر صوبہ خیبر پختونخوا  میں اثر رکھنے والی  دو بڑی جماعتیں اے این پی اور جمیعت علمائے اسلام (ف)  زور لگا رہی ہیں۔جبکہ تحریک انصاف کے عمران بھی کوشش کریں گے کہ پشتون آبادی کی سیٹ ان کے حصے میں آئے۔ مولانا فضل الرحمان کا کراچی کا جلسہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔مولانا فضل الرحمان کے پاس مذہبی نعرہ ہے اور اے این پی کے پاس  یہ قوت کہ وہ طاقت کے زور پر کراچی میں پٹھانوں کے مفادات کا تحفظ کر سکتی ہے۔جے یو آئی کا خیال ہے کہ وہ پٹھان ووٹ کے علاوہ مذہبی رجحانات کے حامل غیر پٹھان ووٹ کو بھی اپنی طرف لا سکتی ہے۔ ایسے میں انہیں مذہبی جماعتوں کا اتحاد کام آتا ہے۔
غیر سندھی نمائندے
سندھ کے لوگوں کو یہ بھی شکایت رہی ہے کہ سنیٹ میں  ان کی نمائندگی  مؤثر اوردرست نہیں۔ پیپلز پارٹی کے کئی سنیٹرز کا تعلق مقامی آبادی سے نہیں، وہ نان سندھی اسپیکنگ ہیں۔پیپلز پارٹی کے پاس کل 14سنیٹرز میں چھ  نان سندھی اسپیکنگ ہیں۔یعنی وزیر داخلہ رحمان ملک، رضا ربانی، ڈاکٹر عاصم حسین،  فاروق نائک، مسز مدثرسحر کامران،  اور اسلام الدین شیخ۔  یہ حضرات سندھ  اور اس کے لوگوں اور حقوق کے بارے میں واضح سوچ نہیں رکھتے۔پیپلز پارٹی پر  اس حوالے سے تنقید ہوتی رہی ہے کہاس نے سیاسی مصلحت کی بنا پر سندھیوں کی نمائندگی غیر سندھیوں کے حوالے کی ہوئی ہے۔
مسلم لیگ (ق) اور جے یو آئی
نئی سنیٹ کے خدوخال میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ (ق) اور جے یو آئی کی سندھ سے نمائندگی ختم ہو گئی۔ جبکہ مسلم لیگ فنکشنل کی نمائندگی دو سے کم ہو کر ایک رہ جائے گی۔ ملک کی دوسری بڑی پارٹی ہونے کی دعویدار مسلم لیگ (ن) کا تو سنیٹ یا اسمبلی میں نمائندگی کے حوالے سے کوئی ذکر فکر ہی نہیں، کیونکہ اس جماعت کی سندھ سے قومی خواہ صوبائی اسمبلی میں کوئی سیٹ نہیں۔
 علماء کی نمائندگی ختم
سیاسی طور اندرون سندھ کبھی بھی مذہبی جماعتوں کے زیر اثر نہیں رہا مگر کراچی اور حیدرآباد میں اردو آبادی کی وجہ سے خاصے مذہبی اثرات رہے ہیں۔ستر کے انتخابات میں جب ملک میں قوم پرست ، سیکیولر اور سوشلزم کے نعرے پر لوگوں نے ووٹ دیئے تب بھی کراچی اور حیدرآباد سے جماعت اسلامی اور مولانا نورانی کی جمیعت علماے پاکستان کے ممبران منتخب ہوئے تھے۔ ایم کیو ایم نے ان دو شہروں میں مذہبی جماعتوں کے سیاسی اثر کو توڑا۔مگر اس کے باوجود کراچی میں مجموعی طور پر مذہبی اثر گاہے بہ گاہے نظر آتا رہا ہے۔حیدرآباد سے تو  بعد میں بھی جے یو پی ایک آدھ نشست جیتتی رہی ہے۔سنیٹ میں جے یو آئی کے ڈاکٹر خالد محمود سومرو اور ایم کیو ایم کے ڈاکٹر عبدالخالق پیرزادہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد سندھ سے علماء کا بھی کوئی نمائندہ نہیں ہوگا۔
ٓیم کیو ایم کی نشستوں میں اضافہ 
ایم کیو ایم کے تین سنیٹرز کرنل سید طاہر حسین مشہدی، احمد علی بروی ریٹائر ہوئے مگر اس کو تین کے بجائے چار نشستیں مل رہی ہیں۔جس کے بعد ایم کیو ایم کے پاس سنیٹ میں سات نشستیں ہو جائیں گی۔
 ایک چیز مثبت ہوئی ہے کہ پیپلز پارٹی نے اس مرتبہ کارکن طبقے کو سنیٹ میں جگہ دی ہے۔ مسز مدثرسحر کامران، اعجاز دھامراہ اور سعید غنی پرانے جیالے ہیں۔ اعجاز دھامراہ  پارٹی کے بانی بھٹو کے ساتھی اور پارٹی کے بنیادی رکن قاضی محمد بخش دھامراہ کے خاندان سے ہیں۔ سعید غنی مزدور رہنما اور مسلم کمرشل بنک ایپملائز یونین کے رہنما  کے بیٹے اور کراچی میونسپل میں اپوزیشن لیڈر رہے ہیں۔
سندھ سے منتخب  والے سنیٹرز میں سے چند ایک کو چھوڑ کر ایک بڑی اکثریت نے ایوان میں شاید ہی کبھی لب کشائی کی ہو۔ یہ حضرات صرف  کسی بل پر ووٹ دینے کا  آلہ بنے رہے ہیں۔مگر سندھ کے لوگ چاہتے ہیں کہ جب ملک کے اندر سیاسی صف بندی تبدیل ہو رہی ہے  اور صوبوں کے مابین بھی نیا  سیاسی ایڈجسٹ منٹ بن رہا ہے، ایسے میں انکی صحیح اور مؤثر نمائندگی ہو۔ 

سنیٹ انتخابات سے عام انتخابات تک - 2012-02-06

Mon, Feb 6, 2012, 11:17 AM
سنیٹ  انتخابات سے عام انتخابات تک ۔۔  سہیل سانگی  
ُ وزیر اعظم کی توہین عدالت میں مقدمہ میں طلبی اپنی جگہ پہ، پیپلز پارٹی نے  2 مارچ کو  سنیٹ کے انتخابات کو یقینی بنانے کے لئے مفاہمت کے ایک فارمولے پر کام کر رہی ہے۔ فارمولے کے اہم بات یہ ہے کہ سنیٹ کے انتخابات بلا مقابلہ کرائے جائیں۔یہ تحرک  اس پس منظر میں ہے کہ مختلف جماعتوں کو اسمبلیوں میں عددی حمایت موجود ہے اس کو تسلیم کرتے ہوئے  اس کے مطابق ہی  نشستیں دی جائیں اور بعض اتحادی  جماعتوں کو ایکموڈیٹ کرکے سیاسی حمایت حاصل کی جائے۔ حکمرن جماعت نے اس مقصد کے لئے اتحادی جماعتوں کے علاوہ سب سے بڑی مخالف جماعت مسلم لیگ (ن) سے بھی مذاکرات کئے ہیں۔ اس فارمولے کے تحت مسلم لیگ (ق) کو دو نشستیں دی جائیں، جس کی ایوان بالا میں نمائندگی بالکل ختم ہو رہی تھی۔مبصرین  کا کہنا ہے کہ وسیم سجاد کے لئے اسلام آباد کی نشست اور سید مشاہد حسین کو پنجاب سے نشست دینے  پر رضامندی کا اظہار کیا گیا ہے۔  
وفاقی دارالحکومت سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے سنیٹ کے انتخابات بلامقابلہ کرانے کے ساتھ بعض دیگر معاملات بھی نتھی کررہی ہے، جس کوحل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔پیپلز پارٹی کا یہ موقف ہے کہ فی الحال سنیٹ کے انتخابات ہوجائیں باقی معاملات کو بعد میں دیکھا جا سکتا ہے۔ 
سندھ میں اس فارمولے پر عمل درآمدزیادہ مشکل نظر نہیں آتا۔ بڑے سیاسی فریق پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور فنکشنل لیگ ہیں۔ باقی تیں اتحادی یعنی مسلم لیگ (ق)، نیشنل پیپلز پارٹی اور اے این پی چھوٹے گروپ ہیں۔ جن کو عددی اثر  کی وجہ سے نہیں بلکہ سیاسی ذائقے کے طور پر حکمران اتحاد میں شامل کیا گیا ہے۔صوبائی اسمبلی میں پارٹی پوزیشن کے مطابق ایم کیو ایم ک کو سنیٹ کی دو نشستیں ملتی ہیں لیکن اس فارمولے کے تحت اسے ایک نشست زیادہ ملے گی۔ مسلم لیگ فنکشنل کو بھی ایک نشست دینے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایم کیو ایم  بخوشی سنیٹ کے انتخابات بلامقابلہ کرانے پر تیا رہو جائیگی۔ اس ضمن میں بابر غوری عندیہ دے چکے ہیں۔ 
یہ فارمولہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی قابل عمل نظرآتا ہے۔ اگر مسلم لیگ (ن) مان جاتی ہے تو تمام انتخابات بلامقابلہ ہوجائیں گے۔
سیاسی مبصرین اس فارمولے کی کامیابی کو سیاسی قوتوں کی بڑی فتح قرار دے رہے ہیں۔سنیٹ میں بلا مقابلہ امیدوار لانے سے مجموعی طور پر اتحاد کا مظاہرہ ہوگا۔ جس کے ملک کے موجودہ بحران پر بھی مثبت اثرات پڑینگے۔ اول یہ کہ کوئی سنیٹ  انتخابات کے حوالے سے کوئی نئی جوڑ توڑ نہیں ہوگی،اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ سیاسی قوتوں کے اتحاد کا مظاہرہ غیر سیاسی قوتوں کو کمزور کریگا۔ اگر یہ انتخابات بلا مقابلہ ہو جاتے  ہیں تو جو پارٹیاں اور لوگ اسمبلیوں میں ہیں ان کا ایک طرح سے غیررسمی اتحاد بن گیا گیا ہے اور یہ جماعتیں ایک سسٹم کا حصہ بن جائیں گی آئندہ انتخابات میں بھی کسی اور قوت کے بجائے ایک دوسری کی بلاواسطہ ایک دوسرے کی خیرخواہ ربن سکتی ہیں۔ یہ صورتحال نئے سیاسی ایکٹرز بشمول عمران خان کی تحریک انصاف اور جماعت اسلامی  وغیرہ کا دروازہ بند کردے گی اور اس کے ساتھ ساتھ نئی سیاسی صف بندی کی بھی پیش بندی کردے گی۔
  یہ فارمولہ مسلم لیگ (ن) کو بھی سوٹ کرتا ہے جسکو پنجاب میں عمران خان کا سامنا ہے، جس کی مقبولیت کو نواز شریف نے بھی بھانپ لیا ہے اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی بڑے پیمانے پر انٹری کو اگر چیک نہیں کی گیا تو باقی تینوں صوبوں کی طرح پنجاب میں بھی منقسم مینڈیٹ آئے گا اور  وہاں پر مخلوط حکومت بنے گی۔ جبکہ پیپلز پارٹی کو بھی سرائیکی بیلٹ میں یہ غیر رسمی اتحاد فائدہ  دے سکتا ہے جہاں کچھ ہیوی ویٹ تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں۔ ان ہیوی ویٹز کی شمولیت کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ پنجاب میں عمران خان سے زیاداہ خطرہ پیپلز پارٹی کو ہی ہے۔ کیونکہ تاحال پنجاب کے بالائی حصے سے کسی ہیوی ویٹ کی شمولیت کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ 
سندھ میں یہ غیر رسمی اتحادعام انتخابات میں بھی زیادہ قابل عمل ہے۔کیونکہ اس کے نتیجے میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے فارمولہ پر عمل درآمد میں کوئی بڑی رکاوٹ نہیں۔ یعنی جو سیٹ جس پارٹی کے پاس ہے وہ اسی کے پاس رہنے دی جائے۔کوئی بھی فریق زیادہ لالچ نہ کرے اور مفاہمت کا جذبہ رکھے توکراچی میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان بمشکل دو تین نشستوں پر تنازع ہے۔ ورنہ ہر ایک جانتا ہے کہ کونسی نشست کس جماعت کی ہے۔
 اندرون سندھ میں تھرپارکر میں ارباب، ٹھٹہ کے شیرازی، گھوٹکی کے مہر، دادو سے لیاقت جتوئی پیپلز پارٹی کے فولڈ سے باہر ہیں۔جبکہ اندرون سندھ کی باقی نمائندگی یا پیپلز پارٹی کے پاس ہے یا پھر فنکشنل لیگ اور اور جتوئی گروپ کے پاس ہے۔
سندھ میں جو فورسز اس فولڈ سے باہر رہتی ہیں وہ ہاتھ پاؤں ما ر رہی ہیں کہ آئندہ انتخابات کے نتیجے میں انکو بھی کچھ شیئر ملے۔ شیرازی اور مہر جب تک کوئی ”بڑا اشارہ“نہیں ملتا پوزیشن تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔یہ تینوں گروپ لیاقت جتوئی کی طرح انتخابی نتائج کے بعد اور براہ راست اسلام آباد ے ڈیل کرنے کے آسرے میں ہیں۔تاہم ارباب نے شاہ محمود قریشی سے ورکنگ رلیشن شپ بنانے کی کوشش کی ہے۔تھر کے علاقے میں شاہ محمود قریشی کے ووٹر تو موجود ہیں مگر اس کو ووٹ بنک میں تبدیل کرنے کا سیٹ اور مقامی طور پر لیڈرشپ موجود نہیں۔ ارباب گروپ شاہ محمود قریشی کی اس کمزوری کو اچھی طرح سے سمجھتے ہیں۔لہذاانہوں نے تحریک انصاف میں شمولیت کے بجائے انتخابات میں اور ا سکے بعد ساتھ دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
  شاہ محمود قریشی کے عمرکوٹ میں ہونے والے جلسے کے لئے بڑے پیمانے پر کوششیں کی جا رہی ہیں کہ سندھ سے کوئی ہیوی ویٹ تحریک انصاف کی جھولی میں آئے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے ارباب گروپ کے علاوہ لاڑکانہ کے الطاف انڑ اور پیپلز پارٹی کے دو رہنماؤں یوسف تالپور اور میرپورخاص کے سید قربان علی شاہ سے مذاکرات کئے۔ الطاف انڑ جو مشرف دور میں صوبائی وزیر رہ چکے ہیں اور عام حالات میں اپنی صوبائی اسمبلی کی نشست جیت جاتے ہیں، وہ بھی ان غیر یقینی حالات میں عمران خان کی پارٹی میں شمولیت کے لئے تیار نہیں۔ سابق وفاقی وزیر نواب یوسف تالپور کو پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت نے کھڈے لائن لگایا ہوا ہے اور مقامی سطح پر بھی انکو زیادہ اہمیت نہیں دی جارہی ہے۔ یوسف تالپور پیپلز پارٹی سے پہلے ممتاز بھٹو کے سندھ نیشنل فرنٹ میں رہے ہیں اور قربان علی شاہ بھی کبھی ممتاز بھٹو کے قریب تھے۔ بعد میں وہ کچھ عرصہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ رہے اور ایم این اے بھی منتخب ہوئے۔ا ن سے بھی شاہ محمود قریشی نے رابطہ کیا تھا۔ قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کامیاب رہے لیکن  چند ہی دنوں میں پیپلز پارٹی نے انہیں منا لیا۔  
اس فارمولے کے سندھ میں اثرات کچھ اس طرح سے بھی ہونگے کہ آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی اور فنکشنل لیگ کا رسمی یا غیر رسمی اتحاد اندرون سندھ میں کسی اور پارٹی یا گروپ کے لئے کوئی بڑی جگہ نہیں چھوڑتا۔لہذا چھوٹے گروپوں کو اپنی اہمیت کو مزید کم ہوتے ہوئے دیکھ کر سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں ہوگا کہ ووٹ پیپلز پارٹی یا اس کے اتحادی فولڈ میں آجائیں۔اپوزیشن جماعتیں اس فارمولے کے لئے تیار نہیں ہوتی ہیں تو سندھ میں اس فارمولے پر عمل کیا جائے گا۔

Wednesday, 4 March 2020

سنیٹ انتخابات کی سرگرمیاں سندھ نامہ 2011-11-24


Thu, Nov 24, 2011 at 3:58 PM
سنیٹ کے انتخابات اور سرگرمیاں 
سندھ  نامہ  
سہیل سانگی  
 اس ہفتے سندھی اخبارات میں زیادہ تر قومی و ملکی مسائل چھائے رہے۔ اور اخبارات میں یہی مسائل زیر  بحث رہے۔ 
کاوش نے سینیٹ کے اتخابات سے پہلے میوزیکل چیئر کا کھیل کے عنوان سے لکھا ہے کہ جیسے سینیٹ کے انتخابات قریب آرہے ہیں ملک کے سیاسی ماحول میں حدت بڑہتی جا رہی ہے۔ حکومت پر کرپشن کے الزامات کی گونج میں احتجاجی استیعفائیں دینے کے آپشن کے بھی مشورے دیئے جا رہے ہیں۔اور وسط مدت کے انتخابات کی بھی باتیں ہو رہی ہیں۔ نواز لیگ کی قیادت کی جانب سے  اس خواہش کی نقاب کشائی کے بعد سیاست کی پچ پر مینار پاکستان سے  سیاست کا آغاز کرنے والے عمران خان نے نواز لیگ سے حکومت کی مخالفت کرنے کا مورچہ چھین لیا ہے۔ ملک میں نئی سیاسی صف بندی  کی بعد یہ سمجھنا مشکل نہیں رہا کہ اقتدار کی میوزیکل چیئر کا کھیل شروع ہو چکا ہے۔حکومت کی مخالفت  کے میدان میں 
 اترنے والی جماعتوں کو اتنے جلدی ہے کہ انکو کوئی نیا الزام گھڑنے کی فرصت ہی نہیں مل رہی ہے۔وہ ہر دور میں مقبول کرپشن کے الزامات کے بھالے اور برچھیاں لیکر میدان میں اترے ہیں۔دونوں فریقین جس طرح سے شعلہ بیانی کے جوہر دکھا رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ فن خطابت بس ان پر ختم ہے۔ پیپلز پارٹی سے حال ہی میں مستعفی ہونے والے رہنما شاہ محمود قریشی نے اجتماعی استعیفوں کی تجویز دی ہے جس کو وفاقی وزیر اطلاعات فردوس اعوان  پارلیمنٹ پر ڈرون حملہ قرار دے چکی ہیں۔ اگرچہ بعض ناعاقبت اندیش  حلقے اس صورتحال کو چمن کی رونق سمجھ رہی ہیں۔ مگر کئے ایک گفتوں پرہز ماسٹرز وائس کاشبہہ ہوتا ہے۔سیاسی اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہوتے ہیں۔مگر یہاں تو سیاسی  اور ذاتی مخالفت کے رویے سامنے آ رہے ہیں۔ جوکہ سسٹم کے لئے نقصا ن د ہ ہو سکتے ہیں۔لگتا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں نے  تاریخ سے سبق نہیں سیکھا۔عوام نے تو پانچ سال کی مدت کا مینڈیٹ دیا تھا۔تو پھر اس سے قبل انتخابات کا مطالبہ عوام کے مینڈیٹ کی توہیں نہیں تو کیا ہے۔ آئینی طریقہ یہ ہے کہ تبدیلی کے خواہشمندوں کو ایوان کے  اندر تبدیلی کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ اور جو ایوان میں نمائندگی نہیں رکھتے ان کو پانچ سال کی مدت پوری ہونے کا انتظار کرنا چاہئے۔انہیں باقی ڈیڑھ سال انتظار کرنا مشکل کیوں ہو رہا ہے۔ ملک میں الزام در الزام کا بازار گرم ہے۔دونوں جانب سے برداشت  کا فقدان نظر آرہا ہے۔شرافت کی سیاست کرنے والوں کے بول بھی عوام نے سنے اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے گفتے بھی سماعتوں تک پہنچے۔لوگوں کو شاہ محمود قریشی کے الزامات سے بھی آگاہی ملی۔پیپلز پارٹی شاہ محمود قریشی کو  ضیا کی باقیات کا طعنہ دے رہی ہے۔کیا پی پی کی قیادت سے یہ سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ  ضیا کی باقیات کے لئے اتنے عرصے تک پی پی میں گنجائش کیوں نکالی گئی؟  اس قسم کے سوالات شاہ محمود قریشی سے بھی کئے جا سکتے ہیں کہ کیا پیپلز پارٹی کی قیادت میں انہیں اب خرابیاں نظر آرہی ہیں۔ جب وہ خود پارٹی میں تھے تب ان کو یہ خرابیاں کیوں نظر نہیں آئیں؟ کیا وہ پسند کرینگے کہ ان کی اب خاموشی کا سبب کیا تھا۔ ہماری سیاست میں سیاسی برداشت اور اختلاف رائے کا احترام کرنے کی کتنی گنجائش ہے۔ پارٹی کی اپنی حکومت میں قومی اسیمبلی کی اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی کراچی والی رہائشگاہ  سے  سیکیورٹی ہٹا دی گئی جو بعد میں وزیر اعظم اور صدر کی مداخلت پر بحال کی گئی۔آج ملک میں سیاستداں جو جنگ کے طبل بجارہے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف جو زبان استعمال کر رہے ہیں اس پر ہم گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔کیونکہ یہ ملک کے جمہوری نظام کو نقصان پہنچا سکتاہے۔سیاسی  عدم برداشت کے رویوں کی حوصلہ شکنی  ہونی چاہئے۔اور اعلی سیاسی قدروں کی پاسداری کی جانی چاہئے۔
عوامی آواز نے عوامی حکومت میں عوام بھوک اور تذلیل کا شکار کیوں؟ کے عنوان سے لکھا ہے کہ سندھ کے شہر خیرپورپور ناتھن شاہ  میں ایک شخص نے  بیروزگاری اور غربت سے  تنگ آکر اپنی تین مصوم بچیوں کو فروخت کرنے کے لئے آوازیں لگاناشروع کیں۔بچیاں تو فروخت نہ ہو سکیں مگر حکمراں پارٹی کے کارکنوں نے ان پرسخت تشدد کیا۔ ادھر ٹنڈوآدم میں سیلاب سے متاثرہ  ایک عمر رسیدہ خاتون  علاقے کے ایم پی اے  کیدروازے پر  امدا دکے لئے پہنچی اسکو امداد تو نہ مل سکی  پروہ وہیں  پر انتقال کرگئیں۔ اطلاعات کے مطابق چند روز قبل متاثرین سے امدادی کیمپیں خالی کرالی گئی تھیں، جس کے بعدعمر رسیدہ، بیمار، لاوارث  اور کمزور  لوگوں کے لئے زندگی گذارنا محال ہو گیا تھا۔ جب لوگوں پرتمام دروازے بند ہو جاتے ہیں تو وہ منتخب نمائندوں سے رجوع کرتے ہیں۔ جنہوں نے انتخابات کے موقعے پران کی تقدیر بدلنے  کے بڑے بڑے وعدے کئے تھے۔ خوشحال مستقبل کے سہانے خواب دکھائے تھے۔ آج یہ منتخب نمائندے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ کیا انہوں نے عوام سے کئے گئے وعدے پورے کئے ہیں؟ خوشحالی اور ترقی کے دعوے کرنے والے آج کہاں کھڑے ہیں۔ جو ان کے در پر مدد کے لئے پہنچنے والی  بھوکے خاتون کی زندگی نہ بچا سکے۔ یہ منتخب نمائندے جن کے کہنے پر کارکنوں نے غربت سے تنگ آکر سڑک پر آکر بچیاں بیچنے کی آوازیں لگانے والے پر  تشدد کیا۔ کیا حکمرانوں کے یہی پالیسی ہے؟ ایک تو وہ غریب اور رسائی نہ رکھنے والوں کو ملازمتیں نہیں دے رہے ہیں دوسری جانب ان کی تذلیل کی جا رہی ہے۔ آخر عوام کی تذلیل کرنے  اور بھرے بازار میں تشدد کا نشانہ بانے کی کس نے اجازت دی ہے۔ یعنی عوام کو میرٹ کی بنیاد پر ملازمتیں بھی نہ دی جائیں، غریب لوگوں کو احتجاج اور مظاہرے کرنے سے بھی روکا جائے۔ کیا ایسے لوگوں کو عوامے نمائندہ کہلانے کا حق ہے؟ کیا ایسے کارکن سیاست کرنے کے اہل ہیں  جو عوام کو احتجاج کرنے سے روکتے ہیں۔ اور حق اور سچ کی آواز کو دبانا چاہتے ہیں۔ اگر لوگ بھوک اور پیاس سے تنگ آکر بچے نہ بیچیں تو کیا یہ پر امن شہری ڈاکے ڈالیں؟ افسوس ہے کہ وہ سیاستداں جو الیکشن کے دن لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں وہ پانچ دن سے بھوکی عمر رسیدہ عورت جو ان کے دروازے تک مدد کے لئے پہنچی تھی اسکودو روٹی اور پانی کا ایک گلاس نہیں دے سکے۔  کیا یہی انکی عوام کے ساتھ محبت ہے۔افسوس صد افسوس سیاستداں کبھی بھی عوام کے نہ ہو سکے۔ پاکستان میں  سیاست کا مقصد کبھی بھی عوام کی خدمت کرنا نہیں رہا ہے۔یہی وجہ کے کہ پاکستان فلاحی ریاست نہ بن سکا۔ اور لوگ ووٹ ڈالنے سے اکتا گئے ہیں۔پاکستان میں کبھی بھی ووٹوں کا ٹرن آؤٹ والیس فیصد سی زیادہ نہیں رہاہے۔یعنی ملک کے ساتھ فیصد عام ووٹ ڈالنا ہی نیں چاہتے ہیں۔ کبھی کسی نے ان ساتھ فیصد عوام سے پوچھا ہے کہ وہ پولنگ بتھ پر ووٹ ڈالنے کیوں نہیں جاتے؟ 
سندھ کے عوام اپنے منتخب نمائندوں سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ عوامی حکومت میں عوام کی دیکھ بھال کے بجائے فاقہ کرنے والوں پر آخر تشدد کیوں کیا گیا؟ یہ عوام آخر کس کے آسرے پر ہیں؟ 
عبرت  امن کے لئے مذاکرات ہی آخری حل ہیں کے موضوع پر لکھتا ہے کہ دہشت گردی نے ملک کو بڑے بڑے نقصانات پہنچائے ہیں جس کیوجہ سے نہ صرف ریاست بلک شہریوں کو بھی بھگتنا پڑا ہے۔ اب صورتحال یہ کہ کہ ملک میں کشمکش کے ماحول کی وجہ سے سیاسی اور معاشی حالات مزید ابتر ہو رہے ہیں۔  اطلاعات کے مطابق جنوبی وزیرستان  کے معاملے پر حکومت اور تحریک طالبان کے درمیاں بات چیت جاری ہے۔ حکومت کے اس اقدام کو سراہا جا سکتا ہے۔ ویسے بھی تضاد چاہے کسی بھی قسم کا ہو اسکا آخری حل مذاکرات ہی ہیں۔ عالمے تاریخ پر ایک نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ جو بھی جنگیں لڑی گئیں ان کے حل کے لئے مذاکرات کا ہی سہارا لینا پڑا۔ جاب تک فریقین اسلحے کو مذاکرات پر ترجیح  دینگے تب تک معاملات سلجھنے کے بجائے الجھتی ہی رہیں گے۔ جیسے ہی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ایک دوسرے کو اسپیس دیا گیا ایک دوسرے کو سنا گیا مسائل حل ہونے کی طرف بڑھنے لگتے ہیں۔ امریکہ اور سوویت یونین کے درمیاں سرد جنگ  چل رہی تھی جس سے پوری دینا کے امن کو خطرہ تھا۔ چھوٹے ممالک بڑے ملکوں کے جھگڑے میں پس رہے تھے۔ اس وقت اگر سوویت یونین پیچھے نہیں ہٹتا تو شاید آج دنیا اس طرح نہیں ہوتی، جیسی ہم دیکھ رہے ہیں۔تضاد اور اسکا حل آج ایک مکمل مضمون کی شکل اختیا کر گئے ہیں اب یہ امر مسلمہ ہیب کہ جب تک فریقین کچھ دو اور کچھ لو کے فارمولے پر نہیں آتیں  معاملات طے نہیں ہو پاتے۔ 
نائین الیون کے بعد پاکستان دہشتگردی کے خاف جنگ میں اتحادی بنا تو دہشتگردوں کا ہدف بھی بنا۔ ایسا بھی ہوا کہ دنیاکی نظروں میں ملک کی ساکھ کو نقصان بھی پہنچا۔اگرچہاس جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ نقصان اتھایا پھر بھی ھنگلیاں اسی پر اتھتی رہیں۔ اب  حکومت تحریک طالبان سے بات چیت کر رہی ہے جس سے حقیقی معنوں میں قیام امن میں مدد ملے گی۔ کیونکہ اس سے قبل ٹکراؤ اور اختلافات سے مسائل  مزید الجھتے رہے ہیں۔ لہذا وقت کی نزاکت یہ ہے کہ اہم معاملات کومذاکرات کے دائرے میں لاکر عدم استحکام کا خاتمہ کیا جائے۔