Thu, Dec 22, 2011 at 236 AM
سندھ اور دوسرے صوبوں کے قوم پرست
یہ درست ہے کہ ایک صوبے میں کسی پارٹی کی مقبولیت دوسرے صوبے میں اس پارٹی کی مقبولیت پر مثبت یا منفی طور پر اثرانداز ہوتی ہے۔ سندھ میں ابھی تک یہ تاثر نہیں بن پایا ہے کہ عمران خان باقی کسی صوبے میں یا ملکی سطح پر مقبول لیڈر کے طور پر ابھرا ہے۔ عام خیال یہی ہے کہ وہ پنجاب میں اور خاص طور پر شہری پنجاب میں کچھ مقبولیت حصل کر سکے ہیں۔ جسکا مطلب یہ ہے کہ وہ براہ راست نواز شریف کے حریف ہیں۔ پنجاب کے شہروں میں خواہ عمران خان کے چاہنے والے موجود ہوں مگر یہ ووٹ پورے پنجاب کو صاف کرنے میں مدد نیں کر سکتا۔ پنجاب کے بڑے شہر اور مرکزی پنجاب مین شاید کچھ جگہ بنا پائے مگر سرائیکی بیلٹ اور دیہی علاقوں میں جگہ بنانا اتنا آسان نہیں جہاں پرپہلے ہی پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کا ایک دوسرے سے سخت مقابلہ ہے۔ اور پیپلز پارٹی سرائیکی صوبے کا کارڈ اپنے ہاتھ میں رکھے ہوئے ہے۔ایسی صورتحال میں جب پنجاب کی حکومت جو مسلم لیگ (ن) کے پاس ہے وہ سینٹرل پنجاب کواپنے ہاتھوں سے جانے نہیں دیگی اور وزیر اعظم سرائیکی بیلٹ سے ہیں تو پیپلز پارٹی یہ بیلٹ اپنے ہاتھوں سے نکلنے نہیں دیگی۔
پختونخواہ میں اے این پی کا مضبوط ووٹ بنک ہے۔ اے این پی خان عبدلولی خان کی سیاست کی وارث اورعملی طور پر خان قیوم خان کی سیا ست کر رہی ہے۔ قیوم خان نے پختوں کے بالائے طبقے کے مفادات کی سیاست کی تھی۔لہذااب اے این پی کے پاس دونوں فلیور موجود ہیں۔ سیاسی کارکنوں اور قوم پرستی کا بھی اور بڑے طبقے کے مفادات کا بھی۔ اس کے علاوہ اے این پی اور پیپلز پارٹی نے مل کر پختونوں کا صدیوں پراناشناخت کا مسئلہیعنی صوبے کا نام پختونخواہ رکھ کر حل کر دیا ہے۔ جو کہ عوام کی ہمدردیاں برقرار رکھنے میں بڑی مدد دیگا۔ صوبے میں دوسری بڑی قوت جمیعت علمائے اسلامکی ہے جس کا مضبوط مذہبی ووٹ بنک بھی ہے۔ یہ ووٹر کسی طور پربھی عمران خان جیسے کلین شیو کو برداشت نہیں کرے گا۔
بلوچستان کی صورتحال ایسی ہے کہ سردار عطائاللہ بھی کہتے ہیں کہ اگر بات کرنی ہے تو پہاڑوں ہر موجود نوجوانوں سے کرو۔انہوں نے ایک طرح سے نواز شریف کو بھی جواب دے دیا کہ وہ کوئی بات یا ڈیل کرنے کے مجاز نہیں رہے۔
سندھ کی صورتحال دوسرے صوبوں سے مختلف ہے۔ یہاں قوم پرستی کا زور سمجھا جاتاہے۔ کسی حد تک یہ بات صحیح بھی ہے۔سندھ کے عوام قوم پرست ہیں پروہ الیکشن کے حوالے سے کبھی بھی قوم پرستوں کے خوبصورت نعروں کے سحرمیں نہیں آئے ہیں تووہ عمران خان کی کہاں سے سنیں گے۔ سندھ میں لسانی بنیادوں پردیہی اور شہری تقسیم ایک اور بڑا مسئلہ ہے۔ جسکو پنجاب کے سیاستداں پورے طور پر سمجھ ہی نہیں پائے ہیں۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں سے سندھ کے لوگ یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ سندھ کے بنیادی اشوز جس پر سندھ کا ہنجاب یا وفاق سے تکرار ہے کیا موقف رکھتے ہیں۔ اور یہ کہ صوبے کے اندرونی تضاد یعنی دیہی اور شہری تضاد پر ان رہنماؤں کی کیا سوچ ہے۔سندھ میں بھی قلاباز سیاستدانوں کا ایک گروپ موجود ہے لیکن یہ گروپ انتخابات بھی اسٹیبلشمنٹ کے سہارے جیت سکتا ہے۔
سندھ کے عوام کی عمران خان کی پارٹی اور اسکی مقبولیت کے بارے میں کچھ اس طرح کی سوچ ہے۔جب انکی جماعت کی صوبے بھر میں کوئی تنظیم نہ ہواور کوئی سرکردہ کارکن بھی موجود نہ ہوایسے میں کس طرح سے تنظیم سازی کر لیں گے اور سیاسی حمایت کا نیٹ ورک بنا لیں گے؟ اسکا جوا ب خانصاحب کو عملی طور پر ہی دینا ہوگا۔
کچھ مقتدرہ حلقوں کی مہربانی کچھ میڈیا کا کمال۔ عمران خان کا چرچہ ملک بھر میں ہوہی گیا۔ بحثیں ہو رہی ہیں کہ عمران۔
اقتدار میں آئے گا یا نہیں آئیگا؟ اب ھی دو مراحل باقی ہیں یعنی حمایت حاصل کرنا اور اس حمایت کو ووٹ میں تبدیل کرنا۔
مختلف صوبوں میں عمران کی پوزیشن کیا ہ ہے؟ ا اسکو سندھ کے عوام اپنے طور پر کوکچھ یوں دیکھتے ہیں۔
سندھ کے لوگ سمجھتے ہیں کہ ملک میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ بظاہر عمران خان کی سوچ اور عمل ایک خوشحال پاکستان کا خواب دکھاتا ہے۔ جن لوگوں کا خیال ہے کہ عمرا ن خان تبھی اقتدار میں آئیگا جب اس کے پاس ایسے لوگ ہونگے ج امیدوار بن سکے اور انکے پاس چند ہزار اپنے ووٹ بھی ہوں۔ مزید یہ کہ الیکشن کے روز ووٹروں کو پولنگ اسٹیشن تک پہنچانا اور پولنگ اسٹیشن کی چھوٹی موٹی ہیرا پھیری کو چیک کرنے کی بھی صلاحیت ہو۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ عمران خان کی پارٹی میں پنجاب، سندھ بلوچستان اور پختونخواہ کے جاگیرداروں، سرداروں اور گادی نشینوں کو تحریک انصاف میں شمولیت کرائی جائیگی تاکہ اس پارٹی کا ملک گیر پارٹی کے طور پر وجود نظر آئے۔ ا یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ بڑی سیاسی پارٹیوں کے اثر کا مقابلہ کرنے کے لئے ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں کاروباری خواہ مزدور رہنماؤں اور چھوٹے سیاسی گروپوں کو ملایکجا کیا جائیگا۔ اس کے علاوہ ملک کے مشور سماجی کارکنوں اور کھلاڑیوں کو بھی نئی سیاسی بس میں بٹھا دیا جائیگا۔ویسے تو عمران خان کو مذہبی عناصر کی الگ سے حمایت کی ضرورت تو نہیں ہے تاہم کچھ مذہبی لوگوں کو بھی شامل کر کے ایک عوامی سیاسی پارٹی کا دکھاوا دیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ پرانی پارٹیوں کے خلاف فرسودہ اور ناکام ہونے کی مہم چلاکرسیاسی طور پر مقام حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ان پارٹیوں کے بعض کارکنوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کی جائیگی۔
سندھ کے سیاسی اور سیاست پر اثرانداز ہونے والے حلقے عمران خان کی سیاست کو اشرافیہ کی سیاست سمجھتے ہیں۔تحریک انصاف کے سرکردہ یا بنیادی رہنماؤں میں کوئی ایک بھی ا شخصیت نہیں ہے جس کی جمہوریت کے لئے قربانیاں ہو یا کبھی عوامی ھقوق کے لئے جیل کاٹی ہو۔یا جس کا عوام کی خدمت کا کوئی ریکارڈ ہو۔
کیاعمران خان باتیں چاہے انقلاب یا صاف ستھری سیاست اور خوشحال پاکستان کی کرتے ہوں۔ مگر اپنے ساتھ جب پرانے جگادری لے رہے ہیں تو انکے دعوے کتنے سچے اور قابل عمل ہونگے؟ کیا وہ ان پرانے سیاسی پنڈتوں اور جاگیرداروں کے اثرات سے بچ سکیں گے، جو اپنی وفاداریاں مفادات کے مطابق تبدیل کرتے رہتے ہیں۔
عمران خان کے بڑے جلسے، پرجوش تقاریر اور تحریک انصاف میں اونچے طبقے کی شمولیت ایک طرف ہے تو زمینی حقائق دوسری طرف ہیں۔جو بتاتی ہیں کہ چیزیں اس طرھ نہیں ہیں جیسے دکھائی دیتی ہیں۔ یا جس طرح سے پیش کی جا رہی ہیں۔
بڑا جلسہ کرنا الگ بات ہے اور الیکشن میں میدان مارنا الگ بات بھی ہے اور مشکل بھی۔ آج کی صورتحال میں جلسے کو دوسری جماعتیں بھی کامیاب کرا سکتی ہیں۔ یہ سیاسی حمایت ہے، الیکشن میں کسی کو حکومت سے ہٹانا نہیں بلکہ کسی کو حکومت میں لے آنا ہوتا ہے۔ کسی کی حکومت کو ہٹانے پر بہت ساری سیاسی قوتیں متفق ہو سکتی ہیں پر کسی کو حکومت میں لانے پر بہت کم لوگ متفق ہونگے۔اس لئے سیاسی جلسہ اور الیکشن دو الگ الگ کھیل ہیں
No comments:
Post a Comment