Wednesday, 4 March 2020

محترمہ کی کچھ یادیں کچھ باتیں 2011-12-27

 Mon, Dec 26, 2011 at 1212 AM
میرے دل میرے مسافر۔۔ کالم۔۔ سہیل سانگی 
 محترمہ کی کچھ یادیں کچھ باتیں 
  بینظیر بھٹو کی تصویر کے بڑے بڑے بل بورڈز اور پینافلیکس آویزاں ہیں۔ جن پر لکھا ہے ’’مت سمجھو ہم نے بھلا دیا ہے“۔ یہ  بینظیر بھٹو کی چوتھی برسی پر انکو خراج عقیدت پیش لئے کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کو بینظیر بھٹو آج بھی یاد ہے۔ کارکناں بینظیر بھٹو سے وابستہ یادیں دہرا رہے ہیں۔  اس کے ساتھ ساتھ موجودہ صورتحال پر تبصرے بھی کر رہے ہیں۔ اورآج کی ر گرما گرم سیاسی صورتحال میں  مخالفین کے اٹھائے گئے سوالات کے جواب بھی دے رہے ہیں۔ پارٹی کی قیادت اور پالیسوں کو کس طرح سے دیکھتے ہیں۔ ایک کارکن نے بتایا کہ  ہم مزراروں کے ساتھ نہیں بلکہ ورثے کے ساتھ ہیں۔ وہ جو زندہ ہیں۔
بے نظیر بھٹو کی برسی پر پیپلز پارٹی بھی لاڑکانہ میں ایک بہت بڑا شو کرنے والی ہے۔یہ شو دو چیلینجوں کو ایک ساتھ جواب دے گا۔اس یہ کہ نواز شریف نے  دس دسمبر کو بھٹوز کے شہر لاڑکانہ میں آکر جلسہ کیا اور گو  زرداری گو کے نعرے لگائے۔ اسی طرح عمران خان نے کراچی میں اور شاہ محمود قریشی نے گھوٹکی میں بڑے جلسے کر کے پیپلز پارٹی کی حکومت کو للکارا تھا۔ دوسرا  چیلینج  میمو گیٹ کے بعد پیدا ہونے والی  صورتحال بنی،  صدر  زرداری  پارٹی  کی سیاسی حکمت عملی کا  اعلان کرینگے۔اور حکومت اور خود انے کے حوالے سے جوصورتحال پیدا ہوئی اسکا بھی جواب بھی  دیں گے۔ لمبے عرصے کی خاموشی کے بعد صدر کی یہ تقریر ہوگی جو وہ پاکستان نے ایک کرشماتی لیڈر کی  چوتھی برسی پر کرینگے۔ 
بے نظیر بھٹو اگرچہ ایک ملک گیر پارٹی کی سربراہ تھی مگر سندھ کے لوگوں کا ان سے خصوصی رشتہ ناطہ اور  لگاؤ تھا۔ سندھ کے لوگوں کی اکثریت ان سے پیار کرتی تھی  بغیر اس کا خیال کئے کہ  ان کو وہ کوئی فائدہ بھی دیگی  یا  نہیں؟لوگ  ان سے کوئی حساب کتاب بھی نہیں کرتے۔وہ ان کو حقوق کی دفاع کرنی والی اور امیدوں اور خوابوں کی رانی سمجھتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ سندھ کے لوگ سمجھتے ہیں کہ  محترمہ  قتل ان کے خوابوں  اور امیدوں کا قتل ہے۔ وہ خود کو زخمی سمجھتے ہیں۔سندھ کی ایک قوم ہرست پارٹی کے سربراہ کہ کہنا ہے کہ بعض دوستوں  نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا کہ سندھ کے تمام لوگوں کو پیپلز پارٹی میں شمولیت کرنی چاہئے اوربی بی کے قتل کا حساب لینا چاہئے۔ ایک خیال یہ بھی تھا کہ سندھیوں سے اس سے  بڑھ کر کیا دشمنی  کی جا سکتی ہے کہ انکو پیپلز پارٹی سے دور کیا جائے۔اور وہ مختلف گروپوں اور دھڑوں میں بٹ جائیں۔ یہ خیالات ایک قوم پرست رہنما کے تھے۔ جو انہوں نے  بینظیر بھٹو کی دوسری سالگرہ پر کہے تھے۔ مگر عام لوگوں میں یہ سوچ میں یہ بات ابھی بھی جھلکتی ہے۔ 
 والد کی لاش، ماں کا اداس چہرہ، بے وطن بھائی کا خون،  فوجی آمریت، جیل کی کال کوٹھڑی، فوجیوں کے پہرے، بے بس عوام، کئی خدشے،  جیل میں  قید پیٹھ پر کوڑے کھانے والے ہزاروں کارکنوں کی اذیتیں۔اور عمر چھبیس سال۔یہ سب  انکو وراثت میں ملیں۔ انہوں نے سندھ کے ہر شہر کا دورہ کیا۔اور جو جو جدوجہد میں مصروف تھا اس کے ملاقات کی۔ میری بھی کئی یادیں محترمہ سے وابستہ ہیں۔
محترمہ بے نظیر بھٹو سے میری پہلی ملاقات تب ہوئی تھی جب  انکے والد ذوالفقار علی بھٹو کوجنرل ضیا نے میاں احمد قصوری قتل کیس میں گرفتار کر لیا تھا اور وہ اپنی والدہ نصرت بھٹو کے ساتھ ملکر ملک بھر میں خاص کر سندھ میں ضیا کے خلاف مہم چلا رہی تھی۔وہ چاہتی تو اپنی بہن صنم بھٹو کی طرح  پرامن زندگی بھی گذار سکتی تھی، مگر اس کو سیاست کا طوفان اٹھا کر لے گئے۔
 تب میں حیدرآباد  میں صھافت کرتا تھا۔ محترمہ میٹ دی پریس پروگرام میں آئیں۔ وہ  یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹلگ رہی تھیں تھیں۔آکسفرڈ اور ہاورڈ کی مغربی تعلیم کے باوجود انہوں نے ٹھیٹ مشرقی لباس زیب تن کیا ہوا تھا۔ انہوں نے تفصیل کے ساتھ مگر بہت ہی جذباتی انداز میں بات چیت کی۔دو گھنٹے سے زیادہ بات کرتی رہیں۔ سر پربڑی تمیز سے دوپٹہ جیسے کوئی مشرقی خاتون پہنتی ہے۔ بات چیت میں عزم بھی تھا  اورغصہ بھی۔ تب کچھ طے نہیں تا کہ یہ ایک پان  دھان لڑکی آئندہ برسوں میں ایک اتنا بڑا  خطرہ بن جائیگی  وہ سالہا سال تک  انتخابات ہی نہیں کرائیگا۔اور یہ بھی کہ بڑے نازوں میں پلی بھٹو خاندان کی یہ لڑکی مارشل لاء کی صعوبتیں اور جیلیں بھی برداشت کر لے گی۔ ہاں یہ ضرور لگا کہ اگر یہ لڑکی واقعی ملکی سیاست میں آجاتی ہے تو پاکستان کی حالت بدل جائیگی۔
بیظیر سے دوسری ملاقات 1982 میں ہوئی جب وہ مشہور سیاسی مقدمہ جام ساقی کیس میں دفاع کے گواہ کے طور پر پیش ہوئیں۔ یہ مقدمہ کرنل محمد عتیق کی سربراہی میں قائم خصوصی فوجی عدالت میں چلایا گیا جس میں بے نظیر بھٹو کے علاوہ خان عبدالولی خانِ،  میر غوث بخش بزنجو،  معراج محمد خان، فتحیاب علی خان سمیت ملک کی سرکردہ شخصیات بطور دفاع کے گواہ کے پیش ہوئی تھی۔
 وہ تین مرتبہ فوجی عدالت میں آئیں۔ پہلے روز ان کا بیان قلمبند نہیں کیا جا سکا۔ جب کہ باقی دو دن تک انکا بیان جاری رہا۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ وہ فوجی عدالت کو عدالت ہی نہیں مانتیں۔ اس لئے  ایک خیال یہ آیا کہ میں  پیش نہ ہوں، مگر پھر آپ لوگوں سے رابطہ کرنے پہ کامریڈ جام ساقی کی یہ بات اچھی لگی کہ فوجی عدالت اور مارشل لا ء  کو مانتے تو وہ بھی نہیں ہیں لیکن ایک فورم ہے جسکو استعمال کرنا چاہئے۔ اور یہ بھی کہ ہم اپنی آواز ہر فورم پر اٹھائیں گے اور ہر فورم اپنے مشن کے لئے استعمال کرینگے۔ تو میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے جانا چاہئے۔ اور یہ کہ فوجی عدالت اور مارشل لاء کے قیدی کو ویسے بھی دفاع اور مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔  راقم الحروف بھی اس مقدمہ کا ایک ملزم تھا۔ 
پہلے دن جب عدالتی کارروائی نہیں ہوئی تو محترمہ ہم”ملزماں“ اور انکے اہل خانہ کے ساتھ  دو تین گھنٹے تک بیٹھی رہیں اور باتیں کرتی رہیں۔ انہوں نے مقدمے کی تفصیلات ”بڑے ملزم“جام ساقی سے پوچھیں اور دیگر ملزمان پروفیسر جمال نقوی، بدر ابڑو، کمال  وارثی، شبیر شر سے سیاست اور اہل خانہ وغیرہ کے بارے میں پوچھا۔ انہیں اس سے بھی خاصی دلچسپی تھی کہ جیل کے کیا حالات ہیں، ہم  لوگوں کو کن حالات میں رکھا گیا ہے۔ وہ ہمارے ہم  ”ملزمان“ کے  اہل خانہ سے گلے ملیں ان کو بتایا کہ ہم لوگ ملک میں مارشل لاء کے خلاف  اور جمہوریت اور عوام کے حقوق کی تارریخی جنگ لڑ رہے ہیں۔
وہ صرف دفاع کے گواہ کے طور پر نہیں آئیں تھیں، بلکہ قیدیوں سے ایک ملاقاتی طور پر آئی تھیں۔ سگریٹ،خاصی کھانے پینے کی چیزیں، تحائف کچھ کتابیں بھی لائی تھیں۔ بعد میں جب مقدمہ ختم  ہوا اسکے بعد بھی وہ خاصے دنوں تک جیل پر ہم لوگوں کو سگریٹ وغیرہ بھیجتی رہیں۔ایساشاید ان کو پتہ تھا کہ ایک قیدی کی جیل میں کیا ضروریات ہوتی ہیں۔
سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے تھے۔  ہماری خواہش تھی کہ ہمارے اہل خانہ بھی محترمہ سے ملیں۔ ہم نے بھی عدالت سے درخواست کی کہ اہل خانہ کو بلایا جائے۔ ہمارے اس مطالبے کی محترمہ نے بھی تائید کی۔
فوجی عدالت جو  دو فوجی افسرانکرنل محمد عتیق اور کیپٹن افتخار جلیس اور ایک سویلین میجسٹریٹ ھبیب اللہ بھٹو پر مشتمل تھی اس کی حالت بھی دیکھنے کے قابل تھی۔ہم ملزمان تو محترمہ کی موجودگی کو اعزاز سمجھ ہی رہے تھے مگر خود فوجی افسران بھی اپنی خوش قسمتی سمجھ رہے تھے کہ محترمہ ان کی عدالت میں موجود تھی۔ پہلی بار ایک فوٹو گرافر عدالت میں فوٹو بنانے کی اجازت دی گئی۔ بی بی سی کے نمائندے آئن ہور بھی شلوار قمیض پہن کر ایک پاکستانی کے روپ میں کمرہ عدالت تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئئے تھے۔ جیسے ہی بی بی نے اپنا بیان شروع کیا تو آئن ہور نے اپنا ٹیپ ریکارڈر آن کیا۔ چند ہی لمحوں میں کرنل عتیق نے شور مچانا شروع کردیا کہ بی بی سی کے رپورٹر کو باہر نکالا جائے۔ محترمہ اور ہم ملزمان کا موقف تھا کہا اس میں کوئی ہرج نہیں ہے۔ لوگوں کو پتہ چلے کہ محترمہ نے کیا بیان رکارڈ کرایا ہے۔ عدالت کی کارروائی کچھ دیر کے لئے روک دی گئی۔ کچھ مذاکرات کچھ بات چیت ہوئی۔ کرنل عتیق نے کہا کہ”آ ج رات  جب سیربین میں یہ نشر ہوگا کہ محترمہ نے اپنے بیان میں کہا۔۔۔۔ اس کے چند لمحوں بعد میں آپ لوگوں کے ساتھ لانڈھی جیل میں ہونگا۔“
 یوں اس صحافی کو نکالنے کے بعد عدالت نے محترمہ کا بیان ریکارڈ کیا۔ محترمہ کے بیان  سے لگ رہا تھا کہ انی تمام سیاست کا محور 1973کا آئین تھا۔اور وہ  جمہوریت  اور اس آئین کے لئے  تمام سرحدیں عبور کر سکتی ہے۔ اور بعد کے واقعات نے یہ ثابت بھی کیا۔
یہ وہ دور تھا جب ایک طرف جنرل ضیا اور اسکے ساتھی تھے جو بینظیر کو اذیتیں دے رہے تھے تو دوسری طرف  انکے انکلز تھے جو انہیں بے سمجھ اور نا تجربیکار لڑکی کہہ کر جلاوطن کرنا چاہتے تھے اور پارٹی پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔
محترمہ سے میری دوسری ملاقات تب ہوئی جب  میں سندھی روزنامہ عوامی آواز کا ایڈیٹر تھا اور محترمہ نے سندھی ایڈیٹرز کو غیر رسمی بات چیت کی لئے بلایا تھا۔ملاقات کرنے والے علی قاضی، فقیر محمد لاشاری اور راقم الحروف تھے  اس ملاقات کا بندوبست  میرے پرانے دوست اور پیپلز پارٹی کی رہنما  ڈاکٹر اسماعیل اوڈیجو نے کیا تھا۔ محترمہ کے ساتھ ہم سندھی ایڈیٹر کی یہ طویل ملاقات تھی جو صبح گیارہ بجے شروع ہوئی اور شام پانچ بجے تک جاری رہی۔ اس وقت وہ اپوزیشن میں تھی۔ انہوں نے علاقائی  وملکی صورتحال، سندھ کے رول پر تفصیل سے بات چیت کی۔محترمہ کا کہنا تھا کہ سندھ کو اپنی میڈیا، سرمایہ (بینک) تعلیمی ادارے وغیرہ ہونے چاہئے۔
اس کے بعد وہ وزیر اعظم تھیں یا اپوزیشن لیڈر ان سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ وہ جمہوریت  اور سماجی تبدیلی کی ایک بھرپور اور مضبوط آواز تھی۔
چار برسوں میں بہت کچھ بدل چکا ہے۔ مگر جلاوطنی کاٹ کے آنے والی بینظیر بھٹو  جو بے موت قتل کی گئی،  انکا درد لوگوں کے دلوں سے ابھی جلاوطن نہیں ہوا ہے۔بعض فراق  دلوں کے مستقل مکین ہو جاتے ہیں۔ بھٹوز کا درد بھی ایسا ہی ہے۔ جب تک محترمہ زندہ تھی تو لگتا تھا لہ وہ ایک روایتی سیاستدان ہے، مگر اب محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک لیجینڈ تھی۔اور آنے والی نسلوں کے لئے کسی دیومالائی کردار سے کم نہیں تھی۔لگتا ہے سندھ میں یہ کہانی نسل در نسل منتقل ہوتی رہے گی۔

No comments:

Post a Comment