Showing posts with label Benazir Bhutto. Show all posts
Showing posts with label Benazir Bhutto. Show all posts

Thursday, 5 March 2020

بینظیر بھٹو قتل کیس تحقیقات کی بریفنگ 2012-2-27

Mon, Feb 27, 2012, 11:28 AM
بینظیر بھٹو قتل کیس تحقیقات کی بریفنگ  
 میرے دل میرے مسافر۔۔ کالم۔۔۔سہیل سانگی
اراکین سندھ اسمبلی کووفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے بریفنگ دے ہی دی۔ وزیر داخلہ اور دئریکٹر جنرل ایف آئی اے کی یہ بریفنگ القاعدہ  اس کی مقامی شکل طالبان کے گرد گھومتی ہے۔اس بریفنگ میں ہمارے  پراسرارریاستی پرچھائیں کو چھوا تک نہیں گیا ہے۔جہادی جماعتوں، حقانی نیٹ ورک اور طالبان کا ریاستی عناصر سے جو گٹھ جوڑ کے بڑے چرچے رہے ہیں۔ اس لئے پیپلز پارٹی طویل اور کٹھن تجربہ رکھنے کے باوجود محتاط اور بڑی حد تک ڈری ہوئی ہے کہ کہیں پوری حقیقت بیان کرنے سے اسے ابھی یا مستقبل میں نقصان نہ اٹھانا نہ پڑے۔یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے محترمہ کے قتل کیس کے لئے طعنے سنے مگر محترمہ کے مقدمہ کے حوالے سے سیدھی بات کرنے کے لئے تیار نہیں۔اس پوزیشن نے پیپلز پارٹی کو بے رحم دائرے میں گھومنے پر مجبور کیا گیا۔
حکومت یہ رپورٹ سنیٹ اور قومی اسمبلی میں بھی پیش کرسکتی تھی۔ وہاں پر بھی کسی پارٹی کو اس اعتراض نہیں تھا، کیونکہ حزب اختلاف کی بڑی پارٹی مسلم لیگ (ن) تک قاتلوں کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔یوں کہیے کہ سندھ اسمبلی کے اراکین کو یہ بریفنگ دینے سے ملک گیر لیڈر اور عالمی شخصیت کو محدود کرنے کی کوشش سمجھا جائیگا۔
 در اصل نہ  تویہ انویسٹیگیشن رپورٹ تھی اور نہ ہی سندھ اسمبلی کے ایوان میں پیش نہیں کی گئی بلکہ یہ ایک بریفنگ تھی جو اراکین اسمبلی کو دی تھی، کیونکہ اجلاس ملتوی کرکے ہاؤس کو کمیٹی میں تبدیل کرنے کے بعد بریفنگ دی گئی۔لہذا نہ تو ریکارڈ پر رپورٹ رکھی گئی اور نہ ہی اس کی قانونی حیثیت بنی ہے جو کسی ایوان میں پیش کی گئی رپورٹ یا دستاویز کی ہوتی ہے۔
 یہ رپورٹ سنیچر کے روز پیش ہونی تھی مگر وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے عین وقت پر آنے سے انکار کردیا۔انکا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے اداروں کے درمیان ٹکراؤ  ہوگا۔ بعد میں وزیراعلی سید قائم علی شاہ نے صدر آصف علی کی ہمشیرہ فریال تالپور سے رابطہ کیا جو کہ سندھ کے اندر پارٹی اور حکومتی معاملات کی نگران ہیں۔ تب جا کر رحمان ملک راضی ہوئے اور منگل کے روز اراکین اسمبلی کو بریفنگ دی گئی۔
 اس رپورٹ میں تقریب وہی کہانی جو مشرف دور میں بیان کی گئی تھی۔اگر محترمہ کے قتل کا تمام پلان بیت اللہ محسود نے بنایا تھا اور مشرف کے فرشتوں کو بھی پتہ نہیں تھا تو پھر حاکم وقت نے مقبول لیڈر کو کیا سیکیورٹی فراہم کی؟محترمہ کی وطن واپسی پر  کراچی میں کارساز کے پاس ہونے والے واقعے سے چند لمحے پہلے بیت اللہ محسود کے کس ساتھی نے بجلی بند کی تھی؟ سعید عرف بلال نامی بمبار جو بیت اللہ محسود سے چار لاکھ روپے لیکر پیٹ سے بم باندھ کے اور جیب میں پستول رکھ کر گیا تھا وہ محترمہ تک کیسے پہنچا وہ اندر کیسے پہنچاکہ اس نے محترمہ پر فائر کیا۔دوسری گیٹ پر اکرام نامی بمبار کھڑا تھا محترمہ کا انتظار کر رہا تھا۔اس کو کون سی سلیمانی ٹوپی پہنی ہوئی تھی کہ وہاں موجود سیکیورٹی والوں کو نظر ہی نہیں آیا۔واقعے کے فورا بعد بیت اللہ محسود کے کس ساتھی نے جائے واردات دھو ڈالی تھی۔اس جیسے کئی سوالات لوگوں کے ذہنوں میں ابھرتے ہیں۔ 
اصل میں محترمہ کے قتل کے نشانات کارساز کراچی کے واقعے سے اٹھانے چاہئے تھے۔ خود رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 27 دسمبر کے واقعے کی18اکتوبر سے بہت مماثلت ہے۔ بعض اراکین نے وزیر داخلہ سے سوالات بھی کئے کہ 18اکتوبر سانحہ کی تحقیقات کا کیا ہوا؟ اس پر ممبران کو بتایا گیا کہ یہ صوبائی معاملہ ہے۔ صوبائی حکومت  ہی جواب دے سکتی ہے۔ 
محترمہ کے قتل کو اس وقت کے حالات اور واقعات کے پس منظر میں ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ 2007  میں طالبان کی پالیسی میں بڑی شفٹ رونما ہوئی تھی۔ انہوں نے اہم شخصیات اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
 کئی ماہ پہلے اسلام آباد کے ایک صحافی رؤف کلاسرانے بعض مصدقہ ذرائع کے حوالے سے ایک کالم میں لکھا تھا کہ قتل کی سازش کے سلسلے میں اسلام آباد میں ایک برگیڈیئر کے گھر پر میٹنگ ہوئی تھی۔کلاسرا کے اس اطلاع کی تحقیقات کے لئے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنائی گئی مگر تاحال اس ضمن میں کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔ اور نہ ہی اس بریفنگ میں اسکا حوالہ موجود تھا۔ 
افغان صدر حامد کرزئی اور ایک عرب ملک نے محترمہ کو پیغام بھیجا تھا کہ انہیں قتل کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ مگر نہ تو اقوام متحدہ کی ٹیم نے اور نہ ہی سکارٹ لینڈ کی ٹیم نے ان دونوں ممالک سے رابطہ کیا۔ 
 قتل کیس میں اس وقت کے آئی بی کے سربراہ برگیڈییر اعجاز شاہ کے رول کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر وزیر داخلہ کا جواب تھا کہ دنیا میں آج تک کسی بھی خفیہ ادارے کے سربراہ کے خلاف کوئی نہ کارروائی ہوئی ہے اور نہ ہی ثبوت ملا ہے۔ 
 پاکستان  پالیسیوں اور رویے کی وجہ سے بہت مشکل ملک بن گیا ہے۔کوئی اس کیساتھ چلنے کے لیے تیار نہیں۔افغانستان جیسے ملک کا سربراہ بھی ہم پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں۔ افغان جنگ اور دہشتگردی کے خلاف جنگ ہم نے افغانستان اور امریکہ کی وجہ سے لڑی۔ہمارے اس کنٹری بیوشن جوکے باوجود اب وہی ملک ہم پر ڈبل گیم کا الزام لگا رہے ہیں۔
ہم اب ڈبل گیم کھیلنے والے کے طور پرپہچانے جاتے ہیں۔اپنے لوگوں کے ساتھ ڈبل گیم اور غیروں کے ساتھ بھی ڈبل گیم۔چیٹنگ ہماری قومی علامت اور عادت بن گئی ہے۔ہم نے اپنے سویلین لیڈروں اور اپنے لوگوں کے ساتھ جو کچھ اس وجہ سے کوئی اور ہم سے کوئی امید رکھنے کا رسک کیوں لے گا۔ 
تعجب ہے محترمہ بے نظیر بھٹو کیس میں ہمیں خوش کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیشن اسکاٹ لینڈ یارڈ کی کمیشن، جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم وغیرہ وغیرہ سب بنیں مگر نتیجہ صفر ہی رہا۔ اس کے باجوود ان حلقوں کو پیپلز پارٹی پر جو بے اعتمادی ہے وہ ختم نہ ہو سکی۔پیپلز پارٹی ان کے لیے نفسیاتی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ کمانڈر کے یہ الفاظ بہت بھاری اور معنی خیز تھے جو انہوں نے محترمہ کی شہادت کے بعد غیرملکی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہے تھے۔”فوج کاایک حصہ محترمہ کو سیکیورٹی رسک سمجھتا تھا۔“ ان الفاظ کی نہ تب نہ ہی بعد میں کوئی تردید آئی ہے۔اسامہ اس ملک کے لیے سیکیورٹی رسک نہیں تھا۔سیکیورٹی رسک محترمہ جا کے ٹہری جن کو سنگدلی سے قتل کردیا گیا۔
  لوگ طویل عرصے سے منتظر تھے کب محترمہ کے قاتل قانون کی گرفت میں آتے ہیں۔یہ رپورٹ منتظر کوگوں کوکتنا مطمئن کریگی؟ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس رپورٹ میں جن کو ملزم ٹہرا گیا ہے ان کی حیثیت کٹھ پتلی سے زیادہ نہیں۔ یہ تو صرف ایکٹر تھے۔جب کہ اس ساری سازش کے اصل محرک کوئی اور افراد تھے۔
 نامکمل حفاظتی اقدامات کا سوال بھی قتل کی سازش کا اہم حصہ لگتا ہے۔وزیر داخلا نے کہا ہے کہ جنرل مشرف کے ریڈ وارنٹ جاری کرکے انٹرپول کے ذریعے گرفتار کیا جائیگا۔ بریفنگ کے دورانڈئریکٹر جنرل ایف آئی اے  خالد قریشی نے بتایا کہ محترمہ کے قتل کیس میں پرویز مشرف کو اس لیے بھی ملزم قرار دیا گیا ہے کہ انہوں نے محترمہ کو دھمکی دی تھی کہ اگر وہ انتخابات سے پہلے آئیں تو پھر جو کچھ ہوگا اسکی ذمہ  دار وہ خود ہونگی۔دوسرے یہ کہ مشرف نے محترمہ کو مناسب سیکیورٹی نہیں دی جس کا انہوں نے وعدہ کیا تھا۔
کہنے کو تو جنرل پرویز مشرف کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرنے کو کہا گیا ہے۔ پر کیا یہ ممکن ہے؟ میجر ارشد کو ٹنڈوبہاول کیس میں جو کہ سیتھا ایک میجر کو پھانسی دینے کے لئے دو خواتین کو خود سوزی کرنے پڑی تھی۔ ڈاکٹر شازیہ کے مقدمہ میں ادارہ کچھ اس طرح کھڑا ہوگیا تھا۔ اور اسکو سزا نہیں دینے دی۔ تو کیا یہ ادارہ اپنے ایک سابق سربراہ کو یوں گرفتار ہونے دیگا؟ 
یہ سب کچھ کیسے ہوگا؟۔ ظاہر ہے کہ مشرف اور حکومت کے درمیاں کچھ گارنٹی دینے والے بھی ہونگے۔ وہ سب کیسے یہ کرنے دیں گے؟ اس کا مطلب یہی نکلتا ہے کہ یہ سیاست کے سوائے کچھ بھی نہیں۔

Wednesday, 4 March 2020

محترمہ کی کچھ یادیں کچھ باتیں 2011-12-27

 Mon, Dec 26, 2011 at 1212 AM
میرے دل میرے مسافر۔۔ کالم۔۔ سہیل سانگی 
 محترمہ کی کچھ یادیں کچھ باتیں 
  بینظیر بھٹو کی تصویر کے بڑے بڑے بل بورڈز اور پینافلیکس آویزاں ہیں۔ جن پر لکھا ہے ’’مت سمجھو ہم نے بھلا دیا ہے“۔ یہ  بینظیر بھٹو کی چوتھی برسی پر انکو خراج عقیدت پیش لئے کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کو بینظیر بھٹو آج بھی یاد ہے۔ کارکناں بینظیر بھٹو سے وابستہ یادیں دہرا رہے ہیں۔  اس کے ساتھ ساتھ موجودہ صورتحال پر تبصرے بھی کر رہے ہیں۔ اورآج کی ر گرما گرم سیاسی صورتحال میں  مخالفین کے اٹھائے گئے سوالات کے جواب بھی دے رہے ہیں۔ پارٹی کی قیادت اور پالیسوں کو کس طرح سے دیکھتے ہیں۔ ایک کارکن نے بتایا کہ  ہم مزراروں کے ساتھ نہیں بلکہ ورثے کے ساتھ ہیں۔ وہ جو زندہ ہیں۔
بے نظیر بھٹو کی برسی پر پیپلز پارٹی بھی لاڑکانہ میں ایک بہت بڑا شو کرنے والی ہے۔یہ شو دو چیلینجوں کو ایک ساتھ جواب دے گا۔اس یہ کہ نواز شریف نے  دس دسمبر کو بھٹوز کے شہر لاڑکانہ میں آکر جلسہ کیا اور گو  زرداری گو کے نعرے لگائے۔ اسی طرح عمران خان نے کراچی میں اور شاہ محمود قریشی نے گھوٹکی میں بڑے جلسے کر کے پیپلز پارٹی کی حکومت کو للکارا تھا۔ دوسرا  چیلینج  میمو گیٹ کے بعد پیدا ہونے والی  صورتحال بنی،  صدر  زرداری  پارٹی  کی سیاسی حکمت عملی کا  اعلان کرینگے۔اور حکومت اور خود انے کے حوالے سے جوصورتحال پیدا ہوئی اسکا بھی جواب بھی  دیں گے۔ لمبے عرصے کی خاموشی کے بعد صدر کی یہ تقریر ہوگی جو وہ پاکستان نے ایک کرشماتی لیڈر کی  چوتھی برسی پر کرینگے۔ 
بے نظیر بھٹو اگرچہ ایک ملک گیر پارٹی کی سربراہ تھی مگر سندھ کے لوگوں کا ان سے خصوصی رشتہ ناطہ اور  لگاؤ تھا۔ سندھ کے لوگوں کی اکثریت ان سے پیار کرتی تھی  بغیر اس کا خیال کئے کہ  ان کو وہ کوئی فائدہ بھی دیگی  یا  نہیں؟لوگ  ان سے کوئی حساب کتاب بھی نہیں کرتے۔وہ ان کو حقوق کی دفاع کرنی والی اور امیدوں اور خوابوں کی رانی سمجھتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ سندھ کے لوگ سمجھتے ہیں کہ  محترمہ  قتل ان کے خوابوں  اور امیدوں کا قتل ہے۔ وہ خود کو زخمی سمجھتے ہیں۔سندھ کی ایک قوم ہرست پارٹی کے سربراہ کہ کہنا ہے کہ بعض دوستوں  نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا کہ سندھ کے تمام لوگوں کو پیپلز پارٹی میں شمولیت کرنی چاہئے اوربی بی کے قتل کا حساب لینا چاہئے۔ ایک خیال یہ بھی تھا کہ سندھیوں سے اس سے  بڑھ کر کیا دشمنی  کی جا سکتی ہے کہ انکو پیپلز پارٹی سے دور کیا جائے۔اور وہ مختلف گروپوں اور دھڑوں میں بٹ جائیں۔ یہ خیالات ایک قوم پرست رہنما کے تھے۔ جو انہوں نے  بینظیر بھٹو کی دوسری سالگرہ پر کہے تھے۔ مگر عام لوگوں میں یہ سوچ میں یہ بات ابھی بھی جھلکتی ہے۔ 
 والد کی لاش، ماں کا اداس چہرہ، بے وطن بھائی کا خون،  فوجی آمریت، جیل کی کال کوٹھڑی، فوجیوں کے پہرے، بے بس عوام، کئی خدشے،  جیل میں  قید پیٹھ پر کوڑے کھانے والے ہزاروں کارکنوں کی اذیتیں۔اور عمر چھبیس سال۔یہ سب  انکو وراثت میں ملیں۔ انہوں نے سندھ کے ہر شہر کا دورہ کیا۔اور جو جو جدوجہد میں مصروف تھا اس کے ملاقات کی۔ میری بھی کئی یادیں محترمہ سے وابستہ ہیں۔
محترمہ بے نظیر بھٹو سے میری پہلی ملاقات تب ہوئی تھی جب  انکے والد ذوالفقار علی بھٹو کوجنرل ضیا نے میاں احمد قصوری قتل کیس میں گرفتار کر لیا تھا اور وہ اپنی والدہ نصرت بھٹو کے ساتھ ملکر ملک بھر میں خاص کر سندھ میں ضیا کے خلاف مہم چلا رہی تھی۔وہ چاہتی تو اپنی بہن صنم بھٹو کی طرح  پرامن زندگی بھی گذار سکتی تھی، مگر اس کو سیاست کا طوفان اٹھا کر لے گئے۔
 تب میں حیدرآباد  میں صھافت کرتا تھا۔ محترمہ میٹ دی پریس پروگرام میں آئیں۔ وہ  یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹلگ رہی تھیں تھیں۔آکسفرڈ اور ہاورڈ کی مغربی تعلیم کے باوجود انہوں نے ٹھیٹ مشرقی لباس زیب تن کیا ہوا تھا۔ انہوں نے تفصیل کے ساتھ مگر بہت ہی جذباتی انداز میں بات چیت کی۔دو گھنٹے سے زیادہ بات کرتی رہیں۔ سر پربڑی تمیز سے دوپٹہ جیسے کوئی مشرقی خاتون پہنتی ہے۔ بات چیت میں عزم بھی تھا  اورغصہ بھی۔ تب کچھ طے نہیں تا کہ یہ ایک پان  دھان لڑکی آئندہ برسوں میں ایک اتنا بڑا  خطرہ بن جائیگی  وہ سالہا سال تک  انتخابات ہی نہیں کرائیگا۔اور یہ بھی کہ بڑے نازوں میں پلی بھٹو خاندان کی یہ لڑکی مارشل لاء کی صعوبتیں اور جیلیں بھی برداشت کر لے گی۔ ہاں یہ ضرور لگا کہ اگر یہ لڑکی واقعی ملکی سیاست میں آجاتی ہے تو پاکستان کی حالت بدل جائیگی۔
بیظیر سے دوسری ملاقات 1982 میں ہوئی جب وہ مشہور سیاسی مقدمہ جام ساقی کیس میں دفاع کے گواہ کے طور پر پیش ہوئیں۔ یہ مقدمہ کرنل محمد عتیق کی سربراہی میں قائم خصوصی فوجی عدالت میں چلایا گیا جس میں بے نظیر بھٹو کے علاوہ خان عبدالولی خانِ،  میر غوث بخش بزنجو،  معراج محمد خان، فتحیاب علی خان سمیت ملک کی سرکردہ شخصیات بطور دفاع کے گواہ کے پیش ہوئی تھی۔
 وہ تین مرتبہ فوجی عدالت میں آئیں۔ پہلے روز ان کا بیان قلمبند نہیں کیا جا سکا۔ جب کہ باقی دو دن تک انکا بیان جاری رہا۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ وہ فوجی عدالت کو عدالت ہی نہیں مانتیں۔ اس لئے  ایک خیال یہ آیا کہ میں  پیش نہ ہوں، مگر پھر آپ لوگوں سے رابطہ کرنے پہ کامریڈ جام ساقی کی یہ بات اچھی لگی کہ فوجی عدالت اور مارشل لا ء  کو مانتے تو وہ بھی نہیں ہیں لیکن ایک فورم ہے جسکو استعمال کرنا چاہئے۔ اور یہ بھی کہ ہم اپنی آواز ہر فورم پر اٹھائیں گے اور ہر فورم اپنے مشن کے لئے استعمال کرینگے۔ تو میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے جانا چاہئے۔ اور یہ کہ فوجی عدالت اور مارشل لاء کے قیدی کو ویسے بھی دفاع اور مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔  راقم الحروف بھی اس مقدمہ کا ایک ملزم تھا۔ 
پہلے دن جب عدالتی کارروائی نہیں ہوئی تو محترمہ ہم”ملزماں“ اور انکے اہل خانہ کے ساتھ  دو تین گھنٹے تک بیٹھی رہیں اور باتیں کرتی رہیں۔ انہوں نے مقدمے کی تفصیلات ”بڑے ملزم“جام ساقی سے پوچھیں اور دیگر ملزمان پروفیسر جمال نقوی، بدر ابڑو، کمال  وارثی، شبیر شر سے سیاست اور اہل خانہ وغیرہ کے بارے میں پوچھا۔ انہیں اس سے بھی خاصی دلچسپی تھی کہ جیل کے کیا حالات ہیں، ہم  لوگوں کو کن حالات میں رکھا گیا ہے۔ وہ ہمارے ہم  ”ملزمان“ کے  اہل خانہ سے گلے ملیں ان کو بتایا کہ ہم لوگ ملک میں مارشل لاء کے خلاف  اور جمہوریت اور عوام کے حقوق کی تارریخی جنگ لڑ رہے ہیں۔
وہ صرف دفاع کے گواہ کے طور پر نہیں آئیں تھیں، بلکہ قیدیوں سے ایک ملاقاتی طور پر آئی تھیں۔ سگریٹ،خاصی کھانے پینے کی چیزیں، تحائف کچھ کتابیں بھی لائی تھیں۔ بعد میں جب مقدمہ ختم  ہوا اسکے بعد بھی وہ خاصے دنوں تک جیل پر ہم لوگوں کو سگریٹ وغیرہ بھیجتی رہیں۔ایساشاید ان کو پتہ تھا کہ ایک قیدی کی جیل میں کیا ضروریات ہوتی ہیں۔
سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے تھے۔  ہماری خواہش تھی کہ ہمارے اہل خانہ بھی محترمہ سے ملیں۔ ہم نے بھی عدالت سے درخواست کی کہ اہل خانہ کو بلایا جائے۔ ہمارے اس مطالبے کی محترمہ نے بھی تائید کی۔
فوجی عدالت جو  دو فوجی افسرانکرنل محمد عتیق اور کیپٹن افتخار جلیس اور ایک سویلین میجسٹریٹ ھبیب اللہ بھٹو پر مشتمل تھی اس کی حالت بھی دیکھنے کے قابل تھی۔ہم ملزمان تو محترمہ کی موجودگی کو اعزاز سمجھ ہی رہے تھے مگر خود فوجی افسران بھی اپنی خوش قسمتی سمجھ رہے تھے کہ محترمہ ان کی عدالت میں موجود تھی۔ پہلی بار ایک فوٹو گرافر عدالت میں فوٹو بنانے کی اجازت دی گئی۔ بی بی سی کے نمائندے آئن ہور بھی شلوار قمیض پہن کر ایک پاکستانی کے روپ میں کمرہ عدالت تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئئے تھے۔ جیسے ہی بی بی نے اپنا بیان شروع کیا تو آئن ہور نے اپنا ٹیپ ریکارڈر آن کیا۔ چند ہی لمحوں میں کرنل عتیق نے شور مچانا شروع کردیا کہ بی بی سی کے رپورٹر کو باہر نکالا جائے۔ محترمہ اور ہم ملزمان کا موقف تھا کہا اس میں کوئی ہرج نہیں ہے۔ لوگوں کو پتہ چلے کہ محترمہ نے کیا بیان رکارڈ کرایا ہے۔ عدالت کی کارروائی کچھ دیر کے لئے روک دی گئی۔ کچھ مذاکرات کچھ بات چیت ہوئی۔ کرنل عتیق نے کہا کہ”آ ج رات  جب سیربین میں یہ نشر ہوگا کہ محترمہ نے اپنے بیان میں کہا۔۔۔۔ اس کے چند لمحوں بعد میں آپ لوگوں کے ساتھ لانڈھی جیل میں ہونگا۔“
 یوں اس صحافی کو نکالنے کے بعد عدالت نے محترمہ کا بیان ریکارڈ کیا۔ محترمہ کے بیان  سے لگ رہا تھا کہ انی تمام سیاست کا محور 1973کا آئین تھا۔اور وہ  جمہوریت  اور اس آئین کے لئے  تمام سرحدیں عبور کر سکتی ہے۔ اور بعد کے واقعات نے یہ ثابت بھی کیا۔
یہ وہ دور تھا جب ایک طرف جنرل ضیا اور اسکے ساتھی تھے جو بینظیر کو اذیتیں دے رہے تھے تو دوسری طرف  انکے انکلز تھے جو انہیں بے سمجھ اور نا تجربیکار لڑکی کہہ کر جلاوطن کرنا چاہتے تھے اور پارٹی پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔
محترمہ سے میری دوسری ملاقات تب ہوئی جب  میں سندھی روزنامہ عوامی آواز کا ایڈیٹر تھا اور محترمہ نے سندھی ایڈیٹرز کو غیر رسمی بات چیت کی لئے بلایا تھا۔ملاقات کرنے والے علی قاضی، فقیر محمد لاشاری اور راقم الحروف تھے  اس ملاقات کا بندوبست  میرے پرانے دوست اور پیپلز پارٹی کی رہنما  ڈاکٹر اسماعیل اوڈیجو نے کیا تھا۔ محترمہ کے ساتھ ہم سندھی ایڈیٹر کی یہ طویل ملاقات تھی جو صبح گیارہ بجے شروع ہوئی اور شام پانچ بجے تک جاری رہی۔ اس وقت وہ اپوزیشن میں تھی۔ انہوں نے علاقائی  وملکی صورتحال، سندھ کے رول پر تفصیل سے بات چیت کی۔محترمہ کا کہنا تھا کہ سندھ کو اپنی میڈیا، سرمایہ (بینک) تعلیمی ادارے وغیرہ ہونے چاہئے۔
اس کے بعد وہ وزیر اعظم تھیں یا اپوزیشن لیڈر ان سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ وہ جمہوریت  اور سماجی تبدیلی کی ایک بھرپور اور مضبوط آواز تھی۔
چار برسوں میں بہت کچھ بدل چکا ہے۔ مگر جلاوطنی کاٹ کے آنے والی بینظیر بھٹو  جو بے موت قتل کی گئی،  انکا درد لوگوں کے دلوں سے ابھی جلاوطن نہیں ہوا ہے۔بعض فراق  دلوں کے مستقل مکین ہو جاتے ہیں۔ بھٹوز کا درد بھی ایسا ہی ہے۔ جب تک محترمہ زندہ تھی تو لگتا تھا لہ وہ ایک روایتی سیاستدان ہے، مگر اب محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک لیجینڈ تھی۔اور آنے والی نسلوں کے لئے کسی دیومالائی کردار سے کم نہیں تھی۔لگتا ہے سندھ میں یہ کہانی نسل در نسل منتقل ہوتی رہے گی۔