Thursday, 5 March 2020

سیاسی طور باشعور مگر خالی پیٹ لوگ۔۔ 2012-2-23

Thu, Feb 23, 2012, 12:51 AM
سیاسی طور باشعور مگر خالی پیٹ لوگ۔۔
میرے دل میرے مسافر۔۔۔۔سہیل سانگی
ملک کے معاشی حالات بد تھے ہی، مگر سیاسی عدم استحکام  اور خراب حکمرانی نے انکو بدتر سے بدترین بنا دیا ہے۔آسمان سے  باتیں کرتی  مہنگائی، شدید بیروزگاریجس کے جہنم میں عام شہری جل رہا تھا۔ سیلاب نے لاکھوں افراد کے اثاثے، گھر اور روزگارچھین لیا۔ملک میں اب عام آدمی کی کیا حالت ہے؟ اسکی ایک جھلک گذشتہ ہفتے جاری ہونے والی رپورٹ میں ملتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پینتیس فیصد گھرانے خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ دیگر صوبوں کے مقابلے میں سندھ میں صورتحال اور بھی سنگین ہے۔جہاں ستر فیصد گھرانوں کو خوراک میسر نہیں۔پچاس فیصد بچے غذائی کمی کا شکار ہیں۔ یعنی انکا قد اور وزن عمر سے مطابقت نہیں رکھتا۔دس سال کے بعد کئے گئے سروے کے مطابق ان دس سالوں میں غذائیت کے معاملے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔حالانکہ اس سے متعلق حکومت کے کئی پروگرام چل رہے ہیں۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ حکومت کے پروگراموں میں کوئی ربط نہیں ہے لہذا مشترکہ کوششیں سامنے نہیں آتیں۔
کہنے کو تو بات پاکستان کی ہے مگر دراصل یہ قصہ سندھ کا ہے۔جہاں گذشتہ دو سال سے بارش اور سیلاب کے بعد صورتحال ابترہوگئی ہے۔کیونکہ ان دو سیلابوں سے قبل  پاکستاں کا  یہ جنوبی صوبہ پانی کی قلت اور خشک سالی کا شکار رہا ہے۔
سروے کے مطابق خوراک میں کمی کی بڑی وجہ غربت ہے۔یہاں پچاس فیصد گھرانے ایسے ہیں جنہیں مطلوبہ خوراک دستیاب نہیں۔ صوبائی وزیر صحت نے بھی اس سروے کو حقیقت قرار دیا  اور کہا کہ گذشتہ دو سال میں بارش اور سیلاب کی وجہ سے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو بے دخل ہونا پڑا۔ جس کے باعث غربت میں بھی اضافہ ہوا اور خوراک کی کمی میں بھی۔پولیو اور دیگر امینائزیشن پروگرام کے نتائج اس لئے سامنے نہیں آرہے ہیں جس کی وجہ خوراک کی کمی ہے۔
 سندھ کے کئی علاقوں سے گذشتہ سال کی بارش کا پانی کا اخراج نہیں ہوسکا ہے۔ پانی کی نکاسی نہ ہونے کے باعث ہزاروں لوگ نہ گھروں کو جا سکے اور نہ ہی کھیتی باڑی کر سکے ہیں۔ اسوقت یہ لوگ بے گھربھی ہیں اور بیروزگار ہیں۔سرکاری و غیرسرکاری اداروں کی امدادی کاروائیاں ناکافی تھیں، اس پر طرح یہ سے تقسیم میں روایتی امتیاز اور کرپشن، جس نے عام آدمی کے لئے رلیف کو محدود کردیا۔صوبائی خواہ نیشنل ڈزاسٹر اتھارٹی کے پاس اپنا کوئی نیٹ ورک نہیں ہے لہذا انہیں حکومت کے روایتی نیٹ ورک پر ہی انحصار کرنا پڑا۔ اور یہ نیٹ ورک محکمہ روینیو کا تھا جہاں پٹواریوں اور تحصیلداروں کی کرپشن کے ریکارڈ پہلے ہی موجود ہیں۔حدہے کہ بعض این جی اوز نے رلیف کے مختلف پروجیکٹس کمیشن دے کر حاصل کئے۔لہذا انہوں نے ا سی خلوص سے ان پروجیکٹس میں پیسے خرچ کئے۔جس خلوص سے پروجیکٹس لئے تھے۔لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ یا توپاکستان کو کرپشن کے معاملے میں دنیا بھر میں اتنا ”مشہور“ کیا ہوا تھا کہ ڈونرز پیسے اور پروجیکٹس نہیں دے رہے تھے کہ حکومتی مشنری کرپٹ ہے مگربعض غیرملکی غیر سرکاری تنظیموں نے حکومتی اہلکاروں کے بھی رکارڈ توڑ دیئے۔
امدادی  سرگرمیوں میں آنے والی غیر سرکاری تنظیموں نے کا دوسرا نقصان دہ یہ تھا کہ انہوں نے ملازمتوں اور اشیاٗ کی ترسیل میں مقامی آبادی کو نظرانداز کیا۔ باورچی، ڈرائیور تک صوبہ خیبر پختونخوا سے لائے گئے۔ ملازمتوں میں مقامی آبادی کو نظرانداز کرنے پرآواز کچھ آواز اٹھی مگر بے اثر رہی۔اگر رلیف کے کام میں مصروف ادارے مقامی آبادی کو ملازمتوں میں ترجیح دیتے تو ہزاروں لوگوں کو روزگار ملتا اور اسکا براہ راست اثر اس علاقے پر پڑتا۔
 متاثر ہ علاقوں میں خوراک اور غذائیت کی کمی کا باعث خود ریلیف کے بعض پروگرام بھی بنے۔جن علاقوں میں پانی خشک ہوا اور زمین کاشت کے قابل بنی وہاں کچھ این جی اوز نے نقد فصل بونے کا نہ صرف پرچار کیا بلکہ لوگوں کی مدد بھی کہ وہ خوردنی فصلوں کے بجائے نقد فصلوں کو ترجیح دیں۔ نتیجے میں سبزیاں اور دیگر خوراک کی فصلیں بہت ہی کم  بوئی گئیں۔ آج سندھ میں سبزیوں وغیرہ کی بے انتہا کمی ہے اور ان کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور جو کہ ایک غریب گھر کے لئے سبزی خرید کر پکانا محال ہو گیاہے۔
2010کے سیلاب کے متاثرین آج تک بے گھر اور بیروزگار ہیں۔ جبکہ اتنی ہی آبادی 2011 میں بارشوں سے متاثر ہوئی۔چھ ماہ  بعد دنیا  اس بحران کوبھول گئی ہے۔قومی اور بین الاقوامی میڈیا کی عدم توجہ کے باعث اقوام متحدہ کی تقریبا  پینتیس کروڑ ڈالر کی اپیل کے جواب میں بمشکل نصف رقم ملی ہے۔  امدادی رقم کی کمی کی وجہ سے بحالی کی کوششوں کو سخت خطرہ لاحق ہے۔
 سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں غذائیت کی کمی خطرناک حد تک بڑھی ہوئی ہے۔سیو دی چلڈرین کے کنٹری ڈائریکٹر ڈیوڈ رائٹ کا کہنا ہے کہ سیلاب نے چھپی ہوئی  غربت اور غذائی کمی کو ظاہر کر دیا ہے۔جہاں افریقہ کے سب صحرا سے بھی بدتر صورتحال ہے۔
  دنیا کے کل غذائیت کی کمی کے شکار کا  بچوں کی نصف تعدادپاکستان بنگلادیش، انڈیا، نائجیریا اور پیرو میں رہتی ہیں۔ پاکستان میں ایک سال تک مسلسل  قیمتوں میں بے پناہ اضافے کے بعد 38 فیصد خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے  کھانے کے اشیاء میں کمی کی ہے۔، 22فیصد والدین کا کہنا ہے کہ انکے بچوں کے پاس کھانے کے لئے مطلوبہ خوراک نہیں ہے۔بڑے پیمانے پر سیلاب نے فصلوں اور روزگار کے ذرائع کو بری طرح سے متاثر کیا ہے۔ جس سے اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس نے غریب کھرانوں کو مجبور کیا ہے کہ کھانے کی اشیاء میں کمی کریں۔ ملک میں 80فیصد گھرانے خوراک کے حوالے سے  غیر محفوظ ہیں جن میں سندھ سب سے زیادہ متاثر ہے۔سندھ جو سیاسی طور پر زیادہ باشعور سمجھا جاتا ہے وہ اب خالی  پیٹ ہے۔
اشیائے خوردنی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور غذائیت کی کمی  وجہ  سے پاکستان میں آ ّئندہ 15 برسوں کے دورانغیر صحتمندبچے پیدا ہونے کا تناسب بہت ہی بڑھ جائیگا۔ 
 یہ کوئی پہلی رپورٹ نہیں ہے جس میں اتنی تشویشناک صورتحال کو بیان کیا گیا ہے۔گذشتہ ماہ نیشنل  نیوٹریشن سروے  میں بھی اسی طرح کے اعداد و شمار پیش کئے گئے تھے۔ 2011 کی عالمی بنک کی رپورٹ میں کہا گیا تھا غریب ترین خاندان  اپنی آمدنی کا ستر فیصد سے زیادہ  خوراک پر خرچ کرتے ہیں۔ بیروزگاری اور عدم خواندگی کے بڑھتے ہوئی شرح  کی وجہ سے صورتحال مزید بھیانک ہو جاتی ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ اس صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔مگر یہ سب ٹکڑوں میں کیا گیا۔تعجب کی بات ہے کہ اکثر غریب مزید غریب ہتے جا رہے ہیں، جن کو بہت ہی بنیادی انسانی حق حاصل نہیں۔ 
حکمرں آئے دن اپنے مسائل میں اتنے الجھے رہتے ہیں کہ انکو شہریوں کی  یادبہت ہی کم آتی ہے۔حکومت اور سیاستداں اپنی سہولت کے قوانین تو چند گھنٹوں میں منظور کرا دیتے ہیں مگر ایسے قوانین جس سے عام آدمی کا بھلا ہو اس کے لئے پروسیجر آڑے آ جاتا ہے اور کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں۔ 
ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ میں بے نظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام کو خوراک اور شیلٹر سے جوڑا جائے۔ معاشرے کے پسماندہ طبقوں، خاص طور پر شیڈیول کاسٹ اور بے زمین کسانوں کی امداد کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ان لوگوں کو طویل مدت تک مدد کی ضرورت ہے۔لہذا کمیونٹیز کو مضبوط بنانے اور مزید فنڈز کے انتظامات کئے جائیں تاکہ انکا روزگار بحال ہو سکے۔

No comments:

Post a Comment